جہاد لغت میں
Al-Risala, January 2000, pp. 14–15
By Maulana Wahiduddin Khan
جہاد کی اصل جہد ہے۔ اس کے معنی کوشش کے ہیں مگر جہد کے مادے میں مبالغہ کا مفہوم مثلاً کہا جاتا ہے: جھد اللبن (کوشش کرکے سارا مکھن نکال لینا) لینا)اوراجھدالدابۃ(جانورکے اوپر طاقت سے زیادہ لادنا) اسی طرح کہا جاتا ہے بذل جھدہ (اس نے اپنی پوری طاقت صرف کی)
اسی طرح کہا جاتا ہے: لا بلغن جهدای فی الامر (میں معاملہ میں اپنی طرف سے پوری کوشش کروں گا) جہاد یا مجاہدہ کا مفہوم بھی یہی ہے قرآن میں آیا ہے کہ: جاهدوا في ٱللَّهِ حق جهاده (اللہ کے راستہ میں پوری کوشش کرو جیسا کہ کوشش کرنے کا حق ہے)
مشہور عربی لغت لسان العرب میں بتایا گیا ہے کہ جھد کے معنی مبالغہ آمیز کوشش کے ہیں۔ مثلاً کہا جاتا ہے : جهدت جهدی واجتهدت رأى ونفسی حتی بلغت مجهودی (ص:
۱۳۳) یعنی میں نے ہر طرح اپنی پوری کوشش کی یہاں تک کہ میں اپنی آخری کوشش تک پہنچ گیا۔ طرح کہا جاتا ہے: جهد الرجل في كذا اى جد فيه وبالغ (آدمی نے معاملے میں کوشش کی اور اپنی پوری کوشش کر ڈالی) جہاد یا اجتہاد کا مطلب ہے: بذل الوسع فی طلب الامر (کسی کام میں اپنی پوری کوشش صرف کرنا)
حالات کی نسبت سے کبھی جہاد یا جدوجہد کا یہ عمل دشمنوں سے مقابلہ تک پہنچ جاتا ہے۔ وقت، باعتبار استعمال نہ کہ باعتبار لغت، اس میں محاربہ کا مفہوم بھی شامل ہو جاتا ہے۔ راغب اصفہانی نے استعمال کی نسبت سے جہاد کی تین قسمیں بتائی ہیں: ظاہری دشمن سے مقابلہ اور شیطان سے مقابلہ اور نفس سے مقابلہ (والجهاد ثلاثة اضرب : مجاهدة العدو الظاهر، ومجاهدة الشيطان، ومجاهدة النفس)۔