Al-Risala · August 2000

Follow one, respect all

Al-Risala, August 2000, pp. 38–39

By Maulana Wahiduddin Khan

کئی اخباروں نے تفصیلی انٹرویو لینا چاہا مگر وقت کی کمی کی بنا پر ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ ہندی اخبارراشٹریہ سوروپ کے دو نمائندے مسٹرٹی ایم گاندھی اورمسٹرونود پیشگی اپائنٹمنٹ کے بغیر میری قیام گاہ پر آگئے۔ انھوں نے مختلف ملکی اور ملی مسائل پر سوالات کئے جن کا میں نے ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ ملک کا اصل مسئلہ تعلیم ہے۔ جب تک تعلیم میں قوم آگے نہیں بڑھے گی کوئی بھی ترقی نہیں ہوسکتی۔

۱۰ اپریل ۲۰۰۰ کی شام کو سہارنپور سے دہلی کے لئے واپسی ہوئی۔ یہ سفر دوبارہ شتابدی

اکسپریس کے ذریعہ طے ہوا۔ یہ ٹرین جاتے ہوئے بھی ٹھیک ٹائم پر تھی اور واپسی میں بھی وہ اپنے ٹھیک ٹائم پر 11 بجے رات کو دہلی پہنچ گئی۔

بہت دنوں سے ٹرین میں میرا کوئی سفر نہیں ہوا تھا اس لئے جب سہارنپور کا یہ سفر پیش آیا تو ذہن میں ایک موہوم سی تشویش پیدا ہوگئی۔ اس مدت میں مجھے ٹرینوں کا ذاتی تجربہ تو نہیں تھا لیکن میڈیا میں میں اس کی خبریں سنتا اور پڑھتا رہا۔ فلاں جگہ ٹرین پٹری سے اتر گئی، فلاں جگہ دو گاڑیاں آمنے سامنے سے ٹکرا گئیں، فلاں جگہ ریلوے کراسنگ پر ٹرین اور بس کی ٹکر ہو گئی۔ فلاں جگہ ٹرین میں آگ لگ گئی۔ اس قسم کی خبروں کی بنا پر ذہن میں ٹرین کی جو تصویر بنی تھی وہ بظاہر یہ تھی کہ ٹرین ایک ایسی سواری ہے جو اکثر حادثات کا شکار ہوتی رہتی ہے لیکن جب میں نے ٹرین کے ذریعہ سفر کیا تو میں خیریت کے ساتھ دہلی سے سہارنپور گیا اور سہارنپور سے دہلی واپس آگیا۔

Printed page