Al-Risala · September 2000

سلائی ہاؤس

Al-Risala, September 2000, pp. 38–46

By Maulana Wahiduddin Khan

دینی مدارس کا ایک اور عظیم فائدہ وہ ہے جس کو ایک لفظ میں سلائی ہاؤس کہا جا سکتا ہے۔ ہاؤس سے کیا مراد ہے اس کو میں ایک مثال سے واضح کروں گا۔ آپ جانتے ہیں کہ ہندوستان میں بہت بڑے پیمانہ پر اسکول اور کالج اور یونیورسٹی کی صورت میں ایک عظیم تعلیمی ڈھانچہ قائم ہے۔ نظام کو ہمارے ملک کی حکومت بہت بڑی مالی مدد دے کر چلا رہی ہے۔

اس کا سبب یہ ہے کہ یہ سیکولر تعلیمی ادارے ملک کے لئے ایک عظیم سلائی ہاؤس کا کام کر رہے ملک کو مسلسل ایسے افراد کی ضرورت ہے جو اس کی اقتصادی اور قومی مشین کو چلا سکیں یہ ادارے یہی کام انجام دے رہے ہیں۔ ملک کو اپنے مختلف شعبوں کے لئے مسلسل قابل اعتماد کارکن درکار ہیں—— ٹیچر، کلرک، افسر، منیجر، ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، سپر وائزر، ایڈیٹر، پائلٹ، سکریٹری، ایڈمنسٹریٹر، یہ سارے افراد انہی سیکولر تعلیمی اداروں نے پیدا ہو رہے ہیں جن کو اسکول، کالج اور یونیورسٹی کہا جاتا ہے۔ یہی معاملہ وسیع مسلم ملت کا بھی ہے۔ اس ملک میں بسنے والی تقریباً میں کروڑ مسلم ملت کو مسلسل ایسے افراد درکار ہیں جو اس کی مختلف دینی وعملی ضرورتوں کو پورا کر سکیں۔ سارے افراد کی فراہمی کے لئے مدارس دینیہ گویا ایک مستقل "سلائی ہاؤس" کا کام کر رہے ہیں۔ ہندوستان میں اس وقت تقریباً پانچ لاکھ مسجدیں ہیں ان مسجدوں کو امام انہی دینی مدارس سے ملتے بیشمار تعلیمی اداروں کو یہیں سے مدرسین سپلائی ہو رہے ہیں۔ اسی طرح ملی اداروں کے لئے ناظم، تصنیف و تالیف کے شعبوں کے لئے مصنف، ملی صحافت کے لئے ایڈیٹر، انہی مدارس سے سپلائی ہوتے اس وقت مسلمانوں میں بہت سی جماعتیں قائم ہیں۔ ان تمام جماعتوں کو بھی اکثر افراد اسی سلائی ہاؤس سے فراہم ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر تبلیغی جماعت براہ راست طور پر مدارس کی پیداوار ہے۔

یہ مدارس میں تیار ہونے والے علماء ہی تھے جنہوں نے اس جماعت کو شروع کیا اور پھر اس کو موجودہ عالمی وسعت تک پہنچایا۔

اس سلسلہ میں ایک نہایت اہم سبق آموز بات یہ ہے کہ منفی اقدام ہمیشہ بے فائدہ ثابت ہوتا جب کہ مثبت اقدام نہ صرف اپنے اصل نشانہ کو پورا کرتا ہے بلکہ اس کے ذریعہ بہت سے مزید فائدے بھی حاصل ہوتے ہیں جس کا اس کے ابتدائی رہنماؤں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ طور پر موجودہ زمانہ میں ایک نئی چیز وجود میں آئی جس کو کمپیوٹر کہا جاتا ہے۔ اس کے لئے ہر جگہ اردو آپریٹر اور عربی آپریٹر کی ضرورت تھی۔

کمپیوٹر کے اس نئے کام کے لئے بھی افراد کار زیادہ تر مدارس دینیہ کے سپلائی ہاؤس ہی سے فراہم موجودہ زمانہ کی سیکولرویونیورسٹیوں میں اسلامک اسٹڈیز اور مسلم تاریخ کے مطالعہ کے نام پر ایسے شعبے کھلے جن میں داخل ہو کر مسلمان یونی ورسٹی کی سطح پر اسلام کی علمی نمائندگی کر سکیں۔ شعبوں کے لئے افراد بھی انہی مدارس دینیہ سے حاصل ہوئے۔

اسی طرح سفارت خانوں اور ریڈیو اور امور خارجہ سے تعلق رکھنے والے مختلف شعبوں نیز ثقافتی اداروں اور بر آمدی تجارت وغیرہ کے لئے اردو داں اور عربی داں افراد کی ضرورت پیش آئی۔ ضرورت بھی زیادہ تر مدارس دینیہ کے سپلائی ہاؤس سے پوری ہوئی، وغیرہ۔

موجودہ زمانہ میں صنعتی انفجار (industrial explosion) کے بعد لوگوں کے لئے عام مواقع کھلے کہ وہ دنیا کے مختلف ملکوں میں بڑی تعداد میں جاسکیں۔ ان جانے والوں میں ایک قابلِ لحاظ تعدادان لوگوں کی بھی تھی جو مدارس دینیہ میں تعلیم پائے ہوئے تھے۔ ان لوگوں کا بیرون ملکوں میں جاکر قیام کرنا ایک مزید فائدے کا سبب بنا۔ ان لوگوں کے بیرونی ملکوں میں آباد ہونے ہی کا یہ فائدہ تھا کہ بعد کو جب اردو داں علماء نے اپنے دینی اسفار کے تحت ان ملکوں کا دورہ کیا تو یہ لوگ پیشگی طور پر ان علماء کے لئے وہاں مددگار اور رابطہ کار کی حیثیت سے موجود تھے۔

اس طرح مدارس دینیہ کی صورت میں جو سپلائی ہاؤس قائم ہوا، اس کا دائرہ کسی مخصوص حد تک محدود نہ رہا۔ اس سپلائی ہاؤس سے ملک کے اندر کی دینی ضرورتیں بھی پوری ہوئیں اور ملک کے باہر کی

دینی ضرورتیں بھی۔ ان لوگوں نے ہندوستان میں بھی دینی مدارس قائم کئے اور یورپ و امریکہ اور افریقہ ان کے ذریعہ علمی شعبہ کو قابل کار افراد ملتے اور مل رہے ہیں۔

اس دنیا میں ہر چیز میں مسلسل ترقی کی گنجائش رہتی ہے۔ مذکورہ سپلائی ہاؤس کو مفید تر بنانے کے لئے بھی بلا شبہ بہت سے امکانات موجود ہیں۔ مشترک غور و فکر کے ذریعہ ان امکانات کو بروئے کار لایا جاسکتا ہے اور تعلیم و تربیت کے اس نظام کو اور زیادہ مفید بنایا جا سکتا ہے۔ ذہنی بُعد کا خاتمہ مدارس دینیہ کے ذریعہ ایک اور فائدہ یہ حاصل ہوا کہ اس کی وجہ سے ملت کے خواص اور ملت کے عوام کے در میان وہ نقص پیدا نہ ہو سکا جس کو ذہنی بُعد (intellectual gap) کہا جاتا ہے۔ قرآن میں یہود کے تذکرہ کے تحت بتایا گیا ہے کہ ان میں ایک فریق وہ ہے جو علم و عقل رکھتا ہے (البقرہ ۷۵) یہاں ”فریق“ سے مراد یہود کے علماء ہیں جن کو احبار کہا جاتا تھا۔ اس کے بعد ارشاد ہوا ہے کہ یہود میں دوسرا طبقہ ان کے عوام کا ہے۔ ان کی بابت قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: ومنهم اميون لا يعلمون الكتاب الا اماني وان هم الا يظنون (البقرہ ۷۸) یعنی اور ان میں اُن پڑھ ہیں جو نہیں جانتے کتاب کو مگر آرزو ہیں۔ ان کے پاس گمان کے سوا اور کچھ نہیں۔

قرآن کی اس آیت میں اُمّیون کا لفظ آیا ہے۔ اُمّیون جمع کا لفظ ہے۔ اس کا واحد اُمّی ہے۔ زبان میں اس شخص کو کہا جاتا ہے جو نہ لکھنا جانتا ہو اور نہ پڑھنا جانتا ہو (من لا يكتب و لا يقرأ)۔ الجامع لاحكام القرآن للقرطبی، الجزء الثاني، صفحه ۵۔

اصل یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں یہود کے اندر عمومی تعلیم کا رواج نہ تھا۔ کچھ مخصوص خاندان محدود طور پر تعلیم حاصل کرتے تھے۔ یہی لوگ تھے جو اپنی مذہبی کتابیں پڑھتے تھے۔ ان کے علاوہ یہود کی بہت بڑی اکثریت جاہل رہتی تھی۔ اس فرق کی وجہ یہ تھی کہ اس زمانہ میں عام طور پر خاندانی تعلیم کا رواج تھا نہ کہ عمومی تعلیم کا۔ عوام کی تعلیم و تدریس کے لئے ان کے یہاں مدرسے نہ ہوتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہود کے در میان بڑے پیمانہ پر خواص اور عوام کی تقسیم قائم ہو گئی۔ کچھ افراد یا کچھ خاندان کو علماء کا درجہ حاصل ہوتا تھا۔ اور بقیہ لوگ طبقہ عوام میں شمار ہوتے تھے جو نہ پڑھنا جانتے تھے اور نہ ان

کی براہ راست رسائی مذہبی کتابوں تک ہو سکتی تھی۔

اس کے نتیجہ میں یہود کے علماء اور عوام کے درمیان ایک ذہنی بعد (intellectual gap) قائم ان کے عوام نہ خود اپنی مذہبی کتابوں کو پڑھ سکتے تھے اور نہ ان کے اندر یہ صلاحیت تھی کہ وہ اپنے علماء کی علمی باتوں کو سمجھ سکیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عوام دھیرے دھیرے علماء سے دور ہوتے چلے مذہب کے نام سے ان کے پاس توہمات (superstitions) اور آرزوؤں (wishful thinking) کے سوا اور کچھ باقی نہ رہا۔ خواص اور عوام کے درمیان اس ذہنی بُعد کا نتیجہ یہ ہوا کہ عوام کی اصلاح نا ممکن ہو گئی کیوں کہ گہری اصلاح کی بات آسمانی کتابوں کے حوالہ سے کرنی پڑتی ہے، اور ان کے عوام اپنی جہالت کی بنا پر اس قابل ہی نہ تھے کہ وہ کتابی زبان اور علمی اسلوب کو سمجھ سکیں۔ یہی حال قدیم زمانہ میں تمام قوموں کا تھا۔ اس کی ایک مثال ہندوستان میں دیکھی جاسکتی ہے۔ ہندوستان میں ہزاروں سال سے خواص و عوام کی یہی تقسیم بہت بڑے پیمانہ پر قائم تھی۔ علم پڑھنا لکھنا صرف برہمن خاندانوں کے درمیان محدود تھا۔ ایسے تعلیمی ادارے موجود نہ تھے جہاں عوام لکھنا پڑھنا اس فرق کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم زیادہ تر کچھ برہمن خاندانوں میں منحصر ہو کر رہ گیا اور ملک کے ۹۵ فیصد عوام اپنی جہالت کی بناپر توہمات کو مذہب سمجھ کر اس میں مبتلا ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ علم کو خواص کے دائرہ سے نکال کر عوام کے دائرہ تک پہنچانے کا کام تاریخ میں پہلی بار اسلام نے کیا۔ مسلم علماء نے علم کی توسیع کا یہ کام دنیا کے ہر ملک میں انجام دیا جن میں سے ایک ملک بلاشبہ ہندوستان بھی تھا۔

علماء اسلام نے تعلیم و تدریس کا جو کام شروع کیا اس کا فائدہ فطری طور پر یہاں کی غیر مسلم آبادی کو بھی پہنچا۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ہندوستان میں مسلم دور کے آغاز سے پہلے ہندوؤں میں صرف برہمن اور اعلیٰ حیثیت کے کچھ لوگ تعلیم حاصل کر سکتے تھے۔ ہندو عوام زیادہ تر اس سے مسلم عہد میں جب ملک میں عمومی تعلیمی ادارے کھولے گئے تو مسلم طلبہ کے ساتھ ہندو طلبہ بھی اس میں داخلہ لے کر تعلیم حاصل کرنے لگے۔ اس کے بعد جب 19 ویں صدی میں مسلم علماء نے زیادہ بڑے پیمانہ پر مدارس کھولنا شروع کیا تو ان مدارس کے ذریعہ مسلمانوں کے ساتھ غیر

مسلمانوں کو بھی فائدہ پہنچنے لگا۔

مدارس کی خاص صفت یہ تھی کہ وہ گاؤں گاؤں میں کھولے جارہے تھے۔ اس طرح ہر خاندان کے لئے ممکن ہو گیا کہ وہ اپنے بچوں کو مدرسہ میں بھیج کر تعلیم دلائے۔ فطری طور پر والدین اپنے چھوٹے بچوں کو دور کسی شہر میں بھیجنے پر راضی نہیں ہو سکتے تھے لیکن جب ان کی اپنی بستی میں مدرسہ کھل گیا تو ان کے لئے ممکن ہو گیا کہ وہ اپنے بچہ کو مدرسہ کی تعلیم میں شامل کر دیں۔ مدارس کے اس عمومی پھیلاؤ سے بڑی تعداد میں غیر مسلموں کو بھی فائدہ پہنچا۔ مثال کے طور پر آزاد ہندوستان کے پہلے پریذیڈنٹ ڈاکٹر راجیندر پرشاد نے اپنے بچپن میں ابتدائی تعلیم بہار کے ایک مسلم مدرسہ میں حاصل کی تھی۔ اس طرح اسلام دنیا کا پہلا مذہب ہے جس نے عوام اور خواص کے درمیان ذہنی بُعد (intellectual gap) کے تباہ کن نقصانات کو سمجھا اور اس کو دور کرنے کی موثر کوشش کی۔ اسلام کی اس روایت کو ہندوستان کے علماء نے اس ملک میں بھی پوری طرح باقی رکھا۔ ہند میں علماء نے مدارس کا جو سلسلہ شروع کیا اس کا ایک اہم فائدہ یہ تھا کہ خواص اور عوام یا علماء اور عوام کے درمیان ذہنی بعد (intellectual gap) کا مسئلہ پیدا نہ ہو سکا۔ بستی بستی اور شہر شہر مدارس کی کثرت نے کروڑوں لوگوں کو پڑھنا لکھنا سکھایا۔ اس طرح تعلیم یافتہ ہونے کی بنا پر اسلامی کتابیں عوام کی دسترس میں آگئیں۔ لوگ ذہنی طور پر اس کے لئے تیار ہو گئے کہ وہ علماء کی باتوں کو سمجھیں اور اس کے مطابق اپنے شعور کی تعمیر کر سکیں۔ اگر مدارس کے ذریعہ اس ذہنی بُعد کو توڑا نہ جاتا تو خدا نخواستہ مسلمانوں میں بھی وہی تباہ کن تقسیم قائم ہو جاتی جو یہود کی تاریخ میں اخبار اور اومیوں کی صورت میں اور ہندوؤں میں برہمن اور غیر برہمن کی صورت میں قائم ہوئی۔

علماء ہند کا مزید کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے دینی تعلیم کو فری ایجوکیشن (مفت تعلیم) کی حیثیت عوام بیشتر حالات میں معاشی تنگی کا شکار رہتے ہیں۔ اس بنا پر وہ اپنے ذاتی خرچ پر تعلیم حاصل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اگر مدارس کا نظام فیس کی بنیاد پر قائم کیا جاتا تو بیشتر مسلمانوں کا حال یہ ہوتا کہ مدارس کے باوجود وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہتے۔ علماء ہند کا یہ ایک غیر معمولی کارنامہ ہے کہ انھوں نے اللہ کے بھروسہ پر دینی تعلیم کے نظام کو فری ایجوکیشن (مفت تعلیم) کے اصول پر رائج کیا

اور ہر قسم کی مشکلوں کے باوجود اس کو قائم رکھا۔

انگریزی حکومت نے جو اسکول اور کالج کھولے وہ زیادہ تر شہروں میں واقع تھے۔ اس طرح وہ بڑی حد تک گاؤں کی دسترس سے باہر تھے جہاں ملک کی تقریباً ۷۵ فیصد آبادی رہتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں علماء نے یہ کیا کہ انھوں نے گاؤں گاؤں میں مکتب اور مدرسہ کھول دیا۔ اس طرح انھوں نے دینی تعلیم کو عملاً ہر خاندان کے دروازہ (doorstep) تک پہنچادیا۔

مثال کے طور پر میں یوپی کے ایک دور دراز گاؤں میں پیدا ہوا، مگر یہاں بھی یہ حال تھا کہ گاؤں کی مسجد میں ایک مدرسہ موجود تھا۔ یہ مدرسہ ڈاکٹر عبد العلی خاں صاحب کے خاندان نے اپنی ذاتی ذمہ داری پر قائم کیا تھا۔ اب جناب یمین الاسلام خاں (انجینئر) وغیرہ کے تعاون سے اس کو بہت زیادہ ترقی دی جارہی عام قاعدہ کے مطابق اس مدرسہ میں کوئی تعلیمی فیس نہ تھی۔ ابتدائی عمری میں مجھے اس مدرسہ میں داخل کر دیا گیا۔ اگر گاؤں کے اندر یہ مدرسہ نہ ہوتا تو میرے سرپرست کبھی بھی مجھ کو کم عمری میں کسی دور دراز مقام پر بھیجنے کی ہمت نہ کراتے۔ گاؤں کے اس مدرسہ میں میں نے اردو اور فارسی اور عربی کی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد میں مزید تعلیم کے لئے دوسرے مقام پر گیا اور وہاں ایک بڑے مدرسہ میں داخلہ لے کر عربی زبان اور دینی علوم کی تکمیل کی۔

انیسویں اور بیسویں صدی میں بر صغیر ہند میں اسلام اور ملت اسلام کے نام پر بہت سی تحریکیں ان تحریکوں کو زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔ مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد ان کے گرد اکٹھا اس سے قطع نظر کہ یہ تحریکیں کتنی نتیجہ خیز تھیں، ان تحریکوں کی مقبولیت اسی لئے ممکن ہوئی کہ مدارس دینیہ کے عمومی پھیلاؤ نے خواص اور عوام کے درمیان ذہنی بعد کو ختم کر دیا تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں جو بھی تحریک اٹھی اس نے قوم کے اندر اپنے لئے تیار ذہن (prepared mind) یہ تمام تر نہیں مدارس کی تعلیمی مہم کا نتیجہ تھا۔

اگر تعلیم کی عمومی اشاعت کے ذریعہ خواص اور عوام کے درمیان ذہنی دوری کا خاتمہ نہ ہو گیا ہوتا تو ان تحریکوں کو کبھی یہ مقبولیت حاصل نہ ہوتی۔ ایسی حالت میں تحریکوں کے علم بردار اخبار اور رسالے جاری کرتے مگر رسال ان کا کوئی بڑھنے والا نہ ہوتا، وہ جلسے کرتے مگر ان جلسوں میں ایسے لوگ

شریک ہوتے جو سننے کے باوجود کچھ نہ سمجھتے۔ ہمارے خواص ایسے الفاظ لکھتے اور بولتے جن کا مفہوم وہ خود تو جانتے مگر وہی عوام ان سے بے خبر رہتے جن کو باخبر کرنے کے لئے یہ الفاظ لکھے اور بولے جا رہے ایسی حالت میں ان تحریکوں کا جو انجام ہو تا وہ پیشگی طور پر معلوم ہے۔ دینی ولی انفراسٹرکچر دینی مدارس کے ذریعہ ملت کو جو فائدے حاصل ہوئے ان میں سے ایک فائدہ وہ ہے جس کو دینی انفراسٹرکچر کہا جا سکتا ہے۔ کسی بھی کام کو مؤثر انداز میں چلانے کے لئے ہمیشہ اس کے موافق ایک عملی ڈھانچہ یا انفراسٹرکچر (infrastructure) در کار ہو تا ہے۔ مثال کے طور پر تجارتی کاروبار کسی ملک میں اس وقت کامیاب ہوتا ہے جب کہ تجارتی سازو سامان کی منتقلی کے لئے پورے ملک میں اچھی سڑک کی سہولت موجود ہو۔ ہر مقام پر ٹیلی فون کا عمدہ انتظام ہو تا کہ ملک کے مختلف حصوں میں با آسانی پیغامات کو بھیجنا ممکن ہو سکے، وغیرہ، وغیرہ۔

یہی معاملہ دینی اور ملی کام کا ہے۔ دینی ولی کاموں کے لئے بھی اس کے موافق ایک وسیع انفراسٹرکچر کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس طرح مادی انفراسٹرکچر کے بغیر مادی کاروبار ترقی نہیں کرتا، اسی طرح دینی انفراسٹرکچر کے بغیر دینی کام بھی زیادہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔

دینی مدارس کا جو کام بر صغیر ہند میں شروع کیا گیایدہ اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک ایسا کام تھا جو مسلسل توسیع پذیر تھا۔ مدرسہ کے کام کی نوعیت یہ تھی کہ مدرسہ میں پڑھ کر تیار ہونے والا ہر نوجوان اپنے اندر یہ صلاحیت رکھتا تھا کہ وہ اپنی مادر علمی کی طرح خود بھی نئے مدارس قائم چنانچہ دینی مدارس کی تحریک کا آغاز ہوتے ہی یہ کام خود اپنے فطری مزاج کے زور پر آگے بڑھنے لگا۔ مدرسہ کے فارغین مدرسہ سے نکلنے کے بعد نئے مدارس قائم کرنے لگے۔ مدارس کے کام کی یہ توسیع حسابی تناسب (arithmetical proportion) سے آگے نہیں بڑھی، یعنی اس کے بڑھنے کی رفتار ۱، ۲، ۳، ۴، ۵، ۶، ۷، ۸، نہ تھی بلکہ وہ جیومیٹریکل تناسب (geometrical proportion) سے بڑھنا شروع ہوئی۔ یعنی اس کے بڑھنے کی رفتار یہ تھیـــ ۲، ۴، ۸، ۱۶، ۳۲، ۶۴۔ مزید یہ کہ یہ تحریک خود اپنی نوعیت کے اعتبار سے قابل بقا (sustainable)

چنانچہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مدارس دینیہ کی تحریک نہ صرف یہ کہ باقی رہی بلکہ وہ خود اپنی داخلی طاقت سے روز افزوں تیزی کے ساتھ بڑھنے لگی یہاں تک کہ وہ بڑھتے بڑھتے پورے برصغیر ہند میں پھیل گئی۔ مسجد گویا پیشگی طور پر مدرسہ کے لئے نئی بنائی بنیاد (base) تھی۔ چنانچہ تقریباً ہر مسجد میں چھوٹا یا بڑا مدرسہ قائم ہو گیا۔ جہاں مسجد ناکانی معلوم ہوئی وہاں مسجد کے باہر مستقل عمارت کی صورت میں مدارس قائم ہونے لگے۔ یہاں تک کہ پورے برصغیر ہند میں مدارس کا جال بچھ گیا۔ جن کی تعداد بلا مبالغہ لاکھوں تک پہنچتی ہے۔

یہ مدارس اصلاحی تعلیم کے لئے قائم کئے گئے تھے مگر قانون فطرت کے تحت وہ ایک ایسے انفراسٹرکچر کی صورت اختیار کر گئے جو اس ملک میں ہر دینی اور ملی مہم کے لئے بنیاد کا کام دے سکیں۔ چنانچہ بیسویں صدی میں جتنی بھی دینی یا ملی تحریکیں اس خطۂ ارض میں اٹھائی گئیں، ان سب کے لئے بنیادی زمین یہی ادارے بنے جن کو مدارس دینیہ کہا جاتا ہے۔

اس مدت میں جب بھی کوئی دینی اور ملی تحریک اٹھائی گئی تو انہی مدارس سے اس کو تیار ذہن (prepared mind) اور معاون ملے۔ انہی مدارس نے ہر تحریک کے رہنماؤں کا استقبال کیا۔ انہی مدارس نے پورے ملک میں اس تحریک کے حق میں موافق فضا تیار کی۔ ملی تحریکوں کے رہنما جب ملک کا دورہ کرتے ہیں تو یہی مدارس ان کے لئے مقامی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ یہ تعلیمی ادارے ہر جگہ، ان کے لئے قیام گاہ سے لے کر جلسہ گاہ تک ہر ضرورت کی فراہمی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اگر مدارس دینیہ کا یہ جال نہ ہوتا تو موجودہ زمانہ میں اٹھنے والی کسی ملی تحریک کے لئے یہ ممکن نہ ہوتا کہ وہ اس پھیلاؤ اور وسعت کو حاصل کرے جو کہ عملاً اس نے حاصل کیا۔ کسی تحریک کی صحت کو جانچنے کا ایک معیار یہ ہے کہ جب وہ شروع ہو تو نہ صرف اپنا بر اور است نشانہ پورا کرے بلکہ اسی کے ساتھ وہ دوسرے بہت سے مثبت اور مفید نتائج پیدا کرنے کا سبب بن جائے۔

باغبان جب ایک درخت لگائے تو اس کا برا اور راست نشانہ اس سے پھل لینا ہوتا ہے مگر جب درخت بڑھ کر تیار ہوتا ہے تو پھل کے علاوہ لوگوں کو اس سے دوسرے بہت سے فائدے بھی ملنے لگتے مثلاً سایہ، ہریالی، لکڑی، پھول، وغیرہ۔ اسی طرح جب انسانی معاشرہ میں کوئی صالح تحریک

چلائی جائے تو اس سے بہت سے ضمنی فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ یہی معاملہ مدارس دینیہ کا ہے۔ مدارس اصلا علم دین کو فروغ دینے کے لئے قائم کئے گئے تھے مگر جب وہ قائم ہو گئے تو وہ بہت سے دوسرے فوائد کا ذریعہ بھی بن گئے۔ انہی میں سے ایک خاص فائدہ یہ تھا کہ سارے ملک میں پھیلے ہوئے یہ مدرسے ملی تحریکوں کے لئے انفرااسٹرکچر کام دینے لگے۔

عربی کا ایک مقولہ ہے کہ تعرف الاشیاء باضدادھا (چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں) اس اصول کے مطابق، تھوڑی دیر کے لئے ملک سے مدارس دینیہ کے وجود کو حذف کر دیجئے۔ اس کے بعد یہ سوچئے کہ ملک میں اگر کوئی ملی تحریک چلائی جائے تو اس کا انجام کیا ہوگا۔ وہ انجام یہ ہوگا کہ شروع ہوتے ہی تحریک محسوس کرے گی کہ ملک میں قدم رکھنے کے لئے اس کے پاس کوئی زمین یا معاون ڈھانچہ موجود نہیں۔ کسی صحت مند تحریک کی ایک پہچان یہ ہے کہ وہ جب شروع ہو تو وہ لوگوں کو ایک ہی فائدہ نہ دے بلکہ لوگوں کو اس سے متنوع قسم کے فائدے حاصل ہوں۔ وہ نہ صرف یہ کہ کوئی نیا مسئلہ پیدا نہ کرے بلکہ وہ ہر متوقع اور غیر متوقع پہلو سے لوگوں کو فائدہ پہنچاتی رہے۔ یہی معاملہ مدارس دینیہ کی تحریک کا تھا۔ وہ پورے معنوں میں ایک صحت مند تحریک تھی۔ لئے وہ ہر اعتبار سے مفید بنتی رہی۔ اس کی افادیت کی لمبی فہرست میں ایک چیز وہ بھی ہے جس کو انفرااسٹرکچر کہا جاتا ہے۔

مدارس دینیہ کی تحریک کے درست ہونے کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ اس سے ملت کے اندر صحیح مزاج پیدا ہوا، وہ صحیح زاویہ نظر پیدا ہوا جس سے لوگ چیزوں کو درست طور پر دیکھ سکیں۔ نقطہ نظر سے نفی کر مثبت نقطہ نظر کی حامل بن گئی۔ ملت کے افراد موانع سے ٹکرانے کے بجائے مواقع کو استعمال کرنے لگے، وغیرہ۔

Printed page