مخلص، غیر مخلص
Al-Risala, July 2000, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
دو لکڑی بظاہر ایک سائز کی ہیں۔ دونوں پر ایک ہی قسم کا رنگ لگا ہوا ہے۔ مگر ان میں سے ایک اندر سے دیمک زدہ ہے، اوپر دوسری پوری طرح پختہ اور سالم ہے۔ اوپر سے دیکھنے میں دونوں بظاہر یکساں معلوم ہوں گی۔ لیکن استعمال کے اعتبار سے دونوں ایک دوسرے سے مکمل طورپر مختلف ہوں گی۔ دیمک زدہ لکڑی پر جب کوئی بوجھ رکھا جائے گا تو وہ فوراً ہی ٹوٹ جائے گی۔ کے بر عکس پختہ لکڑی ہر بوجھ اٹھائے گی، وہ ہر استعمال میں مضبوط اور قابل اعتماد ثابت ہو گی۔ اس مثال سے مخلص انسان اور غیر مخلص انسان کے فرق کو سمجھا جا سکتا ہے۔ مخلص انسان ہر آزمائش میں پختہ لکڑی ہی ثابت ہوتا ہے۔ اس کے برعکس غیر مخلص انسان پر جب کسی آزمائش کا وقت آتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک دیمک زدہ لکڑی تھا۔ وہ باہر سے کچھ تھا اور اندر سے کچھ۔ مخلص انسان جو لفظ بولتا ہے وہ عمل کے وقت ٹھیک ویسا ہی کردار ادا کرتا ہے۔ وہ جب کسی سے وعدہ کرتا ہے تو ٹھیک اپنے وعدہ کے مطابق اس کی تعمیل کرتا ہے۔ اس کو جب کوئی امانت سونپی جاتی ہے تو تجربہ کے وقت وہ پوری طرح امین ثابت ہوتا ہے۔ اس کے اور جب کسی کا حق آتا ہے تو وہ کسی عذر کے بغیر صاحب حق کو اس کا حق ادا کر دیتا ہے۔ خواہش اور انانیت اس کو سرکش نہیں بناتی۔ دنیوی مفادات اس کو حق کے راستہ سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ غیر مخلص انسان کا معاملہ اس کے بالکل بر عکس ہے۔ وہ اپنے کہے ہوئے الفاظ کو عمل کے وقت یاد نہیں رکھتا۔ وہ زور و شور کے ساتھ لوگوں سے وعدہ کرتا ہے مگر وہ اپنے وعدہ کو کبھی پورا اس کو جب کسی چیز کا امانت دار بنایا جائے تو وہ پہلے ہی موقع پر خیانت پر اتر آتا ہے۔ مخلص اور غیر مخلص کا یہی فرق کسی انسان کے مستقبل کا فیصلہ کرتا ہے۔ موجودہ دنیا کی تمام حقیقی کامیابیاں صرف اس انسان کے لئے ہیں جو فی الواقع ایک مخلص انسان ہو۔ یہی وہ انسان ہے جو موت کے بعد کی زندگی میں ابدی سعادتوں سے نوازا جائے گا۔