Al-Risala · January 2000

بات

Al-Risala, January 2000, pp. 37–47

By Maulana Wahiduddin Khan

سر سید ڈے ۱۹۹۴ کے موقع پر علی گڑھ یونیورسٹی ایسوسی ایشن کی مظفر نگر یونٹ نے روایتی ڈنر کے ساتھ ایک سیمنار منعقد کیا۔ اس کا موضوع تھا: مسلمانوں کے لئے ریزرویشن اور یہ سیمنار ۲۳ اکتوبر ۱۹۹۴ کو مظفر نگر کے سعادت ہوسٹل میں ہوا۔ مجھ کو بطور چیف گیسٹ اس میں بلایا گیا تھا۔ سید شمیم حیدر زیدی اس کے پریسیڈنٹ اور راؤ عبد الحمید خاں اس کے سکریٹری ہیں۔

۲۳ اکتوبر کی دوپہر کو بذریعہ کار دہلی سے مظفر نگر کے لئے روانگی ہوئی۔ مظفر نگر کے دو صاحبان میرے ساتھ تھےــــ جناب رشید احمد صاحب اور جناب اجمل الرحمٰن صاحب۔ پرہجوم سڑکوں سے گزرتے ہوئے ہم یوپی کے مغربی علاقہ میں داخل ہوئے۔ میں نے دیکھا کہ سڑک کے دونوں طرف مسلسل سرسبز مناظر ہمارا استقبال کر رہے ہیں۔ اتنی زیادہ سرسبزی مشرقی یوپی میں نظر نہیں آتی۔

اس سرسبزی کا راز کیا ہے۔ اس کا راز اس علاقہ میں آبپاشی کا خصوصی نظام ہے۔ سے گزرتے ہوئے ہم ایک مقام پر پہنچے جہاں ایک’’ ندی‘‘ کے اوپر پل بنا ہوا تھا۔ میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا کہ یہ کون سی ندی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ندی نہیں ہے بلکہ وہ نہر ہے جس کو اپر گنگا کینال کہا جاتا ہے۔

جیسا کہ معلوم ہے، گنگا ہمالیہ کی وادی سے نکلتی ہے اور بنگلہ دیش سے گزرتی ہوئی خلیج بنگال میں جا گرتی ہے۔ اس کی لمبائی ۲۵۰۰ کلومیٹر سے کچھ زیادہ ہے۔ گنگا کے پانی کو، دو ہزار سال سے بھی زیادہ مدت سے آبپاشی کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ مگر مسلم سلطنت کے زمانہ میں بارہویں صدی عیسوی کے بعد اس آبپاشی کو بہت زیادہ ترقی حاصل ہوئی۔ مغل بادشاہوں نے گنگا ندی سے کئی نہریں انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کا بیان ہے:

Irrigation was highly developed during the period of Muslim rule

اس نہری نظام کو انگریزوں نے مزید ترقی دی۔ انھوں نے اپر گنگا کینال بنائی۔ نہروں کو ملا کر اس کی لمبائی ۵۹۵۰ میل ہے۔ وہ ہر دوار سے شروع ہوتی ہے۔ اس کا افتتاح ۱۸۵۶ میں ہوا تھا۔ اسی کے ساتھ انگریزوں نے لور گنگا کینال بنائی جو اپنی ذیلی نہروں کے ساتھ ۵۱۲۰ میل لمبی ہے۔ وہ ۱۸۸۰ میں شروع کی گئی۔ ان نہروں نے اس علاقہ میں زرعی انقلاب برپا کر دیا۔

انگریزوں نے ہندوستان میں اس طرح کے بہت سے تعمیری کام کئے۔ مگر اپنی نوجوانی کی عمر میں مجھے انگریزوں کے بارہ میں ہمیشہ صرف بری باتیں سننے کو ملتی تھیں۔ ان کی اچھی باتیں بعد کو صرف ذاتی مطالعہ کے ذریعہ مجھے معلوم ہوئیں۔ خبر رسانی کا یہی یک طرفہ طریقہ ہے جس نے تمام لوگوں کے ذہن کو موجودہ زمانہ میں منفی سوچ میں مبتلا کر دیا ہے۔

راستہ میں میرٹھ آیا جو تقریباً دہلی اور مظفر نگر کے درمیان ہے۔ میرٹھ کا ایک قصہ یاد آ یا جو حیات اللہ انصاری صاحب کے ایک مضمون مطبوعہ قومی آواز ۱۳ اگست ۱۹۹۴میں چھپاتھا۔ میرٹھ میں ایک قاضی نجم الدین صاحب تھے۔ آزادی سے پہلے کے دور میں میرٹھ کے انگریز ڈپٹی کمشنر نے ایک بار شہر کے صاحب ِجائدادلوگوں کو بلا کر کہا کہ کانگریس یہ چاہتی ہے کہ میرٹھ میں وہ اپنی شاخ قائم کرے۔ حکومت کی خواہش ہے کہ آپ میں سے کوئی صاحب دفتر قائم کرنے کے لئے اس کو اپنا مکان کرایہ پر نہ دیں۔ انگریز افسر نے سب سے وعدہ لیا کہ ہاں، ایسا ہی کیا جائے گا۔ قاضی نجم الدین صاحب کی باری آئی تو انھوں نے کہا: میں سرکاری حکم کی پابندی کروں گا اور کانگریس کو اپنا مکان ہرگز کرایہ پر نہیں دوں گا۔ البتہ بلا کرایہ کے اسے دے دوں گا۔ چنانچہ کانگریس کا دفتر قاضی نجم الدین کے گھر میں لمبے عرصہ تک رہا۔ مولانا آزاد اکثر وہاں آ کر مقیم ہوا کرتے تھے۔ موتی لال نہرو اورجواہرلال نہروبھی وہاں آتے رہتے تھے۔ قاضی صاحب کے گھر پر کئی بار چھاپے پڑے اورتلاشیاں ہوئیں۔

۱۱۹۴ سے پہلے مسلمان ملک کے سیاسی عمل میں کتنا زیادہ شامل تھے، اس کی ایک مثال مذکورہ واقعہ میں نظر آتی ہے۔

اسی میرٹھ میں مولا نا اسماعیل میرٹھی (۱۱۹۴۔ ۱۸۸۲) پیدا ہوئے۔ میرا خیال ہے کہ مولا نا الطاف حسین حالی اور مولا نا اسماعیل میرٹھی اردو کے بہترین مصلح شاعر تھے۔ میں جب کہ لوگ ’’مشکلات‘‘ کا انکشاف کر کے لیڈری حاصل کر رہے تھے، مولا نا حالی نے ’’امکانات‘‘ کی نشاندہی کی۔ اسی طرح مولا نا اسماعیل میرٹھی نے قومی ترقی کے لئے سیرت و کردار کی اہمیت کو واضح کیا۔ اگر حالی اور میرٹھی کا کلام مسلمانوں میں پھیلا ہوتا تو اس کے غیر معمولی نتائج نکلتے۔ مگر بدقسمتی سے مسلمانوں میں اقبال جیسے شاعر زیادہ مقبول ہوئے، جنھوں نے مسلمانوں میں فخر اور جذباتیت کا مزاج پیدا کیا۔ جب کہ ضرورت تھی کہ ان کے اندر تعلیم اور تعمیر کا مزاج پیدا کیا جائے۔

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں غیر حقیقت پسندی کا مزاج زیادہ تراسی کا نتیجہ ہے۔ کہ اس دنیا میں چوں کہ خیالی بلند پروازی سے کام نہیں چلتا اس لئے لوگ ڈبل اسٹینڈرڈ بن رہے ملت کے اسٹیج پر تو وہ ’’ تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں‘‘، اور ’’ بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق‘‘ جیسے پرجوش الفاظ بول کر حاضرین کی داد لیتے ہیں لیکن وہ اپنے ذاتی معاملات کو ہمیشہ حقیقت پسندانہ انداز میں حل کرتے ہیں۔

راستہ میں دوپہر کا کھانا چیتل گرینڈ (Cheetal Grand) میں کھایا۔ گرد آلود سڑکوں سے گزرتی ہوئی ہماری گاڑی کھتولی پہنچی۔ یہاں وہ ایک موڑ پر مڑ کر ایک گیٹ کے اندر داخل اچانک ہمارے سامنے ایک سرسبز نخلستان موجود تھا۔ یہ ہوٹل چیتل گرینڈ کا وسیع کیمپس تھا۔ مسوری روڈ پر واقع ہونے کی وجہ سے یہاں ہر وقت لوگوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ اس ہوٹل کے مالک ایک مسلمان ہیں۔ لیکن گا ہکوں میں ۹۹ فیصد ہندو ہوتے ہیں۔

چیتل گرینڈ والوں کو ابتداء ہر قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے خلاف فرقہ

دارانہ پروپیگنڈا کیا گیا۔ ان کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ۔ ان کے خلاف سازشیں کی گئیں۔ مگر حکمت اور دانش مندی سے ہر چیز کا مقابلہ کرتے ہوئے انھوں نے اپنے ہوٹل کو کامیابی کے اعلیٰ درجہ تک پہنچادیا۔

ہر قسم کی مخالفتوں کے باوجود ان کی کامیابی کا خاص راز ان کا معیار اور کوالٹی ہے۔ یہاں کی ہر چیز صفائی اور عمدگی کے اعلیٰ معیار پر نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سڑک سے گزرنے والے لوگ بڑی تعداد میں یہاں آتے ہیں۔ ان میں بہت بڑی تعداد ان لوگوں کی ہوتی ہے جو دہرہ دون، ہردوار اور رشی کیش وغیرہ مذہبی مقامات پر جانے کے لئے ادھر سے گزرتے ہیں۔ ہم جب ہوٹل کے کیمپس میں داخل ہوئے تو وہاں کاروں اور ٹورسٹ بسوں کی بھیڑ لگی ہوئی تھی۔

ہماری گاڑی کے ڈرائیور ایک سردار جی تھے۔ وہ پوری مہارت کے ساتھ سفید ایمیسیڈ روڈڑا وہ ہر گاڑی کو اپنے پیچھے چھوڑتے چلے جارہے تھے۔ دہلی سے مظفر نگر تک جو گاڑی بھی انھیں اپنے آگے جاتے ہوئے دکھائی دی، اس کو چند منٹ میں انھوں نے پیچھے کر دیا۔ اپنی عادت کے مطابق، میں نے سردار جی سے کچھ سوالات کئے ۔ مگر انھوں نے بس ایک دو لفظ میں مختصر جواب دیا۔ چنانچہ میں نے ان سے مزید سوال کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ تاہم اس تجربہ سے میں نے جان لیا کہ وہ اتنے کامیاب ڈرائیور کیوں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنا پورا دھیان صرف ایک کام پر دیتے ہیں۔ ذہن کی یہی یکسوئی (concentration) کسی بھی چیز میں اعلیٰ کامیابی کے لئے ضروری ہے۔

دہلی سے باہر آنے کے بعد ہمارا راستہ زیادہ تر گرینڈ ٹرنک روڈ کے ذریعہ طے ہوا۔ شیر شاہ سوری نے اپنے زمانہ حکومت (۱۵۲۵ء۔ ۱۵۴۰ء) میں بنوائی تھی۔ وہ مشرقی بنگال سے دریائے سندھ تک چلی گئی تھی اور ۱۵۰۰ کوس لمبی تھی۔ شیر شاہ سوری غیر معمولی قسم کا مدبر بادشاہ تھا۔ اس کی تعریف تمام ملکی اور غیر ملکی مورخین نے کی ہے۔ اس نے صرف پانچ سال تک حکومت کی اور اس

قلیل مدت میں اتنے زیادہ رفاہی کام کئے جو کسی بھی دوسرے ہندوستانی حکمران نے نہیں کئے ۔ تاہم اس کے اندر ایک کمزوری تھی وہ ضرورت سے زیادہ باحوصلہ (over-ambitious) وہ شیر شاہ بننے پر راضی نہ تھا بلکہ شہنشاہ ہند بننا چاہتا تھا۔ اس بنا پر اس کا ٹکراؤ ہمایوں بادشاہ سے ہو گیا۔ اس ٹکراؤ کا غیر معمولی نقصان دونوں کو ہوا۔ اگر ہمایوں اور شیر شاہ میں مصالحت ہو جاتی تو شاید ہندوستان کی تاریخ کچھ اور ہوتی ۔ با حوصلہ ہونا اچھا ہے، مگر ضرورت سے زیادہ با حوصلہ ہونا اتنا ہی زیادہ برا ہے۔

ہماری گاڑی مظفر نگر میں داخل ہونے والی تھی کہ میرے ساتھی نے سڑک کے کنارے واقع ایک بڑے مکان کی طرف اشارہ کیا جس کا نام کہکشاں منزل ہے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ کوٹھی نواب زادہ لیاقت علی خاں ( ۱۹۵۱- ۱۸۹۵) نے یہاں بنائی تھی۔ وہ کرنال (پنجاب ) میں پیدا ہوئے ۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم بنے اور ان کو قائد ملت کا خطاب دیا گیا۔ اب ایک اور شخص نے اس مکان کو خرید لیا ہے اور اس کا نام رتن دیپ رکھ دیا ہے۔

نواب زادہ لیاقت علی خان جیسے ہزاروں لوگ ہیں جو ہندوستان میں بہت اچھی حالت اس کے باوجود وہ لوگ تقسیم کے وقت ہندوستان کو چھوڑ کر پاکستان چلے گئے ۔ ترک وطن رومانی تصورات کے تحت تھا۔ مگر نتائج بتاتے ہیں کہ وہ حقیقت پسندانہ نہیں تھا۔ نواب زادہ لیاقت علی خاں، دوسرے بہت سے لوگوں کی طرح وہاں قتل کر دئے گئے ۔ وہاں مہا جروں کا جو حال ہے وہ ایک ایسا معلوم واقعہ ہے جس کی بابت یہاں کچھ لکھنے کی

مظفر نگر میں داخل ہو کر ہماری گاڑی ایک سڑک پر مڑی۔ وہ چلتی ہوئی ایک مکان کے سامنے اس پر لکھا ہوا تھا: گلزارار ابراہیم۔ یہ جناب عقیل احمد صاحب کا مکان تھا۔ ان کے والد کا نام اسی پر انھوں نے اپنے مکان کا نام گلزار ابراہیم رکھا ہے۔ عقیل احمد صاحب اور ان کے دو بھائی الگ الگ بھی ہیں اور ایک ساتھ بھی۔ ان کے درمیان

مثالی اتحاد پایا جاتا ہے۔ اسی لئے یہ لوگ ہر پہلو سے ترقی کر رہے ہیں اور مظفر نگر کے مسلمانوں میں ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ لوگوں کے خاندانی اتحاد کا راز کیا ہے۔ صاحب نے جواب دیا: ہم تینوں بھائیوں کا حال یہ ہے کہ کوئی چیز ہوتی ہے تو کوئی بھی اس کو خود لینے کی کوشش نہیں کرتا۔ ہر ایک دوسرے سے کہتا ہے کہ تم اسے لے لو۔

یہی مزاج اتحاد و ترقی کی جان ہے۔ جو لوگ لینے کے بجائے دینے کا مزاج رکھتے ہوں ان کے اتحاد و ترقی میں کبھی کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی۔

’’گلزار ابراہیم‘‘ میں پہلے سے جناب شاہد صدیقی (ایڈیٹر نئی دنیا) اور پروفیسر اقبال حسین (جواہرلال نہرویونیورسٹی)موجود موجود تھے۔ ان سے ملی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں تھنک ٹینک (Think Tank) کی بہت اہمیت ہے۔ ہند وصاحبان چنتک منڈل قائم کرکے یہ مقصد حاصل کر رہے ہیں۔ ہمیں بھی ایک مسلم تھنک ٹینک بنانا چاہئے۔ ان لوگوں نے اس تجویز سے اتفاق کیا۔ طے ہوا کہ جلد ہی انشاء اللہ محدود افراد پر مشتمل ایک مسلم تھنک ٹینک قائم کیا جائے گا۔

مظفر نگر کی سڑکوں پر ہر جگہ کافی بھیڑ دکھائی دی۔ اس سے اندازہ ہوا کہ یہ شہر اقتصادی سر گرمیوں کا شہر ہے۔ لیکن پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ان سرگرمیوں میں زیادہ حصہ ہندوؤ ں کا مسلمان یہاں کی اقتصادی سرگرمیوں میں شریک ہیں تو وہ بھی دوسرے درجہ کی حیثیت تقریباً یہی حالت دوسرے مقامات کی بھی ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ مسلمان ابھی جدید اقتصادیات کی اہمیت کو نہیں سمجھے۔ عجیب بات ہے کہ سرسید نے جب علی گڑھ کالج (موجودہ یونیورسٹی) قائم کیا تو ایک عرصہ تک اس میں کامرس کا شعبہ موجود نہ تھا۔ اقتصادی شعور میں مسلمانوں کے اس پچھڑے پن کا اثر آج تک باقی ہے۔

مظفر نگر یوپی کا ایک شہر ہے۔ وہ دہلی کے شمال مشرق میں واقع ہے۔ دہلی سے بذریعہ کار تقریباً تین گھنٹہ کا راستہ ہے۔ ایک مغل حاکم خان جہاں نے ۱۶۳۳ میں اس کو آباد کیا اور اپنے باپ مظفر خاں

کے نام پر اس کا نام مظفر نگر رکھا۔ مظفر نگر شہر کی آبادی تقریباڈھائی لاکھ ہے۔ اس میں تقریباً ۳۳ فیصد

مظفر نگر ضلع ہی میں قصبہ پھلت ہے جہاں شاہ ولی اللہ صاحب ۴ شوال ۱۱۱۴ھ کو پیدا ہوئے۔ پھلت شاہ صاحب کا نانہال تھا۔ پھلت میں مولانا محمد کلیم صدیقی نے امام ولی اللہ معہد التربیۃ الاسلامیۃ کے نام سے ایک تعلیمی اور دعوتی ادارہ قائم کیا ہے۔ خاص طور پر دعوتی میدان میں وہ خاموشی کے ساتھ مفید خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس ادارہ کی طرف سے ایک ماہنامہ ارمغان شاہ ولی اللہ کے نام سے نکل رہا ہے۔

آج شاہ ولی اللہ دہلوی کا نام ہندوستانی علماء میں ممتاز ترین نام کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہندوستان میں قرآن وحدیث کے علم کو زندہ کیا۔ آج بھی شاہ ولی اللہ صاحب کا فارسی ترجمہ قرآن کا بہترین ترجمہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر جب شاہ ولی اللہ زندہ تھے تو ان کے ہم عصر مسلمانوں نے ان کے اوپر قاتلانہ حملہ کیا۔ چنانچہ انھیں روپوش ہو جانا پڑا۔ انقلابی مصلح ہمیشہ اپنے ہم عصروں میں غیر مقبول ہوتا ہے مگر بعد کو وہ لوگوں کی نظر میں ہیرو بن جاتا ہے۔

ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ بابری مسجد کی تحریک پر آپ مسلم قیادت سے جدا ہوگئے ۔ نے کہا کہ یہ سراسر الزام ہے۔ مسجد کی اصل حیثیت کے بارے میں دوسروں سے میرا کوئی اختلاف نہیں دونوں میں جو فرق تھا وہ صرف یہ کہ میں یہ چاہتا تھا کہ بابری مسجد کے مسئلہ کو غیر مظاہراتی انداز میں حل کیا جائے۔ جب کہ دوسرے مسلم رہنماؤں نے معاملہ کی نزاکت کو نہیں سمجھا۔ انھوں نے اس کو غیر ضروری طور پر ایک مظاہراتی اشو بنا دیا۔ اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ سراسر نادانی تھی۔ اور وہ ساری مصیبتیں اسی نادانی کی قیمت ہیں جو بعد کو ہمیں پیش آئیں۔

مظفر نگر کے بارہ میں ہندو مسلم فساد کی ایک خبر دہلی کے بعض اردو اخبارات میں ستمبر ۱۹۹۲ میں چھپی تھی ۔ میں نے مظفر نگر پہنچ کر اس کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہاں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

اس زمانہ میں ذہن کو بگاڑنے کا کام سب سے زیادہ اخبارات کر رہے ہیں۔

مولانا ابو الاعلیٰ مودودی نے کالجوں کو قتل گاہ بتایا تھا۔ اکبر الہٰ آبادی نے کہا تھا: یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی مگر موجودہ زمانہ میں ذہنی قتل کا سب سے بڑا ادارہ خود ہماری صحافت ہے۔ یہ صحافت، خاص طور پر اردو ہفت روزے تو گویا ذہن کو بگاڑنے کے کارخانے ہیں۔

اسی مہینہ اکتوبر کے شروع میں مظفر نگر کو اخباروں کے پہلے صفحہ پر جگہ ملی تھی۔ اس کا سبب ۲ اکتوبر ۱۹۹۳ کو مظفر نگر کے قریب ہونے والا وہ واقعہ تھا جس میں بہت سے نوجوان مرے اور بہت سے زخمی ہوئے۔

انڈیا کا اتری علاقہ پہاڑی علاقہ ہے۔ اس علاقہ کے لوگوں میں یہ تحریک ابھری ہے کہ اترا کھنڈ کے نام سے اس علاقہ کو علیحدہ صوبہ بنا دیا جائے۔ علاقہ کے لوگ ۱۲ اکتوبر کو ٢٦ بسوں کے قافلہ کی صورت میں روانہ ہوئے تا کہ دہلی پہنچ کر اترا کھنڈ ریلی میں شریک ہوں۔ یوپی گورنمنٹ کے آرڈر کے تحت پولیس اور پی اے سی نے مظفر نگر کے پاس ان بسوں کو روک لیا۔ اس کے نتیجہ میں پولیس اور اترا کھنڈ حامیوں کے درمیان تصادم ہوا۔ پولیس نے نہایت سخت رویہ اختیار کیا۔ یہاں تک کہ گولی اس حادثہ کے بعد علاقہ کے کئی شہروں میں تشدد پھیل گیا۔

دی پائنیئر (۱۲ اکتوبر ۱۹۹۳) میں مسٹر وی ایم با دولا کا اس پر ایک معلوماتی جائزہ چھپا تھا۔ بتاتے ہیں کہ اترا کھنڈ مومنٹ ایک بے لیڈراور بے پتورا (leaderless, rudderless) تحریک اس کی حقیقت سسٹم کے خلاف اندھے غصہ (blind anger against the system) سے اس قسم کی جذباتی تحریکیں صرف تباہی پر ختم ہوتی ہیں۔ بدقسمتی سے اکثر سیاسی تحریکوں کی نوعیت سیاسی تبدیلی کی تحریک چلانا ایک بے حد نازک کام ہے۔ اس کام کے لئے صرف انھی سنجیدہ لوگوں کو اٹھنا چاہئے جو فی الواقع اس کی استعداد رکھتے ہوں اور وہ ایک لیڈر کی اطاعت بھی کر سکتے ہوں۔ جو تحریک بے لیڈر ہو یا اس کے کئی لیڈر ہوں وہ اپنے انجام کے اعتبار سے خود کشی کے سوا اور کچھ نہیں۔

ایک صاحب جوش وخروش کے ساتھ مسلمانوں کے لئے سروِسوں میں ریزرویشن کی حمایت کر رہے تھے۔ میں نے کہا کہ کیسی عجیب بات ہے کہ سرسید کی تعلیمی تحریک کے نتیجہ میں جب مسلمان سرکاری ملازمتوں میں لئے جانے لگے تو اکبر الہ آبادی (۱۹۲۱۔ ۱۸۴۶)نے نے اس پر طنز کرتے ہوئے کہا :

نہ نماز ہے نہ روزہ نہ زکوۃ ہے نہ حج ہے تو خوشی پھر اس میں کیا ہے کوئی جِنٹ کوئی حج ہے آج جب تبلیغی جماعت جیسی تحریکوں کی کوشش سے نماز روزہ کی کثرت ہو گئی تو مسلمان مقررین اس کا شکوہ کر رہے ہیں کہ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کو نہیں لیا جاتا۔ میں نے کہا کہ ملازمتوں کا تعلق ریزرویشن سے نہیں ہے بلکہ محنت اور لیاقت سے ہے۔

ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ غیر مسلموں سے تعلقات بڑھا رہے ہیں، اس سے کیا ملی فائدہ حاصل ہوا ہے۔ میں نے کہا کہ میرا خاص مقصد باہمی غلط فہمی کو دور کرنا ہے اور اسلام کی صحیح تصویر سے انھیں روشناس کرانا ہے۔ یہ فائدہ خدا کے فضل سے برابر حاصل ہو رہا ہے۔ سلسلہ کی مختلف مثالوں میں سے ایک مثال خبر نامہ ہے۔ الرسالہ میں ہر ماہ جو خبر نامہ چھپتا ہے اس کو آپ دیکھئے ۔ پچھلے چند سالوں میں اتنے زیادہ انٹرویو میڈیا کی طرف سے اسلام پر لئے گئے ہیں جو جے ۱۹۴ سے اب تک کسی کے ذریعہ نہیں ہوئے تھے۔ غیر مسلموں کے اجتماعات میں تقریر کے مواقع ، غیر مسلم جرائد میں اسلام کے موضوعات پر مضامین کی اشاعت ، اور اس طرح کی دوسری چیزیں اس کے علاوہ ہیں۔

۱۹۸۶ تک بابری مسجد کا مسئلہ صرف ایک مقامی مسئلہ تھا۔ عدالت کے پر امن دائرہ میں اس پر کارروائی ہو رہی تھی۔ اس وقت صرف تھوڑے سے ہندو اس سے وابستہ تھے۔ حتیٰ کہ خود ایودھیا کی ہندو اکثریت اس سے الگ تھی۔ مگر جب ملکی سطح پر اس کے لئے جلسہ جلوس کے ہنگامے کھڑے کئے گئے تو ہندو فرقہ بھی جاگ اٹھا۔ اس طرح جو معاملہ ابتداء صرف اجودھیاکے چندہندوؤ ں کا مسئلہ تھاوہ پورے ملک کے ہندوؤں کا مسئلہ بن گیا۔ نام نہاد لیڈروں کی یہی الٹی سیاست ہے جس نے مسجد کو

گرانے کے حالات پیدا کئے ۔ اسلامی شریعت کے مطابق ، ہندو لیڈر شپ اگر مسجد کو گرانے کی ذمہ دار ہے تو مسلم لیڈر شپ اس کو گرانے کی ذمہ دار ہے۔

مغرب سے کچھ پہلے اجتماع گاہ کے لئے روانہ ہوئے۔ راستہ میں مظفر نگر کے مختلف علاقوں کو ساتھیوں سے شہر کے بارہ میں ضروری معلومات حاصل کیں۔

۲۳ اکتوبر کی شام کو مغرب کی نماز اجتماع گاہ کے قریب شیعہ مسجد میں پڑھی۔ ہم لوگوں نے مسجد کے صحن میں اپنی جماعت کی ، ہماری نماز جب ختم ہوگئی اور افق پر کسی قدر اندھیر محسوس ہونے لگا، اس وقت پیچھے سے اذان جیسی آواز آئی۔ ایک شیعہ مؤذن اوپر چڑھ کر اپنی اذان دے رہے تھے۔ الفاظ سنی اذان سے کسی قدر مختلف تھے۔

نمازِ مغرب کے بعد سیمنار کی کارروائی شروع ہوئی۔ اس کا موضوع ، مطبوعہ کارڈ کے مطابق یہ تھا: مسلمانوں کا رزرویشن اور تعلیم:

Printed page