Al-Risala · August 2000

خبر نامه اسلامی مرکز ۱۴۸

Al-Risala, August 2000, pp. 45–46

By Maulana Wahiduddin Khan

مدرسہ صدیقیہ (ضلع چمپارن) کی دعوت پر بہار کا سفر ہوا۔ یہ سفر ۲۵ مئی سے ۲۷ مئی ۲۰۰۰ تک جاری رہا۔ اس دوران بہار کے مختلف مقامات پر دعوتی پروگرام ہوئے۔ کی روداد سفر نامہ کے تحت انشاء اللہ الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔ اس سفر کا ایک تجربہ یہ تھا کہ مسلمانوں میں اب ہر جگہ ایک نئی اور تعمیری سوچ ابھر رہی ہے۔ یہ تعمیری سوچ زیادہ ترالرسالہ مشن کا نتیجہ ہے۔ الرسالہ کی براہ راست کوشش کے علاوہ جن لوگوں نے الرسالہ کی مخالفت کی ان کا بھی اس میں بالواسطہ انداز میں حصہ ہے۔ انھوں نے مخالفت کر کے لوگوں کو بتایا کہ حالات سے مقابلہ کرنے کا ایک اور طریقہ ہے جس کو الرسالہ پیش کر رہا ہے۔ چنانچہ جب پچھلے طریقے فیل ہو گئے تو اب لوگ الرسالہ کے طریقہ کو استعمال کر رہے ہیں اور کامیاب ہو رہے ہیں۔

آواز جرس (آکولہ) کے نمائندہ جناب سید اسحاق راہی نے ۲۹ مئی ۲۰۰۰ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مسلم مسائل سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ دینی تعلیم کے ساتھ سیکولر ایجوکیشن بھی لازمی طور پر ضروری ہے۔ کے بغیر ملت کی مجموعی ترقی نہیں ہو سکتی۔ دینی تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ آدمی کو صحیح شعور اور صحیح نظریہ حیات دیا جائے۔ اس کے مقابلہ میں سیکولر تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ آدمی اپنے زمانہ سے واقف ہو۔ وہ اس قابل ہو سکے کہ عصری تقاضوں کے مطابق زندگی کی تعمیر کر سکے۔ اسی کے ساتھ خود اسلام کی خدمت اور اشاعت کے لئے عصری علوم سے واقفیت ضروری ہے۔

ایس آئی او کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے ان کے ایک آل انڈیا پروگرام (نئی دہلی) میں ۶ جون ۲۰۰۰ کو شرکت کی۔ اور وہاں طلبہ کے اجتماع میں مفصل خطاب کیا، خطاب کا عنوان تھا: ہندوستان میں مسلمانوں کی حکمت عملی کیا ہو۔ اسی کا خلاصہ یہ تھا کہ قرآن کے مطابق اس

دنیا میں ہمیشہ عسر کے ساتھ یسر موجود رہتا ہے۔ یعنی پرابلم کے ساتھ سلوشن۔ مسئلہ حل نہ ہو رہا ہو تو سمجھنا چاہیے کہ ہم جو فارمولا استعمال کر رہے ہیں وہ صورت حال کے مطابق نہیں۔ ایسی حالت میں نئے فارمولے کا استعمال کرنا چاہیے۔ یہی سنت رسول جہاں جنگ کا فارمولا کار آمد نہ ہو رہا ہو وہاں امن کا فارمولا استعمال کرنا چاہیے۔ براہ راست مقابلہ موثر نہ ہو رہا ہو وہاں بالواسطہ مقابلہ کرنا چاہیے، وغیرہ۔ اسلامی مرکز کی انگریزی مطبوعات خدا کے فضل سے ساری دنیا میں پہنچ رہی ہیں۔ مطبوعات براہ راست مارکیٹ میں آگئی ہیں۔ آسٹریلیا سے لے کر امریکہ تک اکثر ملکوں کے بک سیلر انگریزی مطبوعات منگوارہے ہیں اور اپنے نظام کے تحت ان کو پھیلا رہے اس کے علاوہ ویب سائٹ اور انٹرنیٹ کی ذریعہ مستقل طور پر اسلامی مرکز کا دعوتی پیغام عالمی سطح پر پہنچ رہا ہے۔ فالحمد لله علی ذالك۔ اطلاعات کے مطابق، لوگ ان کتابوں اور مضامین کو وقت کے اعلیٰ معیار کے مطابق پا رہے ہیں اور بڑی تعداد میں اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

انٹرنیٹ کے ذریعہ مسلسل طور پر دنیا بھر میں لوگوں سے دعوتی روابط جاری ہیں۔ سوالات اور تاثرات بھیجتے ہیں جن کا جواب دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر انٹرنیٹ کے ذریعہ ملے ہوئے ایک خط کا کچھ حصہ یہ ہے:

Printed page