Al-Risala · August 2000

Salaam.

Al-Risala, August 2000, pp. 46–49

By Maulana Wahiduddin Khan

I have recieved an article from your organization and I thought it was most informative...it was sent by a friend.... please can you forward me more... Faheema Khan, South Africa. ایک نئی انگریزی کتاب Islam Re-discovered کے نام سے تیار ہو چکی ہے۔ اللہ جلد ہی شائع کی جائے گی۔ یہ کتاب فی الحال انگریزی زبان میں ہے۔ اس میں اسلام کی تمام بنیادی تعلیمات کو عصری اسلوب میں بیان کیا گیا ہے۔

روزنامہ قومی آواز (نئی دہلی) کے شمارہ ۱۴ جون ۲۰۰۰ میں اس کے ’’مراسلات‘‘کے کے کالم میں ایک مراسلہ چھپا ہے جس کا عنوان ہے ”تاریخ ساز ہستی“۔ یہ مراسلہ قومی آواز کے کالم سے لے کر یہاں نقل کیا جاتا ہے:

مولانا وحید الدین خاں کی شخصیت ان کے علمی و دینی کاموں کی وجہ سے محتاج تعارف آج کے اس پر فتن دور میں جب کہ قبروں کی تجارت سے لے کر مساجد و مدارس کی تجارت اور نوع بنوع تنظیموں کی بھر مار بام عروج پر ہے جس سے مسلمانوں پر ایسے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں کہ وہ قوت فکر سے عاری اور حق و باطل کی تمیز سے کوسوں دور ہیں۔ کا جنازہ نکل چکا ہے۔ اسلام کی آفاقیت رہبانیت کی شکل اختیار کر گئی ہے اور بد قسمتی سے ایک محدود ذہنیت کے لوگ اسلام کی تصویر مسخ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ایسے میں مولانا وحید الدین خاں کی شخصیت نے مسلمانوں کو نئی زندگی اور صحیح انداز فکر کی دعوت دی ہے۔ وہ ایسے واحد مسلم مفکر ہیں جو بے لوث و بے غرض اور منفعت خوری سے ہٹ کر مسلمانوں کے تئیں مخلصانہ جذبہ اپنے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں مسلمانوں کو بے جا جذباتیت سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہیں کیوں کہ بے جا جذباتیت سے ہمیشہ مسلمانوں کو نقصان پہنچاہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم یافتہ طبقہ ان کے گرانقدر مشوروں اور نصیحتوں کو سمجھتا ہے اور انہیں عزت واحترام کی نظر سے دیکھتا ہے۔ یہ بھی ایک نا قابل انکار حقیقت ہے کہ ان کی پوری زندگی قرآنی علوم و احادیث نبویہ و تاریخ قدیم و جدید کے گہرے مطالعہ سے وابستہ ہے۔ اس لئے ان کا ایک ایک لفظ جادو سے زیادہ موثر اور سونے سے زیادہ قیمتی ہو تا ہے۔ ماہنامہ ”الرسالہ“ ایک زندہ و تابندہ شہادت ہے۔ یوں تو ہر دور میں منافقت و تشدد کا دور دورہ رہا ہے لیکن عصر حاضر میں یہ وبا کچھ اور عام سی ہو گئی وقت کی یہ عجب ستم ظریفی ہے کہ جب جب لوگوں نے اپنے اپنے دور میں صدائے حق اور علم اور عرفان بلند کی ہے۔ ایک علم و آگہی سے کور اور غبی طبقہ ان کا مخالف ہو گیا ہے کیوں کہ یہ طبقہ ان بھیڑ بکریوں کے ریوڑ سے ذرا بھی مختلف نہیں ہے جنہیں قدرت نے اشرف المخلوقات

جیسی عقل و خرد سے ہمکنار نہیں کیا۔

تاریخ کے صفحات پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ کسی بھی مذہب میں چاہے وہ عیسائی دھرم ہو یا اسلام جیسا صاف ستھرا آفاقی مذہب ہو جب بھی اس کی صفوں میں جوگیوں راہبوں کی کثرت ہونے لگی ہے، قدرت نے ان کے اندر ایک مصلح بھیجا ہے جس نے انشراح صدر کے ساتھ تمام مظالم کا سامنا کیا ہے اور پھر ایک وقت ایسا آیا ہے کہ اس کی بے پناہ زمینی حقیقت کے سامنے بڑے بڑے پادریوں جوگیوں اور رہبانیت کی تعلیم دینے والے اماموں کی ہوا اکھڑ گئی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ سب کچھ ایک طویل مدت میں سر انجام پاتا ہے اگر ایک طرف اسلام کا آغاز قرآنی آیات کی قرأت ہے تو دوسری طرف کفار اور حاسدین کی پوری کوشش ہے کہ قرآن کی آواز کسی دوسرے کان تک نہ پہنچ سکے اور یہی واقعہ عصر اسلام سے عصر جدید تک دہرایا جا رہا ہے۔

مولانا کا "علم جدید کا چیلنج" ان کے معترضین کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے جس نے ان کی راتوں کی نیند حرام کر دی ہے۔ مولانا کے مداحوں اور ان کے موقف کی تائید کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے وہیں ان کی معترضین بغلیں جھانک رہے ہیں کیوں کہ انہیں تعلیم یافتہ طبقہ کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ یہ سب ایک مخصوص گراؤنڈ کے لوگ ہیں جنہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ مسلمانوں کی کیا حالت ہے اور ان کے بنیادی مسائل کیا موجودہ مشکلات کے اسباب کیا ہیں اور ان سے کیوں کر نمٹا جا سکتا ہے۔ ہم جے این یو (J.N.U) کے طلباء مولانا کا بہت احترام کرتے ہیں کیوں کہ ان کی ہستی پوری امت اسلامیہ کے لیے مایہ افتخار ہے۔ (عمیر احمد ندوی، ایم اے عربک، جواہر لال نہرو یونیورسٹی) انگریزی میں ایک کتاب اسلام ری ڈسکورڈ (Islam Rediscovered) کے نام سے تیار ہوئی ہے اور اس وقت زیر طبع ہے۔ اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ اسلام کے مختلف فکری اور عملی پہلوؤں کی وضاحت کی گئی ہے۔ پوری کتاب جدید سائنسی اسلوب میں ہے۔

اپنے موضوع پر ایک منفرد کتاب از : مولانا وحیدالدین خاں دینی مدارس کے عنوان پر ایک مفصل مقالہ تیار ہوا ہے جو ۸۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ وہ انشاء اللہ الرسالہ ماہ ستمبر ۲۰۰۰ میں اس کے خصوصی شمارہ کے طور پر شائع ہوگا۔ اسی کے ساتھ یہ مقالہ دینی مدارس کے نام سے علیحدہ کتاب کی صورت میں بھی شائع ہو رہا ہے جو ۸۰ صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت ۲۵ روپیہ ہے۔ زیادہ تعداد میں خریدنے کی صورت میں خصوصی رعایت دی جائے گی۔

اس کتاب میں تاریخی حقائق کی روشنی میں بتایا گیا ہے کہ علم کی اہمیت کیا ہے۔ اسلام میں علم کو کتنا بڑا مقام دیا گیا ہے۔ تحریک نے کس طرح عظیم کارنامے انجام دئے ہیں۔ دینی مدرسے اس ملک کے لئے خطرہ نہیں، وہ ملک کے لئے ایک اثاثہ اور نعمت کی حیثیت مدرسے نہ صرف مسلمانوں کے لئے بلکہ پورے ملک کے لئے ایک نعمت ہیں۔

تفصیلات کے لئے دفتر سے خط و کتابت کریں۔

Printed page