دوسرا گروہ: آئنسٹائن
Al-Risala, July 2000, pp. 34–37
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسرے گروہ کی ایک علامتی شخصیت آئنسٹائن ہے۔ آئنسٹائن نے اپنی پوری زندگی سائنس کے مطالعہ میں گزاری۔ مگر اسی کے ساتھ وہ اپنے اندر روحانی جذبات بھی پاتا تھا۔ اس نے مذہب کا بھی مطالعہ کیا۔ مذہب کے بارے میں بھی اس کا عقیدہ اتنا ہی گہرا تھا جتنا کہ سائنس کے بارے میں اس کا عقیدہ گہرا تھا۔ تاہم اس کے نظریہ کے مطابق دونوں دو بالکل الگ الگ موضوعات تھے۔ اس کے الفاظ میں، سائنس کا موضوع یہ جاننا ہے کہ کیا ہے (what is) اس کے مقابلہ میں مذہب کا موضوع یہ جاننا ہے کہ کیا ہونا چاہئے (what should be) گویا مذہب کا تعلق داخلی یقین سے ہے اور سائنس کا تعلق خارجی معلومات سے۔
تاہم یہ تقسیم کافی نہیں۔ اس تقسیم کے باوجود وہ اصل سوال بدستور باقی رہتا ہے جس کی بنا پر سائنس اور مذہب کا مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ خالص علمی اعتبار سے مذکورہ تقسیم کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیوں کہ اصل سوال مذہب اور سائنس دونوں کو ملانے کا ہے۔ مذہب علم الہی کا نام ہے اور سائنس علم انسانی کا نام۔ یہ ضروری ہے کہ ہم ایسا فارمولا دریافت کریں جو علم الہی اور علم انسانی دونوں کو ایک کر سکے۔ اس کے بغیر انسان کے اندر وہ مطلوب شخصیت پیدا نہیں ہو سکتی جس کو علم نفسیات میں متکامل شخصیت (integrated personality) کہا جاتا ہے۔
برٹرینڈ رسل اور اس کے جیسے لوگوں کی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے علم کی نوعیت کو نہیں اس لئے وہ صحیح رائے تک نہ پہنچ سکے۔ اس طرح آئنسٹائن اور اس کے جیسے لوگوں کی یہ غلطی ہے کہ انہوں نے مذہب کی نوعیت کو نہیں سمجھا اور اپنی عدم واقفیت کی بنا پر مذہب کا ایک خود ساختہ تصور قائم کر لیا جو حقیقت سے مطابقت نہ رکھتا تھا۔ اس گروہ کے لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ تمام مروجہ مذاہب کو مذہب کا نمائندہ سمجھتے ہیں۔ دنیا میں ایک درجن بڑے مذاہب (major religions) اس کے علاوہ سیکڑوں کی تعداد میں دوسرے مذاہب موجود ہیں۔ یہ لوگ ان سب کو ملا کر مذہب کا مطالعہ کرتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ ان میں سے ہر مذہب کی تعلیمات ایک دوسرے سے
ان میں وہ یکسانیت نہیں پائی جاتی جو سائنس میں موجود ہے۔ اس لیے وہ یہ رائے قائم کر لیتے ہیں کہ مذہب ایک شخصی معاملہ ہے۔ جو شخص جس مذہبی عقیدہ کو مانے وہی اس کا مذہب ہے، کسی دوسرے شخص کو اس میں دخل دینے کی ضرورت نہیں۔
اس قسم کا مذہبی تصور خود مذہب کی نفی ہے۔ مذہب کیا ہے۔ مذہب اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک ایسی مکمل آئیڈیالوجی کا نام ہے جو انسان اور کائنات کی اطمینان بخش توجیہہ کر سکے۔ جس میں انسان اپنے تمام داخلی اور خارجی سوالات کا جواب پالے۔ مذہب آدمی کے لیے یقین کا سر چشمہ ہے۔ جو مذہب کلی صداقت نہ ہو وہ انسان کو یقین کا سرمایہ نہیں دے سکت۱۔ اور جو مذہب انسان کو یقین نہ دے وہ مذہب بلاشبہ مذہب بھی نہیں۔
اصل یہ ہے کہ جدید اہل علم مذہب کے مطالعہ میں چند غلطیاں کرتے ہیں۔ اس بنا پر وہ مذہب کو سمجھنے میں بھی ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
پہلی بات یہ ہے کہ ہر موجود مذہب کو مستند مذہب سمجھ لینا اور اس بنیاد پر مذہب کا مطالعہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے توہماتی عقائد جو تش(Astrology) اور فلکیات (Astronomy) سب کو یکجا کر کے اور پھر ان کے مجموعی مطالعہ سے ایک علم الافلاک بنانے کی کوشش کی جائے۔ اس معاملہ میں سائنٹفک مطالعہ کا طریقہ یہ ہے کہ غیر ثابت شدہ خیالات اور اوہام کو الگ کر دیا جائے اور صرف ثابت شدہ معلومات کی بنیاد پر علم افلاک وضع کیا جائے۔
ٹھیک یہی طریقہ ہمیں مذہب کے مطالعہ میں بھی اختیار کرنا چاہئے۔ بطور واقعہ یہ درست ہے کہ آج کی دنیا میں مذہب کے نام سے بہت سے اعتقادی نظام پائے جاتے ہیں۔ جب ان کا گہرا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خالص علمی اعتبار سے تمام مذاہب کی حیثیت
ان میں ایسے مذاہب ہیں جن کی کوئی معلوم تاریخ نہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے تمام مذاہب ابتدائی طور پر ہی رد ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ جن مذاہب کو تاریخی اعتبار یت (historical credibility)
حاصل نہ ہو وہ سرے سے اس قابل ہی نہیں کہ ان پر غور کیا جائے۔ اسی طرح کتنے مذاہب ہیں جن کے بارے میں یہ ثابت نہیں کہ ان کا موجودہ متن (text) کسی تبدیلی کے بغیر آج موجود ہے، اور جس مذہب کا خود متن مشتبہ ہو اس کی صداقت پر کیسے یقین کیا جاسکتا ہے۔ اس قسم کے مختلف علمی معیار (scientific criteria) ہیں جن کا استعمال مذاہب کے مطالعہ میں ضروری ہے۔ مگر جب ان معیاروں کو موجودہ مذاہب پر منطبق کیا جاتا ہے تو یہ مذاہب اس علمی جانچ پر پورے نہیں اترتے۔
- مذاہب کے پورے مجموعے میں صرف اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو استثنائی طور پر اس خصوصیت کا حامل ہے کہ وہ ہر قسم کی علمی جانچ پر پورا اترتا ہے۔ ایسی حالت میں تمام موجود مذاہب کو یکساں درجہ دے کر ان کا خلاصہ نکالنا ایک غیر علمی فعل ہے۔ اس معاملہ میں واحد درست موقف یہ ہے کہ ضروری علمی جانچ پر پورا اترنے والے مذہب کو لے لیا جائے اور جو مذاہب اس قسم کی علمی جانچ پر پورے نہ اتریں انہیں تاریخ کے کتب خانہ میں محفوظ کر دیا جائے۔ اسلام کو مذہب کا مستند ایڈیشن (authentic version) ماننے کے بعد وہ تمام غلط فہمیاں اپنے آپ ختم ہو جاتی ہیں جو مختلف مذاہب کو یکساں درجہ دینے کی صورت میں پیدا ہوتی یہ ایسا ہی ہے جیسے کائنات کے بارے میں توہماتی عقائد کو الگ کر کے خالص سائنسی حقیقتوں کی بنیاد پر کائنات کا مطالعہ کرنا۔
اسلام کو مذہب کا واحد نما ئندہ ماننے کی صورت میں ہم کو ایک ایسا مستند ماخذ مل جاتا ہے جس کے ذریعہ مذہبی عقائد کا ایک غیر اختلافی نظام بنایا جا سکے۔ مثلاً مذاہب میں خدا کے بارے میں مختلف اور متضاد نظریات پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح پیغمبری اور رسالت کے بارے میں سخت اختلافی نظریات موجود ہیں۔ موت کے بعد زندگی کی نوعیت کیا ہوگی، اس کے بارے میں بھی متضاد نظریات پائے جاتے ہیں۔ یہی معاملہ دوسرے تمام مذہبی عقائد وافکار کا ہے۔ اسلام کو مذہب کے مستند ماخذ کی صورت میں لینے کے بعد ہمیں ایسے غیر اختلافی نظریات و عقائد
مل جاتے ہیں جن پر ہم یقین کر سکیں ۔ یقین وہ سب سے بڑی چیز ہے جس کے لئے انسان کو مذہب کی ضرورت ہے۔ اور تمام مذاہب کو یکساں ماننے کی صورت میں، اسی اصل مطلوب چیز سے انسان محروم ہو جاتا ہے۔
ایک اہم سوال یہ ہے کہ مذہب اور دنیوی معاملات کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا یہ ایک بے حد اہم سوال ہے جس کا جواب مختلف مذاہب میں مختلف انداز سے دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر عیسائیت میں دنیوی معاملات کو مذہب کا لازمی جزء قرار دیا گیا ہے۔ اس کے نتیجہ میں وہ لوگوں کو نا قابل عمل نظر آنے لگا۔ یہاں تک کہ چرچ اور ریاست میں وہ جنگ شروع ہوئی جس کے نتیجے میں دونوں ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔ اس معاملہ میں اسلام نے نہایت اہم ہدایات دی ہیں۔ ان میں سے کچھ کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔
اسلام میں ایک اہم تعلیم وہ ہے جو حدیث میں ان الفاظ میں دی گئی ہے: انتم اعلم بامور دنیاکم (صحیح مسلم) یعنی تم لوگ اپنی دنیا کے معاملہ میں زیادہ جانتے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ خالص دنیوی نوعیت کے معاملات، مثلاً زراعت، باغبانی، شہری منصوبہ بندی، اقتصادی تنظیم جیسی چیزوں کو علمی ریسرچ کی بنیاد پر طے کیا جائے گا۔ یعنی علمی ریسرچ میں جو چیز انسانیت کے لئے مفید ثابت ہوگی وہی مذہب کے نزدیک بھی درست مانی جائے گی۔ اسی طرح مذہب اور سیاسی حکمرانی کے معاملہ میں قرآن میں یہ بتایا گیا ہے کہ سیاسی اقتدار اللہ کا ہے۔ وہی جس کو چاہتا ہے سیاسی اقتدار دیتا ہے (آل عمران ۲۶) مزید یہ کہ سیاسی اقتدار امتحان کا ایک پرچہ ہے، جس طرح مال اور اولاد وغیرہ امتحان کے پرچے ہیں (یونس ۱۴)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی حکمرانی کے حصول کے لئے لڑائی کرنا اسلام کی تعلیم نہیں۔ تعلیم یہ ہے کہ فطری تاریخی حالات جس کے حق میں سیاسی اقتدار کا فیصلہ کریں، دوسرے لوگ اس کو قبول کر کے اس کو اپنے امتحان کا موقع دیں، نہ کہ لڑائی کر کے اس سے سیاسی امتحان کے خدا داد پرچے کو چھیننے کی کوشش کریں۔