Al-Risala · July 2000

ISLAMIC BOOKS

Al-Risala, July 2000, pp. 20–21

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایاکم والحسد، فان الحسد یا کل الحسنات كما تاكل النار الحطب (ابو داؤد، کتاب الادب، باب الحسد، ابن ماجه، کتاب الزہد) یعنی تم حسد سے بچو، کیوں کہ حسد اسی طرح نیکیوں کو کھاجاتاہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا : لا يجتمعان فی قلب عبد الایمان والحسد (النسائی، کتاب الجہاد) یعنی کسی بندے کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہو سکتے۔

حسد قاتل ایمان اور قاتل انسانیت ہے۔ حسد کا نقصان یہ ہے کہ وہ آدمی سے اعلیٰ ایمانی کیفیات کو چھین لیتا ہے۔ حسد اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے کہ آدمی کے سینہ میں وہ دینی جذبات پرورش پائیں جو اس کو اللہ کے قریب کرنے والے ہیں اور جس کا انعام اس کو جنت کی صورت میں ملے گا۔ موجودہ دنیا میں ایسا ہوتا ہے کہ کبھی ایک شخص بظاہر بڑا ہو جاتا ہے اور دوسرا شخص بظاہر یہ امتحان کے لئے ہوتا ہے۔ وہ اس لئے ہے کہ اس فرق کو خدائی فیصلہ سمجھ کر اسے قبول کر لیا جائے مگر جب آدمی بڑے کی بڑائی کا اعتراف نہ کرے اور اس کو چھوٹا کرنے کی کوشش میں مصروف ہو جائے تو گویا کہ وہ خدا کے فیصلہ کو بدلنا چاہتا ہے۔ ایسا آدمی خدا کی قربت کی لذتوں سے محروم رہے گا۔

حقوق العباد کے سلسلہ میں سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی کے دل میں دوسرے انسانوں کے لئے شفقت اور ہمدردی کا جذبہ ہو مگر حسد آدمی کے اندر سے انسانی ہمدردی کا جذبہ ختم کر دیتا ہے۔ اس کا نقصان اس کو اس بدترین صورت میں ملتا ہے کہ وہ اس حدیث کا مصداق بن جاتا ہے: لا يرحم الله من لا يرحم الناس (البخاری، کتاب التوحید) یعنی اللہ اس آدمی پر رحم نہیں کرے گا جو انسانوں پر رحم نہ کرے۔

قرآن میں تقویٰ کی علامت یہ بتائی گئی ہے کہ کسی سے دشمنی تب بھی آدمی اس کے بارے میں عدل و انصاف کی بات کہے (المائدہ ۸)۔ مگر جس آدمی کے دل میں کسی کے خلاف حسد اور جلن ہو اس کے بارے میں انصاف کی بات کہنا اس کے لئے مشکل ہو جائے گا۔ جذبہ اس کو مجبور کرے گا کہ وہ اپنے محسود کے بارے میں وہ بات کہے جس میں اس کے دل کو تسکین ملتی نہ ہو کہ وہ بات جو بطور واقعہ درست ہو۔ اس طرح حسد آدمی کو خدا کی نظر میں ظلم اور بے انصافی کا مجرم بنا دے گا۔

انسانیت کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر موضوعیت (objectivity) ہو۔ کے بارے میں غیر جانبدارانہ رائے قائم کرے ۔ وہ معاملات کو حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھ سکے۔ اس قسم کی حقیقت پسندی دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کے لئے ضروری ہے۔ مگر حسد آدمی کے لئے اس میں مانع بن جاتا ہے کہ وہ بے آمیز رائے قائم کر سکے۔ حسد آدمی کے اندر متاثر ذہن پیدا کر دیتا ہے، اور متاثر ذہن کے ساتھ آدمی کبھی کوئی بڑی ترقی نہیں کر سکتا۔ حسد بلاشبہ خود حاسد کے لئے سب سے بڑی محرومی ہے۔

قرآن وحدیث کے مطابق صدقہ کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔ اس صدقہ کا تعلق صرف مال سے نہیں ہے بلکہ دل اور زبان سے بھی ہے۔ یہ بھی ایک عظیم صدقہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے انسان کے بارے میں اچھی رائے رکھے۔ وہ اس کا خیر خواہ ہو۔ وہ اچھے الفاظ میں اس کا تذکرہ وہ اس کے حق میں نیک دعائیں کرے۔ مگر جب ایک آدمی کے دل میں دوسرے انسان کے لئے حسد کا جذبہ پیدا ہو جائے تو وہ اس عظیم نیکی سے محروم ہو جائے گا۔ اس کی زبان دوسرے انسان کے لئے کھلے گی تو اس کی برائی کے لئے کھلے گی نہ کہ اس کی بھلائی کے لئے ۔ اس کا سینہ ایسے انسان کے خلاف نفرت سے بھر جائے گا۔ اس طرح حسد ایک آدمی کو اس آخری نیکی سے بھی محروم کر دیتا ہے کہ وہ کسی کے حق میں کلمہ خیر بول سکے۔ یہ ایک ایسی محرومی ہے جس سے بڑی محرومی شاید کوئی اور نہیں ہو سکتی۔

Printed page