چیلنج کا مثبت جواب
Al-Risala, September 2000, pp. 16–17
By Maulana Wahiduddin Khan
پچھلے ڈیڑھ سو سال کے اندر بر صغیر ہند میں، اسلام اور ملت اسلام کے حوالہ سے جو تحریکیں اٹھیں، ان میں غالباً سب سے زیادہ دور رس اور نتیجہ خیز تحریک یہی زیر بحث تحریک تھی۔ اس تحریک کو مدارس دینیہ کی تحریک یا تحریک مدارس کہا جاتا ہے۔
مدارس دینیہ کی تحریک کا فکری آغاز متعین کرنا ہو تو غالباً وہ ۱۸۳۴ء ہوگا، جیسا کہ معلوم ہے، اسی
اس وقت یہاں برطانوی اقتدار قائم ہو چکا تھا۔ لارڈ میکالے نے حالات کا جائزہ لینے کے بعد ایک تعلیمی اسکیم بنائی۔ اسی اسکیم کی بنیاد پر اس کے بعد ہندوستان میں وہ نظام تعلیم جاری ہوا جس کو انگریزی نظام تعلیم کہا جاتا ہے۔ اس تعلیمی نظام کو جس مقصد کے تحت بنایا گیا تھا وہ خود میکالے کے الفاظ میں یہ تھا کہ تاکہ یہاں ایک ایسی نسل اٹھے جو کہ پیدائش کے اعتبار سے ہندوستانی اور فکر کے اعتبار سے انگریز ہو: So that a generation may arise, which is Indian in birth and English in thought. یہ بلاشبہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ مدارس دینیہ کی تحریک اصلاحی چیلنج کے جواب کے طور پر ظہور میں آئی۔ علماء کی اس تعلیمی اسکیم کا نشانہ لارڈ میکالے کے مذکورہ بیان کی روشنی میں بتایا جائے تو وہ غالباً یہ ہوگا کہ تاکہ یہاں ایک ایسی نسل اٹھے جو پیدائش کے اعتبار سے ہندوستانی اور اپنے فکر و خیال کے اعتبار سے مسلمان ہو۔
تاریخ بتاتی ہے کہ لارڈ میکالے کا منصوبہ کامیاب نہیں ہوا اور طلحہ ہند کا منصوبہ اللہ کی توفیق سے کامیاب رہا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج برصغیر ہند میں مسلمان اپنی دینی شناخت کے ساتھ پوری طرح مغربی تہذیب کا طوفان مسلمانوں کی ملی شناخت کو مٹانے میں کامیاب نہ ہو سکا، اور یہ زیادہ تر انھیں مدارس کا کارنامہ ہے جن کو علماء نے اپنی قربانیوں سے قائم کیا تھا۔