تفسیر قرآن
Al-Risala, June 2000, pp. 32–38
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں مختلف انداز سے یہ بات کہی گئی ہے کہ قرآن کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اس پر غور کریں اور اس سے ہدایت حاصل کریں: كتب انزلنه اليك مبرك ليدبروا آيته وليتذكر اولوا الالباب (ص ۲۹) یعنی یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت
قرآن کو پڑھنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے سادہ طور پر اس کی قرأت کرنا۔ طریقہ یہ ہے کہ اس کی آیتوں میں غور و فکر کر کے اس کو پڑھا جائے۔ قرآن کی قرأت سے ایک شخص کو اس کے سادہ معانی معلوم ہو جاتے ہیں۔ اور اس طرح قرآن کو سادہ طور پر سمجھنا بھی بلا شبہ مفید ہے۔ لیکن قرآن کے گہرے معانی صرف اس وقت سمجھ میں آسکتے ہیں جب کہ اس کی آیتوں پر غور و فکر کیا جائے۔ ایک صحابی کے متعلق روایت میں آیا ہے کہ انھوں نے سورہ البقرہ کا مطالعہ غور و فکر کے ساتھ کیا تو اس میں انھیں تین سال کا وقت لگ گیا۔ قرآن کی سادہ قرأت کیاہے اس کو سمجھنا کوئی مشکل نہیں۔ ہر آدمی جو عربی زبان جانتا ہے وہ سادہ قرأت کے ذریعہ قرآن کے معانی کو سمجھ سکتا ہے اور جو شخص عربی زبان نہیں جانتا وہ اپنی معلوم زبان میں قرآن کا ترجمہ پڑھ کر اس کو سمجھ سکتا ہے۔
اس اعتبار سے قرآن ایک آسان کتاب ہے (القمر:۱۷)جس ۱۷) جس آدمی کے اندر نصیحت لینے کا ذہن ہو اور وہ نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا نہ ہو تو قرآن کی سادہ قرأت یااس کا ترجمہ پڑھنا بھی اس کے لئے مفید ہو سکتا ہے۔ وہ سادہ قرأت کے ذریعہ بھی ایسی تذکیری باتیں پالے گا جو اس کی زندگی کو سدھارنے والی ہوں اور اس کے لئے اسلامی زندگی گزارنے میں مددگار بن جائیں۔ لیکن قرآن میں تدبر کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ سادہ قرأت اورتدبر کے ساتھ قرأت کے فرق کو ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: "انزل القرآن علی سبعة احرف، لكل آية منها ظهر وبطن، ولك حد مطلع" (مشکاۃ المصابیح قرآن سات حرفوں پر اتارا اس کی ہر آیت کا ایک ظاہر ہے اور ایک اس کا باطن ہے۔ اور ہر حد کا ایک مطلع ہے۔ مطلع عربی زبان میں دیکھنے یا جھانکنے کی جگہ کو کہتے ہیں اگر آپ زمین پر کھڑے ہو کر اس پاس کی چیزوں کو دیکھ رہے ہوں تو آپ کی حد نظر کم ہوگی اور آپ بہت تھوڑی چیزوں کو دیکھ پائیں لیکن اگر آپ ایک ملٹی اسٹوری بلڈنگ کے اوپر کی چھت پر کھڑے ہوں تو بلند مطلع کی وجہ سے آپ کی حد نظر بہت بڑھ جائے گی ۔ اور آپ زیادہ دور تک کی چیزوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں گے۔
اس حدیث میں مطلع کے فرق کی مثال سے بتایا گیا ہے کہ قرآن کو اس کے ظاہری الفاظ کے اعتبار سے پڑھنے میں اور اس کے معنی پر غور کر کے پڑھنے میں کیا فرق ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ جو آدمی صرف ظاہری الفاظ کے دائرے میں قرآن کو پڑھ رہا ہو وہ گویا نیچے کے مطلع سے قرآن کے مضامین کو دیکھ رہا ہے۔ ایسا آدمی قرآن کے صرف سادہ مفہوم تک پہنچ سکے گا۔ بر عکس جو آدمی معانی پر غور کرتے ہوئے قرآن کو پڑھے وہ گویا بلند مطلع سے قرآن کے مضامین کو دیکھ رہا ہے۔ یہ دوسرا آدمی قرآن کی گہرائیوں تک پہنچ جائے گا۔ قرآن کے مطالعہ کی ان دو مختلف قسموں کو علمی زبان میں اس طرح بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ ان میں سے ایک قرآن کی سطور (lines) کا مطالعہ ہے اور دوسرا قرآن کی بین السطور (between the lines) کا مطالعہ۔ مطالعہ کی ان دونوں قسموں میں جو فرق ہے اس کو اہل علم بخوبی طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ قرآن کے سطور کو پڑھنا اور قرآن کے بین السطور کا مطالعہ کرنا، دونوں میں جو فرق ہے اس کو یہاں مثال کے ذریعہ واضح کیا جاتا ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ میں تھے تو وہاں ایسا ہوا کہ آپ کی مجلس میں بعض لوگ زور زور سے بولنے لگے۔ یہ اسلامی آداب کے خلاف تھا۔ چنانچہ قرآن میں اس کی ممانعت کے لئے یہ آیت اتری:
اے ایمان والو، تم اپنی آوازوں کو پیغمبر کی آواز سے اوپر مت کرو اور نہ اس کو اس طرح آواز دے کر پکارو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال حبط (برباد) ہو جائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔ جو لوگ اللہ کے رسول کے آگے اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں وہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لئے جانچ لیا ہے۔ ان کے لئے معافی ہے اور بڑا ثواب ہے۔ جو لوگ تم کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر سمجھ اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم خود ان کے پاس نکل کر آجاؤ تو یہ ان کے لئے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
قرآن کی ان آیتوں کو جو آدمی سادہ طور پر محض الفاظ کی سطح پر پڑھے گا وہ اس کے ظاہری مفہوم کو لے کر اس سے صرف ذاتی تقدس کا مسئلہ نکالے گا۔ وہ سمجھے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بہت زیادہ مقدس تھی اس لئے جو لوگ آپ کی مجلسوں میں بیٹھتے تھے ان کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ تقدس اور احترام کے آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے آپ کے پاس بیٹھیں ۔ ایسا آدمی صرف قدیم مدینہ کے کچھ لوگوں کو اس کا مخاطب سمجھے گا۔ خود اپنی ذات کے لئے یا دوسروں کے لئے اس کے نزدیک اس میں کوئی ہدایت نہ ہوگی ۔
اس کے برعکس جو آدمی آیتوں پر غور کرے گا اور زیادہ گہرے معانی تک پہنچنے کی کوشش کرے گا وہ ان آیتوں میں ایک عمومی اور ابدی مسئلہ دریافت کرلے گا۔ وہ سمجھے گا کہ زمانہ رسالت میں اگر اس کا تعلق ذات رسول سے تھا تو اب اس کا تعلق پیغام رسول سے ہو گیا ہے۔ پیغمبر اسلام کی زندگی میں آپ کی آواز پر آواز بلند کرنا جائز نہیں تھا، اسی طرح آج یہ جائز نہیں ہے کہ کوئی آدمی پیغمبر اسلام کی دی ہوئی تعلیمات کے خلاف غیر ضروری بحثیں نکالے اور ان کے مقابلہ میں سرکشی کا مظاہرہ کرے۔
ایسے آدمی کو آیتوں کا پورا مطالعہ بتائے گا کہ ان آیات میں جس حقیقت کی نشاندہی کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ آدمی کی ایک روش وہ ہے جو ایمان اور تقویٰ اور صبر کے مطابق ہے۔ روش وہ ہے جو نفاق اور بے خوفی اور بے صبری کی علامت ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ ہر لمحہ اپنا وہ اپنے اندر ایمان والی صفات پیدا کرنے کی کوشش کرے اور نفاق والی صفتوں سے اپنے آپ کو آخری حد تک بچائے۔
اس معاملہ کی دوسری مثال لیجئے۔ قرآن کی سورہ نمبر ۱۲ میں حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ بیان ہوا ہے۔ اس کا ایک جزء یہ ہے کہ قحط کے زمانہ میں حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی غلہ لینے کے لئے ان کے پاس مصر میں آئے ۔ جب ان کو غلہ دیا جا چکا تو اس کے بعد ایک واقعہ ہوا جو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:
پھر جب ان کا سامان تیار کرادیا تو اس نے پینے کا پیالہ (سقایہ) اپنے بھائی کے اسباب میں پھر ایک پکارنے والے نے پکارا کہ اے قافلہ والو، تم لوگ چور ہو، انھوں نے ان کی طرف متوجہ ہو کر کہا، تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم شاہی پیمانہ (صواع) نہیں اور جو اس کو لائے گا اس کے لئے ایک بار شتر غلہ ہے اور میں اس کا ذمہ دار انھوں نے کہا، خدا کی قسم تم کو معلوم ہے کہ ہم اس ملک میں فساد کرنے کے لئے نہیں آئے اور نہ ہم کبھی چور تھے۔ انھوں نے کہا اگر تم جھوٹے نکلے تو اس چوری کرنے والے کی سزا کیا انھوں نے کہا، اس کی سزا یہ ہے کہ وہ جس شخص کے اسباب میں ملے پس وہی شخص اپنی سزا ہم لوگ ظالموں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔ پھر اس نے اس کے (چھوٹے) بھائی سے پہلے ان کے تھیلوں کی تلاشی لینا شروع کی۔ پھر اس کے بھائی کے تھیلے سے اس کو بر آمد کر لیا۔ طرح ہم نے یوسف کے لئے تدبیر کی۔ وہ بادشاہ کے قانون کی رو سے اپنے بھائی کو نہیں لے سکتا تھا مگر یہ کہ اللہ چاہے۔ ہم جس کے درجے بلند کرنا چاہتے ہیں بلند کر دیتے ہیں اور ہر علم سے بالاتر ایک علم والا ہے (یوسف ۷۶)
ان آیتوں کو جو آدمی سادہ طور پر صرف الفاظ کی سطح پر پڑھے وہ اس کا مطلب یہ سمجھے گا کہ حضرت یوسف کے سوتیلے بھائیوں کے ساتھ جب ان کا سگا بھائی بن یامین آیا تو انھوں نے چاہا کہ اپنے بھائی کو اپنے پاس روک لیں۔ مگر وہ سوتیلے بھائیوں پر اپنی شخصیت ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے اس لئے حضرت یوسف نے اپنے چھوٹے بھائی کے سامان میں شاہی دربار کا ایک برتن رکھوا دیا۔ اور اس کے بعد درباریوں کو اس میں شریک کر کے بن یامین کو چوری میں پکڑ وا کر اپنے پاس رکھ اس قسم کا معاملہ بلاشبہ ایک پیغمبر کی شان کے خلاف ہے۔ لیکن جو آدمی صرف لفظی سطح پر قرآن کا مطالعہ کرے وہ ان آیتوں کا یہی مطلب لے گا۔ لیکن جو آدمی قرآن کی سطور سے گزر کر بین السطور تک پہنچنے کی کوشش کرے گا اور گہرائی میں اتر کر اس کا مفہوم جاننا چاہے گا وہ مذکورہ تفسیر کے بر عکس ایک اور تفسیر تک پہنچ جائے گا جو پیغمبر کی شان کے عین مطابق ہے۔
ایسا آدمی جب قرآن کی ان آیتوں پر غور کرے گا تو اس کا ذہن ایک مقام پر پہنچ کر رک وہ دیکھے گا کہ شاہی دربار کے کارکن جو چیز تلاش کر رہے تھے وہ صواع (یوسف (۷۲) تھا جو عربی میں قاعدے کے مطابق مذکر ہے اور اس کے لئے ضمیر مذکر (ہ) آنا چاہئے۔ دربار کے کارکن جب اونٹوں کے سامان کی تلاشی لیتے ہیں تو سامان میں جو چیز ان کو ملتی ہے اس کے لئے قرآن میں مونث کی ضمیر (ھا) استعمال ہوئی ہے (۷۶)
اب غور کرنے والا آدمی جب ضمیر کے اس فرق کو دیکھے گا تو وہ پائے گا کہ معاملہ کی اصل تصویر اس سے بالکل مختلف ہے جو ظاہری الفاظ میں دکھائی دیتی ہے۔ اس سراغ کی روشنی میں جب وہ مزید غور کرے گا تو اس پر منکشف ہوگا کہ معاملہ کی اصل تصویر یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے چھوٹے بھائی کو پہچان کر اپنا پانی پینے کا پیالہ (سقایہ) از راہ شفقت اس کے سامان میں رکھ دیا۔ سقایہ کا لفظ عربی قاعدے کے مطابق مونث ہے۔
دربار میں ناپ کے لئے ایک شاہی پیمانہ (صواع) تھا جو غالباً چاندی کا تھا۔ کے مطابق صواع کا لفظ مذکر ہے۔ اتفاق سے یہ صواع غلہ کے ڈھیر میں دب کر کہیں چھپ گیا۔ یعنی وہی واقعہ ہوا جس کو انگریزی میں مس پلیس (misplace) ہونا کہتے ہیں۔ قافلے کے جانے کے بعد جب دربار کے کارکنوں نے صواع کو نہیں دیکھا تو ان کو قافلہ والوں پر شبہ ہواجوابھی ابھی دربار سے نکلے تھے۔ چنانچہ انھوں نے قافلہ والوں کوروک کر ان کے سامان کی تلاشی لی۔ تلاشی میں صواع تو ان کے سامان سے برآمد نہیں ہوا البتہ سقایہ (پینے کا پیالہ) برآمد ہو گیا۔ بات اس طرح سے معلوم ہوتی ہے کہ تلاشی کے دوران جو چیز برآمد ہوئی اس کے لئے قرآن میں مونث کی ضمیر (ھا) آئی ہے۔ حالانکہ اگر صواع برآمد ہو تا تو اس کے لئے قرآن میں مذکر کی ضمیر (ہ) آنی چاہئے تھی۔
یہ سقایہ حضرت یوسف کے چھوٹے بھائی بن یامین کے سامان سے نکلا تھا کیوں کہ برادرانہ محبت کے تحت حضرت یوسف نے اس کو اپنے بھائی کے سامان میں رکھ دیا تھا۔ اب یہ ہوا
کہ دربار کے کارکنوں نے جب بن یامین کے سامان سے سقایہ نکالا تو انہوں نے بھائیوں سے کہا کہ تم نے اگرچہ صواع کی چوری تو نہیں کی ہے، لیکن تم نے ہمارے دربار کے ایک اور سامان سقایہ کو چرایاہے ا س لئے خود تمہارے قانون کے مطابق ہم تمہارے بھائی کو روک لیں گے اور اس کو تمہارے ساتھ جانے نہیں دیں گے۔ اس کے بعد وہ بن یامین کو اپنے ساتھ لائے اور ان کو حضرت یوسف کے حوالے کر دیا۔
قرآن فہمی کے لئے بہت سے علوم ضروری ہیں جن کا ذکر اہل تفسیر نے کیا ہے۔ سلسلہ میں ایک قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ قرآن کے مطالعہ کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے فنی مطالعہ، اور دوسرا مطالعہ وہ ہے جو قرآن سے نصیحت لینے کے لئے کیا جائے۔ جہاں تک قرآن کے فنی مطالعہ کا تعلق ہے، اس کے سلسلہ میں بہت سے علوم کی ضرورت ہو سکتی ہے، حتیٰ کہ ان علوم سے بھی زیادہ جن کا ذکر اہل تفسیر نے کیا ہے۔ اگر اس حدیث کو سامنے رکھا جائے : لا تنقضی عجائبہ (قرآن کے عجائب کبھی ختم نہ ہوں گے) تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ان علوم کی فہرست ہر دور میں بڑھتی رہے گی اور وہ کبھی ختم نہ ہوگی۔
مگر جہاں تک نصیحت کے مقصد سے قرآن کے مطالعہ کا تعلق ہے اس کے لئے عربی زبان سے واقفیت کے بعد سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ تقویٰ اور خشیت ہے۔ کی تصدیق خود قرآن سے ہوتی ہے۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : اتقوا الله ويعلمكم الله۔ حقیقت یہ ہے کہ تقویٰ خود علوم ربانی کا ایک عظیم سر چشمہ ہے۔ اگر آدمی کے اندر گہرا تقویٰ موجود ہو تو قرآن کے معانی کو سمجھنے میں وہ اپنے آپ آدمی کے لئے رہنما بن جائے گا۔