Al-Risala · September 2000

کتابوں تک رسائی

Al-Risala, September 2000, pp. 35–38

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث میں آیا ہے کہ: قیدوا العلم بالكتاب (الدارمی، مقدمة) یعنی علم کو لکھ کر محفوظ کرو۔ اس کے مطابق، ایک علم وہ ہے جو بشکل تحریر محفوظ ہو اور دوسرا علم وہ ہے جس کو تحریری طور پر محفوظ نہ کیا گیا ہو۔ عالم اور جاہل میں یہ فرق ہے کہ جاہل کی رسائی صرف غیر محفوظ علم تک ہوتی ہے اور عالم کی رسائی محفوظ علم تک بھی اور غیر محفوظ علم تک بھی۔

ایک شخص جو پڑھنا نہ جانتا ہو وہ صرف انہی باتوں کو جان سکتا ہے جن کو وہ سن سکتا ہو۔ وہ علوم جو اس کی سماعت سے باہر کتابوں اور تحریروں کی صورت میں محفوظ کئے گئے ہیں، ان علوم تک ایک جاہل کی

رسائی ممکن نہیں، جب کہ علم کا ۹۹ فی صد سے زیادہ حصہ وہی ہے جس کو تحریر کی صورت میں محفوظ کیا تعلیم گاہیں اس محفوظ علم تک انسانوں کو پہنچنے کے قابل بناتی ہیں۔ میرا ذاتی معاملہ یہ ہے کہ میں فطری طور پر ایک تنہائی پسند آدمی ہوں۔ ایک بار ایک عرب شیخ نے مجھ سے میرے بارے میں پوچھا تو میں نے کہا کہ انا رجل یحب العزلۃ (میں ایک تنہائی پسند آدمی ہوں) مدرسہ کی تعلیم نے مجھے اس قابل بنایا کہ میں اپنی تنہائی کو بھی مکمل طور پر حصول علم کے لئے استعمال کر سکوں۔ اگر میں مطالعہ کتب کی صلاحیت سے محروم رہتا تو ایسا کبھی نہیں ہو سکتا تھا۔ صرف انہی چند باتوں کو جانتا جن کو میں نے اپنے آس پاس کے لوگوں سے اتفاقاً سن لیا ہو۔ مگر پڑھنے کے قابل ہونے کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں اپنے تمام وقت کو علم و واقفیت کے اضافہ کے لئے استعمال کر سکتا تھا۔ پڑھنے کی صلاحیت کا یہ عظیم فائدہ ہے کہ آدمی اس حیثیت میں ہو جاتا ہے کہ وہ ساری دنیا کے اہل دماغ، حتی کہ وفات یافتہ انسانوں کی علم و تحقیق سے بھی واقفیت حاصل کر سکے۔

کسی کا قول ہے کہ جس کے پاس کتاب ہے وہ اکیلا نہیں ہے۔ یہ بات لفظ بلفظ درست ہے۔ تعلیم یافتہ آدمی کتابوں کے ذریعہ اپنے دن اور رات کو عالی دماغ انسانوں کی صحبت میں گزارنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بڑی کوئی اور خوش قسمتی نہیں ہو سکتی۔

دینی مدارس نے بے شمار لوگوں کو یہی تحفہ دیا ہے۔ ان مدارس نے لوگوں کو اس قابل بنایا کہ جو کچھ وہ سن نہیں سکتے اس کو پڑھ کر جان لیں۔ جن اعلیٰ انسانوں کو انہیں دیکھنے کا موقع نہیں ملا وہ ان کی کتابوں کے ذریعہ ان کے ہم نشین بن جائیں۔

ابتدائی عمر سے میرا یہ مزاج ہے کہ میں چھوٹی چھوٹی چیزوں پر غور کرتا ہوں جس کو عام طور پر لوگ قابل غور نہیں سمجھتے۔ اپنے اس مزاج کی بنا پر مجھ کو چھوٹی چھوٹی باتوں میں بڑے بڑے سبق ملتے یہی وہ مخصوص صفت ہے جس کو قرآن میں "توسم" (الحجر ۷۵) کہا گیا ہے۔

مثال کے طور پر مدرسہ کی زندگی میں میں نے وہاں کے استاد مولانا سعید احمد ندوی سے کچھ کتابیں پڑھیں جن میں حدیث کی کتاب بھی شامل تھی۔ حدیث کو پڑھتے ہوئے میرے اندر ایک عجیب احساس پیدا ہوا۔ میں نے سوچا کہ رسول اللہ ﷺ نے جو باتیں ۱۴۰۰ سال پہلے کہی تھیں اور جن کو سننے

کے لئے میں وہاں موجود نہ تھا ان کو میں پڑھ رہا ہوں۔ اسی طرح میں نے مولانا نور اکبر اصلاحی سے کئی کتابیں پڑھیں۔ دروس التاریخ الاسلامی پڑھتے وقت خاص طور پر مجھے یہ احساس ہوا کہ جن واقعات میں میں شخصی طور پر شریک نہ تھا ان کو میں آج کتاب کے ذریعہ جان رہا ہوں۔ مدرسہ میں میں نے عربی کی جو کتابیں پڑھیں ان میں سے ایک المفصل فی النحو تھی۔ یہ کتاب ہم لوگوں کو مولانا اختر احسن اصلاحی نے پڑھائی تھی۔ اس کتاب کے مصنف جار اللہ الزمخشری (۵۳۸ھ) ایک معتزلی عالم تھے۔ وہ اپنے اعتزال کو چھپاتے نہ تھے۔ حتیٰ کہ وہ غیر معتزلی علماء پر سخت تنقید کرتے اس زمانہ کے معتزلی علماء کی تمام کتابیں تباہ کردی گئیں مگر الزمخشری کی کتاب المفصل فی النحو اور الكشاف عن حقائق التنزيل استثنائی طور پر باقی رکھی گئیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ نحو اور تفسیر میں ان کتابوں کا کوئی بدل موجود نہ تھا۔ اس واقعہ کے ذریعہ تعلیم ہی کے دوران میں نے زندگی کی اس عظیم حقیقت کو جان لیا کہ آدمی اگر علم وہنر میں ممتاز درجہ حاصل کرلے تو اس کو نظر انداز کرنا اس کے شدید مخالفین کے لئے بھی ممکن نہیں۔

تعلیمی اداروں کے نصاب میں عام طور پر کلاسیکل کتابیں مقرر کی جاتی ہیں۔ یہی معاملہ مدارس کا چنانچہ میں نے اپنے مدرسہ میں مقرر نصاب کے تحت جو کتابیں پڑھیں وہ زیادہ تر کلاسیکل کتابیں تھیں، یعنی قدماء کی لکھی ہوئی کتابیں۔ ان کتابوں کو پڑھتے ہوئے بار بار یہ احساس میرے دل میں آتا تھا کہ تحریر کیسی عجیب نعمت ہے کہ انسان ہر زمانہ کے اہل علم کی تصنیفات کو پڑھ سکتا ہے، بغیر اس کے کہ وہ اس زمانہ میں موجود رہا ہو۔

مدرسہ کی تعلیم آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ کتابوں تک رسائی حاصل کر سکے۔ اور جب ایک آدمی کتابوں سے اخذ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے تو عین اسی وقت وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ دنیا بھر کے اہل دماغ اور اہل فکر کے نتائج تحقیق سے استفادہ کر سکے۔ قوت مطالعہ نہ ہو تو آدمی کی شخصیت ایک محدود شخصیت ہوتی ہے۔ قوت مطالعہ حاصل ہوتے ہی اس کی شخصیت ایک آفاقی شخصیت بن جاتی پوری دنیا کا کتابی ذخیرہ اس کے لئے ایک وسیع علمی دستر خوان کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ زیر نظر کتاب میں میں نے اپنی مدرسی زندگی کے کچھ واقعات کا ذکر کیا ہے۔ ایسا میں نے

اس لئے کیا ہے تا کہ مدرسہ کے تحت جو کچھ میں کہنا چاہتا ہوں وہ پڑھنے والوں کو زیادہ حقیقی اور واقعی (factual) نظر آئے۔ یہ دراصل شخصی تجربہ کے حوالہ سے ایک عمومی حقیقت کا اظہار ان انفرادی واقعات کی تعمیم (generalisation) کے ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے کہ مدارس کے ماحول میں لوگوں کو کس قسم کی روحانی اور انسانی تربیت دی جاتی ہے۔

Printed page