Al-Risala · September 2000

علم کی اہمیت

Al-Risala, September 2000, pp. 12–14

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام میں علم کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ اللہ کی شریعت پیغمبروں کے اوپر کتاب کی صورت میں اتاری گئی اور قلم کے ذریعہ اس کو لکھا گیا (العلق ۴۔ یہ قلم اور کتاب دونوں علم ہی کی علامت وحی کو قلم اور کتاب سے وابستہ کرنا بذات خود اس بات کا ثبوت ہے کہ دین خدا وندی کی بنیاد علم پر قائم کی گئی ہے۔

قرآن میں علم کی دو قسمیں بتائی گئی ہیں۔ یہ دو قسمیں اس آیت سے معلوم ہوتی ہیں: (یعنی بكتاب من قبل هذا أو أثارة من علم إن كنتم صدقين (الاحقاف ۴) یعنی میرے پاس اس سے پہلے کی کوئی کتاب لے آکیا کوئی علم جو چلا آتا ہو، اگر تم سچے ہو۔

قرآن کی اس آیت کے مطابق، علم کا پہلا ماخذ آسمانی کتاب ہے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں الہامی علم (revealed knowledge) کہا جاسکتا ہے۔ یہاں الہامی علم سے مراد وہ الہامی علم ہے جو تاریخی طور پر ثابت شدہ ہو۔ محض دعوئیٰ کی بنیاد پر کوئی علم الہامی علم نہیں ہو سکتا۔ اس اعتبار سے آج

قرآن ہی الہامی علم کے حقیقی نمائندہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ دوسری مقدس کتا بیں، تاریخی طور پر ثابت شدہ نہ ہونے کی بنا پر الہامی علم کے لئے معتبر ماخذ کی حیثیت نہیں رکھتیں۔ دوسرا علم وہ ہے جس کے لئے قرآن میں اثارۃ من علم کا لفظ آیا ہے۔ اثر کے معنی ہیں نقل ”آثارۃ “ کی تشریح ”المفردات فی غریب القرآن ، الامام راغب “ میں ان الفاظ میں کی گئی ہے: وہو ما یروی أو یکتب فیبقى له اثر (صفحہ ۹) یعنی اس سے مراد وہ علم ہے جس کی روایت کی جائے یا جس کو لکھا جائے پھر اس کا اثر باقی رہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ اس سے مراد غالباً وہ مبنی بر فطرت علم ہے جس کو موجودہ زمانہ میں مصدقہ علم (verified knowledge) کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ علم جو مسلسل تحقیق اور مشاہدہ اور تجربہ سے درست ثابت ہو یہاں تک کہ اہل علم کے درمیان اس کو عمومی قبولیت (general acceptance) حاصل ہو جائے۔ ان دونوں قسم کے علوم کو دوسرے لفظوں میں الہامی علم اور سائنسی علم کہا جا سکتا ہے۔

قرآن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دونوں ہی علم انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: إتقوا الله ويعلمكم الله (البقره ۲۸۲) یعنی اللہ سے ڈرو اور اللہ تم کو سکھائے گا۔ قرآن کی اس آیت میں علم کا تعلق تقویٰ سے بتایا گیا ہے۔ یعنی جو آدمی اپنے اندر تقویٰ کی صفت پیدا کرے گا وہ علم سے بہرہ ور ہوگا۔ تقویٰ آدمی کے اندر سنجید گی پیدا کرتا ہے۔ اور کامیاب علمی سفر میں سنجیدگی لازمی شرط کی حیثیت رکھتی ہے۔

دوسری جگہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: و من الجبال جدد بيض وحمر مختلف الوانها وغرابيب سود، ومن الناس والدواب والانعام مختلف الوانه كذلك، انما يخشى الله من عباده العلماء (فاطر ۲۷-۲۸) یعنی اور پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ رنگوں کے ٹکڑے ہیں اور گہرے سیاہ بھی۔ اور اسی طرح انسانوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی مختلف رنگ کے ہیں۔ اس کے بندوں میں سے وہی لوگ ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔

اس آیت میں پہاڑ اور جانور (دوسرے لفظوں میں جمادات اور حیوانات) فطرت کے مظاہر سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ فطرت کے مظاہر کا مطالعہ بھی اسی طرح خشیت اور تقویٰ کا

سرچشمہ ہے جس طرح الہامی کتاب کا مطالعہ۔

علم کی دو قسموں کی اس اہمیت کا تقاضا تھا کہ مدارس کے نصاب میں دو قسم کی کتابیں رکھی جائیں۔ چنانچہ علماء نے ایسا ہی کیا۔ انھوں نے ایک کو منقولات کہا اور دوسری کو معقولات۔ یہ تقسیم شرعی اور عقلی دونوں اعتبار سے بالکل درست ہے۔

مدرسہ یا تعلیم گاہ کے بارے میں قرآن کا تصور کیا ہے، اس کا جواب ہم کو قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے: وما كان المؤمنون لينفروا كافة فلولا نفر من كل فرقة منهم طائفة ليتفقهوا في الدين ولينذروا قومهم اذا رجعوا اليهم لعلهم يحذرون (التوبہ ۱۲۲) یعنی اور یہ ممکن نہ تھا کہ اہل ایمان سب کے سب نکل کھڑے ہوں۔ تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ سے ایک حصہ نکل کر آتا تا کہ وہ دین میں سمجھ پیدا کرتا اور واپس جاکر اپنی قوم کے لوگوں کو آگاہ کرتا تا کہ وہ بھی پرہیز کرنے والے بنتے۔

قرآن کی اس آیت میں تفقه فی الدین کا لفظ تقریباً اسی معنی میں آیا ہے جس معنی میں علم دین کے حصول کا لفظ بولا جاتا ہے۔ اس آیت کے مطابق، علم دین کے حصول کے مقاصد بنیادی طور پر دو ہیں۔ ایک یہ کہ طالب علم خود بخوبی طور پر اسلام کی تعلیمات سے واقف ہو۔ اس کی رسائی ان معارف و حقائق تک ہو جائے جو قرآن و سنت میں بیان کئے گئے ہیں۔ اس کا دوسرا مقصد وہ ہے جس کو انذار قوم کہا گیا ہے یعنی پر امن طور پر تمام انسانوں تک اسلام کا پیغام پہنچانا۔ ہر پیدا ہونے والے انسان کو اس ہدایت سے باخبر کرنا جو خالق کائنات نے اسلام کی صورت میں نازل فرمائی ہے۔

انہی دو طرفہ تقاضوں کا یہ نتیجہ ہے کہ مدارس دینیہ میں ابتدائی ہی سے یہ تصور رہا ہے کہ ان مدارس کے فارغین بیک وقت دو صفات کے حامل ہوں۔ وہ عالم بھی ہوں اور اسی کے ساتھ داعی بھی۔ ایک طرف وہ علم دین میں قابل اعتماد دستگاه حاصل کریں اور دوسری طرف وہ اپنی پڑوسی قوموں تک اسلام کا پیغام پہنچائیں۔

Printed page