Al-Risala · September 2000

تحریکِ مدارس کا آغاز

Al-Risala, September 2000, pp. 15–16

By Maulana Wahiduddin Khan

۱۹ ویں صدی عیسوی میں برصغیر ہند کے مسلمان بیک وقت کئی سنگین مسائل سے ایک طرف لمبی مدت سے قائم شدہ مسلمانوں کا سیاسی اقتدار ختم ہو گیا۔ برٹش حکومت نے ملک پر مکمل قبضہ کر لیا، وغیرہ۔ ان حالات میں مسلمان سخت ذہنی انتشار کا شکار ان کے سامنے کوئی واضح راہ عمل (line of action) موجود نہ تھی۔ ایسے نازک وقت میں علماء اسلام نے اللہ کی توفیق سے برصغیر ہند کے مسلمانوں کو سمت کا شعور (sense of direction) دیا۔ مسلم اقتدار کے خاتمہ کے بعد یہ علماء نئے دور میں مسلمانوں کی نشاۃ جدیدہ کے معمار کی حیثیت اللہ نے ان کے لئے مقدر کر دیا تھا کہ وہ انیسویں صدی میں پیش آنے والے مسلم زوال کے نتائج کا براہِ راست مشاہدہ کریں تاکہ وہ نئے دور میں مسلمانوں کی حیات نو کی مبنی بر حقیقت منصوبہ بندی کر سکیں۔ علماء ہند نے مدارس کے قیام کے سلسلہ میں جو کوششیں کیں وہ انیسویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اس مدت میں جو مدر سے قائم کئے گئے، ان میں سے صرف چند ابتدائی مدرس کا ذکر یہاں بطور مثال کیا جاتا ہے۔

سرائے میر، اعظم گڑھ ۱۹۰۹ مدرسہ باقیات الصالحات دارالعلوم خلیلیہ نظامیہ جامعہ مظهر العلوم جامعہ عربیہ حیات العلوم ۱۸۸۳ ویلور، تامل ناڈو ۱۹۲۳ عمر آباد ۱۸۹۹ مبارک پور

یہ مدارس سادہ طور پر صرف مدارس نہ تھے بلکہ وہ ملت مسلمہ کو ایک مثبت میدانِ کار کی طرف رہنمائی دینے والے تھے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو اس دور کے علماء کا گروہ بر صغیر ہند کے مسلمانوں کے لئے رائد(trend setter) کے مقام پر کھڑا ہوا نظر آئے گا۔

اس ابتدائی دور کے علماء نے مدارس کی صورت میں جو تعلیمی ادارے قائم کئے وہ پورے ملک میں ایک قسم کی تعلیمی بیداری کا ذریعہ بن گئے۔ اس کے بعد بر صغیر ہند میں جو دینی مدارس قائم ہوئے وہ تقریباً سب کے سب براہ راست یا بالواسطہ طور پر اسی ابتدائی تحریک مدارس کے اثرات کا نتیجہ تھے۔ علم بلاشبہ کسی انسان کا سب سے زیادہ قیمتی سرمایہ ہے۔ علم معمولی انسان کو غیر معمولی انسان بناتا علم ہر قسم کی انسانی ترقی کا واحد یقینی ذریعہ ہے۔ مسند احمد (۴۱۲/۳) اور حدیث کی دوسری کتابوں میں ایک روایت آئی ہے جس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ما نحل والده ولده افضل من ادب حسن (الترمذی، کتاب البر) یعنی کسی والد نے اپنی اولاد کو اچھی تعلیم و تربیت سے زیادہ افضل کوئی چیز نہیں دی۔

اس حدیث میں والد اور اولاد کے لفظ کو اگر تو وسیع معنی میں لیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ اولاد سے مراد افراد ملت ہیں اور والد سے مراد ملت کے رہنما۔ یعنی کوئی ملی رہنما اگر اپنی ملت کی بہتر تعلیم و تربیت کا نظام کرے تو وسیع تر انطباق کے اعتبار سے وہ بھی اس حدیث رسول کا مصداق قرار پائے گا۔ یہ کہنا شاید غلط نہ ہوگا کہ اس دور کے علماء نے ملت مسلمہ کو یہی سب سے زیادہ قیمتی تحفہ اللہ کی توفیق سے انھیں یہ موقع ملا کہ وہ علم دین کا ایسا سلسلہ جاری کریں جو نسل در نسل مسلمانوں میں چلتا ہے۔ جو غیر منقطع طور پر مسلم نسلوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔

Printed page