تاریخ تعلیم
Al-Risala, September 2000, pp. 7–11
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانہ میں تعلیم (education) کی تاریخ پر کافی تحقیق کی گئی ہے اور اس موضوع پر کثرت سے کتابیں لکھی گئی ہیں۔ اس تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم کی تاریخ میں اسلام کا ایک بہت بڑا حصہ (contribution) ہے۔ اسلام نے معلوم تاریخ میں پہلی بار علم اور تعلیم کو محدود دائرہ سے نکال کر وسیع دائرہ تک پہنچایا۔ ساتویں صدی عیسوی کے رُخِ اول میں اسلام کا ظہور ہوا۔ اسلام سے پہلے علم صرف خواص کے دائرہ کی چیز بنا ہوا تھا۔ اسلام کے تحت آنے والے انقلاب کے بعد تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ علم کو خواص کے دائرہ سے نکال کر عوام کے دائرہ میں لایا گیا۔ توسیع تعلیم کی یہی انقلابی تحریک ہے جس کو تعلیم کی تاریخ میں "مدرسہ" کہا جاتا ہے۔
انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴) میں تاریخِ تعلیم (History of Education) پر ۹۲ صفحہ کا ایک مفصل مقالہ شامل ہے۔ اس کو متعدد ماہرین تعلیم نے تیار کیا ہے۔ اس مقالہ میں تعلیم کی تاریخ کو چند ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، پہلا دور وہ ہے جس کو ابتدائی کلچر (primitive culture) کہا گیا ہے۔ اس ابتدائی دور میں تعلیم کا مقصد بنیادی طور پر یہ تھا کہ قبائلی روایات اور قبائلی اخلاقیات سے نئی نسل کو باخبر کیا جائے اور اس کے لئے اس کو تیار کیا جائے۔ اس زمانہ میں لکھنے پڑھنے کا رواج بے حد کم چنانچہ یہ قبائلی تعلیم بھی زیادہ تر زبانی طور پر دی جاتی تھی اور ان کو محفوظ رکھنے کے لئے نوجوانوں کو یاد کر لیا جاتا تھا۔
مزید یہ کہ اس تعلیم کا تعلق پورے قبیلہ سے نہ تھا بلکہ صرف اعلیٰ طبقہ سے تھا۔ اس اعلیٰ طبقہ میں بنیادی طور پر صرف دو قسم کے لوگ شامل ہوتے تھے۔ ایک، قبیلہ کے سردار اور امراء اور اعلیٰ طبقہ (upper class) کے نوجوان اور دوسرے، مذہبی پیشواؤں کا طبقہ (priestly class) جو لوگوں کو مذہبی رسوم و آداب کی ادائیگی میں مدد دیتا تھا۔ عام افراد اس تعلیمی نظام سے خارج سمجھے جاتے تھے (18-6/317 EB)۔
اس کے مطابق، دوسرا دور وہ ہے جس کو کلاسیکل کلچر کا نام دیا گیا ہے، یعنی قدیم تاریخی دور۔
زمانہ میں لکھنے پڑھنے کا رواج کافی بڑھ چکا تھا۔ مگر جہاں تک تعلیم کا تعلق ہے اب بھی تعلیم کا انداز (pattern) بنیادی طور پر وہی باقی رہا جو ابتدائی دور میں تھا۔ اب غیر رسمی تعلیم کے علاوہ رسمی تعلیم کا رواج بھی شروع ہو گیا۔ مگر یہ تعلیم بنیادی طور پر اعلیٰ طبقہ اور اونچی ذات (higher castes) تک محدود باونچی ذات یا اونچے طبقہ میں دو قسم کے لوگ شریک سمجھے جاتے تھے۔ ایک، سردار اور امراء جو قبیلوں یا قوموں کے سیاسی لیڈر کی حیثیت رکھتے تھے، جو نظام سلطنت کے ذمہ دار تھے۔ دوسرا طبقہ وہ تھا جو مذہبی مراسم کی ادائیگی میں پیشوا (priests) کا کام کرتا تھا۔ وہ عبادت گاہوں کا نظام چلاتا تھا اور دوسرے خاندانی یا سماجی رسوم مثلاً نکاح یا دوسری تقریبات کو مذہبی اصولوں کے مطابق ادا کرتا تھا۔ اعلیٰ مذہبی اور سیاسی طبقوں کے علاوہ قوم یا قبیلہ کے دوسرے افراد کے لئے تعلیم کو ضروری نہ سمجھا جاتا تھا۔ بعض قوموں میں عام لوگوں کی تعلیم کا رواج بھی ملتا ہے مگر یہ تعلیم حقیقتاً حصول علم کے معنی میں نہ تھی۔ وہ زیادہ تر سماج کی عملی ضرورت کے معنی میں تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ سماج کی روایات کو جانیں تاکہ وہ قائم شدہ سماج کے وفادار بن سکیں اور سماج انتشار سے بچارہے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ عوام یہ جانیں کہ اعلیٰ طبقہ کی ماتحتی میں انھیں کس طرح زندگی گزارنا چاہئے۔ اس کے بعد تیسرا دور شروع ہوتا ہے جس کو حقیقی معنوں میں تعلیم و تعلم اور درس و تدریس کا دور کہا جا سکتا ہے۔ اس دور کا آغاز بنیادی طور پر اسلامی انقلاب کے بعد ظہور میں آیا۔ اس نئے دور کے آغاز کے لئے جو لازمی صورت حال درکار تھی وہ یہ کہ انسان اور انسان کے درمیان تفریق کا خاتمہ ہو ۔ اور اس تفریق کا خاتمہ صرف اسلام کے بعد ممکن ہوا۔ اسلام سے پہلے کا جو زمانہ ہے، اس وقت یہ حال تھا کہ انسانیت دو طبقوں میں بٹی ہوئی تھی___ اعلیٰ طبقہ (upper class) اور نچلا طبقہ (lower class) یا برتر نسل (superior race) اور کمتر نسل (inferior race) ۔ مثال کے طور پر چین میں بادشاہ کو آسمانی اولاد (Son of Heaven) کہا جاتا تھا۔ ہندوستان میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ کچھ لوگ اعلیٰ ذات (upper class) کی حیثیت رکھتے ہیں جو برہما کے سر سے پیدا ہوئے اور بقیہ لوگ درجہ بدرجہ اس کے نچلے دھڑ سے۔ تقریباً یہی حال دوسری قوموں اور ملکوں کا تھا۔ انسانیت کے درمیان اس تفریق و تقسیم کو پہلی بار اسلام نے ختم کیا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو عام طور پر مورخین نے تسلیم کیا ہے۔
نے جب انسانیت کے درمیان تفریق و تقسیم کو توڑا، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ تعلیم خواص کے دائرہ سے نکل کر عوام کے دائرہ تک پہنچ جائے۔ وہ تمام انسانوں کے لئے قابل حصول چیز بن جائے۔ اس عمل کا آغاز عبادتی فعل سے ہوا۔ اسلام سے پہلے عبادت کی صورت یہ تھی کہ وہ ایک ایسا عمل سمجھا جاتا تھا جو براہ راست خدا اور بندے کے درمیان پیش نہیں آتا تھا بلکہ وہ ایک درمیانی واسطہ (priest mediator) کے ذریعہ انجام پاتا تھا۔ اس تقسیم کی بنا پر مذہبی علم صرف اس مذہبی پیشوا کے لئے ضروری تھا جو درمیانی کردار ادا کر کے عبادت کے مراسم کی تکمیل کرے۔ یہی تقسیم تھی جس کی بنا پر پڑھنا لکھنا نہ ہی پیشواؤں تک محدود رہا اور عوام اس سے بے تعلق بنے رہے۔ اسلام نے پہلی بار عبادت کو انسان اور خدا کے درمیان ہونے والا براہ راست عمل قرار دیا اس طرح لکھنا پڑھنا ہر انسان کی ذاتی ضرورت بن گیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد ہر آدمی قرآن کو پڑھنے اور اس کو یاد کرنے لگتا تاکہ وہ روزانہ اپنی عبادتوں میں قرآن کو پڑھے۔ دعا اور اذکار کے دوسرے کلمات کو بھی یاد رکھنے کے لئے لکھنے اور پڑھنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اسی طرح اسلام نے زندگی کے دوسرے معاملات میں ایسی اصلاحات کیں جن کے بعد خود بخود انسانوں کے درمیان خواص و عوام کی تقسیم ختم ہو گئی۔ انسانوں کے درمیان بظاہر فرق دکھائی دیتا ہے۔ مثلاً رنگوں کا فرق، صلاحیت کا فرق، درجہ کا ان فرقوں کی بنا پر تاریخ کے قدیم زمانوں میں یہ سمجھا جاتا رہا کہ کچھ لوگ اونچے ہیں اور کچھ لوگ اسلام نے امتیاز پر مبنی اس تصور کا خاتمہ کیا اور کھلے طور پر یہ اعلان کیا کہ: اے لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا۔ اور تم کو قوموں اور خاندانوں میں تقسیم کر دیا تا کہ تم ایک دوسرے کو بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پر ہیز گار ہے۔ بے شک اللہ جاننے والا، خبر رکھنے والا ہے (الحجرات ۱۳)
یہی بات حدیث میں مختلف انداز میں آئی ہے۔ مثلاً پیغمبر اسلام نے فرمایا: ان العباد كلهم اخوة (سنن ابی داؤد) یعنی بلا شبہ تمام انسان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ اسی طرح آپ نے فرمایا: والناس بنو آدم و خلق الله آدم من تراب (الترمذی، کتاب التفسیر) یعنی تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا۔ اسی طرح آپ نے فرمایا: الا لا فضل لعربی علی اعجمی
ولا لعجمی علی عربی ولا لاحمر علی اسود ولا لاسود علی احمر الا بالتقوی۔ ۴۱/۵) یعنی سنو، کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں۔ اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت نہیں اور کسی سرخ کو کسی سیاہ پر اور کسی سیاہ کو کسی سرخ پر کوئی فضیلت نہیں، مگر تقویٰ کی بنیاد پر۔ انسانی برابری کا یہ اعلان صرف اعلان نہ تھا بلکہ وہ ایک حقیقی عملی انقلاب کا مبنی فیشو تھا۔ اسلام اور آپ کے اصحاب کو اللہ کی خصوصی مدد سے یہ موقع ملا کہ وہ انسانی مساوات اور اخوت کانہ صرف اصولی اعلان کریں بلکہ زمین کے وسیع رقبہ میں انقلاب برپا کر کے اس کو عملاً قائم کردیں۔ نے عام طور پر تسلیم کیا ہے کہ انسانی مساوات کا عملی نظام تاریخ میں پہلی بار اسلام کے ذریعہ قائم ہوا۔ قدیم زمانہ میں علم اور تعلیم کا خواص کے دائرے میں محدود اور ہتا زیادہ تر انسانی عدم مساوات کی بنا جب نابرابری کا خاتمہ ہوا اور انسانی برابری کا دور آیا تو فطری طور پر وہ حالات پیدا ہو گئے جب کہ علم اور تعلیم کا دائرہ کسی مخصوص انسانی گروہ تک محدود نہ رہے، بلکہ وہ انسان کے تمام طبقوں تک پھیل اور اسلامی انقلاب کے بعد عملاً یہی پیش آیا۔ اسلام سے پہلے قدیم دور میں ہر جگہ بادشاہت (Kingship) کا نظام قائم تھا۔ کچھ لوگوں کو مطلق حکمران کا درجہ حاصل ہوتا تھا، اور بقیہ لوگوں کے لئے صرف یہ تھا کہ وہ ماتحت رعایا بن کر زندگی گزاریں۔ امتیاز پر مبنی اس سیاسی نظام نے علم اور تعلیم کو امر ا اور حکام کے دائرے کی چیز بنا دیا تھا۔ عوام کا اس میں کوئی حصہ نہ تھا۔
اسلام نے اس آمرانہ نظام کے برعکس جمہوری شورائیت (الشوریٰ ۳۸) کا تصور پیش کیا۔ کو عملاً قائم کیا۔ مؤرخ غین نے تسلیم کیا ہے کہ قدیم بادشاہت کے نظام کا خاتمہ اسلامی انقلاب کے ذریعہ مثال کے طور پر فرانسیسی مؤرخ ہنری پرین (Henri Pirenne) نے لکھا ہے کہ اسلام نے اگر باز نطینی ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کو تو نہا نہ ہوتا تو دنیا سے شاید کبھی بھی سیاسی آمریت کا دور ختم نہ ہوتا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ قدیم بادشاہی نظام کا ٹوٹنا اور اس کی جگہ پر جمہوری یا عوامی دور کا دنیا میں آنا صرف اسلامی انقلاب کے بعد ممکن ہوا۔ اس انقلاب کے مختلف سماجی نتائج تاریخ میں ظاہر اس کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ انسانی سماج میں خواص دو عوام یا برتر طبقہ اور کمتر طبقہ کی تقسیم ختم ہو گئی۔ اس کے بعد عین اس کے فطری نتیجہ کے طور پر پڑھنے لکھنے کا رواج سارے انسانوں میں پھیل گیا، جو اس
سے پہلے خواص کے دائرہ کی چیز بنا ہوا تھا۔
انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1983) میں بتایا گیا ہے کہ اسلام کے ظہور کے بعد مدرسوں یا درسگاہوں کا پھیلاؤ (expansion) بڑے پیمانہ پر ہوا۔ ابتداء میں تعلیم کے حلقے قائم ہوئے پھر ہر مسجد کے ساتھ ایک مکتب اس کے لازمی جزو کے طور پر بننے لگا۔ پھر مزید اضافہ ہوا اور مسجدوں میں قائم ہونے والے مکتب ناکافی نظر آئے تو کثرت سے مستقل مدر سے قائم ہونے لگے۔ عباسی دور تک پہنچ کر یہ سلسلہ مزید اب بہت بڑے بڑے جامعات (universities) قائم ہونے لگیں۔ مثال کے طور پر نظامیہ اور مستنصر یہ وغیرہ۔
خلاصہ یہ کہ اسلام سے پہلے مختلف توہمات (superstitions) نے انسانی سماج کو اونچے اور نیچے طبقوں میں بانٹ رکھا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم صرف اونچے طبقہ کے لئے مخصوص ہو گیا اور نچلے طبقہ کے لوگ ہزاروں سال تک جہالت میں پڑے رہے۔ ساتویں صدی میں ظاہر ہونے والے اسلامی انقلاب نے تاریخ میں پہلی بار ان توہمات کا خاتمہ کیا۔ اس نے انسانی زندگی کا نظام توہمات کے بجائے حقائق فطرت کی بنیاد پر قائم کیا۔ اس انقلاب کے جو مثبت نتائج ظاہر ہوئے اُنہیں میں سے ایک نتیجہ یہ تھا کہ علم خواص کے طبقہ سے نکل کر سارے انسانی گروہوں میں پھیل گیا۔
مدرسہ کا لفظ تعلیم کی تاریخ کا اسی طرح ایک مسلمہ حصہ بن چکا ہے جس طرح ایجوکیشن (education) کا لفظ انگلش ڈکشنری کا ایک مسلمہ حصہ ہے۔ انٹرنیٹ کو آج عالمی معلومات کا خزانہ سمجھا اگر آپ اس سے جڑے ہوئے کمپیوٹر کے کی بورڈ پر مدرسہ (madrasah) کا لفظ ٹائپ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اس کی اسکرین پر اچانک مدرسہ کے بارے میں معلومات کا ایک دفتر سامنے آگیا ہے۔