Al-Risala · July 2000

Thomas A Harris, MD, I AM OK- YOU ARE OK

Al-Risala, July 2000, pp. 11–15

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ ایک آدمی جب سماج میں زندگی گزارتا ہے تو دوسروں کے ساتھ اس کے تعلقات کی چار حالتیں ہو سکتی ہیں۔ انہیں کے الفاظ میں وہ چار حالتیں یہ ہیں: 1. I AM NOT OK — YOU ARE OK 2. I AM NOT OK — YOU ARE NOT OK 3. I AM OK — YOU ARE NOT OK 4. I AM OK — YOU ARE OK یعنی پہلی حالت یہ ہے کہ میں ٹھیک نہیں اور تم ٹھیک ہو دوسری حالت یہ کہ میں بھی ٹھیک نہیں اور تم بھی ٹھیک نہیں۔ تیسری حالت یہ ہے کہ میں ٹھیک ہوں اور تم ٹھیک نہیں اور چوتھی حالت یہ ہے کہ میں بھی ٹھیک اور تم بھی ٹھیک۔

کتاب کے مصنف کے نزدیک صرف آخری اور چوتھی حالت ہی درست حالت ہے۔ تین حالتیں درست نہیں۔ ابتدائی تین حالتوں میں آدمی کو ذہنی سکون (peace of mind) نہیں ہو سکتا، جب کہ آخری حالت کا یہ نتیجہ ہوگا کہ آدمی کو پوری طرح ذہنی سکون حاصل ہو

مگر پر سکون زندگی کا یہ فار مولا کوئی درست فار مولا نہیں۔ یہ اس نظریہ پر مبنی ہے جس کو فلسفہ میں نظریہ افادیت (utilitarianism) کہا جاتا ہے۔ نظریہ افادیت کی تشریح اس طرح کی جاتی ہے کہ یہ اصول کہ کسی چیز کی قدر و قیمت تمام تر اس کی عملی افادیت سے متعین ہوتی ہے:

The doctrine that the worth or value of anything is determined solely by its utility. (Webster's Dictionary) نظریۂ افادیت کو اگر درست مان لیا جائے تو انسان اور حیوان میں کوئی فرق باقی نہیں رہے حیوان کے اندر جبلی طور پر خیر و شر کے درمیان کوئی تمیز نہیں۔ حیوان اس فرق کو نہیں جانتا کہ اپنے مالک کے کھیت میں چارہ کھانا صحیح ہے اور غیر کے کھیت میں گھس کر اس کی فصل کھانا غلط۔ مگر انسان کی فطرت میں حق اور باطل کا فرق رکھا گیا ہے۔ وہ فطری طور پر ایک موقف کو درست اور دوسرے موقف کو غلط سمجھتا ہے۔

ایسی حالت میں انسان جیسی مخلوق کے لئے یہ نظریہ درست نہیں ہو سکتا کہ وہ سیاہ اور سفید دونوں کو ایک کہے۔ میں بھی ٹھیک اور تم بھی ٹھیک، جیسا نظریہ کوئی شخص مصنوعی طور پر تو اختیار کر سکتا ہے مگر حقیقی طور پر نہیں۔ ایک آدمی اگر دیانتدار (honest) ہے تو وہ اپنی فطرت کے تحت مجبور ہے کہ وہ ایک حالت کو ٹھیک سمجھے اور اس کے برعکس حالت کے بارے میں اس کی رائے یہ ہو کہ وہ ٹھیک نہیں۔ میں بھی ٹھیک اور تم بھی ٹھیک کا نظریہ ایک تاجر کے لئے تو مفید ہو سکتا ہے مگر ایک با اصول انسان کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اس قسم کے نظریہ کو اپنے دماغ میں

اب سوال یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں جہاں ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان فرق و اختلاف پایا جاتا ہے۔ وہاں ٹکراؤ سے کیسے بچا جائے اور پر سکون زندگی کیسے حاصل کی جائے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کا درست فارمولا یہ ہے۔ میں اپنے کو حق پر سمجھتا ہوں اور تم کو ناحق پر، مگر میں تمہارا مکمل احترام کروں گا۔ اس فارمولے میں پوری طرح پر امن زندگی حاصل ہو جاتی ہے بغیر اس کے کہ کوئی فطری حقیقت مجروح ہوئی ہو۔

انسان کو مکمل انسانی زندگی گزارنے کے لئے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ یقین (conviction) ہے اور اس یقین کے بغیر ایک انسان کی مثال اس درخت کی سی ہے جو اپنی جڑ سے اکھڑ گیا ہو۔ اور اس یقین کو حاصل کرنے کا واحد راز یہ ہے کہ آدمی اس احساس پر کھڑا

ہو اہو کہ میں حق پر ہوں، میں نے سچائی کو پالیا ہے۔ یہی یقین اعلیٰ انسانیت کا سر چشمہ ہے اور ”میں بھی ٹھیک تم بھی ٹھیک“ عین اسی احساس سے انسان کو محروم کر دیتا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو ”میں بھی ٹھیک، تم بھی ٹھیک“ کا نظریہ انسان کے لئے ذہنی موت کے ہم معنیٰ ہے۔ اپنے آپ کو حق پر سمجھنا، یا یہ سمجھنا کہ میں نے سچائی کو پالیا ہے کسی بھی درجہ میں دوسروں کے خلاف نفرت یا حقارت کا سبب نہیں۔ بلکہ برعکس طور پر وہ محبت انسانی کا ذریعہ ہے۔ اس معاملہ میں نفسیاتی حقیقت یہ ہے کہ کسی آدمی کے لئے سچائی کی دریافت عین اسی وقت خود اپنے لئے فروتنی (modesty) کی دریافت ہوتی ہے۔ سچائی صرف ایک ایسی چیز ہو سکتی ہے جو آدمی سے بلند تر ہو۔ جو چیز آدمی سے بلند نہ ہو وہ سچائی بھی نہیں۔ ایسی حالت میں جو آدمی حقیقی طور پر سچائی کو دریافت کرے اس نے گویا ایک ایسی عظمت کو دریافت کیا جس کے مقابلہ میں وہ خود غیر عظیم تھا۔ سچائی نہ آدمی کے برابر ہو سکتی ہے اور نہ اس سے کم۔ سچائی لازمی طور پر آدمی سے عظیم تر ہو گی۔

ایسی حالت میں سچائی کی دریافت کا سب سے بڑا معیار (criterion) صرف ایک ہے اور وہ فروتنی ہے۔ جو آدمی یہ دعویٰ کرے کہ اس نے سچائی کو دریافت کیا ہے اور اسی کے ساتھ اس کے اندر گھمنڈ یا برتری کا احساس ہو تو یقینی طور پر وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ اس نے جس چیز کو پایا ہے وہ خود اس کی اپنی ذات ہے نہ کہ بر تر سچائی۔

انسان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سچائی کی تلاش کرنے والا ایک حیوان ہے: Man is a truth-seeking animal اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی ذات میں ایک نامکمل مخلوق ہے۔ فطرت ہر لمحہ اس کو کسی چیز کی دریافت کرنے پر اکساتی رہتی ہے جو اس سے بر تر ہو، جس کے ذریعہ وہ اپنی ذات کی تکمیل کر سکے۔ یہ کہنا کہ انسان متلاشی حق ہے، دوسرے لفظوں میں یہ کہنا ہے کہ انسان اپنے سے بر تر ایک ایسی چیز تلاش کر رہا ہے جس کے مقابلہ میں وہ اپنی حیثیت

واقعی کا تعین کر سکے۔ ایسی حالت میں یہ کہنا درست ہوگا کہ سچائی کو پانا دوسرے لفظوں میں گویا اپنی فروتنی (modesty) کو پانا ہے۔

یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ کبر (arrogance) تمام برے جذبات کا سر چشمہ ہے۔ اس کے مقابلہ میں تواضع ہر قسم کی اعلیٰ کیفیات کا سر چشمہ ہے۔ ایسی حالت میں جب ایک آدمی سچائی کو دریافت کرتا ہے تو ایک طرف وہ اپنی ذات کے لئے یقین کو دریافت کرتا ہے اور دوسروں کی نسبت سے وہ ایک ایسی چیز دریافت کرتا ہے جس کی بنا پر وہ ان کے حق میں شفقت اور خیر خواہی کا پیکر بن جاتا ہے۔ اس کے دل میں دوسروں کے لئے احترام کے سوا اور کچھ نہیں رہتا۔ پرامن سماجی زندگی بجائے خود ایک ضروری چیز ہے مگر پرامن سماجی زندگی کے لئے یہ ضروری نہیں کہ آپ ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو اپنے ذہن سے نکال دیں۔ درمیان فرق کو جانتے ہوئے بھی پرامن زندگی کا حصول ممکن ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پرامن زندگی کا تعلق پختگی (maturity) سے ہے نہ کہ "میں بھی ٹھیک ، تم بھی ٹھیک " جیسے مصنوعی فارمولے سے۔

ہر آدمی اپنی ماں سے محبت کرتا ہے۔ ماں سے محبت ایک فطری جذبہ ہے۔ مگر اپنی ماں سے محبت کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی دوسرے کی ماں سے نفرت کرے۔ اپنی ماں سے گہری محبت کرتے ہوئے بھی آدمی دوسرے کی ماں کا مکمل احترام کر سکتا ہے، بغیر اس کے کہ اس نے دوسرے کی ماں کو بھی اپنی ماں کے طور پر تسلیم کیا ہو۔ انسان کے اندر فطری طور پر اتنی زیادہ وسعت ہے کہ وہ بظاہر مختلف چیزوں کو بیک وقت اپنے سینہ میں جگہ دے سکے۔ اسی بات کو ایک مغربی مصنف نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

I am large enough to contain all these contradictions. سماجی ہم آہنگی کے معاملہ میں اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اختلاف (difference) کو کیسے ختم کیا جائے۔ بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اختلاف کے ہوتے ہوئے کس طرح سماجی ہم آہنگی کے

مقصد کو حاصل کیا جائے۔ کیوں کہ اختلاف اور فرق خود فطرت کا ایک لازمی حصہ ہے۔ اور فرق کو ختم کرنا اس دنیا میں ممکن ہی نہیں۔

ایسی حالت میں سماجی ہم آہنگی کا درست فارمولا باہمی اعتراف (mutual recognition) نہیں ہے بلکہ باہمی احترام (mutual respect) ہے۔ اس معاملہ میں اصل کام یہ ہے کہ لوگوں کے اندر اس تعمیری شعور کو بیدار کیا جائے کہ وہ اختلاف اور فرق کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے زندگی گزار سکیں۔

دنیا میں فرق یا اختلاف کا ہونا کوئی برائی (evil) نہیں۔ بلکہ وہ ایک خوبی ہے جو انسانی ترقی کا زینہ ہے۔ فرق و اختلاف والے ماحول ہی میں لوگ اس اعلیٰ انسانی صفت کی تربیت پاتے ہیں جس کو وسعت قلب اور فراخ حو صلگی کہا جاتا ہے اور جو ہر بڑی کامیابی کی لازمی شرط ہے۔ فرق و اختلاف کے ماحول ہی میں فکری چیلنج ظہور میں آتے ہیں جو انسان کے لئے ذہنی ارتقاء کا ذریعہ ہیں۔ فرق و اختلاف ہی کے ذریعہ یہ ممکن ہوتا ہے کہ انسانی ترقی کا سفر محدود نہ ہو کرو سیع الاطراف ہو جائے، وغیرہ۔

حقیقت یہ ہے کہ ”میں بھی ٹھیک تم بھی ٹھیک کا طریقہ کچھ پروفیشنل قسم کے لوگوں کے لئے محدود طور پر مفید ہو سکتا ہے، مگر وہ عام انسانیت کے لئے وسیع تر معنوں میں مفید نہیں۔

Printed page