دلائل قرآن
Al-Risala, June 2000, pp. 24–30
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ قرآن کس طرح پیغمبر اسلام پر اترا۔ اس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: وإنه لتنزيل رب العالمين نزل به الروح الأمين على قلبك لتكون من المنذرين، بلسان عربی مبین، وإنه لفى زبر الأولين، (الشعراء ۱۹۲-۱۹۶) یعنی اور بے شک یہ خداوند عالم کا اتارا ہوا کلام ہے۔ اس کو امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے۔ تمہارے دل پر تا کہ تم ڈرانے والوں میں سے صاف عربی زبان میں اور اس کا ذکر اگلے لوگوں کی کتابوں میں ہے۔
نزول وحی (روح) کی مزید تفصیلات حدیث میں آئی ہیں۔ وحی کی حقیقت کے بارے میں عرب میں سوال کیا گیا تو قرآن میں اس کا جواب اس طرح دیا گیا: ويسئلونك عن الروح، قل الروح من أمر ربی و ما اوتيتم من العلم الا قلیلاً (بنی اسرائیل ۸۵) یعنی اور وہ تم سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں۔ کہو کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے۔ اور تم کو بہت تھوڑا علم دیا گیا
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سوال کے سلسلہ میں اصل مسئلہ اس کا براہ راست جواب دینے کا نہیں ہے بلکہ خود سائل کی اپنی محدودیت کا ہے۔ کیوں کہ سائل اپنی فطری محدودیت کی بنا پر اس مسئلہ کو صرف جزئی طور پر ہی سمجھ سکتا ہے، وہ کلی معنی میں اس کی نوعیت کا احاطہ نہیں کر یہ جواب عین سائنٹفک ہے۔ دنیا کی تمام چیزوں کے مطالعہ کے لئے سائنس میں عین یہی
طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ خود سائنسی تحقیق نے بتایا ہے کہ انسان اپنی پیدائشی محدودیت کی بنا پر کسی علم کا کلی احاطہ نہیں کر سکتا۔ اس لئے سائنس میں جزئی واقفیت ہی کی بنیاد پر تمام نظریات قائم کئے گئے ہیں۔ یہی سائنسی طریقہ وحی کے بارے میں بھی انسان کو اختیار کرنا چاہئے۔ قرآن خدا کا کلام ہے، وہ پیغمبر اسلام کا اپنا کلام نہیں۔ اس کا ایک سادہ ثبوت قرآن و حدیث کی زبان کا فرق ہے۔ حدیث خود پیغمبر اسلام کا اپنا کلام ہے اور قرآن وہ کلام ہے جس کو پیغمبر اسلام نے خدا کا کلام بتا کر پیش کیا۔ جب دونوں کا تقابلی مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کی زبان اور قرآن کی زبان کے درمیان واضح اور نمایاں فرق ہے۔ حدیث اپنی تمام خوبیوں کے باوجود ایک "بشر" کی زبان معلوم ہوتی ہے۔ اس کے برعکس قرآن اپنے غیر معمولی اسلوب کی بنا پر ایک بر تر شاہانہ کلام دکھائی دیتا ہے۔ حدیث کی زبان اور قرآن کی زبان کا یہ فرق اتنا زیادہ نمایاں ہے کہ کوئی بھی عربی داں جو دونوں کو تقابلی طور پر پڑھے، وہ اس فرق کو محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ دونوں کا یہ فرق اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے نہ کہ خود رسول کا کلام۔
دوسری چیز یہ کہ قرآن کے کلام میں معنوی اعتبار سے ایسے مختلف استثنائی پہلو ہیں جو کسی بھی انسان کے کلام نہیں پائے نہیں جاتے۔ ان میں سے ایک پہلو یہ ہے کہ قرآن میں فلکیات، طبیعیات، حیاتیات، ارضیات، نباتات، حیوانات، اور تاریخ، وغیرہ کے بارے میں ایسے بیانات ہیں جو ڈیڑھ ہزار سال پہلے کسی بھی انسان کو معلوم نہ تھے جب کہ قرآن نازل ہوا۔ یہ حقائق پہلی بار صرف انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں انسان کے علم میں آئے۔ ان حوالوں کا استثنائی طور پر قرآن میں موجود ہونا اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ قرآن خداوند عالم الغیب کا کلام ہے۔ انسان اس قسم کی پیشگی اطلاع پر قادر نہیں ہو سکتا۔
اس نوعیت کی بہت سی مثالیں راقم الحروف نے اپنی کتابوں میں درج کی ہیں۔ طور پر ملاحظہ ہو، عظمتِ قرآن، مذہب اور جدید چیلنج کا متعلق حصہ۔ اپنی تفسیر تذکیر القرآن میں
بھی بعض آیات کی تشریح کے تحت راقم الحروف نے اس طرح کے کچھ حوالے شامل کئے ہیں۔ فرانس کے ڈاکٹر موریس بکائی (Maurice Bucaille) نے خاص اسی موضوع پر ایک کتاب فرانسیسی زبان میں لکھی ہے۔ اس کا ترجمہ مختلف زبانوں میں ہوا ہے۔ عربی ترجمہ کا نام یہ ہے: القرآن الكريم والتوراة والا نجیل والعلم(صفحات (صفحات ۲۹۰) انگریزی ترجمہ کا ٹائٹل یہ ہے: The Bible The Qur'an and Science. اس کتاب میں قرآن کے قدیم بیانات کا تقابل جدید سائنسی دریافتوں سے کیا گیا ہے۔ مصنف نے لکھا ہے کہ دونوں کے درمیان استثنائی طور پر کامل مطابقت کی توجیہہ اس کے سوا کچھ اور نہیں کی جاسکتی کہ قرآن کو خدا کا کلام مانا جائے۔ اس موضوع پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے مصنف نے آخر میں لکھا ہے کہ :
In view of the level of knowledge in Mohammad's day, it is in- conceivable that many of the statements in the Qur'an which are connected with science could have been the work of a man. It is, moreover, perfectly legitimate, not only to regard the Qur'an as the expression of a Revelation but also to award it a very special place, on account of the guarantee of authenticity it provides and the presence in it of scientific statements which, when studied today, appear as a challenge to explanation in human terms. قرآن پرنٹنگ پریس سے پہلے کے زمانہ میں نازل ہوا۔ مگر اس کی حفاظت کے لئے غیر معمولی اہتمام کیا گیا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہر وقت کوئی نہ کوئی کاتب وحی رہتا تھا تاکہ جب بھی جبرئیل قرآن کا کوئی حصہ لے کر اتریں تو فورا اس کو لکھ لیا جائے۔ یہ کتاب اس زمانے کے مستعمل کاغذوں پر ہوتی تھی۔ مثلاً جھلتی وغیرہ۔ کتابت کا یہ اہتمام اتنا زیادہ تھا کہ ہجرت کے موقع پر پیغمبر اسلام اپنے صحابی ابو بکر صدیق کے ساتھ مکہ سے مدینہ کے لئے روانہ ہوئے تو اگرچہ یہ انتہائی ہنگامی سفر تھا لیکن اس کے باوجود حضرت ابو بکر صدیق جو ایک کاتب وحی بھی تھے،
اپنے ساتھ کاغذ اور قلم بھی لئے ہوئے تھے تاکہ سفر کے دوران اگر قرآن کا کوئی حصہ اترے تو اس کو فورا لکھ لیا جائے۔
قرآن کو محفوظ کرنے کا یہ اہتمام بیک وقت دو طریقوں سے جاری تھا۔ ایک، نزول کے بعد فوراً اس کو لکھ لینا ۔ دوسرے، اس کو باقاعدہ یاد کر لینا۔ اس طرح ایک طرف تقریباً دو درجن کاتب وحی کتابت کے عمل میں مصروف رہتے تھے۔ اور دوسری طرف ہزاروں کی تعداد میں آپ کے ایسے اصحاب تھے جو قرآن کو لفظاً بالفظ یاد کر لیتے تھے۔ واضح ہو کہ دورِ پریس سے پہلے دنیا بھر میں چیزوں کو یاد رکھنے کا رواج تھا اس لئے کثرت استعمال کی بنا پر اس زمانہ کے لوگوں کے حافظے بہت اچھے ہوا کرتے تھے۔ مثال کے طور پر قدیم عرب میں ایسے ہزاروں لوگ تھے جن کو لمبے لمبے نسب نامے اور بڑے بڑے قصیدے زبانی یاد تھے۔ اور وہ ان کو اپنے حافظہ کی مدد سے مجلسوں میں پڑھا کرتے تھے۔
اس طرح قرآن حسب موقع اترتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے کچھ پہلے مکمل ہو گیا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی آخر عمر میں جب کہ قرآن کے تمام حصے اتر چکے تھے، خدا کے حکم سے جبرئیل آپ کے پاس آئے۔ انھوں نے قرآن کے تمام نازل شدہ حصوں کو موجودہ مصحف کے مطابق ترتیب دیا۔ اور پھر مکمل قرآن سورہ فاتحہ سے لے کر سورہ الناس تک سلسلہ وار پڑھ کر سنایا۔ اور پھر اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے قرآن کو سلسلہ وار پڑھ کر سنایا۔ اس طرح جبرئیل کے سامنے مکمل طور پر پڑھنے کا واقعہ دو بار ہوا۔ پہلے کو عرضِ اولیٰ کہا جاتا ہے اور دوسری بار پڑھے جانے کو عرضہ اخیرہ۔ ۶۳۲ء میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو اس وقت قرآن ہر اعتبار سے محفوظ اور مکمل ہو چکا تھا۔ البتہ وہ ایک مجلد کتاب کی صورت میں اب تک جمع نہیں ہوا تھا۔ کام خلیفہ اول ابو بکر صدیق کی ہدایت کے تحت انجام پایا۔ خلیفہ اول نے اس مقصد کے لئے زید بن ثابت انصاری کو مقرر کیا جو اس خاص کام کے لئے صحابہ میں سب سے زیادہ اہل سمجھے جاتے تھے۔
حضرت زید بن ثابت نے اس کام کے لئے وہ آخری اہتمام کیا جو کسی انسان کے لئے ممکن ہو سکتا تھا۔ انھوں نے اعلان کیا کہ لوگوں کے پاس قرآن کے لکھے ہوئے جتنے اجزاء ہیں وہ سب کے سب لائے جائیں۔ چنانچہ سب کے سب کتابت شدہ اجزاء حضرت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دئے گئے۔ وہ خود قرآن کے مکمل حافظ تھے۔ تاہم انہوں نے مزید احتیاط کے لئے کچھ اور حفاظ کو اپنی مدد کے لئے مقرر کیا۔
اب وہ عمل شروع ہوا جس کو ایک مستشرق نے بجاطور پر چیکنگ کا دہرا طریقہ (double checking system) کا نام دیا ہے۔ یعنی ایک طرف قاری قرآن کے حصے پڑھتا تھا اور دوسری طرف اس پڑھے ہوئے حصے کی مطابقت تحریری ذخیرہ سے کی جاتی تھی۔ تحریر اور حافظہ دونوں ایک دوسرے کے مطابق ثابت ہوجاتے تھے تو اس کو اس زمانہ کے دستیاب کاغذ پر لکھ لیا جاتا تھا۔ اس طرح دہرا چیکنگ کے اصول کو اختیار کرتے ہوئے پورے قرآن کو از اول تا آخر ترتیب کے ساتھ اس زمانہ کے قابل حصول کاغذ پر لکھا گیا۔ اور پھر اس کی سلائی کر کے اس کو ایک مجلد کتاب کی صورت دی گئی۔ چونکہ پہلا مصحف چوکور تھا اس لئے وہ ربعہ کہا جانے لگا۔
اس ربعہ (مصحف اول) کو خلیفہ ابو بکر صدیق نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت حفصہ بن عمر کے پاس رکھوا دیا۔ یہ مصحف اول اسی حالت میں حضرت حفصہ کے پاس یہاں تک کہ تیسرے خلیفہ حضرت عثمان بن عفان کا زمانہ آیا۔ انھوں نے اس مصحف اول کو حضرت حفصہ کے پاس سے منگوایا اور سرکاری اہتمام کے تحت اس کی متعدد نقلیں تیار اور پھر ان تیار شدہ سرکاری نسخوں کو مسلم دنیا کے بڑے بڑے شہروں میں بھیج دیا اور یہ حکم دیا کہ یہ مصاحف شہر کی جامع مسجدوں میں رکھے جائیں تاکہ لوگ اس سے استفادہ کر سکیں۔ اس کے بعد ہر شہر میں لوگ ان مصاحف کی مزید نقلیں تیار کرنے لگے۔ یہاں تک کہ قرآن کے ہزاروں صحیح نسخے ایشیاء سے لے کر افریقہ تک ہر ملک میں پھیل گئے۔
قرآن کی حفاظت اور اشاعت کی یہ تاریخ آگے بڑھتی رہی۔ اس میں مختلف پہلوؤں سے نسل در نسل لوگ حصہ لیتے رہے۔ مثال کے طور پر بنوامیہ کے حاکم حجاج بن یوسف الثقفی (وفات ۹۵ھ / ۷۱۴ء) کے زمانے تک قرآن میں اعراب نہیں ہوتا تھا۔ جس کی وجہ سے غیر عالم اس کو پڑھنے میں غلطی کرتے تھے۔ حجاج نے یہ کیا کہ پورے قرآن پر اعراب لگوائے۔ نتیجہ میں یہ امکان ختم ہو گیا کہ کوئی شخص قرآن کو پڑھنے میں ادائیگی کی غلطی کرے۔ اسی طرح قرآن کے قدیم نسخے ابتدائی خط میں لکھے جاتے تھے۔ اس خط کا اسلوب بالکل اس میں موجودہ تحریری حسن موجود نہ تھا۔ اس کمی کو عباسی دور کے خطاط ابن مقلہ مقلہ(وفات۹۴۰ء)نے نے پورا کیا۔ ابن مقلہ خطاطی کا خصوصی ذوق رکھتا تھا۔ اس نے لمبی مدت کے مشق اور تجربہ کے بعد وہ خوبصورت عربی خط ایجاد کیا جس کو خط کوفی کہا جاتا ہے۔ خط اسی کی ایک ترقی یافتہ شکل ہے۔ اس طرح ابن مقلہ کی کوششوں نے قرآن کو حسن خط کے دور میں داخل کر دیا۔
قرآن کی حفاظت کا یہ عمل مسلسل صدیوں تک جاری رہا۔ کچھ لوگ کامل اہتمام کے ساتھ قرآن کی نقلیں تیار کرتے اور اسی طرح کچھ لوگ کامل اہتمام کے ساتھ قرآن کو حفظ کتابت اور حفظ کو ایک دوسرے سے چیک کرنے کا عمل بھی صدیوں تک جاری رہا۔ بھی کوئی شخص قرآن کا ایک نسخہ لکھ کر تیار کرتا تو کسی مستند حافظ کو پڑھوا کر وہ اس کو چیک کرتا۔ اسی طرح جب کوئی شخص قرآن کا حفظ کرتا تو اس کے حفظ کو لکھے ہوئے قرآن سے چیک کیا جاتا۔ یہ عمل مسلسل جاری رہا۔ کچھ لوگوں نے فن قرأت ایجاد کیا۔ اس کے بعد ہر نسل میں ہزاروں لوگ اس عمل میں مشغول ہو گئے کہ وہ پیغمبر اور آپ کے اصحاب کے لہجہ اور قرآت کو اس کی سابقہ حالت میں محفوظ رکھیں۔
حفاظت قرأت کا یہ اہتمام اتنے بڑے پیمانہ پر ہوا کہ آج جب ایک تربیت یافتہ قاری قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو سننے والوں کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ رسول اور اصحاب رسول
کی قرآت کو سن رہے ہیں۔ اس طرح رسول اور اصحاب رسول کی قرآت تاریخ کے دوش پر سوار ہو کر نسل در نسل سفر کرتی رہی تا کہ ہر زمانہ کے لوگوں کو اس کی گونج اپنی اصل آواز میں سنائی
قرآن کی حفاظت کا یہ عمل نسل در نسل جاری رہا، یہاں تک کہ وہ پریس کے دور میں اور ریکارڈنگ کے دور میں پہنچ گیا۔ جس کے بعد کسی تبدیلی یا ضیاع کا کوئی سوال نہیں۔ لفظوں میں یہ کہ قرآن کی انسانی حفاظت کے ساتھ اب اس کی پشت پر مشینی حفاظت کا اہتمام بھی شامل ہو گیا ہے۔ اس اہتمام مزید نے اب متنِ قرآن میں کسی بھی قسم کے بگاڑ کو عملاً ناممکن بنا دیا ہے۔