ایک کتاب
Al-Risala, August 2000, pp. 7–8
By Maulana Wahiduddin Khan
روحانیت کے موضوع پر ایک کتاب ہے جو ۱۹۹۴میں امریکہ سے چھپی ہے۔ فطرت (Nature) کو روحانیت کے حصول کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ ۲۸۲ صفحات کی اس کتاب کا نام اور مصنف کا نام یہ ہے:
This Blue Planet: Finding God in the Wonders of Nature. -Janice Miller اس موضوع پر جو کچھ لکھا گیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ دنیا ہمارے لئے بطن مادر (womb) کی طرح گویا ایک اور بطن ہے (صفحہ ۲۷۹)اس اس دنیوی بطن میں ہم اس لئے رکھے گئے ہیں کہ یہاں کے واقعاتِ قدرت سے روحانی غذا لے کر اپنی شخصیت کی تعمیر کریں۔ نیلے کرہ ارض پر ایک ابدی وجود کی حیثیت سے ہماری تشکیل کی جارہی ہے: Here on this Blue Planet, we are being shaped into eternal beings. (p. 9)
اس طرح موجودہ دنیا میں زندگی گزارتے ہوئے ہمارے اندر وہ شخصیت تیار ہوتی ہے جو آخرت میں بسنے کے قابل ہو۔ وہ مزید لکھتی ہیں کہ جب ہمارا ارتقاء مکمل ہو جائے گا تو ایک معیاری روحانی وجود کی حیثیت سے ایک سچی، روحانی دنیا میں ہم دوبارہ جنم لیں گے، اگر ہم اس دنیا میں خدا کی مرضی کے مطابق زندگی گزاریں:
When we are fully developed, we will be "born" into the true world, the spiritual world, as the perfect spiritual beings we will become if we choose to serve Him (p. 9)
یہ بات اصولی طور پر درست ہے مگر یہاں دو باتوں کا اضافہ ضروری ہے۔ ایک یہ کہ اس روحانی سفر کے لئے ایک گائیڈ بک درکار ہے اور وہ گائیڈ بک صرف قرآن ہے۔ قرآن اپنی اصل حالت میں محفوظ رہنے کی وجہ سے اس روحانی سفر کے لئے واحد اور مستند الہامی گائیڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔
دوسری بات یہ کہ موجودہ دنیا کے بعد دوسری جو معیاری دنیا بننے والی ہے اس میں صرف ان افراد کو جگہ ملے گی جو آج کی دنیا میں اپنی روحانی تطہیر کر لیں۔ جو لوگ آج کی غیر معیاری دنیا میں اپنی روحانی تطہیر کرنے میں ناکام رہیں وہ اگلی دنیا میں صرف وہاں کے کوڑے خانہ میں جگہ پائیں گے۔ عالم فطرت میں جو کچھ ہے وہ سب خدا کی صفاتِ کمال کا مظہر ہے۔ یہاں خالق اپنی تخلیقات میں نمایاں ہوا ہے۔ اس طرح فطرت کی دنیا ہمارے لئے خالق کی معرفت کا ذریعہ بن گئی ہم خالق کو نہیں دیکھتے مگر ہم اس کی تخلیقات میں اس کے جلوؤں کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ اس طرح فطرت ہمارے لئے خالق فطرت سے قربت کا ذریعہ بن گئی ہے۔ انسان فطرت کے اندر خالق کے پڑوس کا تجربہ کرتا ہے، ہواؤں کے جھونکے اس کو لمس خداوندی کا تجربہ کراتے ہیں۔ روشن آفتاب کی صورت میں وہ محسوس کرتا ہے کہ خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔ خلاء کی وسعتیں اس کو خدا کی بے پناہ عظمت کا احساس دلاتی ہیں۔ دریاؤں کی روانی اس کو خدا کی رحمت سے آشنا کرتی ہے۔ فطرت کے بے پناہ حسن میں وہ خالق کے بر تر حسن کا مشاہدہ کرتا ہے۔ چڑیوں کے نغمے میں اس کو چڑیوں کے خالق کی حیات بخش آواز سنائی دیتی ہے۔ دنیا میں بکھرے ہوئے ہر قسم کے سامانِ حیات اس کو یقین دلاتے ہیں کہ اس کا خالق ایک لمحہ کے لئے بھی اس سے بے خبر نہیں۔ اس طرح موجودہ دنیا میں زندگی کا ہر تجربہ اس کے لئے خالق کے تعارف کے ہم معنی بن جاتا ہے۔
اس طرح کے لطیف تجربات کے درمیان آدمی کی روحانی شخصیت تشکیل پاتی ہے۔ عام انسان سے ترقی کر کے ایک ربانی انسان بنتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے وجود کے اندر وہ کامل انسان بن کر تیار ہو جاتا ہے جو خدا کے پڑوس میں رہنے کے قابل ہو۔ — اسی خدائی پڑوس کا دوسرا نام جنت ہے۔