Al-Risala · July 2000

نیوٹن اور مذہب

Al-Risala, July 2000, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

مشہور سائنس داں نیوٹن نے مسیحی مذہب کے بارہ میں دو کتابیں چھوڑیں جو اس کی موت کے بعد شائع ہوئیں۔ سترہویں صدی کے آخر میں اس نے جان لاک کو ایک مسودہ بھیجا جس میں اس نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ بائبل میں تثلیث کی جو آیتیں ہیں وہ اصل متن میں شامل نہ تھیں۔ وہ بعد کا اضافہ ہیں۔

In the early 1690s he had sent Locke a copy of a manuscript attempting to prove that Trinitarian passages in the Bible were latter-day corruptions of the original text. (13/20)

نیوٹن ایک عیسائی خاندان میں پیدا ہوا۔ اس کی تعلیم ٹرینیٹی کالج (کیمبرج) میں ہوئی۔ حتیٰ کہ وہ ٹرینیٹی کالج کے اسٹاف میں ایک ممتاز عہدہ پر فائز تھا۔ مگر اس کا عقلی غور و فکر کا مزاج روایتی مسیحیت سے ٹکرا گیا۔ وہ ٹرینیٹی ٹرینیٹی(تثلیث)کامخالف ہوگیاجس کے اوپر مسیحی مذہب کی

مسیحیت کے عقیدہ تثلیث کے مطابق باپ، بیٹا، روح القدس، تینوں بالکل برابر کا درجہ ایک اور دوسرے میں کوئی فرق نہیں۔ تینوں یکساں طور پر مقدس ہیں، اور تینوں نا قابل تفریق تثلیث کے تین ارکان ہیں۔ مگر نیوٹن نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ بیٹا، باپ کے برابر نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ بیٹا مخلوق ہے اور باپ خالق۔ بیٹا پہلے دنیا میں غیر موجود تھا، پھر وہ وجود لیکن باپ ہمیشہ سے ہے اور وہ ہمیشہ رہے گا۔ جس ہستی کو ہمیشگی حاصل ہے، اور جس ہستی کو ہمیشگی حاصل نہیں، دونوں ہستیاں کس طرح برابر ہو سکتی ہیں۔

یہ مثال بتاتی ہے کہ اسلام کے سوا جو مذاہب ہیں، وہ کتنی کمزور بنیاد پر قائم ہیں۔ مذاہب کی اس کمزوری نے اسلام کو یہ حیثیت دے دی ہے کہ وہ اپنے آپ پھیلے، وہ اپنے آپ لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنالے۔

Printed page