سوال و جواب
Al-Risala, July 2000, pp. 41–47
By Maulana Wahiduddin Khan
ہم لوگوں نے ہندو مسلم میل ملاپ کا ایک منچ بنایا ہے۔ اس کے بارے میں ہم کو مارگ ہم سمجھتے ہیں کہ سب مذہب ایک ہیں۔ جیسے رام ویسے محمد۔ یہ بات دونوں مان لیں تو آپس میں اپنے آپ میل ملاپ ہو جائے گا۔ (بلراج ملک اور وجے آنند ،پانی پت) ہندو مسلم میل ملاپ کا مقصد بہت اچھا ہے۔ مگر "سب مذہب ایک ہیں" کے نظریہ سے یہ مقصد حاصل ہونے والا نہیں۔ اس لئے کہ یہ بات اصل واقعہ کے خلاف ہے۔ مثلاً ہندو عقیدہ رام خدا کے اوتار تھے، یعنی ان کی صورت میں خود خدا مجسم ہو کر آیا۔ اوتار واد کے اس عقیدہ کو نہیں مانتے۔ ان کے نزدیک محمد ﷺ ایک انسان تھے جن پر خدانے اپنی ایسی حالت میں دونوں کو ایک کہنے سے جس چیز کو فروغ ہو گا وہ منافقت (hypocrisy) ہے نہ کہ فرقہ وارانہ میل ملاپ۔
ہندو مسلم میل ملاپ کا منچ بنانے کے لئے مفید طریقہ یہ ہے کہ اس کو سیکولر پیٹرن پر بنایا جائے نہ کہ کسی مذہبی پیٹرن پر۔ ۱۹۴۷ء سے پہلے کانگریس کے لوگ جو اسٹیج بناتے تھے اس پر ہندوؤں کے ساتھ مسلمان بھی کافی تعداد میں آتے تھے۔ مگرآج ہندوتو کو ماننے والے جو اسٹیج بناتے ہیں اس پر زیادہ تر صرف ایک فرقہ کے لوگ آتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ ہندو تو والا اسٹیج بناتے ہیں وہ وہاں سرسوتی دیوی کی وندناکرتے ہیں اور کھڑے ہو کر بندے ماترم گاتے ہیں۔ چونکہ ان چیزوں سے بھڑکتے ہیں اس لئے وہ ایسے اسٹیج پر اکٹھا نہیں ہوتے۔ جب کہ کانگریس کے اسٹیج پر اس قسم کی مذہبی رسمیں نہیں تھیں بلکہ وہ بالکل سیکولر انداز میں ہوتا تھا۔ اس لئے وہاں ہندوؤں کے ساتھ مسلمان بھی یکساں طور پر شریک ہوتے تھے۔
اگر آپ ہندوؤں اور مسلمانوں کا مشترک منچ بنانا چاہتے ہیں تو آپ کو ایسی چیزوں سے بچنا ہو گا جو دونوں کے لئے حساس اشو (sensitive issue) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مثلاً اگر آپ اپنے
منچ پر یہ کہیں کہ اجودھیا کے موجودہ عارضی مندر کو ڈھا کر وہاں دوبارہ بابری مسجد بنائی جائے تو ایسے منچ پر مسلمان تو آسکتا ہے مگر وہاں ہندو نہیں آئے گا۔ اسی طرح اگر آپ اپنے منچ پر یہ کہیں کہ جانوروں کا ذبیحہ بالکل ختم کر دیا جائے تو ایسے منچ پر ہندو آسکتے ہیں مگر وہاں مسلمان نہیں آئے گا۔ اس لئے آپ کو دونوں فرقوں کے میل ملاپ کا منچ بنانا ہے تو آپ کو یہ کرنا ہو گا کہ اس قسم کے حساس اشو کو نظر انداز کریں اور صرف ان باتوں کو لیں جو دونوں کے درمیان مشترک ہیں۔ امن، باہمی محبت، سوشل جسٹس، تعلیم، ملک کی مادی تعمیر، سماج سدھار وغیرہ۔ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ حالت میں ہندوستان کے لئے وہی نمونہ قابل عمل ہے جو یورپ اور امریکہ میں پایا جاتا ہے۔ انھوں نے اس معاملہ کا ایک عملی فارمولا دریافت کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ پرائیویٹ دائرہ میں ہر آدمی کے لئے مذہب کی مکمل آزادی اور اجتماعی دائرہ میں مشترک مفاد والی باتوں پر زور دینا۔ موجودہ حالات میں ہم کو بھی یہی کرنا چاہئے۔ میرے نزدیک فرقہ وارانہ میل ملاپ یا مذہبی ہم آہنگی کا بہترین قابل عمل فارمولا یہ ہے کہ ایک پر عمل کرو اور سب کا احترام کرو: Follow one, respect all بر صغیر ہند کے تقریباً ۱۵ ملین ہندو اور مسلمان امریکہ میں رہتے ہیں۔ وہاں دونوں کے درمیان کوئی مذہبی جھگڑا نہیں۔ دونوں نے بڑی تعداد میں مسجد اور مندر بنائے ہیں اور ہر فرقہ اپنے اپنے انداز پر اپنے مذہبی فرائض کو ادا کرتا ہے۔ پھر اگر امریکہ میں ہندو اور مسلمان مذہبی یکسانیت کے فارمولا کے بغیر اتحاد کے ساتھ رہ سکتے ہیں تو یہی چیز ہندوستان میں کیوں ممکن نہیں۔ سلمان رشدی کی کتاب شیطانی آیات (The Satanic Verses) کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ اور اس کا مصنف ایک ایسے جرم کا مرتکب ہوا ہے جس کی سزا سخت ہے۔ آپ اس بارے میں کیا کہتے (نکہت کاظمی،نئی نئی دہلی)
اسلام کی تعلیمات حقیقت پسندی پر مبنی ہیں۔ اس طرح کے معاملات کو اسلام میں جذباتی نقطہ نظر سے نہیں دیکھاجاتابلکہ رزلٹ کے نقطہ نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اسی لئے قرآن میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ تم باطل معبودوں کو برا نہ کہو ورنہ لوگ جہالت کی بنا پر خدا کو برا کہنے لگیں گے (الانعام ۱۰۸) یہی وجہ ہے کہ قدیم مدینہ کے سب سے بڑے گستاخ عبد اللہ بن ابی کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے طاقت کے باوجود قتل نہیں کر لیا۔ اس کی وجہ آپ نے یہ بتائی کہ اگر میں ایسا کروں تو وہ اسلام کی بدنامی کا باعث ہو گا۔ چنانچہ عبد اللہ بن ابی اپنی طبعی موت مرا اور اس کو قتل نہیں کیا گیا، حالانکہ اس وقت عبداللہ بن ابی کو قتل کرنا بالکل آسان تھا۔ سلمان رشدی کے خلاف قتل کا فتویٰ ۷ / فروری ۱۹۸۹ کو دیا گیا تھا۔ اس واقعہ کو اب تقریباً ۱۲ سال ہو رہے ہیں۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے دیکھے تو اس فتوٰی نے صرف الٹا نتیجہ پیدا کیا ہے۔ کے بعد ساری دنیا میں بڑے پیمانہ پر اسلام کی بدنامی ہوئی۔ اسلام کو نفرت اور تشدد کے مذہب کی حیثیت سے دیکھا جانے لگا۔ اس کتاب کے خلاف فتویٰ اور شور و غل سے اس کے مصنف کو تو زبردست فائدہ حاصل ہوا، جب کہ اسلام اور مسلمانوں کے حصہ میں صرف اس کا نقصان آیا۔ کی وجہ یہ تھی کہ یہ میڈیا کا دور تھا۔ اور جدید میڈیا کے دور میں یقیناً وہی ہونے والا تھا جو عملاً پیش آیا۔ سلمان رشدی کی مذکورہ کتاب میں نے پڑھی ہے۔ میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ کتاب تصنیفی اعتبار سے اس قدر لغو اور غیر دلچسپ ہے کہ شاید کوئی بھی شخص اس کو شروع کر کے ختم نہیں کر سکتا۔ عام حالت میں وہ ایک ایسی کتاب تھی جو اپنی لغویت کی بنا پر اپنے آپ مر جاتی۔ اس کو نہ کوئی خرید تا اور نہ اس کو کوئی پڑھتا۔ مگر مصنف کے قتل کے فتویٰ کی بعد جب میڈیا میں اس کا چرچا ہوا تو فطری طور پر لوگ اس کی طرف متوجہ ہو گئے اور اس طرح ایک نا قابل مارکیٹ کتاب بھی قابل مارکیٹ (marketable) کتاب بن گئی۔
حقیقت یہ ہے کہ اس فتنہ کا صحیح ترین حل یہ تھا کہ اس کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا
اور اس طرح یقینی طور پر وہ اپنے آپ مر جاتی۔ اس طرح کے مسئلہ کا صحیح ترین حل وہ ہے جو اسلام کے خلیفہ ثانی عمر فاروق کے ایک قول میں ملتا ہے۔ انھوں نے کہا: امیتوا الباطل بالصمت یعنی باطل کو ہلاک کرو اس پر چپ رہ کر:
Kill the falsehood by observing silence over it. آج کل میں دیکھ رہا ہوں کہ سارے لوگ آپ کی بولی بول رہے ہیں۔ یہاں تک کہ آپ کے مخالفین بھی آپ کا نام لئے بغیر آپ کی باتوں کو دہرارہے ہیں۔ مثال کے طور پر ماہنامہ میثاق (اپریل ۲۰۰۰) میں پاکستان کی تنظیم اسلامی کے امیر کا مفصل خطاب چھپا ہے۔ اس میں انھوں نے صلح حدیبیہ کی پالیسی کی حمایت کی ہے اور یہ کہا ہے کہ ”بھارت کے ساتھ صلح حدیبیہ کے طرز کی مفاہمت ہمارے مسئلے کا حل ہے۔ حالانکہ یہ صاحب پہلے آپ کے مخالف تھے اور جوش و خروش کے ساتھ مسلح جدوجہد (armed struggle) کی بات کیا کرتے تھے۔ دوسرے اکثر لکھنے اور بولنے والوں میں دیکھی جارہی ہے۔ اس طرح آپ کے اعتراف کے بغیر تقریباً تمام لوگوں نے آپ کے نقطہ نظر کو مان لیا ہے اس پر آپ کا تبصرہ کیا ہے (عبدالرحمن، نئی دہلی) یہ بات عملی طور پر اطمینان بخش ہے کہ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے لوگ اب عام طور پر حقیقت پسندی کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ مگر میرے لئے اس میں بہت زیادہ خوشی کی بات میں حدیبیہ کی وکالت بطور ایک اصول کرتا رہا ہوں۔ مگر یہ حضرات اس کو ایک مجبورانہ عمل کے طور پر اختیار کر رہے ہیں۔ مثلا ماہنامہ میثاق کے مذکورہ خطاب میں حدیبیہ پالیسی کی وکالت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان کو بھارت کے ساتھ صلح حدیبیہ کی طرز کی مفاہمت کرنی چاہئے (۲۵) پاکستان جس مسئلہ سے دوچار ہے اس کا علاج صلح حدیبیہ ہے (۱۵) پاکستان کے لئے جنگ جیتنا ممکن نہیں کیوں کہ پاکستان سے کہیں زیادہ ایٹم بم بھارت کے پاس موجود ہیں (۲۲)۔
جہاں تک میرا تعلق ہے، میں جو کچھ کہتا ہوں، بطور اصول کہتا ہوں نہ کہ بطور مجبوری۔ صبر میرے نزدیک ایک اعلیٰ اصول ہے نہ کہ مجبورانہ روش۔ اسی طرح صلح حدیبیہ میرے نزدیک ایک اعلیٰ اسلامی اصول ہے، وہ کوئی مجبورانہ پالیسی نہیں۔ میں اس کا قائل نہیں ہوں کہ جب مجبوری کی فضا نہ ہو تو مسلح تصادم کی باتیں کی جائے، اور جب مجبوری کی حالت پیش آجائے تو صلح حدیبیہ کا وعظ شروع کر دیا جائے۔ صلح حدیبیہ میرے نزدیک دعوتی عمل کو مؤثر طور پر جاری رکھنے کی ایک حکیمانہ تدبیر ہے۔ نہ کہ کسی قسم کی مجبورانہ روش۔
میں آپ کے رسالہ کا خریدار ہوں۔ ایک حدیث کی وضاحت چاہتا ہوں۔ حدیث یہ ہے: اذان کے وقت کی دعا قبول ہوتی ہے۔ کیا مطلب ہے۔ کیا باقی اوقات میں اللہ تعالیٰ دعا قبول نہیں یہ حدیث صحیح ہے یا غلط ہے یا مشکوک ہے۔ (محمد موسیٰ، مانوی، 584123-Pin) آپ نے جس حدیث کا ذکر کیا ہے اس کے اصل الفاظ یہ ہیں: ان الدعاء لا يرد بين الاذان والاقامة فادعوا (مسند احمد، الترمذی، کتاب الصلاة) یعنی اذان اور اقامت کے درمیان کی دعارد نہیں ہوتی، پس تم اس وقت اللہ سے دعا کرو۔ اس حدیث میں جو بات وقت کے حوالہ سے کہی گئی ہے وہ دراصل کیفیت کے حوالہ سے مقصود ہے۔ اذان کو سن کر مومن کے اندر یاد خدا کی کیفیات پیدا ہوتی ہیں۔ اس بنا پر اس وقت کی دعا میں وہ تاثیر پیدا ہو جاتی ہے جو قبولیت کی
اس حدیث کا خطاب اس مومن سے ہے جس نے مسجد سے اذان کی آواز سنی اور پھر اس کے دل میں وہ ربانی جذبات پیدا ہونے لگے جن کا اعلان اس وقت موذن کر رہا تھا۔ وہ اللہ کی کبریائی اور اس کی عظمت کے احساسات سے بھرا ہوا مسجد میں آیا۔ یہاں اس نے وضو کر کے اپنے کو پاک کیا، یہاں تک کہ اس کی زبان سے نکلا: رب اجعلنی من التوابین واجعلنی من المتطھرین۔
اس کے بعد مسجد کے خدا پرستانہ ماحول میں داخل ہو اور سنت کی رکعتیں ادا کر کے اللہ کی یاد کو اپنے دل میں تازہ کیا۔ اس طرح اذان اور اقامت کے درمیان وہ ایک ایسا انسان بن گیا جو ایمانی جذبات سے سرشار تھا اور نفسیاتی اعتبار سے اس قابل بن چکا تھا کہ اس کی زبان سے ایسے پاکیزہ کلمات نکلیں جو سیدھے اللہ تک پہنچ جائیں۔ یہی وہ انسان ہے نہ کہ وہ وقت جس کو خطاب کرتے ہوئے یہ کہا گیا کہ اے بندے خدا ہے دعا کر، کیوں کہ اس وقت تو جس حال میں ہے اس حال میں کی ہوئی دعا کبھی رد نہیں ہوتی۔
یہاں دعا کا مطلب دعا کے الفاظ منہ سے بول دینا نہیں ہے بلکہ دعا کا حقیقی عمل کرنا ہے۔ دعا کا عمل یہ ہے کہ آدمی جذبہ احتیاج کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہو۔ ایک طرف اپنے عجز اور دوسری طرف خدا کی قدرت کو یاد کر کے وہ اس کو پکارے۔ جب ایک بندہ اس عمل دعا کے لئے بیٹھے تو اذان اور اقامت کے درمیان کا وقت اس عمل کے لئے اسی طرح انتہائی معاون ثابت ہوگا جس طرح گرمی کا موسم لکڑی میں آگ لگانے کے لئے معاون ہوتا ہے۔ جس طرح گرمی کے ماحول میں جلانے کا عمل کیا جائے تو لکڑی فورا آگ پکڑ لیتی ہے اسی طرح جب اذان اور اقامت کے درمیان پر اثر ماحول میں ایک شخص دعا کا عمل کرے تو اس کے اندر وہ کیفیات امنڈپڑتی ہیں جو اس کی دعا کو حقیقی معنوں میں بندے کی پکار بنا دیں۔ جو اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کو وہ ربانی الفاظ بنا دیں جس کے بعد دعا کی قبولیت کا معاملہ ٹھیک ویسا ہی بن جاتا ہے جیسے گرمی کے موسم میں لکڑی کو جلانا۔ سخت گرمی کے موسم میں دیا سلائی جلاتے ہی لکڑی آگ کو پکڑ لے گی اسی طرح اذان اور اقامت کے درمیان پر اثر فضا تیار ہو جاتی ہے جب کہ بندہ کی زبان سے حقیقی دعا نکلے اور اس کا رب اس کو فوراً قبول کرلے۔
آپ نے الرسالہ مئی ۲۰۰۰ میں لکھا ہے کہ الجزائر کے اسلام پسندوں کو بندوق اٹھانے کے بجائے اسلامی دعوت کا کام کرنا چاہئے۔ گویا کہ آپ اسلام کو سیاست سے دور رکھنے کا مشورہ
دے رہے ہیں۔ حالانکہ اسلامی شاعر کے بقول: جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی۔
مسئلہ دین کو سیاست سے جدا کرنے کا نہیں ہے بلکہ دین کو چنگیزی سے جدا کرنے کا ہے۔ دین کے نام پر سیاست چلانا بجائے خود چنگیزی کی بد ترین قسم ہے۔ کیوں کہ اس قسم کی سیاست سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ دین نہیں ہے بلکہ سیاسی ہنگامہ آرائی، تشدد اور باہمی جنگ و جدال ہے۔ جس کا نمونہ آج ہر اس جگہ نظر آتا ہے جہاں نام نہاد اسلام پسند اسلام کے نام پر اپنی سیاست چلا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دین جب جدا ہوتا ہے تو سیاست سے جدا نہیں ہوتا بلکہ وہ انسان سے جدا ہوتا ہے۔ انسان کے دل سے جب اللہ کا خوف نکل جاتا ہے تو اس کی سیاست اور غیر سیاست سب چنگیزی بن جاتی ہے۔ اس کے بر عکس جو انسان اللہ کی پکڑ کا اندیشہ رکھتا ہو اس کی سیاست بھی رحمت ہوگی اور اس کی غیر سیاست بھی رحمت۔
آپ کے خیال میں علم و فکر کی فوقیت عمل پر ہے جیسا کہ عام خیال ہے کہ عمل پہلے ہے اور فکر بعد میں۔ اسلام کی روشنی میں واضح فرمائیں۔ (طارق اشفاق، علیگڑھ) اس مسئلہ کو سمجھنے کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ کامن سنس ہی اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ کوئی بھی آدمی جو کوئی بڑا عمل کرتا ہے، اس کے عمل کا آغاز فکر کی دنیا سے ہوتا ہے۔ آدمی کے اندر فکر کی سطح پر ایک تڑپ پیدا ہوتی ہے اور پھر وہ خارجی عمل کی صورت اختیار کرتی ہے۔ یہی معاملہ ایمان و عمل کا بھی ہے۔ اسلام میں بھی خارجی عمل کا اصل سر چشمہ داخلی ایمان ہے۔ کسی آدمی کے اندر جتنا گہرا ایمانی شعور پیدا ہوگا، خارجی دنیا میں اتنا ہی زیادہ اس سے عمل کا اظہار ہوگا۔