آغاز کلام
Al-Risala, September 2000, pp. 3–5
By Maulana Wahiduddin Khan
پہلی بار جب میں ایک بڑے مدرسہ میں گیا تو اس کو دیکھ کر اچانک میری زبان سے نکلا۔ مدینۃ العلم (علم کا شہر)۔ ہر مدرسہ گویا علم کا ایک شہر ہے، اس واحد فرق کے ساتھ کہ ان میں سے کوئی بڑا شہر ہے اور کوئی چھوٹا شہر۔
دورِ اول میں جب مسلمان مختلف ملکوں میں پھیلے تو ہر جگہ انہوں نے اس قسم کے علمی شہر قائم یہ تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ تھا۔ قدیم زمانہ میں عمارت کے نام سے یا تو بڑے بڑے بت کَدے (Temples) بنائے جاتے تھے یا محل اور قلعے اور مقبرے۔ جدید معنوں میں تعلیم گاہیں بنانے کا کوئی رواج ہی قدیم زمانہ میں نہ تھا۔ ایک مغربی محقق نے بجا طور پر لکھا ہے کہ صد فی صد تعلیم (hundred percent literacy) کا تصور پہلی بار مسلمانوں نے تاریخ میں پیدا کیا۔ مسلمانوں کے اندر یہ علمی مزاج کہاں سے آیا۔ یہ براہ راست قرآن کا نتیجہ تھا۔ قرآن کو کھلے ذہن کے ساتھ پڑھا جائے تو معلوم ہوگا کہ قرآن میں سب سے زیادہ زور علم اور تعلیم و تعلم پر دیا گیا بلا مبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ قرآن پہلی کتاب ہے جس نے علم کو محدود دائرہ سے نکالا اور تاریخ انسانی کو عمومی تعلیم (mass education) کے تصور سے آشنا کیا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ۵۷۰ء میں عرب کے شہر مکہ میں پیدا ہوئے۔ آپ پر پہلی وحی ۶۱۰ء میں اتری جب کہ آپ غار حرا میں تھے۔ وحی کا پہلا لفظ یہ تھا: اقرأ (پڑھ)۔ روایات میں آتا ہے کہ خدا کے فرشتہ جبرئیل نے آپ کے پاس آکر کہا کہ اقرأ (پڑھ) آپ نے فرمایا کہ : ما انا بقاری (صحیح البخاری، کتاب بدء الوحی) یعنی مجھے پڑھنا نہیں آتا۔ جبرئیل نے دوبارہ کہا کہ اقرأ۔ آپ نے فرمایا کہ ماانا بقاری۔ جبرئیل نے تیسری بار کہا کہ اقرأ۔ اس کے بعد آپ نے سورہ العلق کے وہ کلمات اپنی زبان سے دہرائے جو جبرئیل پہلی وحی کے طور پر آپ کے پاس لائے تھے۔
ابتدائی وحی کے اس واقعہ پر غور کیجئے ۔ پیغمبر اسلام ثابت شدہ طور پر ایک اّمی تھے۔ باوجود کیوں خدا کا فرشتہ بار بار کہہ رہا ہے کہ اقرأ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پڑھنا نہیں آتا تب بھی پڑھو۔
لکھنا نہیں جانتے تب بھی لکھو۔ اس اعتبار سے اسلامی کلچر گویأ اقرأ کلچر کا دوسرا نام ہے۔ یہ ایک انتہائی انقلابی تعلیم تھی جو پیغمبر اسلام ﷺ کو اور بالواسطہ طور پر آپ کے پیروؤں کو آغازِ رسالت میں اللہ کی طرف سے ملی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم آپ کے پیروؤں کی سرگرمی کا ایک مستقل حصہ پڑھنے اور لکھنے کا رواج اتنا بڑھا کہ وہ وقت آیا جب کہ مسلمان تمام قوموں کے معلم بن گئے۔ اسلام جب عرب سے نکلے اور دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلے تو ہر جگہ انہوں نے پڑھنے اور پڑھانے کو اپنا خصوصی مشن بنا لیا۔ یہ لہر مکہ سے اٹھی۔ پھر وہ مدینہ پہنچی۔ اس کے بعد وہ دمشق پہنچی۔ اس کے بعد بغداد اور قاہرہ اس کا مرکز بنا۔ اس کے بعد وہ قرطبہ اور غرناطہ میں داخل ہو۔ وہاں سے مزید پھیل کر وہ سارے عالم میں پہنچ گئی۔ اس زمانہ میں مسلم دنیا کے تمام شہر تعلیم و تعلم کا مرکز بنے ہوئے تھے۔ اہل اسلام کے اسی مزاج کا نتیجہ تھا کہ جب ان کے قافلے برصغیر ہند میں داخل ہوئے تو یہاں بھی انہوں نے کثرت سے شخصی اور اجتماعی طور پر مدرسے اور تعلیم گاہیں قائم کیں۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ برصغیر ہند میں علم کی عمومی اشاعت بھی پہلی بار مسلمانوں کے ذریعہ ہوئی۔ پنڈت جواہر لعل نہرو نے اعتراف کیا ہے کہ عرب مسلمان انڈیا میں ایک شاندار کلچر (brilliant culture) لے کر آئے۔ (ڈسکوری آف انڈیا) انیسویں صدی عیسوی کے نصف اول میں جب برصغیر ہند میں انگریزوں کا غلبہ بڑھا تو اس کے ساتھ مسلم تعلیم گاہوں کا زوال شروع ہو گیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ انگریزوں کے خلاف ابتدائی سیاسی مزاحمت زیادہ تر علماء اسلام کی قیادت میں ہوئی تھی۔ اس سے انگریزوں نے یہ تصور قائم کیا کہ اسلامی مدرسے انگریز مخالف تحریک کے فکری مرکز ہیں۔ چنانچہ وہ مدارس کے دشمن ہو گئے۔ طرح طرح سے مدارس پر روک لگانے کی کوشش کی۔ مثلاً انہوں نے مدارس کی جاگیریں اور اوقاف ضبط کر کے ان کے ذرائع کو مسدود کر دیا۔ بہت سے علماء کو گرفتار کر لیا، وغیرہ۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ بڑی تعداد میں اس ملک کے مدارس بند ہو گئے۔
ہندوستان میں انگریزوں کے سیاسی قبضہ کے بعد ایک عرصہ تک مسلم رہنما یہ سوچتے رہے کہ پہلے انگریزوں کو ملک سے نکالو۔ اس کے بعد ہی اس ملک میں دوبارہ کسی دینی کام کے مواقع نکلیں گے۔ ۱۸۵۷ کا مسلح اقدام اسی طرز فکر کا نتیجہ تھا جو اپنے مقصد میں ناکام رہا۔ اس تجربہ کے بعد علماء نے محسوس
کیا کہ انگریزوں سے مسلح ٹکراؤ عملی طور پر غیر مفید ہے۔ اب واحد قابلِ عمل صورت یہ ہے کہ جنگ اور ٹکراؤ کو چھوڑ کر پر امن عمل کے میدان میں کوئی تعمیری کام شروع کیا جائے۔ اسلام کی روشنی میں انہیں نظر آیا کہ یہ کام صرف علم اور تعلیم کا کام ہے۔ چنانچہ علماء نے یہ فیصلہ کیا کہ انگریزوں سے ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ کر وہ قوم کو تعلیم یافتہ بنانے میں اپنی ساری طاقت صرف کریں۔
اس نئے ذہن کے تحت انیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں پورے برصغیر ہند میں مدارس کی تحریک پھیل گئی۔ داخلی اور خارجی حالات اس کے موافق ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ تحریک مدارس بڑھتے بڑھتے اب تحریکِ انقلاب کی صورت اختیار کر چکی ہے۔
میں اپنی ابتدائی عمری سے علماء اور تحریکِ مدارس سے بہت قریب رہا ہوں۔ میرے والد کا انتقال ۱۹۲۹ میں بچپن ہی میں ہو گیا تھا۔ اس لئے میرے عم زاد بھائی مولانا اقبال احمد خاں سہیل ایڈوکیٹ، ایم، اے، ایل ایل بی ہی گویا میرے خاندانی سر پرست تھے۔ وہ نہایت ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے، وہ علماء کے بہت عقیدت مند تھے۔ انھوں نے مشہور عالم اور بزرگ مولانا حسین احمد مدنی کی تعریف میں ایک نظم لکھی تھی جس کا ایک شعر یہ تھا: