Al-Risala · June 2000

ایمان ایک معرفت

Al-Risala, June 2000, pp. 19–20

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں کچھ مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ : قالت الاعر با آمنا قل لم تؤمنوا ولكن قولوا اسلمنا ولما يدخل الايمان في قلوبكم (الحجرات (۱۴) یعنی اعراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔ کہو کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم نے اسلام قبول کیا اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہو۱۔

دوسری طرف قرآن میں کچھ اور مسلمانوں کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے: اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اس سبب سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لائے۔ پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔ اور ہم کیوں نہ ایمان لائیں اللہ پر اور اس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے جب کہ ہم یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو صالح لوگوں کے ساتھ شامل کرلے۔ پس اللہ ان کو اس قول کے بدلہ میں ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی بدلہ ہے نیک عمل کرنے والوں کا۔ ان دونوں آیتوں کا مطالعہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کی حقیقت کیا ہے۔ کون خوش نصیب لوگ ہیں جن کے ایمان کو اللہ تعالیٰ کے یہاں قبولیت حاصل ہوگی اور وہ ابدی جنتوں میں داخل کئے جائیں گے، جہاں وہ کبھی نہ ختم ہونے والی خوشیوں اور راحتوں میں زندگی

پہلی بات یہ کہ اللہ تعالیٰ کا مطلوب ایمان وہ ہے جو داخل القلب ایمان (الحجرات (۱۴) ہو، صرف زبان سے ایمان کے کلمات ادا کر دینا وہ چیز نہیں جس کی بنا پر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے یہاں مومن یا صاحب ایمان شمار کیا جائے۔ زبان سے جو کلمہ ایمان ادا کیا جاتا ہے وہ در حقیقت آدمی کی طرف سے قبولیتِ ایمان کا ایک لفظی اظہار ہے۔ اصل مطلوب ایمان یہ ہے کہ ایمان کی

حقیقت دل کی گہرائیوں میں داخل ہو جائے، وہ آدمی کے شعور کا سب سے زیادہ اہم حصہ بن جائے، اسی کے ذریعہ آدمی کی شخصیت کی تعمیر ہونے لگے۔

۲- دوسری آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان معرفت حق کا دوسرا نام ہے۔ جب اپنے آپ کو اور خالق کو صحیح طور پر پہچانے اور شعور کی گہرائیوں کے ساتھ یہ جان لے کہ وہ صرف ایک عاجز بندہ ہے اور ہر قسم کی برائیاں اور تمام قسم کے کمالات صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہیں، پھر یہ علم اس کو اس حد تک متاثر کرے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کے آگے ڈال دے، تو اسی گہرے ایمانی تجربہ کا نام معرفت ہے، اور یہ معرفت ایمان کا آغاز ہے۔ ایمان جب تک حق کی گہری معرفت نہ بنے اللہ کے نزدیک اس کی کوئی قیمت نہیں۔

۳- اس عارفانہ ایمان کی ایک علامت یہ ہے کہ ایک آدمی کو اس کا تجربہ ہوتا ہے کہ اس کی آنکھوں سے آنسو کا سیلاب بہہ پڑتا ہے۔ یہ تجربہ اس کی اندرونی شخصیت میں ایک زلزلہ پیدا کر دیتا ہے۔ اس کے اندر ایک زبردست قسم کی روحانی ہلچل برپا ہو جاتی ہے۔ یہی گہرے آنسو گویا اس کے اندر پیدا ہونے والے اس داخلی انقلاب کی تصدیق ہوتے ہیں۔ جس معرفت حق کے ساتھ آنسوؤں کی یہ تصدیق شامل نہ ہو، وہ معرفت حق اللہ تعالیٰ کے یہاں معتبر نہیں۔ یہ ایمان کوئی سادہ بات نہیں، اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک کائناتی شہادت ہے۔ یہ حقائق خداوندی کو دیکھنے سے پہلے گویا اس کا مشاہدہ کر لینا ہے۔ یہ مجبورانہ اعتراف کا وقت آنے سے پہلے اس کا اختیارانہ اعتراف کرنا ہے۔ یہ اس خداوند ذوالجلال کے حق میں اپنی گواہی درج کرنا ہے جس کی گواہی ہر لمحہ خدا کے مقدس فرشتے انجام دے رہے ہیں۔

۵- ایمان دراصل دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دینے کا فیصلہ ہے۔ یہ دنیا کی نعمتوں کے مقابلہ میں آخرت کی نعمتوں کا طالب بننا ہے، جو لوگ اپنے سارے دل اور اپنے سارے دماغ کے ساتھ اس طلب کا ثبوت دیں وہی وہ روحیں ہیں جن کو جنت کے ابدی باغوں میں داخل کیا جائے گا، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اس سے باہر آنے کی تمنانہ کریں گے۔

Printed page