Al-Risala · June 2000

سوال و جواب

Al-Risala, June 2000, pp. 41–46

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی آیت هدى للمتقين (۲:۲) میں لفظ متقین اپنے اصطلاحی معنی میں ہے یا لغوی اصطلاحی معنی میں لیں تو اس کا مطلب تو یہ ہوتا ہے کہ قرآن متقین بالفاظ دیگر مسلمین کے لئے تو ہدایت ہے، وہ غیر مسلمین کے لئے ہدایت نہیں اور اگر لغوی معنی میں لیں تو اگلی آیتوں میں متقین کی جو تعریف بیان کی ہے کہ وہ لوگ ایمان بالغیب رکھتے ہیں۔ نماز ادا کرتے ہیں یہ تعریفات غیر مسلمین پر کیسے صادق آسکتی ہیں۔ کیا ایمان بالغیب اور اقامہ صلوۃ اور انفاق کو بھی لغوی معنی میں لیکر اس مشکل کو حل کیا جاسکتا ہے۔ (ابرار احمد رفعت، سورت) قرآن عام طرز کی ایک مجرد تصنیف نہیں۔ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس کے مختلف اجزاء حالات کی نسبت سے نازل ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ تقریباً ۲۳ سال میں اس کی تکمیل قرآن فہمی کے سلسلہ میں یہ ایک بے حد اہم نکتہ ہے۔ اس بنا پر ایسا ہے کہ قرآن کی ہر آیت کا ایک مصداق خاص ہے جو سبب نزول کے اعتبار سے ہے۔ اور دوسرا اس کا مصداق عام، جو آیت کے تو سیعی انطباق سے تعلق رکھتا ہے۔

اس کی ایک مثال سورہ النور کی یہ آیت ہے۔ والذی تولى كبره مِنْھُمْ (النور ۱۱) سبب نزول کے اعتبار سے اس آیت کا ابتدائی مصداق قدیم مدینہ کا عبد اللہ بن ابی تھا۔ اور آیت کے تو سیعی انطباق کے اعتبار سے اس میں ہر وہ آدمی شامل سمجھا جائے گا جو کسی کو بد نام کرنے کے لئے ابن ابی جیسا پست کردار ادا کرے، خواہ وہ کسی بھی زمانے سے تعلق رکھتا ہو۔ اب سورہ البقرہ کی ابتدائی آیتوں کو لیجئے ۔ اس کی آیت نمبر ایک سے لے کر آیت نمبر ۷ تک کا خطاب رسول اللہ کے معاصر یہود سے ہے۔ اس کے بعد آیت نمبر ۸ سے لے کر آیت نمبر ۲۰ تک کا تعلق قدیم مدینہ کے منافقین سے ہے۔ اس کے بعد آیت نمبر ۲۱ سے لے کر آیت نمبر ۲۴ تک عام انسانیت سے خطاب کیا گیا ہے۔ اس کے بعد آیت نمبر ۲۵ سے اہل ایمان کا تذکرہ

شروع ہوتاہے سبب نزول کے اعتبار سے ان میں سے ہر آیت کا کوئی وقتی مصداق ہو سکتا ہے مگر اس کے ساتھ ہر آیت کا ایک توسعی انطباق بھی ہے جو ہر دور کے انسانوں سے تعلق رکھتا ہے۔ ذالک الکتاب میں الف لام عہد کا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہی معہود کتاب ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ یہود و نصاریٰ پر جو آسمانی کتابیں بھیجی گئیں ان میں ایک آخری آسمانی کتاب کی بشارت موجود تھی۔ قرآن وہی آخری اور محفوظ کتاب ہے۔ مگر اس سے ہدایت اسی کو ملے گی جو اس کی ضروری شرطوں کو پورا کرے۔

مدینہ میں اس وقت جو یہود آباد تھے وہ اپنے آپ کو اپنے نبیوں کی تعلیمات کا حامل بتاتے ان کے یہاں ایمان، نماز، زکوۃ وغیرہ کا وجود بھی پایا جاتا تھا۔ مگر ان کے یہاں اس کی اصل روح غائب ہو چکی تھی۔ فرمایا کہ قرآن اگرچہ سراپا کتاب ہدایت ہے مگر اس کے ذریعہ صرف اس شخص کو ہدایت ملے گی جس کے اندر حقیقی معنوں میں متقیانہ مزاج پایا جاتا ہو۔ بالغیب جو غیبی حقیقتوں کو ماننے کے لئے تیار ہو، جس کے اندر عبادت الہی کی روح موجود ہو، نمائش راستے کے بجائے اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو، جو اپنی مذہبی عصبیت میں مبتلا نہ ہو۔ جو لوگ اس قسم کی صفات رکھتے ہوں وہ بہت جلد قرآن اور صاحب قرآن کو پہچان لیں گے اور اس سے ہدایت حاصل کریں گے۔

اس کے بعد ان آیتوں کا ایک عمومی اور توسعی پہلو ہے۔ اس اعتبار سے اس کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن اپنی ذات میں بلاشبہ ہدایت ہے مگر اس دنیا میں کسی کتاب سے ہدایت لینے کے لئے ضروری ہے کہ ہدایت لینے والا ذہنی طور پر اس کے لئے تیار ہو۔

متقی کا اصلی اور لغوی مفہوم محتاط (cautious) ہے۔ انسان کی یہی صفت ہے جو اس کو حق کے معاملہ میں سنجیدہ بناتی ہے اور وہ اس کا سچا متلاشی بن جاتا ہے۔ اسی طرح ایمان کی اصل معرفت ہے اور معرفت صرف اس کو ملتی ہے جو دلیل سے ثابت ہو جانے کے بعد اس کو مان لینے کا مزاج رکھتا ہو۔ صلاۃ کی شرط سے مراد یہ ہے کہ آدمی کے اندر تسلیم و رضا (submission) کی

صفت موجود ہو۔ زکوٰۃ کی اصل حقیقت اپنی ذات میں دوسرے کا حق تسلیم کرنا ہے۔ کتاب پر ایمان لانے کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی گروہی تعصبات سے پاک ہو، وہ اپنے مانوس اکابر کے باہر ظہور میں آنے والے داعیانِ حق کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ مصداقِ عام کے اعتبار سے یہ پانچ بنیادی صفتیں ہیں، یہ صفتیں ہر انسان کی فطرت میں پیدائشی طور پر موجود ہوتی ہیں۔ جو شخص اپنی فطری صلاحیتوں کو زندہ رکھے وہ گویا قرآن سے ہدایت لینے کے لئے ایک تیار ذہن (prepared mind) ہے۔ جب بھی وہ کھلے ذہن کے ساتھ قرآن کو پڑھے گا تو وہ اس کے لئے معرفتِ حق کا ذریعہ بن جائے گا اور اس کا وہی حال ہوگا جس کا ذکر قرآن کی سورہ المائدہ آیت نمبر ۸۳ میں کیا گیا ہے۔

انٹرنیٹ پر جو سوالات ہم کو موصول ہوتے ہیں ان کا جواب عام طور پر انٹرنیٹ کے ذریعہ دیا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعہ موصول شدہ ایک عمومی سوال یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان مختلف مقامات پر جو جہاد کر رہے ہیں مغربی میڈیا اس کو فنائسزم کہہ کر بدنام کر رہا ہے۔ مگر یہ درست مسلمانوں کی لڑائی عدل(justice) کے حصول کے لئے ہے۔ جب مسلمانوں کو عدل نہ ملے تو ان کے لئے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوتا کہ وہ لڑ کر عدل کو حاصل کریں۔ اگر ان کی لڑائی سے امن برہم ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری دوسروں پر ہے نہ کہ مسلمانوں پر۔ ان کا پتہ یہ ہے : Mahmood H. M. Daya, P. O. Box 14757, Arusha, Tanzania. عدل کے حصول کا کوئی تعلق جنگ سے نہیں۔ عدل جب بھی کسی کو ملتا ہے، پرامن تعمیری جدوجہد کے ذریعہ ملتا ہے نہ کہ متشددانہ جنگ کے ذریعہ۔ جنگ کے ذریعہ عدل حاصل کرنے کی کوشش ایسی ہی ہے جیسے معاش کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے کوئی شخص خود کشی کرلے۔ اسلام کے دور اول میں اہل اسلام کے ساتھ سب سے بڑی بے انصافی یہ تھی کہ ان کو مسجد

حرام تک پہنچنے سے روک دیا گیا تھا۔ مگر اس بے انصافی کو ختم کرنے کے لئے رسول اللہ نے جنگ نہیں کی بلکہ صلح اور امن کا معاہدہ کر لیا۔ صلح کے نتیجہ میں وہ پرامن حالات ملے جس میں استحکام کی کوشش کی جاسکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ پرامن کوششوں کے ذریعہ اسلام اتنا مستحکم ہو گیا کہ کسی لڑائی کے بغیر مسجد حرام اور مکہ اہل اسلام کے قبضہ میں آگیا۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اگر یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو انھیں جاننا چاہئے کہ اس ناانصافی کا اصل سبب خود مسلمانوں کا داخلی ضعف ہے۔ چاہئے کہ امن کے حالات پیدا کر کے وہ تعمیری عمل کریں جس سے ان کی داخلی کمزوریاں دور ہو اس کے بعد اپنے آپ انھیں انصاف مل جائے گا۔

میں الرسالہ کا قاری ہوں۔ فطرت کے تمام قوانین کو ایک جملہ میں جاننا چاہتا ہوں تاکہ زندگی کے ہر معاملہ میں اس جملہ کو بنیادی نقطۂ نظر بنا سکوں۔ (سید عبد الحفیظ ، جلگاؤں) فطرت کے قوانین کا خلاصہ ایک لفظ میں یہ ہے۔ عام طور پر لوگوں کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ جو کچھ میرے موافق ہے وہ درست ہے۔ اور جو میرے خلاف ہے وہ مگر صحیح بات یہ ہے کہ جو حقیقت واقعہ ہو اس کو صحیح اور درست مانا جائے۔ اس دنیا میں جب بھی کوئی شخص ناکام ہوتا ہے تو وہ قوانین فطرت کی خلاف ورزی کرنے کی بنا پر ناکام ہو تا ہے، خواہ وہ بطور خود دوسروں کی سازش کو اس کا ذمہ دار بتاتارہے دہلی کے ایک ہفتہ وار ہندی اخبار پنج جنیہ کے حوالہ سے آپ کے خلاف کچھ باتیں اردو اخبارات در سائل میں چھپی ہیں۔ مثلا ماہنامہ البلاغ (بمبئی) کے شمارہ فروری ۱۹۹۹ میں یہ چھپا ہے کہ مولانا وحید الدین خاں نے فرمایا کہ "قرآن مجید میں لگ بھگ۱۰۰دوسری زبانوں کے الفاظ ہیں

جن میں سنسکرت خاص ہے اور یہ کہ محمد پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو جن چار زبانوں پر عبور حاصل تھا ان میں سنسکرت بھی ایک تھی۔ ‘‘ (صفحہ ۴۶) اس طرح کی باتیں اور بھی کئی پرچوں میں چھپی مثلاً دہلی کے روزنامہ قومی آواز کے شمارہ ۹ جنوری ۱۹۹۹ میں مراسلہ کے کالم میں آپ کی ایک تقریر کے حوالہ سے آپ کی طرف یہ الفاظ منسوب کسئے گئے ہیں کہ ”قرآن کریم میں ایک سوالفاظ غیر عربی کے شامل ہیں جن میں بڑی تعداد سنسکرت کے الفاظ کی ہے اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم چار زبانوں کے عالم تھے جن میں سے ایک سنسکرت زبان ہے۔ ‘‘ (صفحہ ۳) یہ بڑی عجیب باتیں ان کو لے کر کچھ مسلم اخبارات و رسائل میں آپ کے خلاف سخت باتیں چھپی ہیں۔ کرم بتائیں کہ اس معاملہ کی حقیقت کیا ہے (عبدالرحمن، نئی دہلی)

یہ سب بے بنیاد باتیں ہیں جو غیر ذمہ دارانہ صحافت کی پیداوار ہیں۔ اس صحافت کا شکار ہر وہ شخص ہو تا رہا ہے جو ”نیوز‘‘ میں آجاۓ۔ چنانچہ میرے خلاف بھی کچھ مسلم اخبارات و رسائل میں ایسے خطوط اور مضامین چھپتے رہے ہیں جو سراسر لغو اور بے بنیاد ہیں۔ میں ان کے بارے میں عام طور پر خاموشی کا رویہ اختیار کرتا ہوں اور مراسلہ نگاروں کے حق میں دعائے خیر کرتا ہوں۔ اس سے پہلے ایک بار قومی آواز میں میرے خلاف ایک بے بنیاد بات چھپی۔ اس کی تردید میں میں نے ایک مراسلہ بھیجا جو قومی آواز (۵ مارچ ۱۹۹۵) میں چھپا۔ میرے جوابی مراسلہ کو دیکھ کر تبلیغی جماعت کے معروف بزرگ مولانا اظہار الحسن صاحب مرحوم نے مجھے ایک خط لکھا۔ مجھے خاموشی کے اصول پر برقرار رہنے کی نصیحت کرتے ہوئے انھوں نے یہ شعر درج کیا تھا: اشارتاً بھی نہ قصے بیاں کئے ہوتے ئے تھے ہونٹ تو آنسو بھی پی لئے ہوتے آج کل دستور ہند میں تبدیلی کی بحث چھڑی ہوئی ہے۔ کوئی تبدیلی کی موافقت میں رائے دیتا ہے اور کوئی اس کی مخالفت میں۔ اس معاملہ میں آپ کی رائے کیا ہے،

براہ کرم مطلع فرمائیں۔ (ودود ساجد ، نئی دہلی)

دستور ہند میں تبدیلی کی بحث میں ایک رائے یہ سامنے آرہی ہے کہ دستور میں تبدیلی اور دوسری رائے یہ ہے کہ دستور میں تبدیلی نہیں ہونی چاہئے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہاں ایک تیسری رائے کا بھی امکان ہے۔ اور وہ یہ کہ دستور ہند میں تبدیلی بے فائدہ ہے۔ اس سلسلہ میں پہلا سوال یہ ہے کہ دستور ہند میں تبدیلی کیوں؟ ۱۹۷۲ کے بعد جب یہ دستور بنا تو اس وقت ملک کے انتہائی اعلیٰ ذہن دستور ساز اسمبلی کے ممبر تھے۔ انھوں نے لمبی بحث اور گفتگو کے بعد یہ دستور بنایا۔ اب کیا ان سے زیادہ بہتر دماغ ہمیں حاصل ہو گئے ہیں جو اس سے اچھا دستور بنا سکیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ کوئی بھی شخص ایسا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ پھر تبدیلی کس لئے۔ دوسری بات یہ کہ دستور میں تبدیلی ہمارے قومی مسائل کا حل ہے، اس کا دعویٰ کرنا بھی اس لئے کہ اگر دستور کی ترمیم سے مسئلہ حل ہوتا ہو تو اب تک اس کو حل ہو جانا چاہئے تھا، کیوں کہ پچھلے پچاس سال کے دوران اس میں ستر بار سے زیادہ ترمیمات ہو چکی ہیں۔ اس کے باوجود کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا۔ پھر ایک اور ترمیم سے یہ مسئلہ کیسے حل ہو جائے گا۔ تیسری صورت ترمیم برائے ترمیم کی ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ اور بھی زیادہ بے معنی ہے۔ کوئی بھی شخص یہ کہنے کی جرأت نہیں کرے گا کہ ترمیم ایک مسلسل عمل ہے جس کو ہر حال میں جاری رہنا چاہئے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس وقت اصل سوال یہ نہیں ہے کہ دستور میں ترمیم کی ضرورت ہے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ترمیم کے باوجود یہ ضرورت کیوں باقی ہے۔ کیوں ایسا ہے کہ ترمیم کے باوجود ہمارے مسائل حل نہیں ہوئے۔ اس کا جواب صرف ایک ہے اور وہ ہے تعلیم میں ملک کا تعلیم انسان کو باشعور بناتی ہے۔ اور اس کے اندر اصلاح کی قبولیت پیدا کرتی ہے۔ تک یہ ابتدائی کام نہ ہو، کوئی دوسری تدبیر ہمارے مسائل کو حل کرنے والی نہیں۔

Printed page