Al-Risala · August 2000

فلسفۂ صحبت

Al-Risala, August 2000, pp. 4–5

By Maulana Wahiduddin Khan

”ایک بڑا سائنسداں جو چیز اپنے شاگرد کو دیتا ہے، وہ ایک ذہنی رجحان (attitude of mind) “ ایک مبصر نے یہ بات نوبل انعام پانے والوں کی ایک جماعت کا جائزہ لینے کے بعد لکھی وہ بتاتا ہے کہ کسی سائنسداں کو نوبل انعام پانے کے قابل بنانے والی چیز یہ نہیں ہے کہ اس کو کہیں سے سائنسی معلومات کا بڑا ڈھیر حاصل ہو گیا تھا۔ وہ چیز جس نے اس کو اس عالمی اعزاز کا مستحق بنایا، وہ صرف اخذ و مطالعہ کا ایک ذہنی رجحان تھا جو کسی بڑے سائنسداں کی صحبت سے اسے اسی چیز نے بالآخر اس کو ترقی کے اعلیٰ مقام تک پہنچایا۔

صوفیاء کے یہاں جس چیز کو صحبت کہا جاتا ہے اس کی اصل بھی یہی ہے۔ یہ صحبت کوئی پراسرار چیز نہیں۔ یہ ایک سادہ فطری حقیقت ہے۔ اپنی اصل کے اعتبار سے وہ مذہبی شخصیت کے یہاں بھی پائی جاتی ہے اور غیر مذہبی شخصیت کے یہاں بھی۔

ایک شخص جس نے لمبی جدوجہد کے بعد علم اور تجربہ میں اپنا حصہ پایا ہو اس کی ہر بات گہرے معانی لئے ہوئے ہوتی ہے۔ وہ جب بولتا ہے تو وہ علوم کے سرے کو بتاتا ہے۔ تبصرہ کرتا ہے تو اس کا تبصرہ ایک بڑے ذخیرۂ کتب کا خلاصہ ہوتا ہے۔ وہ جب اپنے تجربات بیان کرتا ہے تو وہ برسوں کے درمیان پھیلے ہوئے سفر کو چند منٹوں میں سمیٹ رہا ہوتا ہے۔ مشورہ دیتا ہے تو اس کے مشورہ کے پیچھے نشیب و فراز اور کامیابی و ناکامی کی طویل کہانی چھپی ہوئی ہوتی ہے جس سے وہ گزر چکا ہے۔ اس کا ہر لفظ ایک کتاب ہوتا ہے، اس کی ہر تقریر ایک پورے کتب خانہ کا خلاصہ ہوتی ہے۔ اس کا بولنا پوری تاریخ کا بولنا ہوتا ہے اور اس کا سوچنا پورے عالم بشری کا سوچنا۔

یہی فلسفۂ صحبت کا خلاصہ ہے۔ زیرِ صحبت آدمی اس حیثیت میں ہوتا ہے کہ صاحب صحبت نے جو چیز ایک عمر صرف کر کے حاصل کی ہے، اس کو وہ چند لمحات صرف کر کے حاصل کر لے۔

زیر صحبت آدمی صاحبِ صحبت سے صرف علم حاصل نہیں کرتا، اس کے ساتھ، وہ ایک زاویہ نظر بھی حاصل کرتا ہے۔ وہ صرف معلومات نہیں لیتا بلکہ وہ اسی سے تڑپ بھی پاتا ہے۔ کو صرف یہ فائدہ نہیں ہوتا کہ وہ کتابوں اور مصنفوں کے نام سن کر اپنی فہرست مکمل کرلے بلکہ اس کی صحبت اس کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ علم کی ہواؤں میں سانس لے اور معرفت کے سمندروں میں نہائے۔ تاہم یہ فائدہ صرف حقیقی طالب کے لئے ہے نہ کہ محض ظاہری طور پر صحبت میں بیٹھنے والے کے لیے۔

قرآن میں اہل ایمان کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے ”یا ایہا الذین آمنوا اتقوا اللہ و کونوا مع الصادقین (التوبہ (۱۱۹) یعنی اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے یہ سچے لوگ یا صادقین کون ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو۔ جن کا ظاہر و باطن یکساں ہو۔ (استوت ظواھرھم وبواطنھم)الجامع الجامع لاحکام القرآن للقرطبی - ۲۸۹/۸ اس قسم کے صادقین کی صحبت میں بیٹھنا ہمیشہ مفید ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کا ہر بیان مبنی بر حقیقت ہوتا ہے۔ وہ وہی کہتے ہیں جو انہیں کہنا چاہئے، وہ وہی بولتے ہیں جو انہیں بولنا چاہئے۔ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے پاس بیٹھنے والوں کے اندر سچائی کا مزاج پرورش پاتا ہے۔ وہ بے بنیاد باتوں میں جینے کے بجائے حقائق میں جینے والے بن جاتے ہیں۔ ان کے اندر اعلیٰ انسانی اوصاف ان کی نیتوں میں پاکی اور ان کے قول میں سنجیدگی آ جاتی ہے۔ ایسے لوگ بے حد نادر الوجود ہیں جو صحبت سے یا اپنے ماحول سے اثر نہ لیں۔ بیشتر لوگوں کا حال یہی ہے کہ وہ دوسروں سے اثر لیتے ہیں۔ وہ ویسے ہی بن جاتے ہیں جیسا کہ ان کے گرد و پیش کا اس لئے آدمی کو صحبت کے معاملہ میں بے حد محتاط رہنا چاہئے۔ قرآن کے مطابق قابلِ صحبت آدمی وہ ہے جس کے ظاہر اور باطن میں فرق نہ پایا جاتا ہو۔

Printed page