پہلا گروہ: برٹرینڈ رسل
Al-Risala, July 2000, pp. 31–33
By Maulana Wahiduddin Khan
برٹرینڈ رسل ایک غیر معمولی ذہین آدمی تھا۔ اس کو لمبی عمر ملی۔ وہ اپنی نوجوانی کے زمانے سے لے کر بڑھاپے کی عمر تک مسلسل مطالعہ کرتا رہا۔ اس کی سوانح عمری اور اس کی دوسری کتابوں کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنی ابتدائی عمر میں اس کو سب سے زیادہ جس چیز سے دلچسپی ہوئی وہ یقینیت (certainty) تھی۔ وہ اپنے مزاج کے اعتبار سے علم کا طالب تھا مگر وہ اس علم کو حاصل کرنا چاہتا جس کے واقعہ ہونے پر وہ یقین کر سکے۔ اپنے اس مزاج کی بنا پر اس کو سب سے پہلے میتھمیٹکس سے دلچسپی پیدا ہوئی۔ اس نے لکھا ہے کہ اس زمانہ میں میرا احساس یہ تھا کہ
میں نے اپنے لئے مذہب کا ایک قابلِ اعتماد بدل پا لیا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کو نظر آیا کہ میتھمیٹکس میں منطقی تیقن (logical certainty) موجود ہے۔ اس نے محسوس کیا کہ میں نے میتھمیٹکس کی صورت میں اس علم کو پا لیا ہے جس کو میرا ذہن تلاش کر رہا تھا۔ اس کے مقابلہ میں مذہب برٹرینڈرَسل کو تو ہمات (superstition) کا مجموعہ نظر آیا۔ چنانچہ اس نے مروجہ مذہب کورد کرکے میتھ میٹکس کو اپنے دین کے طور پر اختیار کر لیا۔
مگر بعد کو جب برٹرینڈرَسل نے زیادہ تفصیلی مطالعہ کیا تو اس کا یہ یقین متزلزل ہو گیا۔ نے محسوس کیا کہ میرا یہ یقین حقائق کے سرسری مطالعہ پر مبنی تھا، حقائق کا زیادہ گہرامطالعہ اس کی تصدیق نہیں کرتا۔
برٹرینڈرَسل کے بعد کے مطالعہ کے نتائج کو اس کی کتاب انسانی علم (Human Knowledge) میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کتاب میں برٹرینڈرَسل نے قطعی دلائل کے ذریعہ دکھایا ہے کہ موجودہ دنیا میں انسانی مطالعہ کبھی بھی کسی کو یقینی علم تک نہیں پہنچا سکتا۔ انسانی محدودیتیں اور دوسری طرف کائنات کی پر اسرار نوعیت (mysterious nature) فیصلہ کن طور پر یقینی علم کی راہ میں حائل ہیں۔ انسان کا مطالعہ آخر کار جہاں اس کو پہنچاتا ہے وہ تیقن (certainty) نہیں ہے بلکہ صرف قرینہ یا احتمال (probability) ہے۔ اس کو دوسرے الفاظ میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ ہم حقیقت (reality) کو براہ راست دریافت نہیں کر سکتے۔ یہ دریافت کر سکتے ہیں کہ احتمالی طور پر یہاں فلاں حقیقت موجود ہے، اگر چہ وہ براہ راست ہمارے تجربہ میں نہیں آتی۔
برٹینڈر سل کو اس کے تمام عمر کے مطالعہ نے جہاں پہنچایا وہ ایک ایسا مقام تھا جہاں وہ حقیقی مذہب کے عین قریب پہنچ چکا تھا۔ اگر اسلامی الفاظ استعمال کئے جائیں تو کہا جاسکتا ہے کہ وہ لا الہ کی منزل تک پہنچ چکا تھا، مگر اس کے بعد وہ الا اللہ کی منزل طے نہ کر سکا۔ یہاں تک کہ اس کی موت ہو گئی۔
برٹرینڈ رسل کی یہ بات کہ انسانی علم ہم کو صرف قرینہ یا احتمال (probability) تک پہنچاتا ہے، یہ اس کی ذاتی بات نہیں۔ یہی موجودہ زمانہ کے تمام علماء سائنس کا موقف ہے۔ اصول اب جدید علم کا ایک ایسا مسلمہ بن چکا ہے جس سے کسی بھی صاحب علم کو اختلاف نہیں۔ علمی تحقیقات کا اس حقیقت تک پہنچنا کہ اس دنیا میں، خالص علمی طور پر، ہم صرف قرینہ یا احتمال تک پہنچ سکتے ہیں، بے حد اہم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کم از کم موجودہ علم کے مطابق، سائنس اور مذہب کے درمیان وہ فرق ختم ہو چکا ہے جو قدیم زمانہ میں فرض کر لیا گیا تھا۔ اب عقل(reason) کا موقف بھی عین وہی ہے جو اس سے پہلے عقیدہ (belief) کا موقف تھا۔ مذہب کا موقف قدیم ترین زمانہ سے یہ تھا کہ سچائی یا حقیقت اپنی نوعیت میں ایک غیبی چیز ہے، وہ نہ دکھائی دینے والی دنیا (unseen world) سے تعلق رکھتی ہے۔ ہمارے لئے صرف یہ ممکن ہے کہ ہم ظاہری قرائن کی بنیاد پر یہ مستنبط کریں کہ فلاں حقیقت یہاں موجود ہے۔ دکھائی نہیں دیتی۔ اب سائنس کا موقف بھی عین یہی ہو چکا ہے۔ جدید سائنس کا کہنا ہے کہ ہم چیزوں کی اصل کو نہیں دیکھ سکتے، ہم چیزوں کے صرف ظاہری اثر (effect) کو دیکھ سکتے ہیں۔ ظاہری اثر سے یہ استنباط کر سکتے ہیں کہ فلاں چیز یہاں موجود ہے، اگرچہ بظاہر وہ ہمارے مشاہدہ اور تجربہ میں نہیں آتی۔
برٹرینڈ رسل اور اس کے جیسے تمام لوگوں کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ قرینہ (probability) کی بنیاد پر مذہب کی واقعیت کو بھی اسی طرح مانیں جس طرح وہ سائنسی نظریات کی واقعیت کو مانتے ہیں۔ ان میں سے ایک کو ماننے کے بعد دوسرے کو نہ ماننے کی کوئی وجہ ان کے پاس موجود نہیں۔ ان حضرات کو جاننا چاہئے کہ اب ان کے لئے جن دو حالتوں کے درمیان انتخاب ہے وہ انکار مذہب اور اقرار مذہب نہیں ہے بلکہ وہ اقرار مذہب اور انکار خویش کے یہ حضرات اگر مذہب کے انکار پر مصر ہوں تو انہیں خود اپنا انکار بھی کرنا پڑے گا۔ چونکہ ان کے لئے اپنا انکار ممکن نہیں اس لئے یہ بھی ممکن نہیں کہ وہ مذہب کا انکار کریں۔