قدرتی ڈھال
Al-Risala, June 2000, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
چنگیز خاں کا پوتا ہلاکو خاں وحشی تاتاری قبائل کی فوج لے کر ۱۲۵۸ء میں بغداد میں داخل ہوا اور اس کو تباہ کر ڈالا۔ اس کے بعد عرصہ تک وہ لوگ مسلم دنیا کو اپنی تخریب کاری کا نشانہ امام ابن تیمیہ (۱۲۲۸-۱۲۶۳ء) کا زمانہ وہی ہے جو اس تاتاری فتنہ کا زمانہ ہے۔ دمشق میں ایک بار ابن تیمیہ ایک مقام سے گزر رہے تھے۔ اس مقام پر تاتاریوں کا ایک گروہ پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا۔ اس وقت وہ لوگ شراب نوشی میں مشغول تھے۔ ابن تیمیہ کے بعض ساتھیوں نے چاہا کہ ان کے پاس جائیں اور ان کو شراب پینے سے روکیں۔ ابن تیمیہ نے اپنے ساتھیوں کو منع کیا۔ انھوں نے کہا کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو۔ جب تک یہ لوگ نشہ کی حالت میں رہیں گے، مسلمان ان کی جارحیت سے محفوظ رہیں گے۔ ان کی ہوش کی حالت کے مقابلہ میں ان کی مدہوشی کی حالت زیادہ بہتر ہے (سکرهم خير من صحوهم) موجودہ دنیا میں عافیت کی زندگی حاصل کرنے کے لئے یہ ایک قیمتی اصول ہے۔ ان کی دلچسپیوں میں مشغول رہنے دیجیے، آپ ان کے فتنوں سے محفوظ رہیں گے۔ یہ اصول دور جدید کے ”تاتاریوں“ پر مزید اضافہ کے ساتھ چسپاں ہوتا ہے۔ صنعتی دور کے تاتاری اس سے بھی زیادہ بڑے نشے میں مبتلا ہیں۔ یہ دولت کمانے کا نشہ ہے۔ جدید صنعتی انقلاب نے دولت کمانے کے بے حساب مواقع کھول دئے ہیں۔ چنانچہ ہر آدمی اپنی ساری توجہ زیادہ سے زیادہ کمائی کرنے میں لگائے ہوئے ہے۔ برادرانِ وطن میں یہ کیفیت اور بھی زیادہ ہے۔ کیوں کہ وہ دولت کو دیوتا کا درجہ دیتے ہیں۔
ایسی حالت میں لوگوں کے شر سے بچنے کی سب سے آسان صورت یہ ہے کہ وہ جس ”نشہ“ میں مشغول ہیں انھیں اسی نشہ میں مشغول رہنے دیا جائے۔ دولت پرستی خود ان پرستاروں کے لئے بری چیز ہے۔ مگر دوسروں کے لئے وہ ان کے مقابلہ میں ایک قدرتی ڈھال بن جاتی ہے۔