Al-Risala · September 2000

شریعت کی رہنمائی

Al-Risala, September 2000, pp. 20–23

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلامی شریعت کی رہنمائی کا تعلق کچھ محدود مسائل سے نہیں ہے بلکہ اس سے زندگی کے ہر معاملہ میں رہنمائی ملتی ہے۔ مدارس کی تحریک کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس کو اس معاملہ میں شریعت کے رہنما اصولوں کی روشنی میں چلایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ مدارس کی تحریک کو وہ کامیابی ملی جو موجودہ زمانہ میں کسی دوسری تحریک کو نہیں ملی۔ یہاں اس سلسلہ میں اس کے چند پہلوؤں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ یہ دنیا فطرت کے مقرر قوانین پر چل رہی ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس دنیا میں طاقت کا زیادہ بڑا حصہ عدم تشدد (non-violence) میں ہے۔ اس کے مقابلہ میں تشدد (violence) اکثر تخریب کاری پر منتج ہوتا ہے۔ خدا کی اس دنیا میں طاقت کا زیادہ بڑا سر چشمہ امن ہے نہ کہ جنگ۔ حقیقت کو ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: إن الله يعطى على الرفق مالا يعطى على العنف (صحیح مسلم، کتاب البر) یعنی اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جس کو وہ سختی پر نہیں دیتا۔ اس حدیث کا تعلق صرف اخلاقی سلوک سے نہیں بلکہ اس کا تعلق ہر قسم کے عمل سے ہے، حتی کہ اجتماعی زندگی کی بڑی بڑی سرگرمیوں سے بھی۔ اصل یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی نتیجہ خیز عمل گہری منصوبہ بندی چاہتا ہے۔ اس دنیا میں ہر عمل کے راستہ میں بے شمار رکاوٹیں ہیں۔ قدم قدم پر دوسروں کے ساتھ ٹکراؤ کا امکان پیش آتا ہے۔ ایسی حالت میں کیا کرنا چاہیے۔ اگر آپ یہ چاہیں کہ پہلے تمام رکاوٹوں کو راستہ سے ہٹا دیا جائے تا کہ آپ کا سفر بلا روک ٹوک تیزی کے ساتھ جاری ہو سکے، تو ایسی حالت میں یہ ہو گا کہ آپ کا سفر ہی کبھی شروع نہ اس قسم کا ذہن کبھی نہ ختم ہونے والا تشدد شروع کر دے گا۔ ایک کے بعد ایک آپ مختلف رکاوٹوں سے لڑتے رہیں گے۔ آپ کی یہ قشد دانه جد و جہد کبھی ختم نہ ہوگی۔ کیوں کہ اللہ نے اس دنیا میں انسان کو مختلف قسم کی رکاوٹوں اور مشکلات کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ (البلد ۴) اللہ کی مشیت یہی ہے کہ یہ دنیا کبھی ان رکاوٹوں سے خالی نہ ہو۔ ایسی حالت میں اس دنیا میں ٹکراؤ کا

طریقہ صرف ایک بے نتیجہ عمل کا نام ہے، وہ کسی نتیجہ خیز عمل کا نام نہیں۔

پھر اس دنیا میں عمل کا طریقہ کیا ہے۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ رکاوٹوں کو نظر انداز کیا جائے اور پر امن عمل کے ذریعہ مواقع کو استعمال کیا جائے۔ قرآن کی شہادت کے مطابق، اس دنیا میں عصر کبھی تنہا نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ ہمیشہ یسر موجود رہتا ہے۔

قرآن کی اس آیت میں عصر سے مراد مسائل (problems) ہیں، اور یسر سے مراد مواقع (opportunities) ہیں۔ قانون فطرت کے مطابق، یہ دونوں کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے (مع العسر یو جد اليسر، ابن کثیر)۔ ایسی حالت میں عمل کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ مسائل و مشکلات کو نظر انداز کیا جائے اور جو مواقع موجود ہیں ان کو غیر نزاعی انداز میں استعمال کیا جائے۔ مدارس دینیہ کی تحریک اسی حکیمانہ اصول کی ایک عملی مثال ہے۔ انیسویں صدی میں جو علماء اس تحریک کو لے کر اٹھے ان کی ایک سوچ یہ ہوسکتی تھی کہ پہلے موجودہ عصر کو ختم کرو۔ یعنی برطانی حکمرانوں کو ہلاک کرو۔ انگریزی نظام تعلیم کے ڈھانچہ کو تباہ کرو، وغیرہ۔ اس کے بعد ہی ہمارے لئے وہ وقت آسکتا ہے جب کہ ہم اپنی پسند کا تعلیمی نظام اس ملک میں قائم کریں۔

اگر ہمارے علماء کی یہ سوچ ہوتی تو ان کی یہ تحریک شروع ہو کر چند سال کے بعد ہی ختم ہو جاتی۔ اس کا کوئی مثبت نتیجہ ملت مسلمہ کو نہ ملتا، جیسا کہ اس قسم کی بہت سی تشدد دانہ تحریکوں کا کوئی مثبت فائدہ مگر علماء کو اللہ تعالیٰ نے یہ بصیرت (vision) دی کہ وہ دونوں طریقوں کے فرق کو سمجھیں ۔ چنانچہ انھوں نے تخریب غیر کے بے فائدہ کام کو چھوڑ کر تعمیر خویش کے مفید میدان میں اپنی ساری اس کا نتیجہ اتنا کامیاب نکلا کہ یہ تحریک مذکورہ حدیث کی ایک عملی مثال بن گئی۔ عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہمیشہ رہنے والا عمل، اگر چہ وہ کم ہو۔ نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے آپ کو ایسے عمل کا پابند بناؤ جس کی تم طاقت رکھتے ہو: عن عائشة رضى الله عنها قالت: سئل النبي صلى الله عليه وسلم: أي

الاعمال أحب الى الله ؟ قال : أدومها وإن قل . وقال : اكلفوا من الاعمال ما تطيقون . (صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب القصد و المداومة على العمل)

اس حدیث کا انطباق عام طور پر اذکار اور عبادات جیسے اعمال پر کیا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس ارشاد میں ایک عام اصول حیات بتایا ہے۔ اس کا ایک جزء بلاشبہ ذکر و عبادت ہے، مگر زندگی کے بقیہ شعبوں سے بھی اس کا تعلق اتناہی ہے جتنا کہ ذکر و عبادات سے۔ ایسا عمل جو قابل مداومت ہو، وہ اللہ کو زیادہ پسند ہے، یہ کوئی پر اسرار معاملہ نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ کسی بھی عمل کا کوئی بڑا اور گہرا نتیجہ صرف اس وقت نکلتا ہے جب کہ اس کو لمبی مدت تک جاری نتیجہ اور لمبا عمل دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ چونکہ اللہ کے نزدیک قدر افزائی کے قابل کام صرف وہی ہے جو نتیجہ خیز ہو۔ وقتی قسم کی بے نتیجہ ہنگامہ آرائی اللہ کو پسند یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نزدیک وہی عمل قابل قدر ہے جس میں مداومت کی صفت پائی علماء کی تحریک تعلیم ایک مثبت اور غیر تشددانہ تحریک تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں مداومت کی صفت پیدا ہو گئی۔ وہ اپنی اس صفت کی بنا پر اللہ کی پسندیدہ تحریک قرار پائی۔ اور نتیجہ بہت سے فوائد کا سبب بنی۔ علماء نے تحریک مدارس کی صورت میں جو کام کیا اس کی خاص صفت یہ تھی کہ یہ کام اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایسا کام تھا جو شروع ہونے کے بعد مسلسل جاری رہ سکے۔ چنانچہ وہ تقریباً ڈیڑھ سو سال سے بر صغیر ہند میں جاری ہے اور دن بدن ترقی کر رہا ہے۔ اس مدت میں یہ کام نہ صرف بر صغیر ہند میں پھیلا ہے بلکہ اس نظام کے تربیت پائے ہوئے افراد باہر کے ملکوں میں بھی جا کر کثیر تعداد میں چھوٹے اور بڑے مدارس قائم کر چکے ہیں۔ ان کی نہ صرف تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ نوعیت کے اعتبار سے بھی ان میں مختلف قسم کی ترقیاں وقوع میں آئی ہیں۔ مثلاً لڑکوں کے مدرسہ کے علاوہ لڑکیوں کے بڑے بڑے مدرسہ کا قائم ہونا، مدرسوں کا ماڈرنائز کیا جانا، مدرسوں میں کمپیوٹر اور دوسری نئی چیزوں کا اضافہ۔ مدرسوں میں مختلف علمی شعبوں کا اضافہ، مثلاً دار الافتاء، تصنیف و تالیف، دعوت و تبلیغ اور صحافت، وغیرہ۔

ان علماء کے کام کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ ایک ایسی صحت مند روایت (healthy tradition) کو

قائم کرنے کا سبب بنے جو ان کے بعد مسلسل جاری رہی اور بے شمار لوگ اس روایت کو لے کر آگے اس اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ ان علماء کی جاری کردہ تحریک مدارس اس ارشادِ رسول کی مصداق ہے : لا یسن عبد سنة صالحة يعمل بها بعده الا كتب له مثل اجر من عمل بها ولا ينقص من اجورهم شی (صحیح مسلم، کتاب العلم، صفحہ ۲۲۶)۔ یعنی جب بھی کوئی بندہ ایک صالح سنت کو جاری کرتا ہے جس پر اس کے بعد عمل کیا جائے تو اس کے لئے بھی اتناہی ثواب لکھ دیا جاتا ہے جتنا اس کے بعد عمل کرنے والوں کے لئے، اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی اس حدیث میں صالح سنت سے مراد صحت مند روایت(healthy tradition) ہے۔ ہوں کہ ان علماء کی جاری کردہ تحریک مدارس اسی قسم کی ایک صالح سنت تھی۔ اس لئے جن لوگوں نے اب تک اس روایت پر عمل کیا یا آئندہ جو لوگ اس پر عمل کریں گے ان سب کے اجر و ثواب کے بقدر اجر و ثواب اس کے ابتدائی معماروں کو بھی ملتا رہے گا، بغیر اس کے کہ بعد کو عمل کرنے والوں کے اجر و ثواب میں کوئی کمی کی گئی ہو۔

Printed page