Al-Risala · July 2000

فہم دین: ایک اصول

Al-Risala, July 2000, pp. 22–29

By Maulana Wahiduddin Khan

عربی زبان میں کہا جاتا ہے لا یضربنك زيد۔ لفظی ترجمہ کے اعتبار سے بظاہر اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ زید تم کو ہر گز نہ مارے۔ مگر باعتبار حقیقت اس کا مطلب یہ ہے کہ زید تم کو مارنے نہ پائے۔ تم ایسی کارروائی نہ کرو جس کے بعد زید کو تمہیں مارنے کا موقع مل جائے۔ اس جملہ میں خطاب کا رخ ضارب کی طرف نہیں ہے بلکہ مضروب کی طرف ہے۔

عربی زبان کا یہ اسلوب قرآن میں بھی پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر قرآن میں ارشاد ہوا ہے: فلا ينازعنك في الامر وادع الى ربك (الحج (۶۷) اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ پس وہ ہر گز تم سے جھگڑانہ کریں اور تم اپنے رب کی طرف دعوت دو۔ مگر یہاں بھی وہی اسلوب ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔ یعنی بظاہر آیت کا رخ مدعو کی طرف ہے مگر حقیقۃ اس کا رخ داعی کی طرف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم مدعو کو نزاع برپا کرنے کا موقع نہ دو۔ اعراض کرتے ہوئے اپنی ساری توجہ دعوت کے اوپر لگائے رہو۔

یہ بلاغتِ کلام کا ایک اہم اصول ہے۔ بعض مواقع پر بظاہر خطاب کا رخ ایک چیز کی طرف ہوتا ہے مگر حقیقۃ کلام کے اعتبار سے اس کا رخ کسی اور چیز کی طرف ہوتا ہے۔ یہ نکتہ کلام کے موقع ومحل کے مطالعہ سے سمجھ میں آتا ہے۔

قرآن میں اس اسلوب کی ایک مثال سورہ نمبر ۸۰ میں پائی جاتی ہے۔ اس سورہ کا آغاز اس طرح ہوتا ہے: ترش رو ہوا اور بے رخی برتی اس بات پر کہ اندھا اس کے پاس آیا۔ اور تم کو کیا خبر کہ وہ سدھر جائے یا نصیحت کو سنے تو نصیحت اس کے کام آئے۔ جو شخص بے پروائی برتتا ہے، تم اس کی فکر میں پڑتے ہو، حالانکہ تم پر کوئی ذمہ داری نہیں اگر وہ نہ سدھریں۔ ان آیات میں بظاہر رسول اللہ ﷺ کو خطاب کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک نابینا صحابی عبداللہ بن ام مکتوم سے اعراض کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ پر بطور عتاب یہ سورہ نازل

فرمائی (تفسیر القرطنی ۱۹؍۲۱۰) مگر یہ درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں بھی بلاغت کا وہی اصول اختیار کیا گیا ہے جس کے مطابق بظاہر خطاب کسی ایک سے کیا جاتا ہے مگر اصل مقصود کوئی دوسرا ہوتا ہے۔ چنانچہ اس سورہ میں بھی خطاب کا اصل رخ اشرافِ قریش کی طرف ہے۔ اللہ ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اشرافِ قریش پر اپنا عتاب ظاہر فرمایا ہے جو حق کے مقابلہ میں سرکشی کا طریقہ اختیار کئے ہوئے تھے۔

یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی شریف آدمی کا بیٹا گھر سے باہر جائے۔ وہاں محلہ کا ایک شریر لڑکا اس سے الجھ جائے۔ اس کے بعد باپ گھر سے باہر آئے۔ وہ شریر لڑکے کی طرف نہ دیکھے بلکہ اپنے بیٹے کو تنبیہ کرتے ہوئے کہے کہ تم کو یہاں آنے کی ضرورت کیا تھی۔ تم کو اپنے گھر میں ہوم ورک کرناچاہیے تھا۔ نہ کہ تم ان لڑکوں کے پاس آکر ان کے ساتھ بیٹھو۔ اس کلام میں باپ کا خطاب بظاہر اپنے بیٹے کی طرف ہے مگر حقیقتاً وہ شریر لڑکے کے خلاف بیزاری کا اظہار ہے۔ اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب فرعون کے سامنے اپنی دعوتِ رسالت پیش کی تو فرعون نے اپنے درباریوں کو خطاب کرتے ہوئے حضرت موسیٰ کے بارے میں کہا کہ: یرید ان یخرجکم من ارضکم (الاعراف ۱۱۰) یعنی موسیٰ یہ چاہتے ہیں کہ وہ تم لوگوں کو تمہاری زمین سے نکال دیں۔ اس آیت کو کچھ لوگوں نے ظاہر معنی میں لے لیا۔ مثلاً سید قطب مصری نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ فرعون نے درباریوں سے کہا کہ : انها الخروج من الارض...... انها ذهاب السلطان (فی ظلال القرآن ۳؍۱۳۲۸) یعنی فرعون نے کہا کہ یہ ہمارے لئے ملکِ مصر سے نکل جانا ہے اور یہ ہمارے اقتدار کا چھن جانا ہے۔ سورۃ الشعراء کی ایک آیت کی تشریح کے تحت بھی سید قطب نے یہی بات لکھی ہے۔ ملاحظہ ہو فی ظلال القرآن ۲۵۹۳؍۵۔ (مگر یہ تشریح درست نہیں)

فرعون کے دربار میں حضرت موسیٰ کی پوری تقریر کو سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ پیغمبر نے جو بات کہی تھی وہ فرعون کے قول کے بالکل برعکس تھی۔ فرعون حضرت موسیٰ کے

خلاف یہ کہہ رہا ہے کہ وہ ہم کو ہمارے ملک سے نکال کر اس کے اوپر خود سیاسی قبضہ کرنا چاہتے حالانکہ حضرت موسیٰ نے برعکس طور پر فرعون سے یہ کہا تھا کہ : فارسل معی بنی اسرائیل (الاعراف ۱۰۵) یعنی مجھ کو اجازت دے کہ میں اپنی قوم بنی اسرائیل کو لے کر ملک مصر سے باہر چلا جاؤں۔ گویا حضرت موسیٰ تو خود اپنے لئے مصر سے نکلنے کی بات کر رہے تھے۔ فرعون نے اس کو الٹ کر کہا کہ موسیٰ ہم لوگوں کو ہمارے ملک سے نکال دینا چاہتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ فرعون نے جب یہ بات اپنے درباریوں سے کہی تو اس کا مقصد حضرت موسیٰ کے مشن کو بتانا نہیں تھا بلکہ خود اپنے لوگوں کو موسیٰ کے خلاف بھڑکانا تھا۔ چنانچہ اس نے غلط بیانی کر کے حضرت موسیٰ کی طرف وہ بات منسوب کر دی جو انہوں نے کبھی نہیں کہی تھی۔ فرعون کے کلام کا رخ موسیٰ کی طرف نہ تھا بلکہ خود اپنے درباریوں کی طرف تھا۔ مذکورہ تفسیر کی غلطی یہ ہے کہ اس میں موسیٰ کے مشن کو فرعون کے کلام سے نکالا جا رہا ہے جب کہ موسیٰ کا مشن خود موسیٰ کے کلام سے نکلے گا نہ کہ ان کے دشمن فرعون کے کلام سے۔ حدیث کی مثال کلام کا یہ اسلوب حدیث میں بھی پایا جاتا ہے۔ حدیث کے ذخیرے میں بہت سی روایتیں ہیں جن کو سمجھنے کے لئے اس نکتہ کو جاننا ضروری ہے۔ ورنہ حدیث کی اصل روح کو سمجھنا مشکل ہو جائے گا۔

مثال کے طور پر بعض روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ : الصلوة المكتوبة واجبة خلف كل مسلم ، برا كان او فاجراً (سنن ابی داؤد ا/ ۱۵۹) یعنی مکتوب نمازوں کی ادائیگی ہر مسلم امام کے پیچھے واجب ہے، خواہ وہ نیک ہو یا بد ہو۔ اس حدیث میں خطاب کا رخ بظاہر امام کی طرف ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس سے مراد ماموم یا مقتدی ہے۔ اس حدیث کا مقصود امام کے مسئلہ کو بتانا نہیں ہے بلکہ مقتدی کے مسئلہ کو بتانا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مقتدی کی نظر میں اس کی مسجد کا امام خواہ بظاہر نیک ہو یا بد، اگر وہ مسجد کا باضابطہ امام ہے تو مقتدی کو

ہر حال میں اس کے پیچھے نماز پڑھنا چاہئے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ مقتدی خود اپنی نماز پڑھتا ہے نہ کہ امام کی نماز۔ حدیث میں آیا ہے کہ : لكل امرئ ما نوى (صحیح البخاری) یعنی ہر آدمی کے لئے وہ ہے جس کی اس نے نیت کی۔ مسجد میں امام مقرر کرنے کا مقصد نماز باجماعت کی تنظیم ہے۔ امام اگر اچھا ہو تب بھی اس کی وجہ سے مقتدی کی نماز اچھی نہیں ہو جائے گی اور اگر بالفرض امام برا ہو تب بھی اس کی وجہ سے مقتدی کی نماز بری نہیں ہو جائے گی۔ مذکورہ حدیث کا مقصد مسجد کے ماحول کو انتشار و افتراق سے بچانا ہے نہ کہ کسی مقتدی کی نماز کا حکم بتانا۔

اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ : اذا وضع الطعام فاخلعوا نعالكم فانه اروح لا قدامكم (الداری، کتاب الاطعمة) یعنی جب کھانا کھا جائے تو اپنے جوتے کو اتار دو۔ اس میں تمہارے پیروں کے لئے زیادہ راحت ہے۔

یہ حدیث بھی اسی اسلوب کلام پر ہے جس کا اوپر ذکر ہوا۔ چنانچہ اس حدیث میں حقیقہ یہ مسئلہ بیان نہیں کیا گیا ہے کہ کھانے کے وقت جوتااتاردو بلکہ اس میں راحت کا مسئلہ بیان کیا گیا یعنی جب کھانا کھانا ہو تو جوتے اتار کر سکون کے ساتھ بیٹھو اور شکر الہی کے جذبہ کے ساتھ تاہم اگر سردی کا موسم ہو اور جوتا اتار ناراحت کے خلاف ہو تو اس وقت حدیث کا مدعا یہ ہو گا کہ پاؤں کی راحت کی خاطر جوتا پہنے ہوئے کھانا کھایا جائے تا کہ آدمی کی دلجمعی میں فرق نہ آئے اور وہ پوری طرح احساس شکر کے ساتھ کھانا کھا سکے۔

اسی طرح حدیث میں متعددروایتیں آئی ہیں جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا کھانا پسند تھا۔ مثال کے طور پر حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کھانے میں شہد اور میٹھا پسند فرماتے تھے۔ اس کو لے کر کچھ لوگوں نے یہ مسئلہ نکال لیا کہ حلوہ کھانا سنت ہے، حلوہ کھانا باعث ثواب ہے۔ مگر ان احادیث کا یہ مطلب نہیں۔

کھانے کے سلسلہ میں جوروایتیں آئی ہیں وہ تقریبا سب کی سب مدنی دور سے متعلق ہیں۔

یعنی ان روایتوں کاتعلق اس دور سے ہے جب کہ مسلمانوں کے لئے سنگین معاشی مسائل پیدا ہو اس زمانہ میں اصل مسئلہ یہ نہیں تھا کہ پسندیدہ غذا کیا ہے۔ بلکہ اصل یہ تھا کہ جو کچھ ملے اس کو شکر اور قناعت کے جذبہ کے تحت کھا لیا جائے۔ کھانے کے سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے پسندیدگی کے کلمات کو اسی پس منظر میں دیکھنا چاہئے۔

اس وقت مدینہ میں جن کھانوں کا رواج تھا ان سب کا نام ان احادیث میں آیا ہے۔ حدیثوں کو جمع کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ مدینہ کے تمام ہی کھانے رسول اللہ ﷺ کی پسند کے ایسی حالت میں یہ کہنا تو درست ہو سکتا ہے کہ مدینہ میں پائے جانے والے تمام کھانے رسول اللہ ﷺ کو پسند تھے۔ مگر یہ بات درست نہیں کہ آدمی ان میں سے کسی ایک روایت کو لے لے اور اس کی بنیاد پر کہے کہ فلاں چیز رسول اللہ ﷺ کو پسند تھی اور اس کو سنت کا نام دے سنت ہر چیز کو پسندیدگی کے ساتھ کھانے کا نام ہے نہ کہ کسی ایک چیز کو۔ اسلام کے دور اول میں مدینہ ایک چھوٹا سا قصبہ تھا۔ اس کے معاشی ذرائع محدود تھے۔ جب ہجرت ہوئی اور اچانک مدینہ کی آبادی تقریبا دگنا ہو گئی تو فطری طور پر وہاں معاشی مسائل پیدا ہو گئے ۔ مزید یہ کہ ہجرت کے بعد غزوات و سرایا کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اور مدینہ کے معاشی وسائل کا بڑا حصہ مستقل طور پر دفاعی ضرورتوں میں صرف ہونے لگا۔ ان اسباب سے مدینہ میں معاشی تنگی کی صورت پیدا ہو گئی۔

اکثر ایسا ہوتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ اور اکثر اصحاب کو روزانہ وقت پر کھانا نہیں ملتا تھا۔ کبھی فاقہ کی نوبت آ جاتی تھی۔ حدیث میں آیا ہے کہ حضرت عائشہ نے فرمایا: توفی رسول اللہ وما شبعنا من الاسودين (البخاری، مسلم) یعنی مدینہ میں رسول اللہ کی وفات ہو گئی اور ہم کبھی دو چیز سے شکم سیر نہ ہو سکے (کھجور اور پانی)

ان حالات میں بار بار ایسے مواقع پیش آتے تھے کہ ایک انصاری کو یہ خبر ملتی کہ رسول اللہ نے ایک یا دو وقت سے کھانا نہیں کھایا ہے۔ وہ دوڑ کر آپ کے پاس آتا اور آپ کو اپنے گھر لے

اس کے بعد بغیر کسی تیاری کے گھر میں جو کچھ ہو تادہ اس کو آپ کے سامنے پیش کر دیتا۔ زیادہ تر ایسا معمولی کھانا ہوتا تھا کہ انصاری کو اسے رسول اللہ کے سامنے پیش کرتے ہوئے شرم محسوس ہوتی تھی۔ روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں (ما عاب رسول الله ﷺ طعاما قط)۔

مزید یہ کہ آپ تمام شریفوں سے زیادہ شریف انسان تھے۔ جب کوئی انصاری آپ کے سامنے شرمندگی کے ساتھ ایک معمولی کھانا رکھتا تو آپ یہ کہہ کر کھانا شروع کر دیتے کہ یہ تو بہترین کھانا ہے۔ اس سے بہتر کوئی کھانا نہیں، خواہ یہ کھانا سوکھی روٹی اور سرکہ ہی کیوں نہ ہو۔ آپ کا یہ قول بظاہر کھانے کے بارے میں ہوتا تھا مگر حقیقۃ اس کا رخ میزبان کی طرف ہوتا تھا۔ آپ میزبان کی شرمندگی مٹانے کے لئے یا اس کی عزت رکھنے کے لئے ایسا کہتے تھے نہ کہ کھانے کی لذت بتانے کے لئے۔ گویا کلام کا رخ اگر چہ بظاہر دستر خوان کی طرف ہوتا تھا مگر اس کا حقیقی رخ میزبان کی طرف ہوتا تھا جو شرمندگی کا احساس لئے ہوئے وہاں موجود ہوتا تھا۔ اس سلسلہ میں جو روایات آئی ہیں، ان کو اگر ظاہر معنی میں لیا جائے تو یہ کہنا پڑے گا کہ رسول اللہ کو متضاد قسم کے کھانے پسند تھے۔ میٹھا بھی اور نمکین بھی، گوشت بھی اور سبزی بھی، حتیٰ کہ سالن بھی اور بے سالن بھی۔ اصل یہ ہے کہ مومن کے سامنے جب کوئی کھانا آتا ہے تو وہ اس کو نعمت خداوندی کی نظر سے دیکھتا ہے نہ کہ لذت زبان کی نظر سے۔ اس لئے مومن کو ہر کھانا خدا کی طرف سے بھیجا ہوا رزق معلوم ہوتا ہے۔ اس بنا پر وہ ہر کھانے کو خوش ہو کر کھا لیتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : ان الله ليرضى عن العبد ان يأكل الاكلة فيحمدہ عليها، او يشرب الشربة فيحمدہ عليها (صحیح مسلم) یعنی اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ بندہ جب کوئی چیز کھائے تو اس پر وہ اللہ کا شکر ادا کرے یا کوئی چیز پئے تو اس پر وہ اللہ کا شکر ادا کرے۔

یہ حدیث بتاتی ہے کہ مومن شکر کی کیفیت کے ساتھ کھانا کھاتا ہے۔ رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وسلم اس معاملہ میں کمال درجہ پر تھے۔ اور جو آدمی کھانا کھاتے وقت شکر کی کیفیت سے لبریز ہو اس کو خدا کی پیدا کی ہوئی ہر چیز اچھی لگے گی۔ وہ ہر چیز کو یکساں طور پر خدا کی نعمت سمجھے گا۔ وہ ہر جائز خوراک کو یکساں پسندیدگی کے ساتھ کھائے گا۔ کھانے کی کسی چیز کو پسند نہ کرنا، اسے لگے گا جیسے کہ وہ خدا کی ایک نعمت کی ناقدری کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث کی کتابوں میں اس سلسلہ میں جو روایات آئی ہیں ان میں قدیم عرب کے تقریباً تمام قابل حصول کھانوں کا ذکر ہے۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے جو بھی کھانا آیا اس کو آپ نے پسندیدگی کی نظر سے کھایا۔ اگر آپ کے سامنے روٹی اور نمک لایا گیا تو آپ نے اس کو بھی شوق سے کھایا اور آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے : سید ادامكم الملح (ابن ماجه، ابواب الاطعمہ)میں کیوں کہ آپ جو کچھ کھاتے تھے جذبہ شکر کے ساتھ کھاتے تھے، نہ کہ جذبہ لذت کے ساتھ۔

آپ نے فرمایا کہ اگر کسی کے پاس روٹی کا ٹکڑا اور پانی (جلف الخبز والماء) ہو تو گویا کہ اس کو دنیا کی بہترین نعمت کھانے کے لئے مل گئی۔

یہاں ہم کھانے کی ان چیزوں کا ذکر کرتے ہیں جو سنن ابن ماجہ (ابواب الاطمہ) اور مشکاۃ المصابیح (کتاب الاطمہ) میں منقول ہیں۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں :

الثريد (شوربے میں تر کی ہوئی روٹی) القرع (کدو) اللحم (گوشت)

الملح (نمک) الخل (سرکہ) الزيت (زیتون کا تیل) اللبن (دودھ) الحلواء (میٹھی چیز) العسل (شہد) البطيخ (تربوز، خربوز) التمر (کھجور) الذ بد (مکھن) المرقة (شوربة) الشعير (جو) القثاء (ککڑی) الثفل (تلچھٹ)، وغیرہ۔

اس فہرست سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم عرب قبائل میں جو کھانے رائج تھے، ان سب کے بارے میں آپ نے پسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ خواہ وہ انتہائی معمولی قسم کا کھانا کیوں نہ ہو۔ حالت میں کوئی شخص یہ تو کہہ سکتا ہے کہ آپ کو تمام کھانے پسند تھے مگر کوئی سنجیدہ آدمی ایسا

نہیں کر سکتا کہ وہ ان میں سے کسی ایک چیز کو لے کر یہ دعویٰ کرے کہ رسول اللہ ﷺ کو فلاں کھانا پسند تھا۔ ان روایتوں کے مطالعہ کے بعد جائز طور پر صرف دو بات کہی جاسکتی ہے۔ ایک یہ کہ ہر کھانے کو آپ خدائی رزق کے طور پر دیکھتے تھے۔ اس لئے ہر کھانے کو آپ شکر اور پسندیدگی کے جذبہ سے تناول فرماتے تھے۔ دوسرے یہ کہ کبھی ایسا ہو تا کہ آپ ایک غریب میزبان کے پیش کئے ہوئے معمولی کھانے کی اس طرح تعریف فرماتے تھے جیسے کہ وہ بہترین کھانا ہو، یہ تعریف غریب میزبان کی عزت افزائی کے لئے ہوتی تھی نہ کہ اپنی تعریف کے اظہار کے لئے۔ قرآن میں ہدایت پائے ہوئے لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: الذین يستمعون القول فيتبعون احسنه اولئك الذين هداهم الله اولئك هم اولوا الالباب (الزمر (۱۸) یعنی تم میرے ان بندوں کو خوشخبری دے دو جو میری بات کو غور سے سنتے ہیں۔ وہ اس کے بہتر کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی ہے اور یہی ہیں جو عقل والے ہیں۔

اس آیت کو اگر محض لفظی اعتبار سے دیکھا جائے تو بظاہر اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ قرآن یا پیغمبر کے کلام میں احسن پہلو بھی ہو سکتا ہے اور غیر احسن پہلو بھی۔ مگر اس کا یہ حقیقت یہ ہے کہ قول کا غیر احسن پہلو صرف سننے والے کے دماغ میں ہوتا ہے نہ کہ خود قول میں۔ یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ہر آدمی کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ لئے اگر کوئی آدمی چاہے تو وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتے ہوئے ایک سیدھی بات کا بھی الٹا مفہوم نکال سکتا ہے۔

اس غلطی سے بچنے کاراز صرف یہ ہے کہ آدمی کے سامنے جب کوئی بات آئے تو وہ کامل سنجیدگی کے ساتھ اسے دیکھے۔ وہ پوری دیانت داری کے ساتھ یہ کوشش کرے کہ مجھے قول کا وہی مفہوم لینا ہے جو صاحب قول کی اصل مراد ہے۔ نہ کہ وہ مفہوم جو میرے اپنے دماغ میں ہے۔ کی سنجیدگی اور دیانت داری اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ تعبیر یا غلط تشریح سے اپنے آپ کو بچاسکے۔

Printed page