ہندوستان دارالتعلیم ہے
Al-Risala, September 2000, pp. 17–19
By Maulana Wahiduddin Khan
سب سے زیادہ مشکل کام فیصلہ کو بدلنا ہے۔ صحابی رسول خالد بن الولید نے غزوہ موتہ (۸ھ) کے موقع پر یہی جرأت مندانہ فیصلہ کیا تھا۔ ہندوستانی علماء نے انیسویں صدی کے وسط میں اسی عظیم سنت کو دہر لیا۔ جیسا کہ معلوم ہے شاہ عبدالعزیز دہلوئی نے ۱۸۲۳ء میں یہ فتویٰ دیا کہ ہندوستان دارالحرب ہو چکا ہے۔ اس کی تعمیل میں علماء ہند کی ایک جماعت نے دشمن طاقتوں کے خلاف مسلح جہاد کا آغاز مگر تقریباً ۵۰ سال کے تجربہ نے اس کو غیر مفید ثابت کیا۔ اب علماء نے اس معاملہ پر نظرثانی کی اور ایک اور بلا اعلان "فتویٰ" دیا۔ اپنے معنی کے اعتبار سے یہ دوسرا فتویٰ یہ تھا کہ ــــــــ ہندوستان دارالتعلیم ہو چکا ہے۔ اب تمام مسلمانوں کو تعلیم کے میدان میں سرگرم ہو جانا چاہئے۔ یہ نیا فیصلہ اتنا اہم
تھا کہ اس نے متنوع قسم کے مثبت نتائج پیدا کئے_ اہلِ مدارس کی قربانیاں ہندوستان کو ’’دارالتعلیم‘‘ قرار دینے کے بعد، پچھلے ڈیڑھ سو سال کے اندر ملک میں مدارس دینیہ کا جو پھیلاؤ ہوا ہے وہ اپنے آپ نہیں ہو گیا بلکہ وہ ہزاروں علماء کی خاموش قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ سو سال پہلے کوئی عالم صرف یہ کر سکتا تھا کہ وہ ایک تعلیمی منصوبہ پیش کرے یا ایک ابتدائی مدرسہ کا قیام عمل مگر کوئی بھی ایک عالم اپنی محدود عمر میں یہ نہیں کر سکتا کہ وہ ایک پورے خطۂ ارض میں مدارس کا جال بچھا دے اور نسل در نسل ایک پوری امت کو تعلیم یافتہ بناتا رہے۔ اس کے لئے ضرورت ہے کہ مسلسل ایسے معاون علماء اٹھیں جو اس منصوبہ کو آگے بڑھائیں ۔ جو اس کو عملی صورت دینے کے لئے اپنی زندگیوں کو وقف کرتے رہیں۔
پچھلے تقریباً ڈیڑھ سو سال کے اندر ملک کے ہزاروں علماء نے ایثار و قربانی کا یہی عظیم کارنامہ انجام ان میں سے کچھ لوگوں کو آج ہم جانتے ہیں اور بہت سے لوگ وہ ہیں جو وفات پا کر اپنے رب کے پاس چلے گئے اور اب انھیں کوئی نہیں جانتا۔ مگر ان میں سے ہر ایک کی قربانیاں یکساں طور پر عظیم ہیں۔ سے کسی کا مشہور ہونا اور کسی کا مشہور نہ ہونا صرف ایک اضافی چیز ہے نہ کہ کوئی حقیقی چیز۔ ان علماء کے لئے تعلیم کے اس منصوبہ میں شرکت کوئی سادہ بات نہ تھی۔ یہ گویا ملت کو زندہ کرنے کے لئے اپنے آپ کو مٹا دینا تھا۔ یہ ایک ایسا منصوبہ تھا جس میں سادہ زندگی گزار کر مر جانا تھا۔ کم آمدنی پر اپنے آپ کو ساری عمر کے لئے راضی کر لینا تھا۔ حتی کہ بعض اوقات کسی مشاہرہ یا معاوضہ کے بغیر ساری عمر ایک ادارہ کی خدمت انجام دینا تھا۔ یہ ایک ایسے کام میں ساری زندگی گزار دینا تھا جس کی بابت پیشگی طور پر معلوم تھا کہ اس میں کوئی دنیوی عزت ملنے والی نہیں۔ مزید یہ کہ یہ ایک ایسا پر خطر کام تھا جس میں اپنے اہل و عیال کے معاملہ کو اللہ کے حوالہ کر کے قوم کے مستقبل کی تعمیر کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دینا تھا۔ ان سب سے بڑھ کر یہ بات تھی کہ اس تعلیمی منصوبہ کو عوامی چندہ کے ذریعہ چلانا تھا۔ کے بارے میں مولانا محمد علی جوہر (وفات ۱۹۳۱) نے درست طور پر کہا تھا کہ چندہ مانگنا اپنے آپ کو دوسروں کی نظر میں بندہ بنتا ہے۔ مدرسہ کو چلانے کے لئے یہ سب سے بڑی قربانی تھی جو علماء کو دینی
مگر انھوں نے اللہ کی خاطر ان تمام چیزوں کو برداشت کیا اور اس مشکل ترین تعلیمی مہم کو جاری حقیقت یہ ہے کہ ہزاروں علماء اگر ایک کے بعد ایک اس تعلیمی مہم کے لئے کھڑے نہ ہوتے اور ہر قسم کی قربانی کے باوجود اس کو مسلسل جاری نہ رکھتے تو یہ منصوبہ صرف ایک نظری منصوبہ بن کر رہ جاتا وہ کبھی تکمیل کے مرحلہ تک نہ پہنچتا۔
یہ علماء قناعت کی بوریوں پر بیٹھ کر ملت کے بچوں کو دین کی تعلیم دیتے تھے، اور معاشرہ کا حال یہ تھا کہ وہ عزت دینے کے بجائے انھیں حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا۔ اس کا اندازہ ایک مشہور مسلم شاعر کے ان دو شعروں سے ہوتا ہے: