Al-Risala · June 2000

خبر نامه اسلامی مرکز ۱۳۶

Al-Risala, June 2000, pp. 47–49

By Maulana Wahiduddin Khan

فروری ۲۰۰۰ میں نئی دہلی میں بڑے پیمانہ پر کتابوں کی نمائش (ورلڈ بک فئر) منعقد ہوئی۔ اس موقع پر الر سالہ مشن کا بک اسٹال بھی لگایا گیا۔ کافی لوگوں نے کتابیں دیکھیں اور حاصل بک اسٹال پر آنے والوں اور کتاب حاصل کرنے والوں میں مشہور سائنس داں ڈاکٹر عبد الكلام بھی تھے۔

یونائیٹڈ ریلیجس انیشیٹو(United Religious Initiative)کی طرف سے ۱۱ مارچ ۲۰۰۰ کو انڈیا انٹر نیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں انٹر فیتھ ڈائیلاگ ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اور مذکورہ موضوع پر ایک تقریر کی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ مذہبی ہم آہنگی کا ذریعہ یہ نہیں کہ تمام مذہبوں کو ایک مان لیا جائے۔ بلکہ اس کا ذریعہ یہ ہے کہ لوگوں میں باہمی احترام کا جذبہ پیدا کیا جائے۔

قاہرہ کے عربی جریدہ الجھوریہ کے فارن افئرس رپورٹرالسید ھانی نے ۱۶مارچ ۲۰۰۰کو دہلی میں صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق ہندوستانی مسلمانوں کے معاملات و مسائل سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مسائل کا تعلق انڈیا سے وہ فطرت کا حصہ ہیں۔ چنانچہ یہ مسائل ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ مگر ان مسائل کے باوجود انڈیا میں مسلمانوں کے لئے عمل کے غیر معمولی مواقع ہیں۔ ان مواقع کو استعمال کر کے مسلمان ہر شعبہ میں ترقی کر رہے ہیں۔ ۱۹۴۷ میں مسلمانوں کی جو حالت تھی اس کے مقابلہ میں آج مسلمانوں کی حالت ہر اعتبار سے ۱۰۰ گنا زیادہ بہتر ہے۔ ڈائرکٹوریٹ آف فیلڈ پبلسٹی (منسٹری آف انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ ، نئی دہلی) کے تحت ۱۴ مارچ ۲۰۰۰ کو ایک اجتماع ہوا۔ اس میں ڈائرکٹوریٹ کے تمام لوگ تقریباً ایک سو کی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ نیشنل انٹیگریشن کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ اس دنیا میں فطرت

کا ایک نظام ہے اور اس نظام کی پیروی کر کے ہی یہاں کوئی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ آندھر اپردیش کا سفر نامہ ماہ مئی کے شمارہ میں چھپ چکا ہے۔ خصوصی اہمیت کی بنا پر اس کو مزید علیحدہ کتاب کی صورت میں شائع کیا گیا ہے۔ اس کا نام مشاہدات دکن ہے۔ اس کو منگانا چاہیں وہ اس سلسلہ میں دفتر سے خط و کتابت کریں۔

معلوم ہوا ہے کہ ساؤتھ افریقہ کے بعض دینی مدارس میں مذہب اور جدید چیلنج کا انگریزی ایڈیشن گارڈ ارائز باقاعدہ نصاب میں داخل ہے۔ واضح ہو کہ ان مدارس میں انگریزی زبان ذریعہ تعلیم ہے۔ یہاں کے طلبہ پہلے اپنی درسیات کے تحت گارڈ ارائز اس کے بعد وہ الرسالہ (انگریزی) اور دوسری مطبوعات کو حاصل کرتے ہیں اور الرسالہ مشن کا زیادہ تفصیلی مطالعہ کرتے ہیں۔ اس طرح کی خبریں بعض دوسرے بیرونی ملکوں سے بھی ملی ہیں۔

تین کتابوں کا ایک سیٹ تیار ہو رہا ہے۔ ان کے نام یہ ہیں: مطالعہ قرآن، مطالعہ حدیث، ان میں سے مطالعہ سیرت چھپ کر شائع ہو چکی ہے۔ مطالعہ قرآن لکھی جاچکی ہے، اور زیر طبع ہے۔ مطالعہ حدیث کی ترتیب کا کام شروع ہو گیا ہے۔ کتاب نسبتاً زیادہ ضخیم کتاب ہوگی۔

الرسالہ مشن کی انگریزی کتابوں کی مانگ مختلف ملکوں میں کافی بڑھی ہے۔ لوگوں کے تقاضہ کے تحت آج کل مطالعہ سیرت کا ترجمہ انگریزی زبان میں کیا جا رہا ہے۔ جلد ہی انشاء اللہ مکمل ہو کر شائع ہو گا۔

خبر نامہ کے تحت زیادہ تر مرکز دہلی کی خبریں آتی ہیں۔ حالانکہ ملک کے اندر اور ملک کے باہر بہت سے مقامات پر الرسالہ مشن سے وابستہ افراد اس کام میں مشغول ہیں۔ ہے کہ دوسرے مقامات کے لوگ اپنی سرگرمیوں کے بارے میں تحریر فرمائیں تاکہ انھیں خبرنامہ میں شامل کیا جاسکے۔

المشن سے وابستہ لوگ جگہ جگہ اسکول اور مدر سے قائم کر رہے ہیں۔ یہ بہت خوش آئند بات ہے۔ لوگوں کو ہر جگہ اس قسم کے تعلیمی ادارے قائم کرنا چاہئے۔ یہ ایک بنیادی کام ہے اور دور رس نتائج کا حامل ہے۔

ڈائری کی مزید کئی جلدیں کتابت ہو کر تیار ہیں۔ انشاء اللہ جلد ہی شائع کی جائیں گی۔ سے ہر جلد دو سال کی ڈائری پر مشتمل ہوگی۔ ڈائری کا یہ سلسلہ ۱۹۸۳ء سے شروع ہوا اور اس کے بعد خدا کے فضل سے یہ مسلسل جاری ہے۔

الرسالہ اور مطبوعاتِ الرسالہ کے قارئین خدا کے فضل سے دنیا کے ہر حصہ میں پائے جاتے ان قارئین کے تاثرات ڈاک، ٹیلیفون، فیکس اور انٹرنیٹ کے ذریعہ برابر ملتے رہتے مگر طوالت کے خوف سے ان کو خبر نامہ میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان میں الرسالہ کے افکار تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ یہاں ایک خط بطور نمونہ نقل کیا جاتا ہے۔ نوجوان اپنے خط مورخہ ۲۵ مارچ ۲۰۰۰ میں لکھتے ہیں: ہم چند نو جوان ایک گاؤں میں رہتے ہیں اور آپ کا الرسالہ اور دیگر کتابیں تقریبا دس سال سے پڑھ رہے ہیں۔ اور آپ کے فکر سے کافی متاثر ہیں۔ ہم آپ کے بہت شکر گذار ہیں اور رب تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ آپ کو صحت مند اور توانا ر کھے آمین۔ اس سے پہلے بھی ہم نے آپ کو چار پانچ خط لکھے ہیں جن میں سے آپ نے پہلے خط کا جواب بھی لکھا تھا۔ بعد میں آپ کا کوئی خط نہ ملا۔ شاید ہم نوجوان کچھ کیا کریں آپ سے والہانہ محبت اور عقیدت ہے۔ الرسالہ پڑھنے سے پہلے ہم کچھ بھی نہ تھے اور بے قیمت اور جانور جیسی زندگی گزار رہے تھے اور دنیوی مقصد کے سوا کوئی اور مقصد ہی نہ تھا۔ لیکن الرسالہ کے بعد ایسی تبدیلی آئی کہ اب ہم آخرت کے لئے فکرمند رہتے ہیں، اور آپ کے طرز کی زندگی گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بس آپ سے التجا ہے کہ تہجد کے وقت رات کو جب آپ اٹھیں تو ہمارے لئے دعا کریں کہ اللہ ہمیں ثابت قدم رکھے اور عمل کی توفیق دے، آمین۔ (زاہد علی، عبد المنان، معشوق علی اور خیر محمد، پاکستان)

Printed page