سوال و جواب
Al-Risala, August 2000, pp. 40–44
By Maulana Wahiduddin Khan
کیا مادیت اپنے زوال کے بعد از سر نو عروج کو پہنچے گی؟ کیا جدید مادیت کا زوال ہو رہا ہے؟ اگر زوال ہو رہا ہے تو اس کی علامتیں کیا ہیں اور اگر اس کا زوال نہیں ہو رہا ہے تو آئندہ کب اس کا زوال ہو گا۔ کیوں کہ فارسی کا ایک مقولہ ہے کہ : ہر کمالے را زوال (طارق اشفاق، علیگڑھ) میٹریلزم کے دو مطلب ہیں۔ فلسفیانہ معنوں میں میٹریلزم خدائی مذہب کے بالمقابل ایک اور مذہب کی حیثیت رکھتا ہے جو صرف مادہ کو واحد حقیقت مانتا ہے۔
In phliosophy, the doctrine that matter is the only reality and that everything in the world, including thought, will, and feeling, can be explained only in the terms of matter. (Webster's, p. 1110)
میٹریلزم اس مفہوم میں عملاً ختم ہو چکا ہے۔ جدید سائنس نے میٹر کے اس تصور کو مکمل طور پر بے بنیاد ثابت کر دیا ہے جس کے اوپر مادی فلسفہ کا نظریہ قائم تھا۔ میٹریلزم کے لئے اب کوئی نظریاتی بنیاد نہیں۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کی کتاب، "مذہب اور سائنس“۔ میٹریلزم کا دوسرا مفہوم وہ ہے جو عملی طور پر لوگوں کے اندر قائم ہے یعنی مادی خوشی یا مادی فائدے کو سب کچھ سمجھنا۔ مادی ترقی کو زندگی کا مقصد قرار دینا۔ اس دوسرے مفہوم میں میٹریلزم ہر دور میں تھی اور آج بھی وہ پوری طرح زندہ ہے۔ بیشتر لوگ اس کو اپنا مقصود بنائے میرے خیال کے مطابق اس دوسرے مفہوم میں میٹریلزم کبھی مرنے والا نہیں۔ وقتی لذت یا وقتی خوشی کا فریب اتنا زیادہ پر کشش ہے کہ آدمی کبھی اس کے سحر سے نجات نہیں اس لئے وہ کبھی اس مفہوم میں میٹریلزم کو نہیں چھوڑے گا۔
جہاں تک مادی تہذیب کا تعلق ہے، وہ میرے نزدیک مستقل بالذات کوئی چیز نہیں۔ انسانوں کی مادیت پسندی اجتماعی صورت اختیار کر کے تہذیب بن جاتی ہے۔ تاریخ کی ہر تہذیب بنیادی طور پر مادی تہذیب ہی تھی اس لئے اگر ایک مادی تہذیب مٹے تو عملاً
صرف یہ ہوگا کہ اس کی جگہ دوسری مادی تہذیب آجائے گی۔ اس دنیا میں فرد کی حیثیت سے غیر مادی انسان کا وجود تو ممکن ہے مگر اجتماعی معنوں میں کسی ایسی انسانی تہذیب کا قائم ہونا شاید ممکن نہیں جو مجموعی معنوں میں غیر مادی اصولوں پر قائم ہو۔
موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے بارے میں سنجیدہ لوگ عام طور پر یہ شکایت کرتے ہیں کہ وہ اپنی سوچ کے اعتبار سے جذباتی ہو گئے ہیں۔ ان کے اندر حقیقت پسندانہ مزاج موجود جب کہ کسی بھی ترقی کے لئے غیر جذباتی سوچ اور حقیقت پسندانہ مزاج لازمی طور پر موجودہ مسلمانوں کا یہ مزاج کیسے بنا اور اس کو کس طرح دور کیا جا سکتا ہے۔ عبد الستار، مدراس)
میرے نزدیک اس غیر حقیقت پسندانہ سوچ کا آغاز زیادہ نمایاں طور پر انیسویں صدی میں اس زمانہ میں مغربی قو میں مسلم علاقوں میں داخل ہو گئیں، انھوں نے تقریباً ہر جگہ براہ راست یا بالواسطہ انداز میں سیاسی اور تہذیبی طور پر غلبہ حاصل کر لیا۔ یہ وقت معاملہ کی تشخیص کا تھا۔ بد قسمتی سے اس وقت کے مسلم رہنماؤں نے معاملہ کی غلط تشخیص کر کے مسلمانوں کی سوچ کو غلط رخ پر ڈال دیا۔ ان حضرات نے مسلمانوں کو بتایا کہ اس واقعہ کے پیچھے تمام تر مغربی قوموں کی سازش اور ان کی دشمنی ہے۔ جب کہ صحیح بات یہ تھی کہ مسلمان اب اپنے دور زوال میں پہنچ چکے تھے اور دوسری طرف مغربی قو میں تازہ دم قوتوں سے مسلح ہو کر آ رہی تھیں۔ اس کے بعد جو کچھ قانون فطرت کے تحت ہواوہ عین وہی تھا جو مقابلہ کی اس دنیا میں ہمیشہ پیش آتا ہے۔
اس وقت مسلم رہنماؤں کو چاہئے تھا کہ وہ مسلمانوں سے یہ کہیں کہ جو کچھ ہوا ہے وہ قانون فطرت کے تحت ہوا ہے اور وہ خود تمہاری اپنی کمزوریوں کا نتیجہ ہے۔ اگر وہ ایسا کہتے تو مسلمانوں
میں تعمیر خویش کا جذبہ جاگ اٹھا۔ مگر جب انہوں نے اس معاملہ کو اغیار کی سازش اور دشمنی کا نتیجہ قرار دیا تو مسلمانوں میں غیر قوم کے خلاف نفرت کی آگ بھڑک اٹھی۔ پورا مسلم معاشرہ منفی سوچ کا شکار ہو گیا۔ اس کا نتیجہ وہ چیز ہے جس کو آپ نے جذباتی سوچ کا نام دیا ہے۔ اس طرح تقریباً دو سو سال پہلے مسلمانوں کے اندر جذباتی طرزِ فکر شروع ہوا۔ بڑھتے پوری مسلم ملت پر چھا گیا۔ اب ضرورت ہے کہ اس جذباتی طرزِ فکر کو توڑا جائے اور لوگوں میں حقیقت پسندی کا مزاج پیدا کیا جائے۔ مگر یہ کام ایک بھاری قربانی چاہتا ہے۔ اور وہ قربانی شخصی مقبولیت کی قربانی ہے۔ جو آدمی اس مزاج کو ختم کرنے کے لئے اٹھے گا یقینی طور پر وہ مسلمانوں میں غیر مقبول ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ملت کے فہیم حضرات مصلحت کا انداز اختیار کئے ہوئے ہیں۔ وہ مسلمانوں کے مزاج کو توڑنے کی بجائے اس کو وہ غذا دے رہے ہیں جو اس کو پسند ہے تاکہ وہ اپنے آپ کو مسلمانوں کے اندر غیر مقبول ہونے سے بچائیں۔ موجودہ حالات میں مسلمانوں کو ایک ڈیگال کی ضرورت ہے۔ یعنی وہ شخص جو اپنی مقبولیت کی موت کے اوپر مسلمانوں کی زندگی کی بنیاد رکھ سکے۔ جو مسلمانوں کی جذباتیت کو ختم کر کے ان کو حقیقت پسند بنائے، جو آدمی جذباتی تسلسل کو توڑنے کی کوشش کرے گا، ممکن ہے کہ وہ مسلمانوں کی پہلی نسل میں غیر مقبول ہو جائے مگر یہی وہ حوصلہ مند شخص ہے جو اپنی ذاتی قربانی کی بنیاد پر ملت کے مستقبل کی تعمیر کرے گا۔ تاریخ گواہ ایسے ہی ایک بہادر انسان کا انتظار ہے۔ الرساله جنوری ۲۰۰۰ میں ایک مضمون " مستقبل کی قیادت " کے عنوان سے ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ: "ملک کے uper cast (ہندو) کے پاس جو آئیڈیالوجی ہے اس میں اونچی ذات والوں کے لئے تو با عزت جگہ ہے، مگر نیچی ذات اور غریب عوام کے لئے اس میں کوئی با عزت جگہ "مگر مسلمانوں میں بھی اسی طرح کی تفریق و کمزوری ہے، وہ کس آئیڈیالوجی یا سسٹم کے تحت ہے اس گمبھیر معاملہ کی وضاحت فرمائیں۔ (انوار الحق، شیخ پورہ)
برادران وطن کے اندر اونچی ذات اور نیچی ذات کی جو تقسیم ہے وہ ان کے مذہبی عقیدہ کی بنیاد پر قائم ہے، اس کو ورن آشرم کہا جاتا ہے۔ اس حقیقت کا اعتراف خود ہندوؤں کے بڑے بڑے اہل علم نے کیا ہے، مثال کے طور پر دادا صاحب کا لیکر۔ اس کے برعکس مسلمانوں میں آج جو تفریق نظر آتی ہے وہ ایک عملی تفریق ہے۔ وہ مسلمانوں کے اپنے قومی تنزل کے سبب سے وجود میں آئی ہے۔ اس صورت حال کی ذمہ داری مسلمانوں پر ہے نہ کہ اسلام پر۔ موجودہ تفریق کو مسلمانوں کی اصلاح کے ذریعہ ختم کیا جا سکتا ہے مگر برادران وطن کے درمیان جو تفریق ہے وہ اس وقت ختم ہو گی جب کہ خود ان کے مذہب میں ریفارم لایا جائے۔ میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کر رہا ہوں۔ آپ کی تحریروں کو پڑھ کر میرے اندر یہ جذبہ پیدا ہوا ہے کہ میں دعوت کا کام کروں۔ میری آرزو ہے کہ اپنی ڈگری لینے کے بعد میں کسی ایسے جامعہ میں داخل ہو جاؤں جو اس دور کی تمام ضروریات کو پورا کرتا ہو۔ اور لوگوں کو تذکیر و تبلیغ کا فریضہ ادا کرنے کے قابل بناتا ہو۔ (محمد سعید - پاکستان)
دعوت کو اپنی زندگی کا مقصد بنانے کا جذبہ بے حد قیمتی ہے۔ مگر پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک میں تعلیم و تربیت کا کوئی ایسا ادارہ موجود نہیں جو ایک آدمی کو داعی کامل بنائے۔ داعی خود اپنی کوششوں سے بنتا ہے نہ کہ کسی ادارہ کی تعلیم و تربیت سے۔ پاکستان میں دعوتی کام کے عظیم مواقع موجود تھے مگر وہاں کے اسلام پسند رہنماؤں کی ایک غلط فکر نے سارے امکان کو تباہ کر دیا۔ وہ فکر یہ کہ اسلامی دعوت کا کام اس وقت ہو سکتا ہے جب کہ یہاں اسلامی حکومت قائم ہو جائے۔ اس غلط سوچ نے پاکستان کی اسلامی تحریک کو عملاً سیاسی تخریب کے راستہ پر ڈال دیا۔ بہترین مواقع کے ہوتے ہوئے وہ کوئی مثبت دعوتی کام نہ کر سکے۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں کرنے کا اصل کام اسلامائزیشن آف مین تھا مگر ان لوگوں نے اسلامائزیشن آف اسٹیٹ کو اپنا نشانہ بنایا۔ یہ نہ صرف ایک غیر اسلامی نشانہ تھا بلکہ وہ اللہ کی ناقدری بھی تھی۔ موجودہ زمانہ میں پریس اور میڈیا اور کمیونی کیشن اور انٹرنیٹ نے دعوت کے مواقع کو ہزاروں گنا زیادہ وسیع پیمانہ پر ہمارے لئے کھول دیا ہے۔ ایسے دور میں اسلام کے نام پر تخریبی سیاست چلانا صرف ایک جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر میں یہ کہوں گا کہ وہ اللہ کی نعمتوں کی ناقدری ہے۔ اللہ نے کمیونی کیشن کے عالمی ذرائع کھول کر ہم کو یہ موقع دیا ہے کہ ہم نہایت تیز رفتاری کے ساتھ اسلام کے پیغام کو ساری دنیا تک پہنچا سکیں۔ کے اس کام میں آج کسی بھی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں۔ ایسی حالت میں اسلام کے نام پر تخریبی سیاست چلانا گویا اسلام کو ذبح کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی سیاست ایک ایسا جرم ہے جو اسلام کی پوری تاریخ میں کبھی نہیں کیا گیا۔ یہ مواقع کو تباہ کرنا اور تخریبی نشانوں پر قوم کو دوڑانا ہے جس سے بڑا کوئی جرم نہیں ہو سکتا۔
آپ جیسے نوجوانوں کو میرا مشورہ ہے کہ آپ اپنے حالات کے اعتبار سے دعوت کا کام شروع کر دیں۔ آپ کا دعوتی کام ہی آپ کے لئے وہ تربیت گاہ بن جائے گا جہاں آپ کو فطری عمل کے دوران دعوتی تربیت ملتی رہے۔ دعوت ہمیشہ حقیقی تجربہ کے دوران سیکھی جاتی ہے نہ کہ کسی رسمی کورس کے ذریعہ۔
قرآن میں ارشاد ہوا ہے : اتقوا الله و يعلمكم الله (البقره ۲۸۲) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علم کا اصل سر چشمہ تقویٰ ہے۔ آدمی کا اخلاص اور اس کا خوفِ خدا، دیانت داری اور شفقت علی الخلق اور مسئولیت کا احساس، یہی وہ چیزیں ہیں جو کسی آدمی کے لئے علم و آگہی کی سب سے بڑی ضمانت ہیں۔
تقویٰ کا تعلق علم سے یہ ہے کہ تقویٰ آدمی کے ذہن کو بیدار کرتا ہے۔ وہ انسان کی سوئی ہوئی صلاحیتوں کو جگاتا ہے۔ وہ انسان کو زیادہ گہرے غور و فکر کے قابل بنا دیتا ہے۔