تخلیقی منصوبہ
Al-Risala, June 2000, pp. 17–18
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب انسان جیسی مخلوق پیدا کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو فرشتوں نے اس کو سن کر کہا: اتجعل فيها من يفسد فيها و يسفك الدماء ونحن نسبح بحمدك و نقدس لك قال اني اعلم مالا تعلمون (البقره ۳۰) یعنی کیا تو زمین میں ایسی مخلوق بسائے گا جو اس میں فساد کرے اور خون بہائے اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان اللہ نے کہا میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
انسانی تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ فرشتوں کا یہ اندیشہ بالکل درست تھا کہ انسان جیسی آزاد مخلوق یہی کرے گی کہ وہ زمین پر فساد برپا کرے اور خون بہائے۔ اسی کے ساتھ فرشتوں کا یہ کہنا بھی درست تھا کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوقات سے جو چیز مطلوب ہے وہ حمد و تقدیس ہی ہے جو عملاً ساری کائنات میں ہو رہی ہے۔ اس کے باوجود اللہ نے انسان جیسی مخلوق کو کیوں پیدا کیا۔ وجہ یہ تھی کہ کائنات خدا کی مجبورانہ تسبیح و تقدیس کر رہی ہے۔ اب خدا کو مطلوب تھا کہ ایک ایسی مخلوق ہو جو خدا کی اختیاریانہ تسبیح و تقدیس کرے۔ اور یہ مقصد انسان جیسی با اختیار مخلوق کی پیدائش ہی کے ذریعہ ممکن تھا۔
خدا کے تخلیقی منصوبہ کی نسبت سے اصل قابل لحاظ بات یہ نہیں ہے کہ انسان فساد اور خونریزی کرتا ہے۔ اصل قابل لحاظ بات یہ ہے کہ اسی طرح کے پر خطر ماحول میں ان روحوں کا انتخاب کیا جا سکتا ہے جو خدا کی معیاری جنت میں بسائے جانے کے قابل ہوں۔ کسی اور ماحول میں ایسے قیمتی افراد کی پیدائش ممکن نہیں۔
خدا کو اپنی جنت میں بسانے کے لئے ایسے افراد درکار ہیں جو اختیاری تسبیح و تقدیس کا اہل دماغ اپنے دماغ کے غلط استعمال سے دنیا کو افکار کا اندھیرا جنگل بنادیں پھر بھی ایک طالب حق اس کے اندر سچائی کو دریافت کرے اور اس کو اپنا لے۔ حالات کی کشاکش میں کوئی
شخص آخری حد تک غیر محفوظ (vulnerable) ہو جائے۔ مگر ایک اللہ کا بندہ اس پر قابو پانے کے باوجود اس کی غیر محفوظیت کو استعمال نہ کرے۔ عملی حالات کسی کو اقتدار اعلیٰ کا مالک بنادیں مگر وہ اپنے اقتدار کا غلط استعمال نہ کرے۔ آزاداقتصادی عمل کے دوران کسی کے پاس دولت کا ڈھیر جمع ہو جائے۔ مگر وہ اس دولت کو بھلائی کے راستوں میں فیاضی کے ساتھ خرچ کرے وغیرہ۔ ملائکہ کی پیدائش سے یہ مقصود تھا کہ ایک ایسی مخلوق وجود میں آئے جو تسبیح و تقدیس کے لئے پیدا کی گئی ہو اور وہ مکمل طور پر اور بلا انحراف تسبیح و تقدیس کے اسی عمل میں مصروف رہے۔ اس کے برعکس انسان کے بارے میں خدا کا تخلیقی منصوبہ یہ تھا کہ ایک ایسی مخلوق وجود میں آئے جس کو خونریزی اور ہر قسم کے فساد کا مکمل اختیار حاصل ہو، اس کے باوجود وہ پوری طرح خونریزی اور فساد سے بچے اور اپنے آزادانہ اختیار کے تحت تسبیح میں مشغول ہو جائے۔ جنت کیا ہے۔ جنت خدا کی بنائی ہوئی معیاری دنیا ہے۔ وہاں ہر قسم کے سامان حیات اپنی نفیس ترین صورت میں مہیا کئے گئے ہیں۔ وہاں نہ کسی قسم کا غم ہے اور نہ کسی قسم کا اندیشہ۔ قسم کی محدودیتوں سے کامل طور پر پاک ہے۔ مزید یہ کہ وہاں انسان کے لئے ممکن ہوگا کہ وہ بلا روک ٹوک اپنی آرزوؤں اور تمناؤں کی تکمیل کر سکے۔
ایسی نفیس دنیا صرف نفیس روحوں کے لئے مقدر ہے اور یہ نفیس روحیں وہی ہیں جو ناموافق اسباب کا پردہ پھاڑ کر خدا کی معرفت حاصل کریں۔ جو ہر قسم کی سرکشی کو چھوڑ کر اپنے آپ کو خدا کی تابعداری میں دے دیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو بولنے کی آزادی تھی مگر وہ خدا کے خوف سے نہیں بولے۔ جن کو دوسروں کے اوپر دست درازی کا موقع تھا مگر انہوں نے اپنے ہاتھوں کو روک لیا۔ جو دوسروں کو بے عزت کر سکتے تھے مگر وہ جہنم کے اندیشے سے ایسی کارروائی سے باز رہے۔ جو دوسروں کی چیز کو اپنی چیز بنا سکتے تھے مگر آخرت کی پکڑ نے انہیں ایسا کرنے نہیں جن کی انا حقیقت کے اعتراف میں مانع تھی مگر انہوں نے اپنی انا کو کچل کر حقیقت کا کھلا