Al-Risala · September 2000

علماء کا قائدانہ کردار

Al-Risala, September 2000, pp. 25–29

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبروں کے مخاطب اول ہمیشہ ملاء قوم (الاعراف ۸۸) ہوتے یعنی وقت کے سردار۔ وقت کے سرداروں کو اپنا مخاطب بنانے کے لئے پہلی اور لازمی شرط یہ ہے کہ داعی اور مدعو کی زبان ایک ہو۔ اگر داعی اور مدعو کے درمیان لسانی بعد (language gap) ہو تو ایسے مخاطب کا وجود میں آنا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے جتنے پیغمبر بھیجے سب لسان قوم (ابراہیم ۴) میں بھیجے، یعنی پیغمبروں کی زبان بھی وہی تھی جو قوم کے اعلیٰ افراد کی زبان تھی۔ علماء پیغمبروں کے وارث ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اسلام کے ظہور کے بعد علماء تقریباً ایک ہزار سال تک یہ کام بخوبی طور پر انجام دیتے رہے۔ اس کا ایک بنیادی سبب یہ تھا کہ پچھلے زمانوں میں علماء کی زبان بھی وہی ہوتی تھی جو وقت کے سربرآوردہ طبقہ کی ہوتی تھی۔ دمشق اور بغداد اور قاہرہ اور قرطبہ وغیرہ میں جو نظام اقتدار قائم ہوا ان میں ہمیشہ علماء اپنا قائدانہ رول ادا کرتے رہے۔ اس کا بنیادی سبب بلاشبہ یہی تھا کہ اس زمانہ میں سربرآوردہ طبقہ کی زبان عربی تھی اور علماء اسلام کی زبان بھی عربی تھی۔ طرح دونوں طبقوں کے درمیان کوئی لسانی بعد نہیں پایا جاتا تھا۔

برطانوی اقتدار سے پہلے کے ہندوستان میں بھی یہ صورت حال باقی رہی۔ اس زمانہ کے مسلم ارباب اقتدار عام طور پر فارسی زبان بولتے یا سمجھتے تھے، اور طلباء اسلام کی زبان بھی اس زمانہ میں فارسی اس بنا پر علماء کے لئے ممکن ہو گیا کہ وہ وقت کے سربر آوردہ طبقہ کو براہ راست مخاطب کر سکیں اور اپنے قائدانہ رول کو کامیابی کے ساتھ ادا کرتے رہیں۔ مثال کے طور پر شیخ احمد سرہندی نے اپنے وقت کے امراء حکومت کو مخاطب کرنا چاہا تو نہیں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ کیوں کہ دونوں کی زبان یکساں طور پر فارسی تھی۔

مگر ہندوستان میں برطانوی اقتدار قائم ہونے کے بعد صورت حال بدل گئی۔ اب یہاں کے حاکموں اور لیڈروں اور تعلیم یافتہ لوگوں کی زبان انگریزی بن گئی۔ اب نہ صرف حکام سے ربط کے لئے بلکہ عوامی سطح پر کوئی بڑی تحریک چلانے کے لئے بھی انگریزی زبان لازمی طور پر ضروری ہو گئی۔ لسانی تبدیلی کے بعد ملکی تاریخ دوسرا منظر دیکھتی ہے۔ علماء اسلام جو تقریباً ہزار سال سے ملی اور سیاسی معاملات میں قائدانہ رول ادا کرتے چلے آرہے تھے، انہوں نے اچانک اپنے آپ کو اس میدان میں حاشیہ پر پایا۔

مثال کے طور پر بیسویں صدی کے نصف اول میں بر صغیر ہند میں دو بڑی تحریکیں اٹھیں آزادی ہند کی تحریک اور تقسیم ہند کی تحریک۔ علماء نے ان دونوں تحریکوں میں حصہ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ دونوں تحریکوں میں ان کا رول زیادہ تر ثانوی رہا۔ دونوں ہی میں قائدانہ رول وہ غیر علماء ادا کرتے رہے جو انگریزی زبان میں لکھنے اور بولنے کی قدرت رکھتے تھے۔ تقسیم کے بعد بھی کم و بیش یہی صورت حال باقی رہی۔ مثال کے طور پر تقسیم کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان اٹھنے والی سب سے بڑی تحریک وہ تھی جو آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس تحریک میں علماء بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ مگر دھیرے دھیرے دوبارہ یہی ہوا کہ علماء اس کے نظام میں غیر مؤثر ہو گئے اور غیر علماء، مثلاً ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی اور ڈاکٹر سید محمود وغیرہ، عملاً اس کے اوپر چھا گئے، اس کا نتیجہ علماء اور غیر علماء کے درمیان کشاکش کی صورت میں نکلا۔ جس کا آخری انجام یہ ہوا کہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اپنا نشانہ پورا کرنے سے پہلے ہی اختلاف و انتشار کا شکار ہو کر رہ گئی۔

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہندوستانی علماء بالقوہ طور پر اپنے اندر وہ تمام صلاحیتیں رکھتے ہیں جو آج کے حالات میں قیادتی کردار ادا کرنے کے لئے ضروری ہیں۔ مگر صرف ایک کمی نے ان کو قیادت کے میدان سے باہر کر دیا ہے، اور وہ ہے انگریزی زبان یا الفاظ دیگر عصری زبان میں لکھنے اور بولنے پر قادر نہ اب آخری طور پر علماء کے لئے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ انگریزی زبان کو خصوصی اہتمام کے بصورت دیگر، انہیں آج کی دنیا میں تقدس کا درجہ تو مل سکتا ہے مگر انہیں قیادت کا درجہ

ملنا ممکن نہیں۔ اور یہ خود فطرت کے قانون کی بنا پر ہو گانہ کہ کسی کی سازش کی بنا پر۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ مدارس کے نصاب میں انگریزی زبان لازمی مضمون کے طور پر داخل ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہر بڑے مدرسہ میں انگریزی زبان اور عصری علوم کو اختیاری مضمون (optional subject) کی حیثیت سے شامل کیا جائے۔ اور طلبہ کے لئے یہ موقع ہو کہ ان میں سے جو شخص چاہے وہ اس سے استفادہ کر سکے۔ یہی واحد طریقہ ہے جس کے ذریعہ ہم مدارس کو علماء کو دوبارہ اس قابل بنا سکتے ہیں کہ آج کے حالات میں وہ اپنا قائدانہ رول ادا کر سکیں۔ بین اقوامی کانفرنسوں میں شرکت کے دوران مجھے بار بار یہ تجربہ ہوا ہے کہ دوسرے مذاہب میں ایسے افراد کثرت سے موجود ہیں جو عالمی اسٹیج پر اپنے مذہب کی نمائندگی انگریزی زبان اور عصری اسلوب میں کر سکیں۔ مگر اسلام کی صفوں میں ایسے علماء مشکل سے ملیں گے جو حقیقی طور پر اس کام کے اہل ہوں اور ان مواقع کو استعمال کرتے ہوئے وقت کے معیار پر اسلام کی نمائندگی کر سکیں۔ مدارس کی یہ لازمی ذمہ داری ہے کہ وہ اس نقصان کی تلافی کے لئے ضروری تدابیر اختیار کریں۔ اس سلسلہ کی چند مزید صورتیں یہ ہو سکتی ہیں۔ جدید متعلق موضوعات پر تو سیعی لیکچر (Extention Lecture) کا انتظام کرنا۔ مقررہ نصاب کے ساتھ مزید کتابیں تجویز (recommend) طلبہ کو بین مذاہب اجتماعات میں شرکت کے مواقع دینا۔ تعطیلات میں طلبہ کے تربیتی کیمپ قائم طلبہ کی انجمن کے تحت جدید موضوعات پر تقریر و مذاکرہ کا پروگرام رکھنا، وغیرہ۔ مدارس کا دعوتی پہلو اسلامی درس گاہ کا تصور جو قرآن میں دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اس میں ایسے لوگ تیار ہوں جو درس گاہ سے فارغ ہو کر اقوام عالم میں اسلام کی دعوت و تبلیغ کا کام (التوبہ ۱۲۲) انجام دیں۔ ظہور کے بعد مسلسل یہ کام جاری رہا۔ ہر دور میں جو دینی مدارس قائم کئے گئے ان کا خاص مقصد یہی تھا کہ ان کے نظام کے تحت ایسے علماء تیار ہوں جو مسلمانوں کی دینی رہنمائی کے ساتھ اسلام کی عمومی اشاعت کا فریضہ بھی انجام دے سکیں۔ مدارس کا یہ نظام کم وبیش آج بھی جاری ہے۔ مگر بعد کے اسباب کے تحت مدارس کا یہ شعبہ دعوتی اسلوب کے بجائے مناظرہ کے اسلوب پر قائم ہو گیا۔

یہی وجہ ہے کہ یہ مدارس حقیقی اسلامی تبلیغ کے میدان میں عملاً غیر مؤثر ہو کر رہ گئے ہیں۔ ہمارے مدارس سے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں علماء تیار ہو کر نکل رہے ہیں مگر وہ اس قابل نہیں ہوتے کہ اسلام کی دعوتی ضرورت کو پورا کر سکیں۔

اس کا سبب زمانی حالات کا فرق ہے۔ ہمارے مدارس میں بظاہر آج بھی طلبہ کو نصابی یا غیر نصابی ذرائع سے دعوت و تبلیغ کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔ مگر یہ تیاری تمام تر مناظرہ کے اصول پر ہوتی ہے نہ کہ حقیقی معنوں میں دعوت کے اصول پر۔ مدارس کے طلبہ علم مناظرہ تو پڑھتے ہیں مگر وہ علم دعوت سے آشنا نہیں ہوتے۔ وہ اچھے مناظر تو ہوتے ہیں مگر وہ اچھے داعی نہیں ہوتے۔ یہی وہ چیز ہے جس نے ہمارے مدارس کے فارغین کو عملاً دعوت و تبلیغ کے لئے غیر موزوں بنا دیا ہے۔ قدیم زمانہ مناظرہ (debate) کا زمانہ تھا۔ مناظرہ کا یہ طریقہ قدیم دورِ شمشیر" کے زیر اثر پیدا شمشیر کا عمل ہار جیت کے اصول پر قائم تھا۔ اس کا اصول یہ تھا کہ میدانِ جنگ میں جو شخص جیتے وہ کامیاب، اور جو شخص ہارے وہ ناکام۔ اسی مخصوص فضا کے تحت مناظرہ کا فن پیدا ہوا جو خود بھی جیت اور ہار کے اصول پر مبنی تھا، صرف اس فرق کے ساتھ کہ میدان جنگ میں تلوار جیت اور ہار کا فیصلہ کرتی تھی اور میدانِ مناظرہ میں الفاظ سے جیت اور ہار کا یہ کام لیا جاتا تھا۔

اس قسم کا مناظرہ قدیم دور کے حالات میں بہت مقبول ہوا۔ ہر طرف اس کی دھوم ہونے لگی، مگر موجودہ زمانہ میں یہ رجحان مکمل طور پر بدل چکا ہے۔ موجودہ زمانہ سائنسی تجزیہ کا زمانہ ہے نہ کہ لفظی جدال کا چنانچہ پہلے جہاں مناظرہ کی مجلسیں منعقد ہوتی تھیں، اب وہاں سنجیدہ ڈائیلاگ (serious dialogue) کی مجلسیں منعقد کی جاتی ہیں۔

یہ زمانی تبدیلی تقاضا کرتی ہے کہ مدارس کے نظامِ تعلیم کو اس سے ہم آہنگ کیا جائے۔ مناظرہ اور مجادلہ کے بجائے علمی ڈسکشن (scientific discussion) کے لئے تیار کیا جائے۔ مناظرہ اور ڈائیلاگ میں کیا فرق ہے، وہ فرق بنیادی طور پر یہ ہے کہ مناظر پیشگی طور پر فریق ثانی کو اپنا حریف سمجھتا ہے۔ مناظر کے دل میں فریق ثانی کے لئے خیر خواہی کا جذبہ نہیں ہوتا۔ فریق ثانی کی اصلاح سے زیادہ اس کی شکست سے دلچسپی رکھتا ہے۔ مناظر کے اس ذہن کی بنا پر مناظرہ کا

پورا عمل ایک قسم کی لفظی کشتی بن جاتا ہے۔ مناظر کی زبان آرا کی طرح تیز ہو جاتی ہے نہ کہ پھول کی یہاں تک کہ یہ نوبت آ جاتی ہے کہ مناظر کو اس سے دلچسپی نہیں رہتی کہ صحیح کیا ہے اور اس کی ساری دلچسپی اس سے ہوتی ہے کہ ایک ماہر وکیل کی مانند کسی نہ کسی طرح وہ فریق ثانی کو میدان مقابلہ میں ہرادے۔ ۱۹۷۲ سے پہلے ہونے والے مناظروں کی رودادیں پڑھ کر اس کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

مناظرہ اور دعوت کے فرق کو قرآن کی زبان میں بیان کرنا ہو تو وہ ایک لفظ میں یہ ہوگا کہ دعوت کا نشانہ آدمی کا قلب ہوتا ہے۔ داعی ایسی بات کہنے کی کوشش کرتا ہے جو فریق ثانی کے دل میں اتر جانے والی ہو (الننساء ۲۳)۔ اس کے برعکس مناظر کی ساری کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح فریق ثانی کو مقابلہ کے میدان میں پچھاڑ دے۔ مگر مناظرہ کا یہ طریقہ پیغمبروں کی سنت کے مطابق نہیں۔ یہ ایک لازمی ضرورت ہے کہ اس معاملہ میں مدارس کے نظام کو بدلا جائے۔ اس کو مناظرہ کے بجائے دعوت کے قرآنی اصول پر قائم کیا جائے۔

Printed page