Al-Risala · September 2000

وارثِ انبیاء حسین احمد که بدیں مستعار مو تمن است

Al-Risala, September 2000, pp. 5–6

By Maulana Wahiduddin Khan

تقسیم ہند سے پہلے کے دور میں دو قومی نظریہ کا ہنگامہ اٹھا۔ مولانا حسین احمد مدنی نے اس کا جواب دیتے ہوئے ۱۹۳۷ میں کہا کہ "نئی زمانہ قومیں اوطان سے بنتی ہیں“۔ اس کے رد میں علامہ اقبال نے اپنا مشہور فارسی قطعہ لکھا جس کا پہلا شعر یہ تھا:

عجم ہنوز نہ داند رموزِ دیں ورنہ زدیو بند حسین احمد ایں چہ بو لہی است اس وقت اقبال احمد سہیل ایڈوکیٹ نے فارسی نظم کی صورت میں اس کا مدلل جواب دیا، جس کے دو شعر یہ ہیں: به دیو بند گرا، گر نجات می طلبی که دیو نفس سلخ شور و دانش تو سبی است بگیر راه حسین احمد ار خدا خوانی که وارث است نبی را و هم زآل نبی است برادر بزرگ مولانا اقبال احمد سہیل مرحوم سے مجھے زندگی کی پہلی سوچ ملی۔ چنانچہ نوجوانی کی عمری میں علماء اور تحریکِ مدارس سے میرا رشتہ جڑ چکا تھا جو پھر کبھی ختم نہ ہوا۔

مدرسہ کی دنیا سے مسلسل میرا ربط رہا ہے۔ میری تعلیم مدرسہ ہی میں ہوئی۔ مدارس سے وابستہ افراد سے مسلسل میری ملاقاتیں رہی ہیں۔ میں بار بار مدارس کے اجتماعات اور پروگراموں میں شریک ہوتا رہا، وہ غیرہ مگر باضابطہ طور پر میں نے ابھی تک مدارس کے بارہ میں نہیں لکھا تھا۔ اس موضوع پر میری متفرق تحریریں شائع ہوتی رہی ہیں مگر ابھی تک اس موضوع پر میں نے مستقل کتاب تیار نہیں کی تھی۔ مختلف مدارس سے تعلق رکھنے والے علماء اکثر مجھ سے یہ کہتے تھے کہ آپ مدارس کے بارے میں۔ میں ایک کتاب یا مفصل مقالہ لکھیں۔ مگر اب تک میں یہ کام نہیں کر سکا تھا۔ آخر کار مئی ۲۰۰۰ء میں ایسے اسباب پیدا ہوئے جس کے نتیجہ میں وہ کتاب تیار ہوئی جو اس وقت ناظرین کے سامنے ہے۔ تنظیم ابناء قدیم دارالعلوم دیوبند کی طرف سے مجھے ایک دعوت نامہ مورخہ ۹ مئی ۲۰۰۰ اس میں بتایا گیا تھا کہ نئی دہلی میں ۲۰۔ ۲۲ مئی ۲۰۰۰ کو "الامام محمد قاسم النانوتوی سیمنار" کے عنوان پر ایک بین اقوامی اجتماع ہو رہا ہے۔ تنظیم کے ذمہ داروں کی طرف سے مجھے یہ دعوت دی گئی تھی کہ میں اس کے افتتاحی اجلاس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کروں اور ہندوستان میں مدارس دینیہ کی تحریک کے موضوع پر وہاں خطاب کروں۔ اس کے بعد دہلی کے کئی فضلاء مدارس مجھ مثلاً مولانا عمید الزماں کیرانوی، مولانا محمد مزمل الحق الحسینی، مولانا بدر الزماں قاسمی، مولانا وارث مظہری قاسمی، وغیرہ۔ ان صاحبان نے اس کام کی طرف خصوصی توجہ دلائی۔ ان کی تحریک پر میں نے آخری فیصلہ کر لیا اور اس موضوع پر مطالعہ و تحریر کا کام شروع کر دیا۔ مذکورہ سیمنار میں پیش کرنے کے لئے جو تقریر میں نے تیار کی تھی وہ ابتداء صرف ۱۰ صفحات پر اس کے بعد موضوع کی مزید تحقیق کے دوران اس میں اضافہ ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ ۸۰ صفحات کی یہ کتاب تیار ہو گئی۔ یہ کتاب ابتداء اردو میں شائع کی جارہی ہے۔ اس کے بعد انشاء اللہ دوسری زبانوں میں بھی اس کی اشاعت کی جائے گی، وباللہ التوفیق۔

نئی دہلی، ۱۹ جولائی، ۲۰۰۰ء

Printed page