Al-Risala · July 2000

اتحاد کا فارمولا

Al-Risala, July 2000, pp. 39–40

By Maulana Wahiduddin Khan

دسمبر ۱۹۹۹ میں امریکہ کے لئے میرا دوسواں سفر ہوا۔ موجودہ زمانہ میں امریکہ کو مادی اعتبار سے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک سمجھا جاتا ہے۔ اس کا راز میں نے یہ جانا کہ امریکہ کے لوگ کٹر ذہن کے نہیں ہیں۔ وہ تجر بہ سامنے آنے کے بعد فوراً اس کے مطابق اپنی اصلاح کر لیتے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ میں یونی کلچرل ازم کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ کوشش کی گئی کہ امریکہ کے تمام لوگ ایک ہی کلچر کو اختیار کر لیں۔ اس تحریک کو امر یکنائزیشن کا نام دیا گیا۔ مگر متنوع کلچر کے امریکی سماج میں اس نظریہ کو قبولیت حاصل نہیں ہوئی۔ امریکیوں نے اس کے جبری نفاذ کی کوشش نہیں کی۔ بلکہ یونی کلچرل ازم کے نظریہ کو چھوڑ کر ملٹی کلچرل ازم کے نظریہ کو اختیار کر لیا۔

اب امریکہ میں ہر کلچرل گروپ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ انھیں باقاعدہ تعاون دیا جاتا ان سے کہا جاتا ہے کہ تم اپنے اپنے کلچرل روٹ پر قائم رہو۔ کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلائزڈ سوسائٹی (stabilized society) اسی طرح بن سکتی ہے۔ جس سماج کے افراد اپنی ثقافتی جڑوں سے اکھڑ جائیں، وہ اکھڑے ہوئے پیڑ کی مانند ہیں۔ ایسے لوگ نہ اپنے کام کے ہوں گے اور نہ دوسروں کے کام کے۔ کلچرل نیشنلزم یا یونی کلچرل ازم ایک قسم کا نظریاتی جنون ہے۔ نظریہ تخریب کاری میں تو مددگار ہو سکتا ہے مگر وہ کسی قوم کی تعمیر کاری نہیں کر سکتا۔ اس کے پیچھے زبردست حکمت ہے۔ کسی قوم کا کلچر ہمیشہ تاریخی عمل کے دوران تدریجی طور پر بنتا ہے۔ کلچر کوئی نافذ کرنے کی چیز نہیں۔ کسی خود ساختہ کلچر کو جبری طور پر نافذ کرنا سوسائٹی کو ڈی اسٹیبلائز کرنے کے ہم معنی ہے۔ جس کا نتیجہ ہمیشہ سماجی انتشار ہوتا ہے۔ ہندوستان میں کلچر کے معاملہ میں صحیح طریقہ اختیار نہیں کیا گیا۔ مہاتما گاندھی نے کہا کہ ”رام رحیم ایک ہے۔ مگر یہ ایک خلاف واقعہ بات تھی اس لئے وہ کامیاب نہیں ہوئی۔

گاندھی بھی اس کو اختیار نہ کر سکے۔ ۱۹۴۸ میں جب ان کو گولی لگی تو انھوں نے "ہے رام ہے رحیم" نہیں کہا بلکہ اس وقت ان کی زبان سے جو لفظ نکلاوہ صرف یہ تھا : "ہے رام"۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا نظریہ جو ہندوستان میں ابھرا، وہ ہندو کا نظریہ تھا جس کو کلچرل نیشنلزم کہا جاتا ہے۔ یعنی سب کو ایک مفروضہ بھارتی کلچر کا پابند بنانا۔ دوسرے لفظوں میں اس کو رامنائزیشن آف رحمان کہا جاسکتا ہے۔ یہ دوسرا نظریہ نا قابل عمل ہونے کے ساتھ کٹر پن یا فنانسزم کا عنصر بھی اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ وہ عقل اور فطرت دونوں کے خلاف تھا اس بنا پر وہ نہ چلا اور نہ کبھی چل سکتا۔ اور فطری بات یہ ہے کہ کلچرل اختلاف کے معاملہ میں لكم دينكم ولى دين کا طریقہ اختیار کیا جائے، یعنی وہی طریقہ جس کو انگریزی میں کہا جاتا ہے : Let us agree to disagree۔ کلچر اپنی فطرت ہی میں متنوع چیز ہے۔ کلچر کے معاملہ میں صحیح پالیسی یہ ہے کہ ہر ایک کو آزادی دی جائے، صرف ایک شرط کے ساتھ کہ وہ اپنی آزادی کو جارحیت کی حد تک نہ لے گاندھی اور ان جیسے لوگوں کا نظریہ اس اصول پر مبنی ہے کہ تم مجھ کو سچا مانو میں تم کو سچا اس کے مقابلہ میں ہندو تو کا نظریہ گویاتنوع کوبلڈ وز کرکے صرف ایک کو قائم کرنے کا نام مگر یہ دونوں ہی نا قابل عمل ہیں۔ اس معاملہ میں صحیح فارمولا یہ ہے کہ ہر ایک اپنی پسند کے طریقہ پر چلے، اور دوسرا طریقہ اپنانے والوں کے ساتھ احترام کا معاملہ کیا جائے۔ انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ فرق و اختلاف انسانی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ تعلق زندگی کے ہر شعبہ سے ہے۔ ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان کوئی بھی مسئلہ ایسا نہیں ہے جس میں وہ دونوں ایک دوسرے سے مختلف نہ ہوں۔ بالفرض اگر ہم مذہبی فرق کو ختم کر دیں تب بھی ہزاروں معاملات ایسے باقی رہیں گے جن میں لوگوں کے درمیان فرق و اختلاف ایسی حالت میں اصل ضرورت یہ ہے کہ مجموعی انسانی زندگی کے لئے اتحاد کا فارمولا دریافت کیا جائے نہ کہ صرف مذہبی شعبہ کے لئے۔ اور یہ فارمولا صرف ایک ہے۔ باوجود ایک دوسرے کی عزت کرنا اور باہم مل جل کر رہنا۔

Printed page