Al-Risala · July 2000

مذہب اور سائنس

Al-Risala, July 2000, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

انسانیات (anthropology) کا مطالعہ بتاتا ہے کہ مذہب کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے، جتنا کہ انسان کی تاریخ پرانی ہے۔ جب سے انسان زمین پر موجود ہے اسی وقت سے مذہب بھی یہاں موجود رہا ہے۔ ابھی تک کوئی ایسا انسانی معاشرہ دریافت نہیں ہوا ہے جس کے اندر مذہب نہ پایا حتیٰ کہ موجودہ زمانہ جس کو کچھ پر جوش لوگ لا مذہبیت کا زمانہ سمجھتے ہیں وہ بھی یقینی طور پر مذہب سے خالی نہیں ہے۔ آج بھی مذہب اتنا ہی زندہ ہے جتنا کہ وہ اس سے پہلے زندہ تھا۔ موجودہ زمانہ میں روایتی مذہبی طبقہ کے علاوہ اہل علم کا جو نیا طبقہ پیدا ہوا، جس کو عام طور پر ماڈرن طبقہ کہا جاتا ہے، وہ وسیع تر تقسیم میں دو گروہوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔ ایک وہ جو اپنے دعویٰ کے مطابق خدا اور مذہب کا منکر ہے۔ اس قسم کے افراد کو عام طور پر ملحد (Atheist) کہا جاتا ہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو اگرچہ مذہب کے روایتی فارم سے اپنے آپ کو وابستہ نہیں کرتا، تاہم وہ خود اپنی تشریح کے مطابق، اپنے آپ کو خدا اور مذہب کا ماننے والا بتاتا ہے۔ پہلے گروہ کی ایک ممتاز شخصیت کے اعتبار سے انگریز فلسفی برٹرینڈ رسل (1970-1872) کا نام لیا جا سکتا ہے۔ گروہ کی ایک مثال مشہور جرمن سائنس داں البرٹ آئنسٹائن (1955-1879) ہے۔

Printed page