سوال و جواب
Al-Risala, January 2000, pp. 53–57
By Maulana Wahiduddin Khan
حکمت یا وز ڈم کیا ہے؟ حکیم (wiseman) کس کو کہا جا سکتا ہے۔ میرا احساس یہ ہے کہ لوگوں میں اس کا واضح تصور نہیں ہے۔ اکثر لوگ محض خوش فہمی کی بنا پر کسی کو حکیم الاسلام اور کسی کو حکیم الامت کہنے لگتے اس معاملہ کی وضاحت فرمائیں۔ (عبد السلام اکبانی، ناگپور)
حکمت یا وز ڈم ایک اعلیٰ ترین ذہنی صفت ہے۔ میرے علم کے مطابق، انسانی تاریخ میں سب سے کم پائی جانے والی صفت یہی ہے۔ عام زبان میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ حکمت ایک ایسی ذہنی صلاحیت ہے جو گہری بصیرت کے نتیجہ میں کسی کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ برٹش کلر جی مین اور مصنف ولیم رالف انگ (William Ralph Inge) ۱۸۶۰ء میں پیدا ہوا اور ۱۹۵۴ء میں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے نہایت درست طور پر حکیم یا دانا شخص کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے ۔ دانا انسان وہ ہے جو چیزوں کی اضافی قدر کو جانے:
The wise man is he who knows the relative value of things. اضافی قدر یا ریلیٹیو ویلو کیا ہے، انگریزی ڈکشنری میں اس کی تشریح اس طرح کی گئی ہے: کسی اور چیز کی نسبت سے اہمیت و معنویت ہونا:
Having significance in relation to something else اس حکمت یا دانائی کی ایک تاریخی مثال حدیبیہ کا معاملہ ہے۔ اس موقع پر پیغمبر اسلام اور آپ کے مخالفوں کے درمیان جو معاہدہ ہوا اس کا ایک پہلو وہ تھا جو بظاہر سب کو دکھائی دیتا تھا۔ اسلام کا مخالفین کی شرائط کو یک طرفہ طور پر مان لینا۔ بظاہر یہ طریقہ اتنا ناز زیبا تھا کہ حضرت عمر نے اس کو دُنِیَّۃ قرار دیا۔ یعنی ذلت کو اختیار کرنا۔ (البدایۃ والنھایۃ ۴/ ۱۶۸)۔ مگر اسی کے ساتھ اس معاملہ کا ایک اور پہلو تھا جو بظاہر معاہدہ کے وقت دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ وہ یہ کہ کسی بھی طرح اگر ایسا ہو کہ باہمی ٹکراؤ ختم ہو جائے اور دونوں فریقوں کے درمیان معتدل فضا میں انڈ ایکشن ہونے لگے تو لوگوں کے اندر تیزی سے اسلام پھیلنا شروع ہو جائے گا۔ یہاں تک کہ وہ
وقت آجائے گا جب کہ دشمن لوگ اسلام قبول کر کے اسلام کے قریبی مددگار بن جائیں (حم السجدہ ۴۳) جیسا کہ بعد کو عملاً پیش آیا۔ گویا حدیبیہ کے معاہدہ کا ایک پہلو وہ تھا جس کو ہر صاحب بصارت دیکھ رہا تھا۔ لیکن اس کا ایک اور اہم تر پہلو وہ تھا جس کو صرف صاحب بصیرت ہی دیکھ سکتا یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے: فعلم ما لم تعلموا تعلموا(الفتح ۲۷) یعنی اللہ نے وہ بات جانی جو تم نے نہیں جانی۔ اضافی قدر یا ریلیٹیو ویلو کو جاننے کی اہمیت یہ ہے کہ اکثر حالات میں یہی پہلو عملی اعتبار سے فیصلہ کن بن جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلم مفکرین کی سب سے بڑی کمی یہی ہے کہ وہ اس حکیمانہ بصیرت سے خالی تھے۔ وہ سامنے کی چیزوں کو دیکھ کر اقدامات کرتے رہے۔ وہ ان دوسرے پہلوؤں کو دیکھنے سے قاصر رہے جو آخر کار فیصلہ کن بننے والے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے تمام اقدامات نہ صرف بے نتیجہ رہے بلکہ وہ الٹا نتیجہ پیدا کرنے والے (counter productive) ثابت ہوئے۔ مثال کے طور پر مصر اور پاکستان اور ایران میں اسلام پسندوں کا یہ سمجھ لینا کہ ان کی معاصر حکومت تمام خرابیوں کی جڑ (source of all evils) ہے۔ اگر وہ کسی طرح موجودہ حکمرانوں کو اقتدار سے ہٹا دیں تو وہاں شاندار طور پر اسلامی نظام قائم ہو جائے گا۔ اسی طرح برصغیر ہند میں مسلم رہنماؤں نے یہ سمجھ لیا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جغرافی تقسیم مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل ہے۔ رہنماؤں کی مشترک کوتاہی یہ تھی کہ وہ صرف سامنے کی باتوں کو دیکھ سکے، وہ ان اضافی اسباب (relative factors) کو دیکھنے سے عاجز رہے جو آخر کار فیصلہ کن بن کر ان کی تمام خوش فہمیوں کو تہ و بالا کر دینے والے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان تمام رہنماؤں کی ہنگامہ خیز تحریکیں مسلمانوں کی تباہی میں اضافہ کے سوا کوئی اور نتیجہ پیدا نہ کر سکیں۔ اسی حقیقت کو حضرت عمر فاروق نے ان لفظوں میں بیان فرمایا ہے کہ عقل مند وہ نہیں ہے جو شر کے مقابلہ میں خیر کو جانے۔ عقل مند وہ ہے جو یہ جانے کہ دو شر میں سے کم تر شر کون سا ہے۔ (لیس العاقل الذی يعرف الخير من الشر و لكنه الذی يعرف خير الشرين)
الرساله مئی ۱۹۹۹ء پڑھا۔ اس میں ایک مضمون ”جنتی کون؟ “ کے عنوان سے ہے۔ اس میں آپ لکھتے ہیں کہ: جنتی انسان وہ ہے جس نے دنیا ہی میں آخرت کا تجربہ کیا۔ جس نے آخرت میں خدا کو براہ راست دیکھنے سے پہلے اسی دنیا میں اس کو بالواسطہ طور پر دیکھا۔ (صفحہ ۴) اس جملہ کی وضاحت مطلوب دنیا میں خدا کو بالواسطہ طور پر دیکھنے سے کیا مراد ہے۔ (عبدالسلام، جامعہ دارالسلام، عمر آباد) ”خدا کو بالواسطہ دیکھنے“ سے مراد وہی چیز ہے جس کو حدیث میں تعبد اللہ کا نک تراہ (البخاری) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ میں نے صرف اس کو قابل فہم بنانے کے لئے نئے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ خدا کی ذات کو دیکھنا۔ دوسرا ہے خدا کی آیات اور آلاء کے ذریعہ خدا کو پہچاننا۔ پہلے معنی میں صرف آخرت میں کسی کو خدا کا مشاہدہ حاصل ہوگا۔ دوسرے معنی میں یہ تجربہ اسی دنیا میں گزرتا ہے۔ کے الفاظ میں، دنیا میں آدمی گویا کہ خدا کو دیکھتا ہے اور آخرت میں وہ خدا کو حقیقی طور پر دیکھے گا۔ دیکھنا بالواسطہ پر دیکھنا ہے، اور دوسرا دیکھنا براہ راست طور پر دیکھنا۔
قرآن نے سوچنے اور سمجھنے کی نسبت قلب کی طرف کی ہے۔ اور حالیہ سائنس کی تحقیقات یہ ہیں کہ یہ دونوں صلاحیتیں دماغ کی ہیں۔ دل (قلب) کی حیثیت ایک پمپ سے زیادہ نہیں۔ میں تطبیق کی صورت کیا ہوگی ؟ (ابرار احمد رفعت، سورت)
قرآن میں قلب کا لفظ حیاتیاتی اصطلاح کے طور نہیں آیا بلکہ اپنے ادبی استعمال کے طور پر آیا اور یہ ایک معلوم بات ہے کہ دنیا کی تمام زبانوں میں آج بھی قلب کا لفظ اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے جس معنی میں وہ قرآن میں استعمال کیا گیا ہے معروف اصول کے مطابق، قرآن کی ان آیتوں
میں قلب کے لفظ کو اس کے ادبی مفہوم کے اعتبار سے لینا چاہیے نہ کہ اس کے حیاتیاتی مفہوم کے اعتبار قلب کے لئے انگریزی میں ہارٹ (Heart) کا لفظ ہے۔ حیاتیاتی کتاب میں اس لفظ کی تشریح گردش خون کے مرکز کی حیثیت سے ملے گی۔ لیکن آپ انگریزی کی کوئی ڈکشنری دیکھیں تو اس میں درجنوں ایسے استعمال ملیں گے جن میں ہارٹ کو مرکز جذبات کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ With all one's heart یعنی بہت خوشی سے۔ شیکسپیئر کی ایک لائن اس طرح ہے: A good heart is worth gold اس معاملے کا تعلق صرف قلب سے نہیں ہے بلکہ دوسرے سیکڑوں الفاظ سے مثلاًسن لائٹ اورمون لائٹ وغیرہ۔
تقدیر کیا ہے؟ انسان کا معاملہ تقدیر کے تحت ہے یا تدبیر کے تحت۔ اگر تقدیر کے تحت ہے تو اس کا مطلب ہے کہ انسان مجبور ہے۔ پھر انسان کا امتحان کیوں؟ اور اگر تدبیر کے تحت ہے تو سمجھ میں نہیں آتا، کیوں کہ بہت سے معاملات میں انسان اپنے آپ کو بے بس پاتا ہے۔ (محمد اسحاق، عمر آباد)
یہ معاملہ پیچیدہ اس لئے نظر آتا ہے کہ لوگ اس معاملہ میں ثنائی طرز فکر (Dichotomous thinking) کا شکار ہیں۔ یعنی وہ سمجھتے ہیں کہ یا تو سارا معاملہ تقدیر پر مبنی ہے یا سارا معاملہ تدبیر پر۔ حالانکہ یہ معاملہ ففٹی ففٹی کا ہے۔ یعنی جزئی طور پر تقدیری اور جزئی طور پر تدبیری۔ ایسا اس لئے ہے کہ انسان موجودہ دنیا میں آزمائش کے لئے رکھا گیا ہے اور آزمائش کی مصلحت چاہتی ہے کہ ایسا ہی ہو۔ آدمی جب اپنے آپ کو مجبور محسوس کرے تو وہ عاجزانہ طور پر خدا کو پکارے اور جب وہ اپنے آپ کو آزاد پائے تو وہ خدا کی اس نعمت پر اس کا شکر ادا کرے۔ قرآن میں خدا کے مطلوب بندوں کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے: یدعون ۱۶)اسی (السجدہ - ١٦)۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ: الایمان بین الرجاء والخوف۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ بندے کے اوپر اپنے رب کی نسبت سے دو مختلف قسم کی کیفیات طاری ہوں ۔ کبھی خوف کی کیفیت اور کبھی امید کی کیفیت ۔ یہ دو طرفہ کیفیات کسی بندہ کے اوپر صرف اسی وقت طاری ہوسکتی ہیں جب کہ وہ اس دنیا میں خوف کی حالت کا تجربہ کرے اور کبھی امید کی حالت کا ۔ چونکہ حالات کے بغیر کیفیات پیدانہیں ہوسکتیں اس لئے انسان کو بیک وقت جبر اور اختیار کے دو طرفہ نظام کے تحت اس دنیا میں رکھا گیا۔ مجھے قرآن کے مطالعہ سے دلچسپی ہے۔ اس سلسلہ میں میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ قرآن فہمی کا اصول کیا ہے۔ (ایک قاری ، الرساله)
قرآن کے مطالعہ کے دو طریقے ہیں ۔ ایک ہے اس کا علمی اور فنی مطالعہ۔ اور دوسرا ہے قرآن کا تذکیری مطالعہ۔ اگر آپ قرآن کا علمی اور فنی مطالعہ کرنا چاہتے ہوں تو آپ کو بہت سے علوم میں گہری واقفیت پیدا کرنی ہوگی جن کی تعداد اہل تفسیر نے کئی درجن بتائی ہے۔ مگر اس قسم کا مطالعہ مخصوص علماء کا کام ہے۔ وہ عام انسان کی ضرورت نہیں۔ عام انسان جو قرآن کو سادہ طور پر سمجھنا چاہتا ہو اور اس کو پڑھ کر اپنی فکری اور عملی اصلاح کرنا چاہتا ہو، ایسے انسان کے لئے درجنوں علوم میں مہارت پیدا کرنا ضروری نہیں۔ ایسے آدمی کے لئے دو چیزیں کافی ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ عربی زبان سے واقف ہو اور صالح نیت کے ساتھ قرآن کو پڑھے۔ تاہم اسی کے ساتھ اس کو مستند تفسیروں کا مطالعہ بھی ضرور کرنا چاہئے خاص طور سے عربی تفسیروں کا۔ ورنہ دوسری زبانوں میں لکھی ہوئی تفسیروں کا مطالعہ بھی اس کے لئے مفید ہوسکتا ہے۔ اس سلسلہ میں سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنے ذہنی سانچے کے مطابق آیتوں کا مفہوم متعین نہ کرے بلکہ خود قرآن نیز حدیث کی روشنی میں اس کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔ یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن کا درست مطالعہ آدمی کو ہدایت تک پہنچاتا ہے اور اس کا نادرست مطالعہ برعکس نتیجہ کا سبب بنتا ہے۔