فطری حل
Al-Risala, June 2000, pp. 21–23
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندستان کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ یہاں کے مسلمان اکثریتی فرقہ کی طرف سے تعصب اور زیادتی کا شکار ہیں۔ اس ملک میں مسلمانوں کے لئے یہ مواقع نہیں کہ وہ پر امن طور پر یہاں رہیں اور تعمیر و ترقی کے راستہ میں سرگرم ہوں۔ مگر یہ بات سراسر بے بنیاد ہے۔ حقیقت جاننے کا سادہ سا طریقہ یہ ہے کہ جو شخص یہ کہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کو تباہ کیا جارہا ہے اس سے پوچھئے کہ تم خود کیوں تباہی سے بچے ہوئے ہو۔ اسی طرح جو مسلم اخبار اس قسم کی باتیں چھاپے اس کے بارے میں تحقیق کیجئے کہ اس اخبار کا مالک تباہی کا شکار ہے یا ترقی کر رہا ہے۔ تقریبا یقینی ہے کہ ہر بار تحقیق سے یہی معلوم ہو گا کہ جو لوگ مسلمانوں کو اس قسم کی خبریں سناتے ہیں وہ خود اس ملک میں زبردست ترقی کئے ہوئے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر دوسرے ملک کی طرح ہندستان میں بھی بعض استثنائی واقعات اب لکھنے اور بولنے والے لوگ یہ کرتے ہیں کہ انہی استثنائی واقعات کو بڑھا چڑھا کر چھاپتے ہیں اور بیان کرتے ہیں۔ اس طرح لوگوں کے ذہنوں میں ہندستان کی ایک ایسی تصویر بنتی ہے جو واقعہ کے مطابق نہیں۔ وہ استثناء کو عموم سمجھ لیتے ہیں حالانکہ اس قسم کا استثناء ہمیشہ اور ہر سوسائٹی میں موجود رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ منفی واقعات اگر ایک فیصد ہیں تو مثبت واقعات ۹۹ اس سلسلہ میں یہاں ایک مثبت واقعہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔
مشتاق احمد صاحب (پیدائش ۱۹۳۲ء) سے ۷ فروری ۲۰۰۰ء کو دہلی میں ملاقات ہوئی وہ حج کے لئے جاتے ہوئے دہلی میں ٹھہرے تھے۔ وہ شیوگنج(راجستھان)کے (راجستھان) کے رہنے والے انہوں نے بتایا کہ جب میں حج کے ارادےسے شیوگنج سے روانہ ہوا تو وہاں کے نہ صرف مسلمانوں نے بلکہ ہندوؤ ں نے بھی زبردست خوشی کا اظہار کیا۔ ہر ایک نے مجھے ہار پہنایا۔ تقریبا ڈیڑھ سو آدمی پہنچانے کے لئے ریلوے اسٹیشن آئے۔ ان میں کافی تعداد ہندوؤ ں کی
ہر ایک نے کہا کہ وہاں پہنچ کر ہمارے لئے دعا کیجیے۔
انہوں نے بتایاکہ شیوگنج میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے تعلقات بہت اچھے ہیں۔ افراد یہاں آتے ہیں مگر ان کی کوشش کامیاب نہیں ہوتی۔ مثلاً ایک کٹر ہندو لیڈر ۱۹۹۲ء میں آئے، انہوں نے رات کے جلسہ میں نہایت زہریلی تقریر کی۔ انہوں نے ہندوؤں سے یہاں تک کہا کہ مسلمانوں کا مکمل بائیکاٹ کرو اور ان سے لین دین نہ کرو اور کوئی دکان انہیں کرایہ پر نہ اگر دیا ہو تو زبردستی خالی کرا لو، وغیرہ۔ واضح ہو کہ شیوگنج کی تجارت تقریباً ۹۹ فی صد ہندوؤں کے ہاتھ میں ہے۔
مشتاق صاحب نے یہ قصہ بتاتے ہوئے کہاکہ شیوگنج میں مسلمان صرف پانچ فی صد ہیں۔ رات کی اس زہریلی تقریر کے بعد ہم لوگ یہ سوچنے لگے کہ دیکھیں صبح کو کیا ہوتا ہے۔ مسلمانوں نے اس کے خلاف کوئی احتجاج یا مظاہرہ نہیں کیا، نہ جلسہ کے اندر اور نہ جلسہ کے باہر۔ اس انتہائی دل آزار تقریر کے باوجود شیوگنج کے مسلمانوں نے اس کے خلاف کوئی احتجاجی کارروائی نہیں کی۔ صرف یہ ہوا کہ جناب محمد امین صاحب جوشیوگنج کے ایک مسلم تاجر ہیں وہ وہاں کے ایک ہندو پنڈت پھکر اج شری مالی سے ملے۔ وہ وشو ہند و پریشد کے مقامی لیڈر ہیں۔ صاحب نے ان سے پوچھا کہ رات کو جو تقریر مہاراج نے کی ہے اس کے بارے میں آپ کا کیا کیا آپ اس کو ٹھیک سمجھتے ہیں۔ پنڈت پھکر اج شری مالی صاحب نے جواب دیا کہ یہ سب بکواس ہے۔ شیوگنج میں ہندو اور مسلمان بھائی بھائی کی طرح رہتے آئے ہیں اسی طرح رہیں یہاں اس کا کوئی اثر ہونے والا نہیں۔ چنانچہ خود یہاں کے ہندوؤں نے مذکورہ تقریر کی بھرپور بھرشنا(مذمت)کی کی اورشیوگنج کے ماحول میں اس کا کوئی عملی اثر نہیں ہوا۔ اصل یہ ہے کہ انسان کی فطرت امن کو پسند کرتی ہے۔ ہر انسان پیدائشی طور پر معتدل ماحول چاہتا ہے کیوں کہ معتدل ماحول میں ہر ایک کا فائدہ ہے۔ جب شیوگنج کے مسلمانوں نے اپنی طرف سے کوئی جوابی کارروائی نہیں کی تو گویا کہ انہوں نے انسانی فطرت کو اپنا عمل کرنے کا موقع
اور انسانی فطرت اپنا وزن ہمیشہ امن کے حق میں ڈالتی ہے۔ اس کے خلاف صرف اس وقت ہوتا ہے جب کہ کوئی نادان لیڈر کھڑاہواورجوابی اشتعال انگیزی کر کے معاملہ کو غیر ضروری طور پر اس طرح بڑھائے کہ فطرت کے لئے اپنا کام کرنے کا موقع باقی نہ رہے۔ فطرت کا ایک اصول زمین پر چھوٹے بڑے بے شمار حیوانات ہیں۔ وہ ہر لمحہ اپنے اندر سے گندگی نکالتے رہتے ہیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ زمین بدستور صاف ستھری حالت میں موجود رہتی ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ وہ حیوانی غلاظت سے بھر جائے۔
اس کا سبب فطرت کا ایک قانون ہے۔ جب بھی کوئی حیوان غلاظت خارج کرتا ہے تو عین اسی وقت بے شمار چھوٹے چھوٹے نا قابلِ مرئی کیڑے (bacteria) اس پر جمع ہو جاتے ہیں۔ اس کو ڈی کمپوز (decompose) کر کے گیس کی صورت میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد یہ گیس اوپر اٹھ کر فضا میں تحلیل ہو جاتی ہے۔
یہ فطرت کا ایک عام قانون ہے۔ وہ جس طرح بقیہ دنیا میں جاری ہے اسی طرح وہ انسانی دنیا میں بھی جاری ہے۔ جب بھی انسانی دنیا میں کوئی برائی پیدا ہوتی ہے تو عین اسی وقت قدرت کا قانون عمل میں آ جاتا ہے۔ وہ اس برائی کو ختم کر کے دوبارہ اس کو معتدل حالت میں قائم کرنے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ فطرت کا یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی آخری تکمیل تک پہنچ جائے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ناخوشگوار صورت حال پیش آنے کے بعد اگر ہم خود اقدام نہ کریں تو فطرت اپنے آپ اس کے خلاف سرگرم ہو جائے گی۔ اور ناخوشگوار صورت حال کو دوبارہ خوش گوار صورت حال میں تبدیل کر دے گی۔ انسان کی مداخلت کا انجام یقینی نہیں مگر فطرت کی مداخلت کا انجام یقینی ہے، فطرت خدا کے قانون کا نام ہے۔ اور خدا کا قانون جب عمل میں آ جائے تو اس کو انجام تک پہنچنے سے کوئی روکنے والا نہیں۔