Al-Risala · September 2000

پرامن میدانِ عمل

Al-Risala, September 2000, pp. 23–25

By Maulana Wahiduddin Khan

انیسویں صدی عیسوی میں جب مغربی استعمار کا مسئلہ نمایاں طور پر سامنے آیا تو اس کے خلاف مسلم رہنماؤں کا پہلا ردِ عمل قشد دانہ تھا۔ چنانچہ انھوں نے انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد (۱۸۵۷) کیا۔ مگر یہ جہاد اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اس تجربہ کے بعد انھوں نے اپنے طریقہ کار کو بدل دیا۔ مسلح جہاد حکماً اگر چہ ایک اسلامی فعل تھا، مگر اجتماعی معاملات میں کسی اقدام کے بارے میں صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ حکماً وہ صحیح ہے یا نہیں۔ اسی کے ساتھ یہ دیکھنا بھی لازمی طور پر ضروری ہے کہ وہ عملی طور پر نتیجہ خیز ہے یا نہیں۔ ایک طریق کار، تجربہ کے بعد نتیجہ خیز ثابت نہ ہو تو عقل و شریعت کا تقاضا ہے کہ طریق کار کو بدل دیا جائے۔

مثال کے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے سردارانِ قریش سے بدر (۲ھ) کے مقام پر مسلح مگر اس کے بعد انہی سردارانِ قریش سے حدیبیہ (۶ھ) کے مقام پر صلح کرلی۔ طرح غزوہ احد (۳ھ) کے موقع پر آپ نے مدینہ سے تین میل باہر نکل کر حملہ آوروں کا مقابلہ کیا، مگر

اس کے بعد انہیں حملہ آوروں سے غزوہ احزاب (۵ھ) کے موقع پر مدینہ کے اندر رہتے ہوئے دفاع کا انداز اختیار کیا، وغیرہ۔

اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح صالح مقصد کے لئے اقدام اٹھانا ایک پیغمبرانہ سنت ہے اسی طرح دفاعی تدبیر کو بدلنا بھی ایک پیغمبرانہ سنت ہے۔ دونوں کام یکساں طور پر اسلامی ہیں اور سنت رسول ہندوستان کے علماء نے اسی معلوم سنت پر عمل کیا چنانچہ انھوں نے مسلح جہاد کو غیر مؤثر دیکھ کر اپنے میدانِ کار کو بدل دیا۔ اور تعلیم کو اپنا میدان عمل بنالیا۔ گویا کہ مدرسہ ملی جدوجہد کو تشدد کے میدان سے نکال کر امن کے میدان میں لانے کا عنوان ہے۔

اس اعتبار سے یہ گویا پر تشدد عمل کے مقابلہ میں پر امن عمل کا انتخاب (choice) لینا تھا۔ مطلب یہ تھا کہ ان مسلم رہنماؤں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تشدد کے میدان میں اپنی کوششیں صرف کرنے کے بجائے امن کے میدان میں وہ زیادہ مفید طور پر اپنی کوششوں کا استعمال کریں۔ عجیب بات ہے کہ ۱۹ ویں صدی کے نصف آخر میں تقریباً ایک ساتھ دو مختلف تعلیمی تحریکیں اٹھیں۔ ایک طرف سرسید احمد خاں کی تحریک تھی جو عام طور پر علیگڑھ تحریک کے نام سے مشہور ہوئی۔ تحریک کے ایک رکن مولانا الطاف حسین حالی (وفات ۱۹۱۴) نے اس کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا: بس اب وقت کا حکم ناطق یہی ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہے تعلیم ہی ہے دوسری طرف مولانا محمد قاسم نانوتوی اور ان کے ہم عصر علماء تھے۔ مولانا نانوتوی سرسید احمد خاں کے ہم سبق تھے، دونوں دتی کالج میں ایک ساتھ مولانا مملوک علی کے شاگرد رہ چکے تھے۔ نشانہ بیک وقت تعلیم تھا۔ فرق یہ ہے کہ سرسید احمد خاں نے انگریزی زبان اور سیکولر علوم کو اپنی تعلیمی تحریک کا مرکز بنایا۔ اس کے مقابلہ میں مولانا نانوتوی اور ان کے ہم عصر علماء کا نشانہ یہ تھا کہ ملت مسلمہ کے درمیان عربی زبان اور دینی علوم کی اشاعت کی جائے۔

سرسید احمد خاں کی تعلیمی تحریک گویا وقت کا تقاضا تھی اور علماء کی تحریک گویا دین کا تقاضا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر اٹھنے والی تحریکوں میں یہی دونوں تحریکیں ہیں جو مثبت معنوں میں نتیجہ خیز ثابت ہوئیں۔ اس کا سبب بلاشبہ یہی تھا کہ ان دونوں تحریکوں کو پرامن

جدوجہد کے اصول پر چلایا گیا۔ علماء اسلام کی طرف سے شروع کی جانے والی مدارس دینیہ کی تحریک وقت کی ایک ضرورت تھی۔ وہ اپنے اندر بھرپور امکانات رکھتی تھی۔ چنانچہ وہ شروع ہونے کے بعد پھیلتی رہی، یہاں تک، کہ اب وہ اس تو سیعی مرحلہ تک پہنچ چکی ہے کہ ہر جگہ اس کے مظاہر دیکھے جاسکتے ہیں۔

Printed page