دینی مدارس
Al-Risala, September 2000, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
انیسویں صدی کے وسط سے لے کر اب تک برصغیر ہند میں جو دینی یا اسلامی سرگرمیاں جاری ہوئیں ان میں غالباً سب سے اہم سرگرمی وہ تھی جس کو دینی مدارس کی تحریک کہا جاتا ہے۔ کے قائد زیادہ تر علماء تھے۔ ان کی مسلسل کوشش سے اس پورے خطہ ارض میں مدارس کا جال (network) قائم ہو گیا۔ چھوٹے بڑے مدارس اتنی کثرت سے وجود میں آئے کہ شاید کوئی بھی علاقہ اس سے خالی نہیں رہا۔ علماءِ اسلام نے صرف یہی نہیں کیا کہ ادارہ کی صورت میں باقاعدہ مدرسے قائم کئے، اسی کے ساتھ ان کی ذات بھی مسلسل طور پر لوگوں کے لئے علم اور تعلیم کا مرجع بنی رہی۔ حتیٰ کہ یہ گویا علماء کی روایت بن گئی کہ ان کا گھر لوگوں کے لئے تعلیم گاہ کا کام کرنے لگا۔ میں خود بھی مدرسہ کی باقاعدہ تعلیم کے علاوہ اپنی زندگی کے بیشتر حصہ میں مسلسل طور پر علماء اسلام سے وابستہ رہا ہوں۔ اور ان سے برابر علمی اور دینی استفادہ کرتا رہا ہوں۔