Al-Risala · August 2000

گناہ کیا ہے

Al-Risala, August 2000, pp. 14–15

By Maulana Wahiduddin Khan

گناہ (sin) کیا ہے۔ اس کے بارے میں لوگوں کے درمیان مختلف تصورات پائے جاتے مثلاً ایک نظریہ وہ ہے جو فطرت (nature) پر مبنی ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ انسان کی فطرت ہی میں گناہ کے اسباب موجود ہیں۔ اس لئے انسان مجبور ہے کہ وہ گناہ کرے، یہ رائے ان لوگوں کی ہے جن کو جبریہ کہا جاتا ہے۔ دوسرا نظریہ وہ ہے جو تربیت (nurture) پر مبنی ہے۔ اس نظریہ کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ پیدائشی طور پر انسان سادہ ورق کی مانند ہوتا ہے۔ گردو پیش کی دنیا سماجی حالات مردیا عورت کو گناہ کی طرف لے جاتے ہیں۔ گویا گناہ کے فعل کا ذمہ دار خارجی سماج ہے نہ کہ خود انسان۔

گناہ کا تیسرا تصور وہ ہے جو خصوصی طور پر مسیحی چرچ سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے مطابق پہلے انسان آدم نے جنت میں ایک گناہ کیا جس کو مسیحیت میں معصیت اصلی (original sin) کہا جاتا انسان اول کے اس گناہ کے سبب ساری نسل انسانی گناہ گار ہوگئی۔ اب اس کے لئے پاک ہونے کی کوئی صورت نہ تھی۔ چنانچہ خدا نے اپنے بیٹے کو دنیا میں بھیجا تا کہ وہ مصلوب ہو کر لوگوں کے گناہوں کا کفارہ بن جائے ۔

گناہ کے بارے میں اسلام کا تصور ان سب سے مختلف ہے۔ اسلام کے مطابق انسان موجودہ دنیا میں امتحان (ٹسٹ) کے لئے پیدا کیا گیا ہے (الملک (۲) امتحان کی اسی مصلحت کی بنا پر انسان کو قول و عمل کی آزادی دی گئی ہے۔ انسان کو پورا اختیار ہے کہ وہ جس طرح چاہے زندگی گزارے اور جس طرح چاہے زندگی نہ گزارے۔ اس اختیار کو قرآن میں الامانۃ کہاگیاہے (الاحزاب (۷۲) قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو آزادی دینے کے ساتھ یہ بتا دیا ہے کہ فکر اور قول اور عمل کا کون سا طریقہ اس کے لئے درست ہے اور قول و عمل کا کون سا طریقہ اس کے لئے درست نہیں (الشمس (۸)

قرآن کے مطابق، انسان کو اس دنیا میں یہ اختیار تو حاصل ہے کہ وہ اپنی آزادی کو جس طرح چاہے استعمال کرے مگر اس کو یہ اختیار نہیں کہ وہ آزادی کے استعمال کے نتائج کو اپنے اوپر اثر انداز نہ ہونے دے۔ مثلاً انسان یہ اختیار رکھتا ہے کہ وہ آگ کے انگارہ کو اپنے ہاتھ میں لے یا نہ لے۔ لیکن آگ کے انگارے کو اپنے ہاتھ میں لینے کے بعد اس کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اس فعل کے انجام سے اپنے آپ کو بچا سکے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا تصور گناہ کیا اسلام کے نزدیک گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنی آزادی کو غلط استعمال کرے۔ حدیث کے الفاظ میں، وہ خدا کی ممنوعہ چراگاہ میں داخل ہو جائے۔

گناہ کی پہچان کیا ہے۔ اس کی ایک خارجی پہچان ہے اور ایک داخلی پہچان۔ خارجی پہچان سے مراد خدا کی کتاب ہے۔ خدا کی کتاب (قرآن) میں واضح طور پر یہ بتا دیا گیا ہے کہ کون سی چیزیں ہیں جو خدا کے نزدیک گناہ ہیں اور جن سے آدمی کو بچنا چاہئے۔ گناہ کی داخلی پہچان انسان کا ضمیر قرآن کے مطابق، انسان کے اندر پیدائشی طور پر نیکی اور بدی کی تمیز رکھ دی گئی ہے۔ (الشمس ۸) اسی طرح پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا کہ: الاثم ما حاك في صدرك و كرهت أن يطلع عليه الناس ( صحيح مسلم، كتاب البر) یعنی گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم کو یہ ناگوار ہو کہ لوگ اس کو جان لیں۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان صحیح فطرت پر پیدا کیا گیا ہے (الروم ۳۰) یہی بات حدیث میں بھی بتائی گئی ہے (كل مولود يولد على الفطرة) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے نزدیک گناہ کرنا انسان کا مقدر نہیں بلکہ وہ اس کے لئے choice کا ایک معاملہ ہے۔ شیطانی طاقتیں بہکاتی ہیں۔ اسی طرح سماجی اسباب اس کو غلط راستہ کی طرف لے جاتے ہیں۔ اگر کوئی شخص ان اسباب سے متاثر ہو کر گناہ کرے تو وہ امتحان میں ناکام ہو گیا۔ اس سلسلہ میں اسلام کی دوسری تعلیم یہ ہے کہ گناہ کی تلافی ممکن ہے۔ اگر آدمی گناہ کے بعد توبہ کرے اور آئندہ وہ اس سے باز رہے تو وہ اللہ کے نزدیک قابل معافی ٹھہرے گا۔

Printed page