Al-Risala · August 2000

کبر کی علامت

Al-Risala, August 2000, pp. 9–10

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک شخص اگر کسی آدمی پر بے بنیاد الزام لگائے، اس کو غلط طور پر بدنام کرے۔ لوگوں کے سامنے ذلیل کرے، تو یہ بلاشبہ ایک بدترین گناہ ہے۔ اب ایک شخص وہ ہے جس کو غلطی کرنے کے بعد اس کو اپنی غلطی کا احساس ہی نہ ہو۔ ایسا آدمی اللہ کی نظر میں مبغوض ترین اس کو کبھی اللہ کا قرب حاصل نہیں ہو سکتا۔

دوسرا شخص وہ ہے جسے بعد کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے خواہ یہ احساس اپنے ضمیر کی بنیاد پر ہوا ہو یا فریق ثانی کی وضاحت اور دلائل کی بنیاد پر۔ اب یہ شخص اگر ایسا کرے کہ اپنے ظاہری رویہ کو بدل لے اور فریق ثانی سے دوبارہ اپنے تعلق کو بحال (patch up) کرلے تو اس کا ایسا کرنا صرف ایک سماجی فعل ہوگا۔ دینی معنوں میں وہ کوئی عبادتی فعل نہ ہوگا۔

جب کوئی شخص مذکورہ قسم کا مجرمانہ فعل کرتا ہے تو یہ دراصل کبر کی نفسیات کی بنا پر ہوتا یہ اظہار کبر کا ایک معاملہ ہوتا ہے نہ کہ سادہ طور پر محض سماجی آداب کی خلاف ورزی کا معاملہ۔ ایسی حالت میں اگر وہ شخص صرف یہ کرے کہ عملی طور پر فریق ثانی سے اپنے تعلق کو بحال کرلے تو اس کے ایسا کرنے سے برائی کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ کیوں کہ اصل برائی جس کا اس نے ارتکاب کیا وہ تو متکبر تھا۔ پھر سماجی آداب کی سطح پر ازالہ کرنے سے اصل جرم کا ازالہ کیسے ہو سکتا ہے۔ جب ایک شخص مذکورہ قسم کا جرم کرنے کے بعد صرف یہ کرے کہ وہ ظاہری طور پر فریق ثانی سے تعلق کو بحال کرلے مگر اپنی زبان سے غلطی کا کھلا اعتراف نہ کرے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا اصل جرم (تکبر) بدستور اس کے سینہ کے اندر موجود ہے۔ کیوں کہ اگر اس کا دل تکبر سے خالی ہو تا تو اس کو اس وقت تک تسکین نہ ملتی جب تک وہ اپنی زبان سے اس کا اقرار نہ کرلیتا۔ قولی اعتراف آدمی کے متواضع ہونے کا ثبوت ہے اور قولی اعتراف نہ کر کے ظاہری تعلق کو بحال کرنا اس بات کی علامت ہے کہ آدمی متکبرانہ نفسیات میں جی رہا ہے۔ وہ اپنے کبر کے

بت کو توڑنے کے لئے تیار نہیں۔

اس معاملہ کی ایک مثال قرآن کی سورہ نمبر ۱۲ میں ملتی ہے۔ امرأة عزیز نے حضرت یوسف علیہ السلام پر ایک بے بنیاد الزام لگایا۔ بعد کو حقیقت ظاہر ہوئی تو اس نے کھلے طور پر کہا کہ ”اب حق واضح ہو گیا۔ اس معاملہ میں غلطی میری ہی تھی اور یوسف بلاشبہ سچے ہیں“ (یوسف ۵۱) حق کی وضاحت کے بعد اگر امرأة عزیز صرف یہ کرتی کہ ظاہری طور پر اپنی روش کو درست کر لیتی اور زبان سے اس کا اعلان نہ کرتی تو اس کا جرم کبھی ختم نہ ہوتا۔ مگر جب اس نے اپنی زبان سے کہا کہ ساری غلطی میری ہے اور یوسف بلاشبہ بری الذمہ ہیں تو اس کا جرم معاف ہو گیا اور اس کا درجہ بلند ہو گیا۔

اسلامی شریعت کے مطابق ، کبر ایک ایسی روش ہے جو اللہ کے نزدیک نا قابلِ معافی جرم کی حیثیت رکھتی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا یدخل الجنة من كان فى قلبه مثقال ذرة من كبر۔ (مشکاۃ المصابیح ۱۳۱۳/۳) یعنی وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل کے اندر ایک ذرہ کے برابر بھی کبر ہو۔ کبر کی پہچان کیا ہے۔ حدیث کے مطابق ، کبر کی پہچان یہ ہے کہ آدمی کے سامنے ایک حق بات پیش کی جائے مگر وہ اس کو صرف اس اندیشہ کی بنا پر نظر انداز کر دے کہ اس کو قبول کرنے کی صورت میں اس کی حیثیت عوام کی نظر میں گھٹ جائے گی۔ وہ کسی ایسے حق کو ماننے کے لئے تیار نہ ہو جو بظاہر اس سے کمتر کسی آدمی کی طرف سے پیش کیا گیا ہو۔

اس دنیا میں ہر قسم کی بڑائی صرف ایک اللہ کو حاصل ہے، اس کے سوا کسی کو کسی بھی قسم کی کوئی بڑائی حاصل نہیں۔ اگر بظاہر کوئی بڑا دکھائی دیتا ہے تو وہ صرف اس کے امتحان کا ایک پرچہ ہے نہ کہ اس کی واقعی حیثیت کا اظہار۔ ایسی حالت میں جو شخص بڑائی پا کر جھک جائے وہ امتحان میں اور جو شخص بڑائی پا کر متکبر بن جائے وہ امتحان میں ناکام ہو گیا۔ اللہ کے یہاں اس کے لئے ذلت کی سزا کے سوا اور کچھ نہیں۔

Printed page