Muslims' reservation and education
Al-Risala, January 2000, pp. 47–51
By Maulana Wahiduddin Khan
مقررین کے نام یہ ہیں ایس نذر محمد زیدی ایڈوکیٹ، مسٹر اجمل الرحمن، مسٹر شاہد صدیقی ، پروفیسر اقبال حسین، ڈاکٹر ایس یو خان، حاجی عقیل احمد۔
میں نے چیف گیسٹ کی حیثیت سے سب سے آخر میں تقریر کی۔ پہلے میں نے تعلیم کی اہمیت پر زور دیا۔ میں نے کہا کہ زمانہ رسالت میں مدینہ میں جو سب سے پہلا اسکول کھولا گیا اس کے تمام ٹیچر موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے اس سنت کی خلاف ورزی کی۔ انھوں نے کہا کہ ہم اپنے بچوں کو صرف مسلم اسکول میں پڑھائیں گے۔ ہندو اسکول اور کرسچین اسکول میں اپنے بچوں کو نہیں اسی پالیسی پر مسلمان تقریباً سو سال تک چلتے رہے۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے جس نے موجودہ مسلمانوں کو تعلیم میں پیچھے کر دیا۔
اب جو لوگ رزرویشن کی بات کر رہے ہیں وہ گویا اپنی غلطی کی قیمت دوسروں سے وصول کرنا چاہتے ہیں ، مگر اسباب کی اس دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔
میں نے کہا کہ ۱۹۷۲ سے مسلم لیڈر بار بار یہ غلطی کر رہے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو کسی نہ کسی شوشہ والی بات میں الجھا دیتے ہیں۔ مثلاً مسلم یونیورسٹی، اردو، مسلم پرسنل لا، معاہداتی سیاست، بابری اب اسی قسم کا نیاشوشہ ریزرویشن کی صورت میں نکالا گیا ہے۔ یہ ہمارا اصل اشو نہیں ہے۔ یہ اشو کو چھوڑ کرنان اشو میں قوم کو الجھانا ہے۔ اس قسم کی سیاست کو ہمیں چھوڑنا پڑے گا ورنہ ہم کبھی ترقی کا درجہ حاصل نہ کر سکیں گے۔
سیمنار کے بعد ’’سر سید ڈنر‘‘ ہوا۔ لوگوں نے بڑی دھوم سے کھایا۔ میں تو سادہ کھانا کھانے کا اس لئے میں اس پروگرام میں نیم دلانہ شرکت کی، زیادہ پر جوش طور پر میں اس میں شریک نہ ہو سکا۔
ایک صاحب نے جنگ جویانہ انداز میں کہا: آپ کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے بابری مسجد کے معاملہ میں ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کیا۔ مسلمانوں نے کب ٹکراؤ کیا۔ وہ تو چپ چاپ اپنے گھروں میں انھوں نے ہمارے گھروں میں گھس کر ہمارے ساتھ ظلم کیا۔
میں نے ان کا کوئی جواب نہیں دیا۔ صرف یہ کہا کہ آپ اس وقت جس انداز میں بول رہے ہیں اسی کا نام ٹکراؤ ہے۔ آپ تو خود ہی اپنے عمل سے ثابت کر رہے ہیں کہ ہم میں ایسے لوگ ہیں جو غیر ضروری طور پر ٹکراؤ کر بیٹھتے ہیں اور اس کے بعد وہ فساد پیدا ہوتا ہے جس کا نتیجہ تمام لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔
یہ سیمنار علی گڑھ کے اولڈ بوائز کی طرف سے کیا گیا تھا۔ ایک صاحب نے ایک مطبوعہ اس سے معلوم ہوا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹاف ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی کی ایک خصوصی میٹنگ ۵ اکتوبر ۱۹۹۲ کو علی گڑھ میں ہوئی ۔ اس میں متفقہ طور پر ایک رزولیوشن پاس ہوا جو ڈاکٹر مظفر حسین صدیقی ( (آنریری سکریٹری ) کے دستخط سے پریس کو برائے اشاعت بھیجا گیا ہے۔
اس رزولیوشن میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کیمپس کی حالت انتہائی حد تک بگڑ چکی ہے۔
لاقانونیت اور کرپشن عام ہے۔ طلبہ کا کیریئر سخت خطرہ میں پڑ گیا ہے۔ اس صورت حال کی ساری ذمہ داری موجودہ وائس چانسلر پر جاتی ہے۔ اس لئے انھیں فوراً استعفا دے کر الگ ہو جانا چاہئے۔ رزولیوشن میں کہا گیا تھا کہ جنرل باڈی مطمئن ہے کہ اپنی اس منصفانہ پوزیشن میں اس یونیورسٹی کے تمام لوگوں کی حمایت حاصل ہے:
It has the backing of the entire University community. میں نے علی گڑھ کے ایک اولڈ بوائے سے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر بگاڑ صرف وائس چانسلر میں ہوتا اور پوری یونیورسٹی کمیونٹی اس کے خلاف ہوتی تو ایسا عمومی بگاڑ یونیورسٹی میں وجود ہی میں نہ آتا، ایک شخص کبھی بھی عمومی بگاڑ پیدا نہیں کر سکتا۔ ایسا ہونا فطرت کے خلاف ہے۔ اپنے کو برحق ثابت کرنے کے لئے کس طرح آدمی خلاف واقعہ باتیں بولتا ہے۔
سیمنار اور ڈنر سے فارغ ہو کر قیام گاہ (گلزار ابراہیم) پہنچا تو رات کے گیارہ بج چکے تھے۔ یہاں جناب عقیل احمد صاحب، جناب اجمل الرحمن صاحب، جناب رشید احمد صاحب اور کچھ دوسرے حضرات اکٹھا ہو گئے۔ ان سے دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں اس سے ہمیں پورا اتفاق ہے مگر سوال یہ ہے کہ اس وقت مسلمان سخت مایوسی میں مبتلا ہیں، انھیں مایوسی کی اس دلدل سے کس طرح نکالا جائے ۔ میں نے کہا کہ اس کا سبب داخلی ہے نہ کہ خارجی۔ موجودہ مایوسی کا سبب یہ ہے کہ مسلمانوں کو بار بار نا قابل حصول نشانوں کی طرف دوڑایا گیا۔ نا قابل حصول نشانہ کی طرف دوڑانے کا نتیجہ ہمیشہ مایوسی ہوتا ہے اور قابل حصول نشانہ کی طرف دوڑانے کا نتیجہ ہمیشہ امید۔ ۲۴ اکتوبر کی صبح کو نماز فجر کے بعد جناب عقیل احمد صاحب کے ساتھ چائے پی۔ بعد دہلی کے لئے واپسی ہوئی۔ عقیل احمد صاحب کے بھتیجے مسٹر محمد عظیم اس سفر میں میرے ساتھ وہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں ایم بی بی ایس کے طالب علم ہیں۔ وہ سر سید ڈے کے سلسلہ میں اپنے وطن آئے تھے، اور اب دہلی ہوتے ہوئے علی گڑھ جا رہے ہیں۔ ان سے مسلم یونیورسٹی کے
بارہ میں گفتگو ہوتی رہی۔
انھوں نے بتایا کہ میرے والد نے بھی علی گڑھ میں تعلیم حاصل کی ہے۔ والد صاحب کہتے ہیں کہ ہمارے زمانہ میں ہاسٹل میں وارڈن کا بہت دبدبہ ہوتا تھا۔ ہم لوگ وارڈن کے دباؤ میں رہتے تھے یہ دباؤ ہمیں تعلیم کے علاوہ دوسری فضولیات سے بچائے رکھتا تھا۔ مگر عظیم صاحب نے بتایا کہ اب یہ حال ہے کہ مہینوں تک وارڈن کی صورت بھی نظر نہیں آتی۔ ہوسٹلوں میں وارڈن کے کمرے ہیں۔ وارڈن ہمیشہ باہر رہتے ہیں۔ وہ طلبہ پر کسی قسم کی روک ٹوک نہیں کرتے اس کی وجہ طلبہ میں بڑھی ہوئی انار کی ہے۔ پہلے طلبہ وارڈن سے ڈرتے تھے۔ اب وارڈن خود طالب علموں سے ڈرتے ہیں۔ نے تعلیم کا معیار آخری حد تک گرا دیا ہے۔
تعلیمی معیار پست ہونے کا ایک سبب رزرویشن بھی ہے۔ مسلم یونیورسٹی میں پچاس فی صد سیٹیں انٹرنل کے لئے مخصوص ہیں۔ چنانچہ طلبہ سوچتے ہیں کہ ہم پڑھیں یا نہ پڑھیں، ہمارا داخلہ تو ہر حال میں ہو جائے گا۔ اس تحفظ نے طلبہ کے اندر علمی ذوق کا خاتمہ کر دیا ہے۔ میں نے عظیم صاحب سے پوچھا کہ طلبہ پھر کرتے کیا ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے اطراف میں کثیر تعداد میں ڈھابے کھلے ہوئے ہیں۔ یہاں بیٹھ کر وہ چائے پیتے ہیں، گانا سنتے ہیں، تفریحی باتیں کرتے ہیں۔ یہی ان کا روزانہ کا مشغلہ ہے۔ میں نے پوچھا کہ طلبہ جب آپس میں بیٹھتے ہیں تو کیا وہ اپنے کورس کی باتیں کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایسے طالب علم اتنے کم ہیں کہ ان کا کوئی فی صد مقرر کرنا مشکل ہے۔ اس کا یہ نتیجہ ہے کہ علی گڑھ کی ڈگری کی علی گڑھ سے باہر کوئی قیمت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ رعایت ترقی کی قاتل ہے۔
عظیم صاحب نے ایک عجیب واقعہ بتایا۔ کچھ سال پہلے ٹاٹا کے لوگ علی گڑھ آئے۔ سے ایک درجن انجینئر طلبہ کو بھرتی کر کے لے گئے۔ انھوں نے ان طلبہ کو ایک بڑے پلانٹ میں لگایا۔ مگر انھوں نے عدم مہارت کی بنا پر فیکٹری کے ایک قیمتی بوائلر کو تباہ کر دیا۔ اس میں ٹاٹا کا کئی کروڑ روپیہ کا نقصان ہوا۔ اس کے بعد یہ حال ہوا کہ ٹاٹا والوں کا جب کوئی اشتہار نکلتا تو اس میں یہ لکھاہوارہتاتھا: Aligarh students need not apply.
ہم چلتے ہوئے پونے آٹھ بجے صبح مودی نگر میں داخل ہوئے۔ یہ ایک صنعتی شہر ہے۔ خصوصیت یہ ہے کہ وہ سڑک کے دونوں طرف کئی کلومیٹر کی لمبائی میں آباد کیا گیا ہے۔ اس صنعتی شہر کو ملتانی مل مودی نے آباد کیا تھا۔ اس کے بعد گوجرمل مودی نے اس کو ترقی دی۔ یہاں سڑک کے دونوں طرف لڑکے اور لڑکیاں اسکول کا بیگ اپنی پیٹھوں پر لادے ہوئے چل لڑکیوں کی تعداد نسبتاً زیادہ تھی۔ ان کے لباس اور ان کے حلیہ سے محسوس ہورہا تھا کہ وہ تقریباً سب کے سب پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
مودی نگر سے گزرتے ہوئے مجھے یہ غم ناک احساس ہوا کہ مسلمان زندگی کی سرگرمیوں سے دور ہوگئے ہیں۔ وہ اپنے مخصوص پاکٹ میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ مگر عمومی مراکز حیات میں ان کو تلاش کرنا مشکل ہے۔ میں نے اپنی آنکھ بند کرلی۔ پھر خیال آیا کہ میں نے جس طرح آنکھ بند کرلی ہے، اگر ڈرائیور اسی طرح اپنی آنکھیں بند کرلے تو اس کی گاڑی آگے کی سواری سے ٹکرا جائے گی۔ سورہا ہوں لیکن ڈرائیور کو جگنا پڑتا ہے، مسافر خواہ آنکھیں بند کرلے مگر ڈرائیور کے لئے اس کے سوا کوئی اور صورت نہیں کہ وہ اپنی دونوں آنکھیں کھلی رکھے۔ وہ ایک لمحہ کے لئے بھی غافل نہ ہو۔ ۲۴ اکتوبر کو ساڑھے نو بجے صبح میں دہلی واپس آگیا۔ دہلی سے مظفر نگر جاتے ہوئے ہم لوگ دو جگہ ٹھہرے تھے۔ چنانچہ وہاں پہنچنے میں چار گھنٹے لگ گئے ۔ واپسی میں مسلسل سفر کیا گیا ۔ صرف ڈھائی گھنٹے میں ہم لوگ دہلی پہنچ گئے۔