Al-Risala · June 2000

عربی زبان |

Al-Risala, June 2000, pp. 30–32

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی حفاظت کے ساتھ یہ بھی ضروری تھا کہ قرآن کی زبان عربی کو ہمیشہ کے لئے محفوظ رکھا جائے۔ یہ کام بھی امت کے علماء نے بہت بڑے پیمانہ پر انجام دیا۔ عربی زبان قرآن کے نزول کے وقت ہی ایک اعلیٰ زبان کی حیثیت رکھتی تھی تاہم فنی اعتبار سے اس کی تدوین نہیں ہوئی تھی۔ اس سلسلہ میں بہت لوگ اٹھے جنھوں نے نحو اور صرف اور لغت کے میدان میں غیر معمولی کام کیا۔ اور عربی زبان کو ایک مدون لغت کی حیثیت دے دی۔ قرآن کی زبان عربی کی حفاظت کا یہ کام اتنے بڑے پیمانہ پر ہوا کہ عربی زبان استثنائی طور پر آج بھی ابتدائی حالت میں زندہ ہے جس طرح وہ قرآن کے نزول کے وقت تھی۔ چودہ سو سال کی طویل مدت کے باوجود اس کے اندر کوئی لغوی تبدیلی نہ ہو سکی۔ جب کہ اس مدت میں دنیا کی تمام زبانیں بالکل بدل چکی ہیں۔

مثال کے طور پر جیفرے چاسر (Geoffrey Chaucer) انگریزی زبان کا مشہور شاعر چاسر ۱۳۴۲ء میں لندن میں پیداہوااور۱۴۰۰ء میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کا زمانہ آج سے پانچ سو سال پہلے کا ہے۔ لیکن اس کی زبان موجودہ انگریزی زبان سے اتنی زیادہ مختلف ہے کہ آج

کا کوئی عام انگریزی داں اس کو نہیں سمجھ سکتا۔ اس کو صرف ڈکشنری اور مخصوص ماہرین کی شرح کی مدد سے سمجھا جا سکتا ہے۔ مگر قرآن کی زبان عربی کا معاملہ اس سے یکسر مختلف ہے۔ جانے والی عربی زبان عین وہی ہے جو نزولِ قرآن کے زمانہ میں تھی۔ قرآن اور حدیث اور صحابہ کی زبان کو سمجھنا آج کے ایک عربی داں کے لئے اتنا ہی آسان ہے جتنا آج سے چودہ سو سال پہلے کے ایک عربی داں کے لئے ممکن اور آسان تھا۔

عربی زبان کا اس طرح استثنائی طور پر اپنی اصل ابتدائی حالت پر باقی اور زندہ رہنا محض اتفاقا نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہزاروں لوگ حفاظتِ زبان کے اس عمل میں لگے رہے۔ انھوں نے نحو اور صرف اور لغت اور دوسرے متعلق فنون میں غیر معمولی محنتیں کیں یہاں تک کہ ایک غیر مدون زبان کا مل معنوں میں ایک مدون علمی زبان بن گئی۔ حفاظت قرآن کی یہ محنت کتنے بڑے پیمانہ پر کی گئی، اس کی صرف ایک مثال یہاں نقل کی جاتی ہے۔ ابو سعید الاصمعی ایک مشہور وہ ۱۲۲ھ میں بصرہ میں پیدا ہوا اور بصرہ ہی میں ۲۱۶ھ میں اس کی وفات ہوئی۔ اس بات کی دھن تھی کہ وہ عربی الفاظ کے وہ معانی دریافت کرے جو اصلی عرب باشندوں کے ذہن میں ہوتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے وہ لمبی مدت تک عرب کے صحراؤں میں گھومتارہاتا کہ عرب بدؤوں سے عربی کے بارے میں لسانی معلومات حاصل کرے۔ کیوں کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ عرب بدؤوں میں عربی زبان اپنی اصل حالت میں محفوظ ہے۔

قرآن کی ایک آیت کے الفاظ یہ ہیں : فدمدم عليهم ربهم بذنبهم فسواها (الشمس 14]الاصمعی الاصمعی کو یہ فکر ہوئی کہ خالص عرب کس خاص مفہوم اور کس خاص موقع پر ”دمدم“ کا لفظ اس دھن میں وہ عرب کے ایک بدو قبیلہ کے پاس گیا۔ وہ ایسا کر سکتا تھا کہ کسی بدو سے پوچھتا کہ تم لوگ دمدم کا لفظ کس موقع پر بولتے ہو مگر اس نے اس پر قناعت نہیں کی۔ اس نے چاہا کہ کوئی ایسا موقع آئے جب کہ ایک بدو بے ساختہ طور پر دمدم کا لفظ بول پڑے۔ اس مقصد کے لئے وہ ایک خانہ بدوش بدو خاندان کے ساتھ شامل ہو گیا۔

تقریباً چھ مہینے گزر گئے لیکن بدو کی زبان سے دمدم کا لفظ اسے سنائی نہیں دیا۔ آخر کار ایک دن ایسا ہوا کہ ایک مقام پر خیمہ لگا ہوا تھا۔ اور وہاں دن کے کھانے کے لئے سالن پک رہا تھا۔ مرد خیمے کے اندر تھا اور اس کی عورت باہر کچھ کام کر رہی تھی۔ الاصمعی بدو کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ سالن پکتے پکتے جب وہ لمحہ آیا کہ اس کی حرارت سوڈگری پر پہنچ گئی اور برتن کے اوپر رکھا ہوا ڈھکن بھاپ کے جوش سے ابل پڑاتو بدونے اپنی بیوی کو اس کی خبر دیتے ہوئے کہا: دم مت۔ سنتے ہی الاصمعی خیمے سے نکل کر یہ کہتا ہوا بھاگا کہ :

"واللہ وجدت والله وجدت" خدا کی قسم میں پاگیا خدا کی قسم میں پاگیا۔ اس طرح کئی سو سال تک ہزاروں اہل علم محنت کرتے رہے۔ وہ مختلف پہلوؤں سے عربی زبان کی حفاظت اور تدوین میں مصروف رہے۔ اس کا نتیجہ آج ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ جس طرح قرآن کامل طور پر محفوظ ہے اسی طرح اس کی زبان عربی بھی کامل طور پر محفوظ ہے۔ زبان و ادب کی تاریخ میں یہ ایک انتہائی نادر استثناء ہے، اس کی کوئی دوسری مثال تاریخ میں اگر ایسا نہ ہوتا تو آج قرآن کوسمجھناعام لوگوں کے لئے اسی طرح ناممکن ہو جاتا جس طرح دوسری مذہبی کتابوں کے ابتدائی نسخوں کو سمجھنا عام لوگوں کے لئے ناممکن ہو چکا دوسری تمام مذہبی کتابیں ترجموں کی مدد سے پڑھی جاتی ہیں۔ جب کہ قرآن کا مطالعہ اس کی اصل زبان میں کیا جاتا ہے۔

Printed page