اسلام ایک نعمت
Al-Risala, July 2000, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
کیمسٹری کی سائنس اگر مفروضات پر بنے ہوئے قدیم فن کیمیا کو اپنے ساتھ شامل رکھتی تو کیمسٹری کی سائنس کبھی ترقی نہیں کرتی۔ اسی طرح ایسٹرانمی، اگر اوہام پر قائم قدیم علمی نجوم پر بھروسہ کرتی تو جدید ایسٹرانمی کا ارتقاء ممکن نہ ہوتا۔ یہی معاملہ تمام علوم کا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مختلف علوم کی ترقی صرف اس وقت ممکن ہوئی ہے جبکہ ہر علم سے غیر سائنسی مفروضات کو الگ کر دیا گیا۔ اور خالص سائنسی حقائق کی بنیاد پر تمام علوم کو مدون کیا گیا۔ یہی اصول ہمیں مذہب کے بارے میں اختیار کرنا ہے۔
مذہب میں سائنسی مطالعہ کے ذریعہ ہمیں یہ دریافت کرنا ہے کہ کون سا مذہب غیر متغیر حالت میں آج بھی موجود ہے۔ اور کون سے وہ مذاہب ہیں جو تغیرات کی بنا پر اپنا علمی استناد (authenticity) کھو چکے ہیں۔ اس اعتبار سے جب خالص علمی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ حیثیت اب صرف اسلام کو حاصل ہے۔ اسلام کا متن، اس کی تاریخ، اس کی تعلیمات حتیٰ کہ اس کے متن کی اصل زبان بھی آج تک پوری طرح اپنی ابتدائی حالت میں موجود ہے۔ ہمیں قابلِ یقین مذہبی نظام بھی دیتا ہے اور اسی کے ساتھ دوسری وہ تمام چیزیں بھی جن کی ہمیں اپنی مذہبی زندگی کی تشکیل کے لئے ضرورت ہے۔