Its advent changed the course of human history.
Al-Risala, July 2000, pp. 16–19
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام نے پوری انسانی دنیا میں جو انقلابی تبدیلی پیدا کی اس کے بہت سے پہلو ہیں۔ کے علمی پہلو کا تذکرہ میں نے اپنی کتاب ”اسلام دور جدید کا خالق“ میں کیا ہے۔ یہاں میں اس پہلوکا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو پچھلی صدیوں میں بہت زیادہ نزاعی رہا ہے، یعنی اسلام کا عسکری یاشمشیری رول۔
ساتویں صدی عیسوی میں اسلام اس وقت کی بیشتر آباد دنیا میں داخل ہو گیا۔ اس کا یہ داخلہ معروف معنوں میں کوئی شمشیری داخلہ نہ تھا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ فطرت کا ایک اس وقت ساری دنیا پر جمود کی حالت طاری تھی۔ سیاسی اعتبار سے ہر ملک میں جبر کی خاموشی چھائی ہوئی تھی، مذہبی دائرہ میں کلر جی یا مذہبی پیشواؤں نے انسانی سوچ کو محدود خول میں بند کر دیا تھا۔ کلچر کے نام سے اس زمانہ میں جو چیز پائی جاتی تھی وہ صرف توہماتی روایات کا ایک ڈھانچہ تھا جس کا عقل انسانی سے کوئی تعلق نہ تھا۔ عام انسان جہالت کے اندھیرے میں زندگی گزار رہے تھے۔ نسل در نسل انسانیت کا حال یہ تھا کہ لوگ پیدا ہوتے تھے صرف اس لئے کہ وہ اس طرح مر جائیں کہ تاریخ میں ان کی کوئی خبر بھی درج نہ ہو۔ اس قبرستانی سناٹے سے انسانیت کو نکالنے کے لئے ایک عظیم ٹھوکر درکار تھی۔ یہ ٹھوکر بظاہر کسی قوم کے ذریعہ دی جانے والی تھی مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ فطرت کی ایک ٹھوکر تھی۔ جس طرح زلزلہ فطرت کے زور پر آتا ہے اسی طرح یہ ٹھوکر بھی براہِ راست طور پر فطری قانون کے زور پر وجود میں آئی۔ ٹھوکر کے بغیر یہ ممکن نہ تھا کہ دنیا جامد دور سے نکل کر زندہ اور متحرک دور میں داخل ہو۔ اسلام کے ذریعہ دنیا کو بھی تعمیری ٹھوکر دی گئی۔ یہ زیادہ بڑے پیمانہ پر ویسی ہی ایک ٹھوکر تھی جو کیرم بورڈ پر پیش آتی ہے۔ ایک کھلاڑی اپنے ماسٹر اسٹروک کے ذریعہ بورڈ کی تمام گوٹوں کو متحرک کر دیتا ہے، وہ ان کے سمٹاؤ کو حرکت اور سفر میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اہل اسلام جب عرب سے نکل کر وسیع تر دنیا میں داخل ہوئے تو ان کا یہ داخلہ گویا فطرت کا ایک سیلاب تھا جس نے زندگی کی تمام سرگرمیوں کو یک لخت بدل دیا۔ سیاسی نقشے ٹوٹ گئے۔ مذہبی روایتیں ڈھہ پڑیں۔ تجارت و زراعت کے تمام شعبوں کی کایا پلٹ ہو گئی۔ انسانوں کا فکری جمود ٹوٹ کر فکری انقلاب میں تبدیل ہو گیا۔
اس دنیا میں ہر بڑی تبدیلی کے لئے فطرت کا ایک ہی عالمگیر اصول ہے اور وہ شاک ٹریٹمنٹ کا اصول ہے۔ اس دنیا کی تمام اہم تبدیلیاں اسی اصول کے تحت وقوع میں آتی ہیں۔
مسلمانوں کے لئے عرب کے مشرکین کا سخت جارحانہ رویہ اسی قسم کا ایک شاک ٹریٹمنٹ کروسیڈس (Crusades) کی دوسوسالہ جنگ یورپ کی مسیحی قوموں کے لئے اسی قسم کا ایک شاک ٹریٹمنٹ تھا جو انھیں مسلمانوں کے ذریعہ دیا گیا۔ اسی شاک ٹریٹمنٹ کے نتیجہ میں اس نئے یورپ کا جنم ہوا جس کو نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کہا جاتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ اسی طرح جاپان کے لئے ایک شاک ٹریٹمنٹ کے ہم معنی تھی جس سے وہ نیا جاپان ابھرا جو ایک عالمی اقتصادی طاقت بن گیا۔ اسی طرح اب مغربی دنیا کا معاملہ مسلمانوں کے حق میں ایک شاک ٹریٹمنٹ کے ہم معنی ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، یہ یقینی ہے کہ اس شاک ٹریٹمنٹ کے بطن سے مسلمانوں کا ایک نیا دور شروع ہو اور ان کو دوبارہ ایک عالمی طاقت بنانے کا ذریعہ ثابت ہو۔ مسلمان اس طرح اپنی ابتدائی صدیوں میں ساری دنیا کے لئے ایک شاک ٹریٹمنٹ دینے والے بن گئے۔ ان کے فاتحانہ اقدامات نے ایشیا، افریقہ اور یورپ کی تقریباً تمام قوموں کو ہلا اس نے ان قوموں کو لمبی نیند سے جگا کر متحرک اور بیدار کر دیا۔ مسلمانوں کا بدنام شمشیری رول در حقیقت مثبت سرجری کا ایک رول تھا۔ اس نے ان کی چھپی ہوئی فطری صلاحیتوں کو بیدار اس نے بیمار قوموں کو دوبارہ صحت مند بنا کر کھڑا کر دیا۔ اس نے جہل اور توہمات کی سیاہ چادر کو پھاڑ کر انھیں اس قابل بنا دیا کہ وہ فطرت کے روشن سورج سے اپنے آپ کو منور کر
خلاصہ یہ کہ یہ ایک قوم پر دوسری قوم کا حملہ نہ تھا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ فطرت کا ایک ناگزیر آپریشن تھا۔ یہ کام مسلمانوں سے لیا گیا، کیوں کہ اس وقت کی تمام قوموں میں وہی اس مقصد کے لئے سب سے زیادہ اہل تھے۔ وہ ایک تازہ دم گروہ تھے۔ ان میں اعلیٰ انسانی صفات پوری طرح موجود تھیں۔ ان کے پاس زندگی کا ایک پیغام تھا۔ وہ رائج الوقت نظاموں کے مقابلہ میں ایک بہتر آئیڈیالوجی رکھتے تھے۔ مزید یہ کہ ان کے پاس جہاد کا نظریہ تھا جو انسان کو قریبی مفاد سے اوپر اٹھ کر برتر اور اعلیٰ تر مقصد کے لئے متحرک کرتا ہے اور اس کو قربانی کی حد تک جا کر جدو
جہد کرنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ اس زمانہ کے مسلمانوں کی یہی صفات تھیں جس نے انھیں اس قابل بنایا کہ وہ فطرت کے ایک عالمی انقلابی رول کو ادا کرنے کے لئے چن لئے جائیں۔ فطرت کے اس قانون کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: اور اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض لوگوں سے دفع نہ کرتا تو زمین فساد سے بھر جائے۔
فطرت کے اس قانون کو مذکورہ آیت میں قانون دفع کہا گیا ہے۔ اس کا تعلق کسی ایک قوم سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق تمام قوموں سے ہے۔ ہر قوم کچھ مدت کے بعد اس قانون کی زد میں آجاتی ہے مثال کے طور پر عرب مسلمانوں کے ذریعہ پہلے دوسری قوموں کو ٹھوکر دی اس کے بعد منگولوں اور سلجوقیوں کے ذریعہ عربوں کو اس ٹھوکر کا سابقہ پیش آیا۔ بعد جب مغل اور سلجوق حکمراں جمود کا شکار ہوئے تو دوبارہ انہیں مغربی قوموں کے ذریعہ ٹھوکر موجودہ مسلمان اسی دور سے گزر رہے ہیں۔ دفع اقوام کا یہ معاملہ، اپنی حقیقت کے اعتبار سے، فطرت کا ایک آپریشن ہوتا ہے۔ قوموں کو چاہئے کہ وہ اس معاملہ کو اسی نظر سے دیکھیں تا کہ ان کے اندر مثبت ذہن پیدا ہو۔ ایسے موقع پر منفی ذہن تباہی میں اضافہ کرتا ہے، اور مثبت ذہن ان کو دوبارہ زیادہ بہتر تعمیر کے قابل بنا دیتا ہے۔