مغربی یوپی کا سفر
Al-Risala, August 2000, pp. 16–38
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن کی دعوت پر سہارنپور کا سفر ہوا۔ ۹ اپریل، ۲۰۰۰ کی صبح کو دہلی سے روانگی ہوئی اور ۱۰ اپریل کی شام کو واپسی ہوئی۔ اس سفر میں سہارنپور اور مغربی یوپی کے دوسرے علاقوں کے حالات جاننے کا موقع ملا۔ اس سفر کی مختصر روداد یہاں درج کی جاتی ہے۔ عجیب بات ہے کہ جس تاریخ کو سہارنپور کا یہ پروگرام تھا ٹھیک اسی تاریخ کو بنگلور میں مختلف مذاہب کی ایک انٹر نیشنل کا نفرنس تھی۔ اس کانفرنس میں بودھ پیشوا دلائی لامابھی آرہے انہوں نے ذاتی طور پر اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ میں اس میں ضرور شرکت کروں۔ لوگوں نے میرے مددگار سمیت سفر کے متعلق انتظامات بھی مکمل کر دئے تھے۔ مگر میں دونوں میں سے کسی ایک ہی پروگرام میں شریک ہو سکتا تھا۔ چنانچہ میں نے بنگلور کو چھوڑ کر سہارنپور کا ۱۹ اپریل کی صبح کو دہلی سے شتابدی ایکسپریس کے ذریعہ روانگی تھی۔ یہ ٹرین ہندستان کی ایک خصوصی ٹرین سمجھی جاتی ہے۔ مگر مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں کے مقابلہ میں وہ ہر اعتبار سے ایک معمولی ٹرین ہے۔
۱۹۴۷ سے پہلے برٹش حکومت کے زمانہ میں ہندستان کی ٹرینیں تقریباًاسی درجہ کی تھیں جیسا کہ یورپ کے ملکوں کی ٹرینیں۔ مگر آزادی کے بعد مغربی ملکوں کی ٹرینیں نمایاں طور پر بہتر ہوگئیں جب کہ ہندستان کی ٹرینیں ترقی کے اس انٹر نیشنل معیار تک نہ پہنچ سکیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندستان میں ترقی کا جو عمل ۱۹۴۷ تک جاری تھاوہ ۱۹۴۷ کے بعد اسی رفتار سے جاری نہ رہ سکا۔ حالانکہ ۱۹۴۷ کے بعد سے لے کر اب تک ہمارے ملک میں بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کی دھوم رہی ہے۔ دونوں زمانوں میں اس فرق کا سبب کیا ہے۔ میں وہ کرپشن ہے۔ ۱۹۴۷ سے پہلے ایسا ہوتا تھا کہ حکومت جو بجٹ بناتی تھی وہ پوری طرح انہیں مدوں میں خرچ ہوتا تھا جس کے لئے وہ بنایا گیا ہے۔ ۱۹۴۷ کے بعد بر عکس طور پر یہ ہوا کہ
حکومت کا بجٹ تو بدستور مزید اضافہ کے ساتھ بنتا رہا مگر کرپشن کی بنا پر اس کی بیشتر رقم قومی ترقی کے کاموں میں خرچ نہ ہو کر افراد کے جیبوں میں جاتی رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ ۱۹۴۷کے بعد ہمارے ملک میں جو نئے نئے مسائل پیدا ہوئے ان سب کا سبب ، براہ راست یا بالواسطہ طور پر یہاں کا بڑھا ہوا کرپشن ہے۔
۹ اپریل ۲۰۰۰کو صبح سویرے میں نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پہنچا۔ سورج نکلنے میں چند منٹ کی دیر تھی۔ اسٹیشن پر لوگ بڑی تعداد میں سرگرم دکھائی دئے۔ ہر آدمی تیزی سے اپنی منزل کی طرف بھاگ رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ وہ کیا چیز ہے جو ان لوگوں کو اس طرح مسلسل سرگرم کئے میرے ذہن نے جواب دیا کہ وہ صرف سیلف انٹر یسٹ ہے۔ فطرت نے ہر آدمی کے اندر سب سے طاقتور جذ بہ انٹر یسٹ کا رکھا ہے۔ وہی ہر آدمی کو متحرک کئے ہوئے ہے۔ انٹر یسٹ نہ ہو تو پوری زندگی ٹھہر کر رہ جائے گی۔ سوچتے ہوئے پھر میرا ذہن اس سوال پر گیا کہ کیا وجہ ہے کہ سوشلسٹ سسٹم دنیا میں ناکام ہو گیا۔ روس سے لے کر انڈیا تک ہر جگہ اس کی کہانی اس کے بر عکس بدنام سرمایہ داری سسٹم اتنا زیادہ کامیاب ہے کہ آج بڑے بڑے سوشلسٹ لیڈروں کے بیٹے اور پوتے بھاگ بھاگ کر امریکہ پہنچ رہے ہیں۔ اس کا جواب صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ بد نام سرمایہ داری نظام فطرت کے اصول پر قائم ہے جو کہ سیلف انٹر یسٹ پر مبنی ہے۔ اس کے بر عکس نام نہاد سوشلسٹ نظام مصنوعی آئیڈیالوجی پر قائم کرنے کی ایک کوشش تھی جو کہ فیل ہوگئی۔
شتابدی اکسپریس اپنے ٹھیک وقت پر سات بجے دہلی سے روانہ ہوئی۔ میرے قریب والی سیٹ پر ایک نوجوان بیٹھے ہوئے تھے۔ بات چیت کے دوران معلوم ہوا کہ ان کا نام روہت ورماہے ان کی عمر ۱۸ سال تھی۔ وہ احمد آباد میں اپنے والدین کے ساتھ رہتے ہیں۔ وہ دہرہ دون نیشنل ڈیفنس اکیڈمی میں ٹیسٹ دینے کے لئے جا رہے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ مسلمانوں کے بارے میں کچھ جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ اب تک ان کی
ملاقات نہ کسی مسلمان سے ہوئی، ،اورنہ اسلام یامسلمانوں کے بارے میں انہوں نے کچھ پڑھا۔ ان کی زندگی میں پہلا مسلمان تھا جس کے ساتھ انہوں نے ۳ گھنٹہ سفر کیا اور بات چیت کی۔ انہوں نے بتایا کہ میرے اسکول میں نہ کوئی مسلمان اسٹوڈینٹ ہے اور نہ کوئی مسلمان ٹیچر۔ نے سوچا کہ دو فرقوں کے درمیان اس دوری کا سبب کیا ہے۔ میرے ذہن نے جواب دیا کہ اس کی ذمہ داری سب سے زیادہ ان مسلم رہنماؤں پر ہے جنہوں نے ناقابل فہم طور پر مسلمانوں کو جدید تعلیم سے روکا۔ موجودہ زمانہ میں اسکول اور کالج دونوں فرقوں کے لئے فطری میٹنگ گراؤنڈ بن مگر مسلم رہنماؤں کی غلط تعلیمی پالیسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم نوجوان اس میدان میں پہنچ ہی نہ سکے جہاں جدید تاریخ نے ان کے لئے ملاقات ملاقات(انٹرایکشن )کاانتظام کیاتھا۔ ٹرین میں اخبارات پڑھنے کے لئے دئے گئے۔ سنڈے آبزرور(۹؍اپریل)میں (۹ اپریل) میں آندھرا پردیش کے چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو کا ایک تفصیلی انٹرویو چھپا ہوا تھا۔ وہ آج کل اس حیثیت سے مشہور ہو رہے ہیں کہ آندھرا پردیش کو انفارمیشن ٹکنالوجی کے دور میں پہنچائیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ جدید ٹکنیک سرخ فیتہ شاہی کو ختم کرنے کا ایک اچھا ذریعہ ثابت ہوگی جو انڈیا کی بیورو کریسی میں بہت زیادہ سرایت کر چکی ہے۔
It may prove to be a good tool to remove the red-tapism so inbuilt in Indian bureaucracy. تین گھنٹے کے سفر کے بعد ہماری ٹرین سہارنپور ریلوے اسٹیشن پر پہنچی۔ یہاں کئی لوگ پلیٹ فارم پر موجود تھے۔ بی لال ( G.B. Lal)، جناب سبودھ کانت شرما، جناب محمد سلیم رومانی، ڈاکٹر محمد اسلم، ڈاکٹر شبیر احمد بیگ، ذوالنور احمد، لئیق احمد، راجیو، منوج، دانش خان، حکیم نفیس الرحمٰن، وغیرہ۔
ٹرین میں میں نے مسٹر روہت ورماسے کہاتھاکہ میراڈریم یہ ہے کہ اس ملک کے ہندو مسلمان ایک فیملی کی طرح مل جل کر رہنے لگیں۔ پلیٹ فارم پر جب میں نے دیکھا کہ ہندو مسلم دونوں میرے انتظار میں ہیں اور جیسے ہی میں اپنی کوچ سے نکل کر باہر آیا تو وہ پھولوں کے ہار کے
ساتھ میری طرف بڑھے تو میری آنکھوں میں شدت احساس سے آنسو آگئے۔ اس بات کے لئے نہیں کہ وہ میرا سواگت کر رہے تھے، بلکہ اس مشترک گروپ کی صورت میں مجھے مستقبل کا انڈیا دکھائی دیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ اس ملک میں بہت جلد وہ دور آنے والا ہے جبکہ ہندو اور مسلمان سچ مچ ایک فیملی کی طرح مل جل کر رہنے لگیں گے اور دونوں مل کر اس عظیم ہندوستان کی تعمیر کریں گے جس کا خواب ہمارے قومی معماروں نے دیکھا تھا۔
ریلوے اسٹیشن سے روانہ ہو کر ہم لوگ ڈاکٹر محمد اسلم صاحب کی رہائش گاہ پر پہنچے۔ سہارنپور کے تعلیم یافتہ ہندوؤں اور مسلمانوں کی ایک مجلس میں مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی، میں نے اپنی عادت کے مطابق لوگوں سے کہا کہ آپ لوگ اپنے اپنے تجربات چنانچہ مختلف لوگوں نے اپنے اپنے خیالات پیش کئے، ان سب کے خیالات کا خلاصہ یہ تھا کہ آج کی زندگی میں مذہب کا وہ زول ختم ہو گیا ہے جو پچھلے زمانوں میں تھا۔ پچھلے زمانہ میں ہر آدمی خدا سے ڈرتا تھا۔ خدا کا خوف اس کو غلط کاموں سے روک دیتا تھا۔ اب آزادی اور ڈیموکریسی کے دور نے ہر آدمی کا مزاج یہ بنا دیا ہے کہ وہ آزاد ہے کہ جو چاہے کرے۔ اس مزاج نے لوگوں کو بے خوف بنا دیا ہے اور یہی بے خوفی تمام بدعنوانیوں کی جڑ ہے۔
ڈاکٹر شاہد صابری (ایم۔ ایڈ) نے بتایا کہ ۱۹۸۳ میں انہوں نے ناخواندگی ہٹاؤ کے مقصد کے تحت لوگوں کو ساتھ لے کر کام کرنا چاہا مگر تجربہ کے بعد محسوس ہوا کہ حقیقی معنوں میں ساتھ دینے والا کوئی نہیں، البتہ رکاوٹ کے لئے ہر آدمی تیار ہے۔ اسی کشمکش میں کئی سال بیت آخر کار آٹھ سالہ تجربہ کے بعد انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ کوئی ساتھ دے یا نہ دے ان کو اب اکیلے ہی یہ کام کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد میں نے اپنے آپ کو اور اپنے وسائل کو بھرپور طور پر اس تعلیمی مشن میں لگا دیا۔ ۱۹۸۳ میں میں نے پہلی کلاس کھول کر نامساعد حالات میں یہ کام شروع اب ۲۰۰۰ میں خدا کے فضل سے ہمارا ادارہ انٹر میڈیٹ تک پہنچ چکا ہے۔ تقریباً پانچ سو طلبہ ہمارے یہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
جناب سبودھ شرما ایڈوکیٹ نے ایک بنیادی بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ آج جب میں ریلوے پلیٹ فارم پر کھڑا تھا تو وہاں کا منظر دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ یہاں بظاہر بہت سے لوگ کھڑے ہوئے ہیں مگر ان میں سے ہر ایک یہاں صرف اس انتظار میں ہے کہ کب اس کی ٹرین آئے اور وہ اس پر بیٹھ کر یہاں سے روانہ ہو جائے۔ ہماری زندگی بھی اسی قسم کا ایک سفر ہے۔ مسٹر راجیو کوشک (ایم۔ اے) نے اپنے تجربات بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارے بزرگوں نے جس طرح کے سماج میں زندگی بتائی، آج کا سماج اس سے بہت زیادہ الگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم اپنے پریوار میں ہوتے ہیں تو وہاں ہم پاتے ہیں کہ ہر ایک دوسرے کا ہمدرد اور خیر خواہ ہر ایک دوسرے کی مدد کر کے خوشی محسوس کرتا ہے۔ ہر ایک دوسرے کی ترقی پر خوش ہوتا پہلے ایسا تھا کہ جو ماحول آدمی کو اپنے پریوار میں ملتا تھا وہی ماحول اس کو باہر آکر سماج میں مگر مگر آج ایسا نہیں ہے۔ آج یہ حال ہے کہ ہم جب اپنے پریوار میں ہوتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم اپنوں کے بیچ میں ہیں مگر جب ہم پریوار سے نکل کر سماج میں آتے ہیں اور کچھ کام کرنا چاہتے ہیں تو اچانک یہاں دوسرا ماحول ملتا ہے۔ ہم پاتے ہیں کہ یہاں مدد کرنے کے بجائے رکاوٹ ڈالنے کا ماحول ہے۔ ترقی پر خوش ہونے کے بجائے اس پر جلن کا ماحول ہے۔ دوسرے کو غیر کی نظر سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی آج کی سب سے بڑی سمسیاہے اس کو کیسے حل کیا جائے۔
پی دیش بھگت (۸۳ سال) ۱۹۷۱ سے پولینکس کے میدان میں کام کر رہے ہیں۔ پارٹی کا نام بھارتیہ سماج وادی مورچہ ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ ہندوستان میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ پولیکل کرپشن ہے۔ اس مسئلہ کا حل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہماری پارٹی پاور میں آجائے گی تو ہم دیش کو بھرشٹا چار سے مکت کر دیں گے۔
میں نے کہا کہ بہت سی پارٹیاں بھرشٹا چار مٹاؤ کے اشو کو لے کر اٹھیں مگر جب وہ الیکشن جیت کر پاور میں آگئیں تو انہوں نے خود بھی بھرشٹا چار کا وہی کام شروع کر دیا جو دوسرے لوگ کر
انہوں نے جواب دیا کہ دو باتیں ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں۔ ایک یہ کہ آپ ایکسپلائٹیشن کے ذہن کے تحت کرپشن کو اپنا لیکشنی ایشو بنائیں۔ ایسے لوگ وہی کریں گے جن کی آپ نے مثال دی۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ایک ایمان دار سماج بنانا آپ کا اصل مقصد ہو اور اس مقصد کو لے کر آپ اپنی پوری تحریک چلائیں، صرف الیکشن کے وقت نہیں، بلکہ اپنی پوری زندگی کے لئے آپ کا یہی مشن ہو۔ اس دوسری قسم کے لوگ جب فطری عمل کے تحت پاورمیں آتے ہیں تو وہ ان سے مختلف ہوتے ہیں جو لیکشنی پولیٹکس کے ذریعہ پاور میں آجائیں۔ 9 اپریل کو مسلسل لوگ میری قیام گاہ پر آتے رہے اور ان سے مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ ہندوستان میں اتنا زیادہ تعصب ہے کہ مسلمانوں کو ہر شعبہ میں نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ایسی حالت میں آپ مسلمانوں کی ترقی کا کیا نسخہ بتاتے ہیں۔ میں نے کہا کہ مسلمان تو ہر وقت ہی ترقی کر رہے ہیں۔ ہمیں اس مقصد کے لئے کسی نئے نسخہ کی ضرورت نہیں۔ میں نے کہا کہ اس دنیا کا نظام کسی کے تعصب یا سازش پر نہیں چل رہا ہے، بلکہ فطرت کے قانون پر چل رہا ہے اور فطرت کا قانون کسی تعصب کے بغیر ہر ایک کو ترقی کا موقع دے رہا ہے۔
پھر میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں یہ معاملہ اور بھی زیادہ ہماری موافقت میں ہو گیا ہے۔ آج ہم ایک نئے دور میں جی رہے ہیں۔ یہ دراصل اقتصادی انفجار کا دور ہے۔ اس زمانہ میں اقتصادی ترقی کے مواقع عمومی سیلاب کی طرح ہر انسان تک پہنچ رہے ہیں۔
پھر میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ بعد کے زمانہ میں ننگے جسم اور ننگے پاؤں والے لوگ بڑی بڑی عمارتیں بنائیں گے۔ اس حدیث پر غور کیجئے۔ یہ حدیث دراصل جدید صنعتی دور کی پیشین گوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک زمانہ آئے گا جب کہ دولت کا پھیلاؤ اتنا زیادہ ہو گا کہ وہ عام لوگوں تک پہنچ جائے گا۔ نوبت یہاں تک آئے گی کہ وہ لوگ جو غریب طبقہ سے تعلق رکھتے تھے وہ بھی بڑی بڑی کمائی کریں گے، اور بڑے بڑے گھر بنائیں گے ۔ آپ جانتے ہیں کہ گھر
آدمی کی معاشی حالت کی پہچان ہوتا ہے۔ بڑے گھر کا مطلب ہے معاشی خوش حالی۔ میں نے کہا کہ اس حدیث میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ الا المسلمون، یعنی تمام لوگ دولت مند ہو جائیں گے سوائے مسلمانوں کے۔ پھر آپ لوگ اس قسم کی بات کیوں کرتے ہیں۔ ۹ اپریل کی شام کو سہارنپور کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کا ایک اجتماع ہوا۔ یہ اجتماع ودھ کیندر (چندر نگر) میں تھا اس میں زیادہ تر ہندو صاحبان تھے۔ یہ زیادہ تر وکیل اور ڈاکٹر لوگ تھے۔ کچھ افراد ایسے بھی تھے جو ہندو قوم پرست تنظیموں کے لیڈر تھے۔
یہ اجتماع دو گھنٹے سے زیادہ دیر تک رہا۔ اس کی صورت یہ تھی کہ زیادہ تر ہندو صاحبان اسلام کے بارے میں سوالات کرتے رہے، اور میں ان کا جواب دیتا رہا۔ اکثر سوالات اختلافی نوعیت کے تھے، مگر پوری گفتگو کے دوران کسی قسم کی کوئی تلخی پیدا نہیں ہوئی۔
میں نے تمام سوالات کا جواب قرآن اور حدیث کی روشنی میں دیا۔ لوگ اتنا متاثر ہوئے کہ لوگوں نے بتایا کہ کئی ہندوؤں کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ایک صاحب جو ایک کٹر ہندو تنظیم کے سکریٹری ہیں انہوں نے آخر میں اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ مولانا صاحب جس طرح اسلام کو پیش کرتے ہیں اگر اسی طرح دوسرے لوگ بھی اسلام کو پیش کریں تو اسلام ساری دنیا کا مذہب بن جائے۔
ایک اور ہندو وکیل نے کہا کہ تقریر کے بارے میں لوگوں کا تاثر اتنا شدید تھا کہ لوگ اپنے احساس کا اظہار کرنے کے لئے الفاظ نہیں پا رہے تھے۔ بس یہ کہتے تھے کہ ـــــــــ ونڈر فل، بس اس طرح کے الفاظ بول رہے تھے۔ میں نے محسوس کیا کہ اگر فطرت کی زبان میں کلام کیا جائے تو اسلام ہر ایک کو خود اپنی چیز نظر آئے گا۔ مگر جب ایسی زبان استعمال کی جائے جو سننے والے کو ایک فرقہ کی وکالت نظر آئے تو فوراً دوسرے فریق کے اندر ضد اور دفاع کی نفسیات پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ اسلام کو اپنی چیز کے بجائے ”غیر“ کی چیز سمجھ لیتے ہیں۔ اور پھر سنانے اور سننے والے کے درمیان وہ صحیح ربط ہی نہیں قائم ہوتا جو مثبت دعوتی عمل کے لئے ضروری ہے۔
۹ اپریل کی شام کو دیودت کلا کیندر کے اجتماع میں ایک پولیس افسر بھی شریک تھے۔ انہوں نے اسلام کے بارے میں کئی سوالات کئے_ ڈاکٹر شاہد نے بتایا کہ انہوں نے اجتماع کے بعد اپنے تاثر کا اظہار ان الفاظ میں کیا۔
جب آدمی آنکھ سے دیکھتا ہے تو وہ کچھ دوری تک دیکھ لیتا ہے جب چشمہ لگا کر دیکھتا ہے تو کچھ زیادہ دوری تک دیکھ لیتا ہے۔ جب دور بین سے دیکھتا ہے تو کافی دوری تک دیکھ سکتا ہے۔ جب اوپر منزل پر کھڑے ہو کر دیکھتا ہے تو کافی کچھ دیکھتا ہے اور جب ہیلی کاپٹر سے دیکھتا ہے تو وہ پورے شہر کو دیکھ لیتا ہے۔ مولانا اتنی اونچائی پر پہنچ چکے ہیں جس سے وہ پورے مانو سماج کو اسی انداز میں دیکھ رہے ہیں جیسے کوئی ہیلی کاپٹر سوار دیکھتا ہے۔ یہ الفاظ انہوں نے ایک کاغذ پر لکھ کر
"آپ کا بھاشن ان لوگوں کے لئے بہت خطرناک ہے جو اپنی سوچ روپی کانچ کے مرتبان کی یتن پور وک رکھا کرتے آ رہے ہیں۔ آپ کے سہج شبد اس ادھوری ووکرت سوچ کو توڑ دیتے ہیں۔ آپکا بھاشن ان لوگوں کے لیے بہت خطرناک ہے جو اپنی سوچ روپی کانچ کے مرتبان کی یتن पूर्वक रक्षा. کرتے آ رہے ہیں ۔ آپ کے سہج شبد اس ادھوری و विकृत سوچ کو توڑ دیتے ہیں ۔
-Subodh Sharma Advocate, Saharanpur ایک صاحب نے کہا کہ آپ مشرکوں اور کافروں کے جلسوں میں جاتے ہیں_ یہ اسلام کے خلاف ہے۔ کیوں کہ حدیث میں آیا ہے : اتقوا مواضع التُّهَمِ (یعنی تہمت کی جگہوں سے بچو) میں نے کہا کہ حدیث کا یہ مطلب نہیں۔ اگر اس کا یہ مطلب ہو تا تو رسول اللہ ﷺ عرب کے مشرکوں اور کافروں کے مقامات اجتماع میں نہ جاتے_ جب کہ یہ ثابت ہے کہ آپ ایسے مواقع پر برابر جاتے تھے۔
اصل یہ ہے کہ اس کا تعلق نیت سے ہے اگر آپ غیر مسلموں کے اجتماع میں دعوت دین کے مقصد سے جائیں تو یہ عین سنت نبوی کی پیروی ہوگی_ البتہ اگر آپ ایسے مواقع پر کسی غلط
مقصد کے تحت جائیں تو یہ البتہ ممنوع اور قابل اعتراض ہے۔
ڈاکٹر محمد اسلم خان صاحب اپنی میڈیکل پریکٹس کے علاوہ اسلام پر بھی کافی مطالعہ کرتے ایک ملاقات میں انہوں نے خود اپنے قلم سے یہ الفاظ لکھے : موجودہ زمانہ میں علم کاارتقاء P.H.D لیول کو پہنچ گیا ہے۔ اب ہمیں اسی لیول پر اسلام کی نمائندگی کرنا ہے۔ آج کا انسان جس علمی سطح پر کسی چیز کو سمجھنا چاہتا ہے اسی علمی سطح پر اگر وہ اسلام کوپائے گا تو اسے قبول کرے گا، ورنہ وہ اسے رد کر دے گا۔
میں خوش قسمت ہوں کہ میں اس دور میں پیدا ہوا ہوں جس دور میں مولانا وحید الدین خاں کا فکر عالمی سطح پر پرواز کر رہا ہے۔ تمام دیگر مسلم اہل قلم اس صحیح فکر کے سامنے بونے نظر
عصمت آرا (۴۰ سال) ڈاکٹر محمد اسلم صاحب کی اہلیہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الرسالہ کی مسلسل تعلیم یہ ہے کہ انسان کو ہمیشہ ٹکراؤ سے درگزر کرتے ہوئے اپنے خاص مقصد یعنی دعوت کے لئے جدوجہد کرنا چاہئے۔
مس ارم قدسیہ (۱۴ سال) ڈاکٹر محمد اسلم کی صاحبزادی ہیں۔ ان کو تعلیم کا بہت شوق ہے خاص طور پر انگریزی زبان سیکھنے سے بہت دلچسپی ہے۔ ان کا جذبہ یہ ہے کہ وہ انگریزی سیکھ کر دین کی خدمت کریں۔ انہوں نے اپنے تیار کئے ہوئے کئی چارٹ دکھائے۔ ان میں سے ایک چارٹ کا مضمون یہ تھا :
It is too dangerous to leave politics to politicians alone, similarly, too hazardous to leave theology to theologians alone. -Mustafa, Chief Mufti of Bosnia. ایک صاحب نے موجودہ زمانہ کی بعض مسلم شخصیتوں کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کو امت میں زبردست کامیابی ملی۔ میں نے کہا کہ کامیابی نہ کہئے بلکہ ذاتی مقبولیت کہئے۔ مقصد میں کامیابی اور شخصی مقبولیت میں فرق ہے۔ غور کیجئے تو ان میں سے کوئی بھی اس معنی میں کامیاب نہیں ہوا کہ
اس کی کوششوں سے امت میں حقیقی زندگی پیدا ہو جائے ۔ البتہ ان کے گرد لو گوں کی بھیڑ اکٹھا
میں نے کہا کہ ان لوگوں کی مقبولیت کاراز یہ تھا کہ انہوں نے ایک زوال یافتہ قوم کو اس کی زوال کی سطح پر اس کی پسندیدہ خوراک فراہم کر دی ۔ کسی نے لوگوں کی فخر پسندی کو غذا دی۔ نے لوگوں کی جذباتیت کے مطابق انہیں خوراک مہیا کی۔ کسی نے ایسا نسخہ فراہم کیا کہ لوگوں کو بے عملی میں عمل والے فائدے ملتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ کسی نے جنت کے سستے ٹکٹ تقسیم کرنے کی کھڑکیاں کھول دیں۔ کسی نے ایسا نظریہ دیا جس میں سیاسی ہنگامہ آرائی اعلی اسلامی عمل دکھائی دیتا تھا۔ کسی نے ایسے خوشنما تخیلات دئے جن میں لفظی بلند پروازی سے حقائق کی منزلیں طے ہو رہی تھیں۔ اس قسم کی باتوں کے ذریعہ مقبولیت حاصل کرنا ایسا ہی ہے جیسے خارش زدہ آدمی کو کھجلانے کا نسخہ بتا دیا جائے۔
ایک مجلس میں چھوٹے مکان اور بڑے مکان کا تذکرہ ہوا۔ میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ کل بناء وبال على صاحبه إلا ما لا ، إلا مالا (ہر عمارت اس کے مالک کے لئے وبال سو اس عمارت کے جو بالکل ضروری ہو)۔
میں نے کہا کہ بڑا مکان اگر ضرورت کے لئے ہو تو وہ یقیناً جائز ہے مگر عام طور پر ایسا ہے کہ لوگ بڑا مکان اس لئے بناتے ہیں کہ سماج میں اونچا درجہ حاصل کر سکیں۔ یہی وہ مکان ہے جس کے بارہ میں اس حدیث میں انتباہ دیا گیا ہے۔ اس قسم کا مکان لوگوں کے اندر احساس فخر پیدا کرتا وہ اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھنے لگتے ہیں۔ مگر یہ نہایت پست چیز ہے۔ کسی انسان کا درجہ در و دیوار سے متعین نہیں ہو تا، بلکہ اخلاقی صفات اور روحانی اقدار سے متعین ہو تا ہے۔ چنانچہ اکثر لوگوں کے لئے شاندار مکان صرف ان کے لئے اور ان کے بچوں کے لئے شاندار قبر بن کر رہ جاتا ہے۔ ایسے مکان میں صرف ایسے لوگ رہتے ہیں جو دینی اور اخلاقی اعتبار سے مر چکے کچھ لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ عام طور پر لوگ غربت کو بد نصیبی اور
دولت مندی کو خوش قسمتی سمجھتے ہیں۔ مگر ایسا سمجھنا غلط ہے۔ قرآن کے مطابق، یہ دنیا امتحان کے لئے ہے۔ یہاں ہر چیز امتحان کے لئے ہے۔ غربت بھی امتحان کا ایک پرچہ ہے اور دولت مندی بھی امتحان کا ایک پرچہ۔ کسی کو خدا بے زور حالت میں آزماتا ہے اور کسی کو زور اور طاقت دے کر آزما رہا ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ ان چیزوں کو نہ یافت سمجھے اور نہ محرومی۔ وہ اپنی ہر حالت کو امتحان کی حالت سمجھے۔ اس کی ساری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ وہ اس امتحان میں پورا اترے جس میں مبتلا کر کے اس کا خدا اسے آزما رہا ہے۔
سفروں میں آدمی کی جگہ بدلتی ہے۔ ملاقاتوں کا دائرہ بڑھتا ہے۔ نئے نئے لوگوں سے ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ اس طرح مختلف قسم کے لوگوں کے خیالات سامنے آتے ہیں۔ سفر اگر کھلی آنکھ اور کھلے ذہن کے ساتھ کیا جائے تو وہ مسافر کے لئے وسیع مطالعہ کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ موجودہ سفر میں کثیر تعداد میں لوگوں سے ملاقاتیں ہوئی اور بہت سے سوالات سامنے ایک صاحب نے کہا کہ میں آپ کی تحریریں برابر پڑھتا رہاہوں اور ان کو پسند کرتا ہوں۔ مگر سوال یہ ہے کہ آپ کے بعد کون۔ میں نے کہا کہ اکثر لوگ اس طرح کا سوال کرتے ہیں۔ میں تو یہ سوچتا ہوں کہ میری موجودگی میں کون۔ میری دعوتی جدوجہد تقریباً پچاس سال کی مدت تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس راہ میں میں نے اپنا خون خشک کر دیا۔ میری شخصیت ویران ہو گئی۔ میرے دن اور رات کا سکون چھن گیا۔ مگر اب بھی وہی حال ہے جس کی مشابہت انجیل میں ان الفاظ میں کی گئی ہے کہ ہم نے بانسری بجائی مگر تم نے رقص نہیں کیا۔ ہم نے نوحہ کیا مگر تم روئے (انا زمرنا لكم فما رقصتم و ندبنا لكم فما بكيتُم)
1991 میں رام نومی کے موقع پر سہارنپور میں فساد ہوا اس کی خبریں اخبار میں چھپیں۔ کے بعد جو واقعات پیش آئے اس میں سے ایک واقعہ یہ ہوا کہ سہارنپور کی ایک خاتون تسنیم جو جدہ میں رہتی تھیں۔ انہوں نے سہارنپور میں فساد کی خبر سنتے ہی ٹیلی فون کیا کہ سہارنپور کے مسلمانوں کی حالت معلوم کریں۔ ان کا فون سبودھ شرما ایڈوکیٹ کے گھر پر
آیا (644752-Ph)- شرما صاحب کی بہن مس اپیتا چوں کہ تسنیم صاحبہ کی کلاس فیلو تھیں اس لئے انہوں نے یہ فون ان کے یہاں کیا۔ ۱۹ اپریل کی ملاقات میں مسٹر سبودھ شرما ایڈوکیٹ نے بتایا کہ جب ہمارے گھر میں فون کی گھنٹی بجی اور میری بہن اپیتا نے ریسیور اٹھایا اور فون پر کہا کہ ہلو تو اچانک فون کے دوسری طرف سے رونے کی آواز آنے لگی۔ مس اپیتا نے کہا کہ کیوں رو رہی ہو۔ جدہ سے بولنے والی خاتون نے کہا” ہمیں تو یہ پتہ چلاتھاکہ چوک فوارہ کا علاقہ فساد میں مکمل طور سے نذر آتش ہو چکا ہے اور کسی کے بچنے کی کولےئی امید نہیں ہے۔ وہ اپنی فرینڈ کو زند ہ پا کر اور اس کی آواز فون پر سن کر اونچیپنے میں تھیں اور دیر تک روتی اورسسکتی رہیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی
۹ اپریل کی رات کا کھانا ڈاکٹر کوشل کے یہاں تھا۔ یہاں ڈاکٹر کو شل کے سوا مسٹر امین سیانی (آرٹسٹ) مسٹر دیش بھکت (سیاسی لیڈر) وغیرہ موجود تھے۔ حسب رواج لوگ میری پلیٹ میں کھانا ڈالنے لگے۔ میں نے ہر ایک کو منع کیا۔ ہر ایک سے کہا کہ آپ لوگ کھائیے، میں بعد کو یہاں تک کہ سب لوگ اپنی پلیٹ میں لے کر کھانا کھانے لگے۔ میں نے کچھ دیر کے بعد ایک سادہ روٹی اپنی پلیٹ میں رکھی اور بہت آہستہ آہستہ کھانا شروع کیا۔ میں چنے کے برابر روٹی کا ایک ٹکڑا توڑ تا اور اس کو منھ میں ڈال کر چبا تا رہتا۔ لوگ کھانا کھا چکے اور میری پلیٹ میں آدھی روٹی رہ گئی تھی۔ میں نے بچی ہوئی روٹی برادرم محمد اسلم کو اصرار کر کے دے دی۔ سوا میں نے دستر خوان پر کچھ بھی نہیں کھایا۔ وہاں سے لوٹ کر اسی طرح رات کو سو گیا۔ صبح کو کافی دیر کے بعد ڈاکٹر شاہد صابری (امیدیہ) کے یہاں ناشتہ کیا۔ دوبارہ یہ ہوا کہ میز پر پھیلے ہوئے بہت سے آئیٹم میں سے صرف ایک دو چیز کھائی۔ اور بقیہ کو چھوڑ دیا۔
دہلی واپسی کے بعد میں نے برادرم کو کب الباری سے ڈاکٹر کوشل کے یہاں پیش آنے والا روٹی کا قصہ بتایا۔ انہوں نے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا۔ میں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ جب میز یا دستر خوان پر طرح طرح کے پر تکلف کھانے ہوں تو ان کو دیکھ کر میرا
شہیہ (appetite) ختم ہو جاتا ہے۔ بھوک کی حالت میں بھی کھانے کی رغبت نہیں ہوتی۔ زبردستی کچھ کھا لیتا ہوں۔ اس کے بر عکس اگر سادہ کھانا ہو تو کھانے کا جی چاہتا ہے اور میں بھوک کے مطابق شوق سے کھانا کھاتا ہوں۔
میں نے کہا کہ ایک بار میں جموں و کشمیر کے علاقہ میں گیا۔ ایک صاحب کے یہاں شام کے کھانے کی دعوت تھی۔ جن کے متعلق بتایا گیا تھا کہ وہ میرے فین (Fan) ہیں۔ انتہائی لذیذ اور پر تکلف کھانے پکوائے۔ دستر دستر خوان پر مختلف قسم کے کھانوں کے ساتھ خالص شہد اور تازہ بادام ہرے چھلکوں کے ساتھ رکھا ہوا تھا۔ انہوں نے مسرت کے انداز میں کہا کہ کل جب آپ یہاں سے جائیں گے تو ہم آپ کو شہد اور بادام کا تحفہ دیں گے۔
مگر دستر خوان پر پر تکلف اور خوشبودار کھانوں کو دیکھ کر وہی ہوا کہ میری رغبت ختم وہ مجھ سے بار بار کہتے رہے کہ یہ لیجیے، وہ لیجیے۔ مگر میں کچھ کھانہ سکا۔ میں نے صرف روٹی کا ایک ٹکڑا کھایا اور کچھ شہد اور بادام۔ اس پر صاحب خانہ غصہ ہو گئے۔ شاید انہوں نے اس کو توہین سمجھا کہ ان کے تیار کئے ہوئے پر تکلف کھانے کو میں نے نہیں کھایا۔ ان کا غصہ اتنا بڑھا کہ اگلے دن جب میں ان کے یہاں سے واپس ہو کر دہلی کے لئے روانہ ہوا تو انہوں نے حسب وعدہ مجھ کو نہ شہد کا تحفہ دیا اور نہ تازہ بادام کا۔
جموں اور کشمیر کے اس سفر میں ایک اور بالکل بر عکس واقعہ پیش آیا۔ ایک اسکول کے ماسٹر نے مجھے ناشتہ کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ میں صبح سویرے اسکول کے لئے بذریعہ بس روانہ ہو جاتا ہوں اس لئے آپ سویرے میرے گھر پر آجائیں تاکہ ہم آپ ایک ساتھ ناشتہ کر سکیں۔ میں نے کہا کہ میں صرف ایک شرط پر آؤں گا۔ وہ یہ کہ مجھے آپ وہی ناشتہ کرائیں جو آپ روزانہ انہوں نے میری یہ شرط مان لی۔
صبح سویرے میں اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ ان کے گھر پہنچا تو انہوں نے دستر خوان بچھایا اور اس پر دو چیز رکھی۔ سادہ روٹی اور اچار کا ایک ڈبہ۔ انہوں نے کہا کہ میں روزانہ یہی ناشتہ کرتا
اچار سے روٹی کھاتا ہوں اور ایک پیالی چائے پی کر فوراً اسکول چلا جاتا ہوں۔ میں نے سادہ روٹی اور اچار کا یہ ناشتہ بہت شوق کے ساتھ کھایا۔ یہ سادہ کھانا کھا کر اس سے زیادہ خوشی ہوئی جو کھانے کے شوقین لوگوں کو پر تکلف دعوتوں میں ہوتی ہے۔
ڈاکٹر کوشل کے یہاں کئی دوسرے لوگ بھی موجود تھے ان میں سے ایک صاحب وہ تھے جو آرٹ کے میدان میں آل انڈیا شہرت رکھتے ہیں۔ ایک اور صاحب تھے جو سینٹرل پالی ٹیکنیک کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ان لوگوں سے کافی گفتگو ہوئی۔
میں نے محسوس کیا کہ آرٹسٹ لوگوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ زندگی کے صرف لائٹ سائیڈ سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ کو یہ خصوصی مہارت حاصل ہے کہ آپ سائنٹفک سوالات کا بھی پومیٹک جواب دے سکیں۔ یہی حال موجودہ زمانہ کے سیاست دانوں کا ہوتا وہ اس بات کی کافی مہارت رکھتے ہیں کہ وہ مثبت ایشوز کو بھی منفی رنگ میں بیان کر سکیں۔ ایسے لوگ ہر بات میں ایسا پہلو نکال لیتے ہیں جس کی زد حکمراں گروہ پر پڑتی ہو۔ میں نے سوچا کہ اس دنیا میں ہر آدمی اپنے ماحول کے اعتبار سے کنڈیشنڈ ہو جاتا ہے اور کسی انسان کے لئے شاید سب سے زیادہ مشکل کام یہ ہے کہ وہ کنڈیشننگ کے اس ذہنی کہر سے باہر آجائے۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی کا کم و بیش یہی کیس ہے۔ ہر آدمی اپنے ماحول کے اعتبار سے کنڈیشنڈ تھنکنگ کا شکار ہے۔ ایسی حالت میں دعوتی عمل کا آغاز براہ راست خطاب سے نہیں ہو ضروری ہے کہ اس سے پہلے وہ کام کیا جائے جس کو تقریب ذہن کہا جاتا ہے۔ سے پہلے حکمت کے ساتھ ذہن بنانا اور اس کے بعد براہ راست دعوتی خطاب کرنا۔ عمل کا نام اسلامی شریعت میں تالیف قلب ہے۔
10 اپریل کی صبح کو فجر کی نماز کے بعد ڈاکٹر اسلم صاحب کے مکان کی چھت پر ٹہل رہا تھا۔ اس دوران کچھ لاؤڈاسپیکر کی آواز سنائی دی۔ میں نے دھیان دیا تو لاؤڈاسپیکر پر بولنے والا کہہ رہا تھا کہ : سورج نکلنے میں پانچ منٹ باقی ہیں۔
میں نے سوچا کہ آج ہر آدمی کے پاس گھڑی ہے۔ ہر آدمی کو پتہ ہے کہ سورج نکلنے یا ڈوبنے میں کتنے منٹ باقی ہیں مگر ایک اور خبر ہے جس کا علم کسی کو نہیں ہے، وہ خبر یہ ہے کہ ہر آدمی موت کے کنارے کھڑا ہوا ہے مگر کوئی یہ اعلان کرنے والا نہیں کہ تمہاری موت کے آنے میں صرف پانچ منٹ باقی ہیں۔
۱۰ اپریل کی صبح کو ڈاکٹر شاہد صابری صاحب کے ساتھ امبہٹہ کے لئے روانگی ہوئی جو کہ سہارنپور سے ۲۵ کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے، امبہٹہ میں وہ پبلک اسکول دیکھا جس کو ڈاکٹر شاہد صابری نے لمبی کوشش کے بعد قائم کیا ہے۔
امبہٹہ میں ڈاکٹر شاہد صابری کے مکان پر ایک اجتماع ہوا۔ اس میں وہاں کے تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ اس موقع پر اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں تقریبا ایک گھنٹہ گفتگو ہوئی۔ مختلف متعلق پہلوؤں کی وضاحت کی کوشش کی گئی۔ ایک صاحب کا خیال تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ تعصب اور زیادتی کا معاملہ کیا جاتا ہے ایسی حالت میں وہ یہاں کس طرح ترقی کر سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ ایک فرضی بات ہے۔ مسلمان بروقت ہی اس ملک میں زبردست ترقی کر رہے ہیں۔ اس ترقی کا نمونہ ہر بستی اور ہر شہر میں اس طرح دیکھا جاسکتا ہے کہ ان کی موجودہ حالت کا تقابل ان کی ۱۹۴۷ کی حالت سے کیا جائے۔ ملک کی جس مسلم فیملی کا اس روشنی میں جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہر مسلم فیملی ۱۹۴۷ کے مقابلہ میں آج بہت زیادہ ترقی کر چکی ہے۔ یہ سلیکٹیور پورٹنگ (selective reporting) کا پیدا کیا ہوا مسئلہ ہے۔ ہندوستان میں ہر دن ہزاروں گاڑیاں دوڑتی ہیں۔ لیکن میڈیا میں کبھی ان کی خبر نہیں آتی۔ میڈیا کبھی یہ نہیں بتاتا کہ فلاں ٹرین فلاں اسٹیشن سے اپنے وقت پر روانہ ہوئی اور سیکڑوں میل کا سفر کر کے فلاں اسٹیشن پر خیریت کے ساتھ پہنچ گئی۔ اس قسم کے مثبت واقعات میڈیا میں کبھی رپورٹ نہیں ہوتے اس لئے لوگ غیر شعوری طور پر ان سے بے خبر رہتے ہیں۔ لوگ صرف ان بری خبروں کو جانتے ہیں جو میڈیا میں رپورٹ ہوتے ہیں اور تصویروں کے ذریعہ جن کو خوب نمایاں کیا جاتا ہے۔
حادثاتی واقعات ہیں جو ریلوے کی دنیا میں کبھی کبھی اتفاقاً پیش آجاتے ہیں۔ ان استثنائی واقعات کو پڑھ کر وہ سمجھتے ہیں کہ ریلوں میں روزانہ حادثہ ہی ہو تار ہتا ہے۔
موجودہ زمانہ میں پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا نے یہ مسئلہ بہت بڑے پیمانہ پر پیدا کیا بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ موجودہ زمانہ کے اکثر فکری اور عملی مسائل براہ راست یا بالواسطہ طور پر اسی میڈیا کی پیداوار ہیں۔
پھر میں نے کہا کہ مسلمانوں کی جو تصویر عام طور پر لوگوں کے ذہن میں ہے وہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے بلکہ میڈیا پر مبنی ہے اور میڈیا گویا سلیکٹیو رپورٹنگ کی ایک انڈسٹری ہے جو اچھی خبروں کو نظر انداز کرتی ہے اور صرف بری خبروں کو پیش کرتی ہے۔ اس غلط تصویر کشی میں سب سے زیادہ دخل اردو اور ہندی اخباروں کا ہے۔
اس سلسلہ میں دوسری بات میں نے یہ کہی کہ موجودہ زمانہ میں صنعتی انقلاب کے بعد ایک قسم کا اقتصادی انفجار (economic explosion) آیا ہے۔ اس لئے آج کسی کے لئے بھی عام حالات میں اقتصادی محرومی کا سوال نہیں۔
ڈاکٹر شاہد صابری نے ہاروت و ماروت کے بارے میں سوال کیا۔ جن کا قصہ قرآن (البقره ۱۰۲) میں آیا ہے۔ میں نے کہا کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہود کی اصلاح کے لئے بھیجے گئے تھے۔ بابل (عراق) کا مشرک بادشاہ فلسطین کے یہودیوں کو بڑی تعداد میں پکڑ کر بابل لے گیا اور وہاں وہ خدمت گار کے طور پر رہنے لگے۔ اس زمانہ میں بابل میں جادو اور عملیات کا بہت زور تھا بڑے بڑے ساحر وہاں موجود تھے۔ ان کے ساحرانہ کرشموں کو دیکھ کر یہودی بہت متاثر ہوتے تھے۔
جو لوگ سحر کے کرشمے دکھاتے ان کو وہ بزرگ اور صاحب کرامت سمجھ لیتے۔ اللہ تعالیٰ نے ہاروت و ماروت کی صورت میں دو فرشتے بابل کی طرف بھیجے۔ وہ وہ وہی ساحرانہ کرشمے زیادہ بڑے پیمانہ پر دکھا سکتے تھے جو بابل کے ماہر جادو گر دکھاتے تھے۔ اس کے ساتھ
ہاروت و ماروت یہ بھی کہتے کہ یہ محض فتنہ ہے اس کا بزرگی اور خدارسیدگی سے کوئی تعلق نہیں۔ ہاروت و ماروت چونکہ خود بھی جادو جیسے بڑے بڑے کرشمے دکھا سکتے تھے اس لئے ان کی زبان سے ان کرشموں کی نفی بیحد اہم تھی۔ عام آدمی اگر کہے کہ ساحرانہ شعبدے بے حقیقت ہیں تو لوگ اس کو وزن نہ دیں گے۔ مگر جو شخص خود بڑے بڑے ساحرانہ شعبدے دکھا رہا ہو جب وہ یہ کہے کہ یہ کوئی بزرگی اور کرامت کی چیز نہیں تو اس کے بعد لوگوں کے لئے یہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ یہ سب چیزیں چمتکار ہیں نہ کہ بزرگی یا خدارسیدگی کی علامت۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے اس ملاقات کا ذکر کیا جو چند دن پہلے دہلی میں یہ مسٹر مارک تلی (Mark Tully) کی ملاقات تھی۔ وہ ایک سینئر برٹش صحافی ہیں۔ وہ آج کل نئی دہلی میں رہتے ہیں۔
مسٹر مارک تلی ہندوستانی مسلمانوں پر ایک کتاب لکھ رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں وہ مجھ سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمان آج پاکستان کے مسلمانوں سے بھی زیادہ ترقی کر چکے ہیں۔ اس پر انھیں تعجب ہوا۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں صرف اتنا ہی جانتے ہیں جو میڈیا میں آتا ہے۔ اور میڈیا کا حال یہ ہے کہ وہ سلیکٹیو رپورٹنگ کی انڈسٹری ہے۔ یعنی بری خبروں کو چھاپنا اور اچھی خبروں کو چھوڑ دینا۔ میں نے بتایا کہ چند دن پہلے میں بی بی سی لندن کی نشریات کو سن رہا تھا۔ اناؤنسر نے ماریشسس کے ایک ہندو کا خط پڑھ کر سنایا۔ اس میں یہ شکایت کی گئی تھی کہ آپ اپنے نیوز بلیشین میں ماریش کی خبریں نہیں اناؤنسر نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ ماریشس میں سب گڈنیوز ہوتی ہیں۔ اور جدید میڈیا کے اصول کے مطابق good news is no news- آپ لوگ کچھ بیڈنیوز (bad news) فراہم کریں تو ہم ضرور ان کو نشر کریں گے۔
امبہٹہ سے واپس ہو کر سہارنپور پہنچا تو یہاں ڈاکٹر اسلم صاحب کے مکان پر بہت سے تعلیم یافتہ افراد منتظر تھے۔ ان میں ہندوبھی تھے اورمسلمان بھی۔ ان سے دیر تک مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔
ایک مجلس میں آخرت اور جنت و دوزخ کا ذکر ہوا۔ ایک صاحب نے کہا کہ جنت ہمارے عمل سے تو ملے گی نہیں۔ وہ تو اللہ جس کو چاہے گادے گا۔ اس رائے کی تائید میں انہوں نے بعض آیتیں اور حدیثیں پیش کیں۔
میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے بھی میرا عمل جنت میں نہیں پہنچائے گا۔ الا یہ کہ خدا اپنی رحمت اور اپنے فضل سے مجھے ڈھانک لے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ جنت کا عمل سے کوئی تعلق نہیں۔ اصل یہ ہے کہ جنت کی معیاری دنیا اتنی زیادہ قیمتی ہے کہ عمل کی کوئی بھی مقدار اس کی قیمت نہیں بن سکتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت کسی عمل کی قدر دانی کی بنا پر ملے گی نہ کہ اس عمل کی قیمت کے طور پر۔ قیامت میں خدا ہر ایک کے عمل کو جانچے گا۔ پھر جس آدمی کے عمل کو خالص اور قابل قدر پائے گا اس کی عزت افزائی اس طرح کرے گا کہ اس کے لئے جنت کا فیصلہ فرمادے گا۔
ایک مجلس میں تصوف پر اظہار خیال کرتے ہوئے میں نے کہا کہ حقیقی تصوف وہ ہے جس کو قرآن میں ربانیت کہا گیا ہے۔ اس تصوف کا مطلب ہے، خارج سے بلند ہو کر داخل کا تجربہ الفاظ سے گزر کر معانی تک پہنچ جانا۔ میں نے کہا کہ ایک صوفی کا قول ہے: انتم مع اوراد کم ونحن مع وارداتنا۔ اس طرح کے اقوال کو کچھ ناقدین تصوف نے مطلق معنوں میں لے کر یہ سمجھ لیا کہ تصوف ظاہری عمل کی نفی ہے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ اس طرح کے اقوال صرف ایک کے مقابلہ میں دوسرے پر زور دینے کے لئے ہوتے ہیں۔ مذکورہ قول کا مطلب یہ ہے کہ عام لوگ اور ادیا ظاہری عمل ہی کو سب کچھ سمجھ لیتے ہیں۔ حالانکہ اصل یہ ہے کہ آدمی کا ظاہری عمل اس کے اندرواردات یااعلیٰ کیفیات پیدا کرنے کا ذریعہ بن رہا ہو۔
ایک مجلس میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ جبری مادیت (compulsive materialism) کا زمانہ ہے۔ ہر آدمی مال کمانے کی طرف دوڑ رہا ہے تا کہ وہ سماج میں اعلیٰ اسٹیٹس کو حاصل کر مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ مال اور سامان کا ڈھیر لگانے کے بعد آخر کار آدمی محسوس کرتا
ہے کہ وہ ایک ناکام انسان ہے۔ کیوں کہ مال کا مقصد خوشی اور سکون تھا، اور وہ مال کے باوجود اس کو نہ مل سکا۔
اس تضاد پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اصل چیز مال نہیں ہے بلکہ اصل چیز مال سے انتفاع یا انجوائے کرنے کی استعداد ہے۔ موجودہ دنیا میں آدمی کو جو وجود ملا ہے وہ مختلف قسم کی محدودیتوں (limitations) کو اپنے ساتھ لئے ہوئے ہے۔ یہی محدودیتیں اس میں رکاوٹ ہیں کہ آدمی یہاں چیزوں سے انجوائے کرے۔ آخرت میں یہ محدودیتیں ختم کر دی جائیں گی۔ اس وقت آدمی اس قابل ہو جائے گا کہ وہ اپنی بھر پور استعداد (full capacity) کے ساتھ جی سکے۔ اور اسی قسم کی زندگی کا دوسرا نام خوشی اور سکون ہے۔
سہارنپور کے علاقہ میں بہت سے دینی مدرسے ہیں۔ ان میں سے دو زیادہ بڑے ہیں۔ دار العلوم دیوبند اور مظاہر العلوم سہارنپور ۔ ان مدرسوں کے ذریعہ دینی تعلیم کی اشاعت کا کام بہت بڑے پیمانہ پر انجام پایا ہے۔
سہارنپور سے ایک اردو ماہنامہ آئینہ مظاہر العلوم کے نام سے نکلتا ہے۔ اس کا شمارہ مارچ تا مئی ۲۰۰۰ نظر سے گذرا۔ اس میں ”دینی مدارس کی اصلی غرض “ کے عنوان سے مولانا اشرف علی تھانوی کی ایک تحریر شائع ہوئی تھی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ مدارس کے علمی معیار کو بڑھانے کی صورت یہ ہے کہ مدارس میں زیادہ اعلیٰ قابلیت کے افراد رکھے جائیں۔ اس تحریر کا ایک اقتباس یہ ہے :
”کوئی مدرسہ کھولنا ہو تو آج کل عادت یہ ہو گئی ہے کہ جو مدرسہ کی اصلی غرض ہے اس کی طرف تو لوگ نظر کرتے نہیں زوائد کو شروع کر دیتے ہیں۔ سب سے پہلے عمارت بنتی ہے اور وہ بھی ایسی ہوتی ہے کہ لوگ تماشہ کے لئے آیا کریں۔ روپیہ جو کچھ ہوتا ہے وہ تو اس میں خرچ ہو جاتا ہے اور جو اصل غرض تھی اس میں تخفیف کی جاتی ہے۔ غرض تعلیم ہے۔ اس میں تخفیف یوں کی جاتی ہے کہ مدرسین بہت کم تنخواہ کے
ڈھونڈے جاتے ہیں۔ مدرس جتنا کم تنخواہ پر مل جائے اسی کو مہتمم اپنی کارگزاری سمجھتے مقصود یہ ہوتا ہے کہ مدرسین کی تعداد بڑھا لیں چاہے وہ فارغ التحصیل بھی نہ ہوں۔ بس تماشائیوں کو دکھلا دیا کریں کہ ہمارے مدرسہ میں اتنے مدرسین ہیں۔ کمال تو کسی فن کے بھی سستے نہیں آتے۔ اچھا کاریگر، معمار مزدور کی اجرت پر نہیں آسکتا، اچھا دھوبی معمولی دھوبیوں سے دام زیادہ ہی لیتا ہے۔ پھر مدرس وہ کیسے اچھا ہو گا جو کم تنخواہ پر آ جاوے۔ بات یہ ہے کہ ہر چیز میں تو آج کل ترقی ہے اور دین میں پست ہمتی دنیا کی ہر چیز میں تو وہی چیز پسند کی جاتی ہے جو اعلیٰ درجہ کی ہو اور دین میں ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ کو بھی کافی سمجھ لیتے ہیں، افسوس آج کل حقیقت شناسی سے کس قدر بعد ہو گیا
ایک مجلس میں ایک صاحب نے آرٹ کے بارے میں سوال کیا۔ کیا اسلام میں آرٹ کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ مثلاً رقص، موسیقی، پینٹنگ، گانا وغیرہ۔ میں نے کہا کہ یہ چیزیں اسلام میں صراحۃً حرام نہیں کی گئی ہیں۔ مگر اسلام اس کی حوصلہ افزائی بھی نہیں کرتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آرٹ خواہ حرام نہ ہو مگر اس کا ایک اور شدید نقصان ہے۔ اور وہ یہ کہ جو لوگ اس قسم کی چیزوں میں مشغول ہوتے ہیں وہ زندگی کے صرف لائٹ (light) سائیڈ میں دلچسپی لینے لگتے ہیں۔ زندگی کے زیادہ سنجیدہ (serious) سائیڈ میں ان کی دلچسپی کم یا ختم ہو جاتی ہے۔ اور یہ بلاشبہ کسی انسان کی حقیقی ترقی کے لئے بہت بڑی رکاوٹ ہے۔
۱۰ اپریل کو دو بجے ہوٹل پنجاب کے وسیع ہال میں عام جلسہ ہوا۔ پورا ہال مکمل طور پر بھرا بہت سے لوگ جگہ نہ پانے کی بنا پر کھڑے ہوئے نظر آئے۔ اس جلسہ میں جناب جسٹس شمیم صاحب اور مسٹر امین سیانی اور بعض دوسرے افراد کی تقریریں ہوئیں۔ مسٹر امین سیانی ریڈیو کے ذریعہ کافی شہرت حاصل کر چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں میل ملاپ کا پیغام جناب جسٹس شمیم صاحب مائنارٹی کمیشن کے چر مین ہیں۔ انھوں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ
موجودہ حالت میں ہماری سب سے بڑی ضرورت نیشنل انٹیگریشن ہے۔ جب تک نیشنل انٹیگریشن نہ ہو کوئی بڑی ترقی ممکن نہ ہوگی۔
اس جلسہ میں مجھ کو تقریر کا جو عنوان دیا گیا تھا وہ اسلام اور سائنس تھا۔ میں نے اپنی مفصل تقریر میں بتایا کہ سائنس اسلامی انقلاب ہی کی ایک پیداوار ہے۔ سائنس کیا ہے۔ حقائق فطرت کی دریافت پر مبنی ہے۔ فطرت (نیچر) اسلام سے پہلے پرستش کا موضوع بنی ہوئی اسلام سے پہلے ساری دنیا میں شرک کا غلبہ تھا، اور شرک فطرت کی پرستش (نیچر در شپ) کا دوسرا نام ہے۔ فطرت کی چیزوں کو قابل پرستش معبود سمجھ لینے کی وجہ سے فطرت کی تحقیق رکی ہوئی تھی۔ اسلام نے جب فطرت کو پرستش کے بجائے تسخیر کا موضوع بنایا تو اس کے بعد علوم فطرت ظہور میں آنا شروع ہوئے۔ اس طرح تاریخ میں سائنس کے دور کا آغاز ہوا (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب اسلام دور جدید کا خالق)
ایک مجلس میں مسٹر امین سیانی (بمبئی) نے یہ سوال کیا کہ حب الوطني من الایمان قرآن میں ہے یا حدیث میں۔ میں نے کہا کہ وہ نہ قرآن میں ہے اور نہ حدیث میں۔ ایک عربی مقولہ ہے۔ پھر میں نے کہا کہ یہ عربی مقولہ فطرت پر مبنی ہے۔ وہ انسانی فطرت کا ایک لازمی حصہ ہے۔ حب الوطني من الایمان تو قرآن و حدیث میں نہیں۔ مگر معمولی فرق کے ساتھ وہ ہر آدمی کے سینہ کے اندر لکھا ہوا ہے اور وہ یہ ہے: حب الوطني من الفطرة ۔ میں نے کہا کہ قرآن میں کہیں یہ لکھا ہوا نہیں کہ اے ماؤ تم اپنے بیٹوں سے محبت کرو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ماؤں کو اپنے بیٹوں سے محبت نہیں کرنا چاہئے۔ بیٹے کے لئے ماں کے دل میں محبت ہونا خود انسانی فطرت میں لکھا ہوا ہے۔ ایسی حالت میں اس کو قرآن میں لکھنے کی اس لئے اس کو قرآن میں درج نہیں کیا گیا۔ بلکہ فطرت انسانی پر اعتماد کرتے ہوئے اس کو چھوڑ دیا گیا۔
یہاں ایک صاحب تھے جن کا نظریہ یہ ہے کہ قرآن اور وید ایک ہی ہیں۔ انہوں نے اپنے
اس نظریہ کے حق میں قرآن کی ایک آیت پیش کی: وانہ لفی زبر الاولین (الشعراء ۱۹۶) انہوں نے کہا کہ زبر الاولین آدی گرنتھوں کا لفظی ترجمہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوجس کو آدی گرنتھ کہتے ہیں اس کی باتیں قرآن میں بھی آئی ہیں۔
یہ دلیل نہیں بلکہ لفظی تک بندی ہے۔ لفظی مشابہت سے کوئی بھی چیز ثابت نہیں اگر یہ کوئی دلیل ہو تو ایک شخص یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ قرآن میں بھارت کے آدی باسیوں کا تذکرہ موجود ہے کیوں کہ قرآن میں آیا ہے کہ فی شیع الاولین (الحجر ۱۰) ۱۰)اورشیع الاولین آدی باسی کا لفظی ترجمہ ہے۔
لفظی مشابہت سے استدلال کا دائرہ اتنا زیادہ وسیع ہے کہ اس کے ذریعہ کچھ بھی ثابت کیا مثلاً ایک شخص نے کہا کہ انگریزی زبان کے تمام الفاظ اردو زبان سے لئے گئے ہیں۔ سننے والے نے کہا کہ وہ کیسے ۔ کہنے والے نے کہا کہ آپ کوئی لفظ بتائیے اور میں ابھی اس کو ثابت سننے والے نے کہا کہ ڈیکوریشن (decoration) کس اردو لفظ سے لیا گیا ہے۔ والے نے فورا کہا: دیکھور نے شان سے۔ اسی طرح کہنے والے نے کہا کہ انگریزی شاعری سب کی سب ہندوستان سے امپورٹ کی گئی ہے۔ اس کے ثبوت میں اس نے کہا کہ شیکسپئر اصل میں ایک ہندوستانی شاعر شیخ پیرو تھا جس کو انگریزوں نے انگریزی میں ڈھال کر شیکسپئر بنادیا۔ ایک مجلس میں اس پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ہندوستان میں دو قسم کے مذہبی رجحان نہایت غلط ہیں۔ اور ان سے کسی کو کوئی فائدہ ملنے والا نہیں۔ ان میں سے ایک رجحان یہ ہے کہ تمام مذاہب ایک ہیں۔ مگر یہ ایک بے بنیاد بات ہے جس کا علمی مطالعہ سے کوئی تعلق مثلاً خدا کا تصور ہندو ازم میں مانزم (monism) پر مبنی ہے اور اسلام میں مانوتھی ازم ہندو ازم میں خدائی اوتار کا تصور ہے اور اسلام میں پیغمبر کا تصور۔ ہندو ازم میں پنر جنم کا عقیدہ ہے اور اسلام میں موت کے بعد ہی جزاء وسزا کا تصور، وغیرہ۔ اس معاملہ میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ ایک مذہب اور دوسرے مذہب کے درمیان فرق
(difference) کا انکار کرنے کے بجائے علمی ڈائیلاگ کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ احترام کرتے ہوئے لوگ آپس میں اسی طرح مذہبی موضوعات پر کلام کریں جس طرح سیکولر لوگوں کے درمیان سائنسی موضوعات پر کھلی بحث کی جاتی ہے۔ اور کوئی اس کو برا نہیں مانتا۔ اس سلسلہ میں دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ سماجی ہم آہنگی قائم کرنے کے لیے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ تمام مذاہب کی تعلیمات ایک ہیں۔ مگر بطور واقعہ یہ دعویٰ درست نہیں۔ مثال کے طور پر ہندو مذہب میں یہ عقیدہ ہے کہ آدمی موجودہ زندگی میں جو کرم کرتا ہے اس کو وہ دوبارہ اسی دنیا میں واپس آکر بھوگتا ہے اور یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا رہتا ہے۔ جبکہ اسلام میں یہ عقیدہ ہے کہ موجودہ زندگی میں آدمی جو عمل کرتا ہے اس کا انجام موت کے بعد ہی اس کے سامنے آجاتا ہے اور جنت یا جہنم کی صورت میں وہ اس کو پاللیتا ہے، وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ سماجی ہم آہنگی کا کوئی تعلق مذہبی یکسانیت سے نہیں۔ اگر ایسا ہو تا تو ایک ہی مذہب کے ماننے والے آپس میں نہ لڑتے جب کہ باہم لڑائی کی مثالیں ہر مذہب کے ماننے والوں میں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ سماجی ہم آہنگی کے لئے زیادہ صحیح فار مولا یہ ہے کہ لوگ اپنے عقیدہ کے مطابق، ایک مذہب پر عمل کریں اور دوسرے مذہب کے پیروؤں کا احترام