Al-Risala · September 2000

دینی مدارس کا امتیاز

Al-Risala, September 2000, pp. 49–54

By Maulana Wahiduddin Khan

دینی مدارس کی اہم ترین امتیازی صفت یہ ہے کہ ان کی بنیاد علم حقیقی پر قائم ہے، یعنی دین اسلام پر جو کہ مذہب کا واحد محفوظ ایڈیشن ہے۔ یہ ایک بے حد اہم بات ہے کیوں کہ دوسرے جتنے بھی تعلیمی نظام ہیں، ان سب کی بنیاد علم ظنی پر قائم ہے نہ کہ علم حقیقی پر۔

اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دینی مدارس میں جو لوگ تعلیم و تربیت حاصل کرتے ہیں وہ اس حیثیت میں ہوتے ہیں کہ وہ اپنے عقیدہ و عمل کو اعتماد کی بنیاد پر قائم کر سکیں، وہ اس یقین کے ساتھ جنہیں کہ انہوں نے جو کچھ پایا ہے وہ عین سچائی ہے، اس میں جھوٹ کی کوئی آمیزش نہیں۔

اکثر دینی مدارس میں قرآن کو تقریباً مکمل طور پر بطور نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ تمام مدارس میں قرآن کو سب سے زیادہ بلند مقام حاصل رہتا ہے۔ طلبہ اور اساتذہ دونوں روزانہ اس کی تلاوت کرتے ہیں۔ گفتگو اور تقریروں میں بار بار قرآنی آیتوں کے حوالے دئے جاتے ہیں۔ نصاب سے باہر جو کتابیں اور جرائد پڑھتے ہیں ان میں عام طور پر بحث کا مرکز نکتہ قرآن ہی ہوتا ہے۔ اس طرح عملی طور پر تمام طلبہ ہر روز براہ راست یا بالواسطہ انداز میں قرآن کا درس لیتے رہتے ہیں۔ یہی معاملہ حدیث کا ہے۔ وہ مدارس کے نصاب میں لازمی مضمون کی حیثیت سے شامل رہتی اکثر بڑے مدارس میں صحاح ستہ مکمل یا منتخب انداز میں پڑھائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مدرسہ کے ماحول میں طالب علم ہر روز حدیث کے حوالے یا اس کے تذکرے سنتا ہے۔ اس طرح عملی طور پر طالب علم کو مدرسہ کی پوری زندگی میں مسلسل طور پر حدیث رسول کی فکری خوراک ملتی رہتی ہے۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مدارس اپنے طلبہ کو ذہنی اور روحانی حیثیت سے ایک ایسی تربیت دیتے ہیں جو کسی اور نظام تعلیم میں سرے سے ممکن ہی نہیں۔ دوسرے اداروں میں اگر تعلیم کی بنیاد انسانی علم پر ہے تو دینی اداروں میں تعلیم کی بنیاد خدائی علم پر۔ یہاں میں چند تقابلی مثالیں دوں گا جن سے اندازہ ہو گا کہ دینی مدرسہ اور غیر دینی مدرسہ میں کیا فرق ہے، وہ کون سے امتیازی اوصاف ہیں جو غیر دینی تعلیم گاہوں کے مقابلہ میں دینی تعلیم گاہوں کو حاصل ہیں۔

غیر دینی درس گاہیں خواہ وہ ملک کے اندر ہوں یا ملک کے باہر، سب کی سب عملاً ایک ہی مقصد کے تحت قائم ہیں، اور وہ یہ ہے کہ طالب علم کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ دنیا میں اچھا جاب حاصل ہر جگہ جاب رخی تعلیم (Job-oriented education) کا رواج ہے۔ گویا کہ یہ تعلیم گاہیں انسان کو حیوان کاسب(earning animal) بنانے کے کارخانے ہیں۔

دینی مدارس کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ ایک لفظ میں کہا جاسکتا ہے کہ دینی مدارس خدا رخی تعلیم (God-oriented education) کے ادارے ہیں۔ وہ انسان کے اندر اعلیٰ مقصدیت کا شعور وہ انسان کو مادی سطح سے اٹھا کر روحانی یا ربانی سطح پر جینا سکھاتے ہیں۔ غیر دینی مدارس عملی طور پر یہ سبق دیتے ہیں کہ دنیا کی مادی چیزوں کا حصول ہی ہماری زندگی کی آخری منزل ہے۔ جب کہ دینی مدارس ہر طالب علم کے اندر یہ ذہن بناتے ہیں کہ دنیا کی مادی چیزیں تمہاری ضرورت ہیں نہ کہ تمہارا مقصد۔ غیر دینی مدارس کا جو فلسفہ ہے اس میں انسان کے لئے آزادی کا پیغام تو موجود ہے مگر آزادی کی حدود (limitations) کا کوئی تعین نہیں۔ اس کا ایک نتیجہ وہ ہے جو جدید ترقی یافتہ ملکوں میں بے قید جنسی تعلقات اور بے قید لذت پسندی کی صورت میں پایا جاتا غیر دینی درسگاہوں میں اس بے قیدی پر روک لگانے کا کوئی قانون نظری طور پر موجود نہیں۔ وجہ ہے کہ ان سماجوں میں ظاہری ترقیوں کے باوجود حقیقی انسانیت کا ارتقاء ممکن نہ ہو سکا۔ اس کے برعکس دینی درسگاہوں کا معاملہ یہ ہے کہ ان کی بنیاد خدائی شریعت کے اصول پر قائم چنانچہ دینی درسگاہوں کے فلسفۂ تعلیم میں انسان کے لئے جس طرح آزادی ایک معلوم اصول کی حیثیت رکھتی ہے اسی طرح یہاں یہ بھی پوری طرح معلوم ہے کہ آزادی کے حدود کیا ہیں۔ آزادی ایک رحمت ہے اور وہ کون سی حد ہے جس سے تجاوز کرنے کے بعد آزادی اس کے لئے برعکس طور پر عذاب بن جائے گی۔

غیر دینی تعلیم گاہوں میں عام طور پر جو اصول حیات پایا جاتا ہے وہ اضافیت (relativity) کا اصول ہے۔ یعنی اس دنیا میں ہمارا علم اور ہمارا ہر نظریہ اضافی حیثیت رکھتا ہے نہ کہ حقیقی۔ اس فلسفہ کا نتیجہ یہ ہے کہ جدید تعلیم گاہوں میں اخلاق بھی ایک اضافی چیز بن کر رہ گیا ہے۔ یہاں ہر اصول صرف

اضافی قدر رکھتا ہے۔ یہ نظریہ اپنی آخری حد پر پہنچ کر اس فلسفہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس کو افادیت (utilitarianism) کہا جاتا ہے۔ اس کے مطابق صرف وہی چیز قابل قدر ہے جو اپنے اندر معلوم مادی افادیت رکھتی ہو، جو چیز اس صفت سے خالی ہو وہ قابل لحاظ ہی نہیں۔ اس نظریہ کے تحت تعلیم پائے ہوئے لوگ صرف یہ کر سکتے ہیں کہ وہ انسانی سماج کو ایک قسم کا حیوانی جنگل بنادیں۔ اور اس تعلیمی نظام نے عملا یہی کارنامہ انجام دیا ہے۔

دینی مدارس کا فلسفہ اس کے برعکس ابدی حقیقت کے اصول پر قائم ہے۔ دینی مدارس کے پاس ہر معاملہ میں اللہ کا ایک معلوم حکم موجود ہوتا ہے۔ انہیں یہ یقین ہوتا ہے کہ یہ حکم سراسر برحق ہے اور اس بنا پر وہ ناقابل تغییر ہے۔ وہ ابدی طور پر قابل اتباع ہے۔ یہ فلسفه فطری طور پر ابدی اخلاقیات (eternal ethics) کا تصور پیدا کرتا ہے۔ اس کے تحت وہ مستحکم اخلاقی نظام بنتا ہے جس میں کسی بھی حال میں تبدیلی کا کوئی سوال نہیں۔

۴- غیر دینی تعلیمی نظام میں ایک بڑا خلایہ ہے کہ اس کو کسی بھی معاملہ میں نقطہ آغاز (starting point) کا علم نہیں ہے۔ اس کا سارا انحصار ذاتی تجربات اور مشاہدات پر ہوتا ہے۔ لازمی محدودیت (limitation) کی بنا پر کبھی یہ جان نہیں پا تا کہ کسی معاملہ کا حقیقی نقطہ آغاز کیا ہے۔ اس لئے ایسی درسگاہوں میں تربیت پائے ہوئے ذہن ابدی طور پر فکری ٹھوکریں کھاتے رہتے ہیں، وہ کبھی علم حقیقی کے درجہ تک نہیں پہنچتے۔ اس کے برعکس دینی درسگاہ اپنے الہی علم (divine knowledge) کی بنا پر اس حیثیت میں ہوتی ہے کہ وہ ہر معاملہ میں پہلے ہی قدم پر صحیح نقطہ آغاز کو پالے اور پیچے فکری ٹھوکر کھانے سے بچ جائے۔

اس کی ایک مثال ارتقاء حیات کا فلسفہ ہے۔ اس معاملہ میں غیر دینی درسگاہوں میں تعلیم پائے ہوۓ افراد کے پاس نقطۂ آغاز کے لئے کوئی معلوم اصول موجود نہ تھا، انھوں نے ارگل سے حیاتیاتی ارتقاء کا مفروضہ (hypothesis) قائم کیا۔ سو سال سے بھی زیادہ مدت تک اس مفروضہ کو واقعہ ثابت کرنے کے لئے بے شمار اعلیٰ دماغوں نے اس پر اپنی عمریں صرف کر دیں۔ اس پر ہزاروں بلین ڈالر خرچ مگر ان کا مفروضہ آج بھی صرف مفروضہ ہے، بلند بانگ دعووں کے باوجود کسی بھی درجہ میں

وہ اس سے آگے نہ بڑھ سکا۔ چنانچہ نظریہ ارتقاء کے محقق علماء خود یہ اعتراف کرتے ہیں کہ یہ نظریہ اب بھی صرف ایک کام چلاؤ نظریہ (workable theory) ہے نہ کہ کوئی ثابت شدہ علمی حقیقت۔ اس کے برعکس دینی درس گاہ میں تربیت پائے ہوئے انسان کا ذہن اول دن سے بالکل صاف قرآن کی بنیاد پر، وہ اول دن سے اس یقین کا حامل ہوتا ہے کہ انسانی زندگی کا آغاز خدائی تخلیق کے ذریعہ ہوا نہ کہ محض بے شعور مادی عوامل کے ارتقاء سے۔ اس طرح دینی درسگاہ کا ایک انسان حیاتیات کے معاملہ میں اس نقطۂ آغاز کو پہلے ہی دن پا لیتا ہے جس کو غیر دینی درس گاہ میں تربیت پائے ہوئے لوگ سو سال سے زیادہ مدت تک مہنگی قسم کی علمی سرگرمیوں کے باوجود پانے میں ناکام رہے۔ غیر دینی درس گاہ میں تعلیم پایا ہو انسان جس فلسفہ حیات کو لے کر وہاں سے نکلتا ہے اس کے عین فطری نتیجہ کے مطابق اس کا تصور حیات بالکل ادھورا ہوتا ہے۔ وہ آغاز حیات کو جانتا ہے مگر وہ انجام حیات کو نہیں جانتا۔ اس کو یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں اپنی زندگی کی سرگرمیوں کو کہاں سے شروع کرے مگر اس کو یہ علم نہیں ہوتا کہ اس کی آخری منزل کیا ہے اور زندگی کے انجام کے اعتبار سے اس کو کس قسم کی تیاری کرنا چاہئے۔ وہ بظاہر اپنی زندگی کا آغاز اجالے میں کرتا ہے، صرف اس لئے کہ آخری عمر کو پہنچ کر اس کی زندگی کا معلوم اندھیروں میں بھٹک کر رہ جائے۔

دینی مدرسہ میں تعلیم و تربیت پائے ہوئے انسان کا معاملہ اس سے مکمل طور پر مختلف ہوتا ہے۔ یہاں کا تعلیم یافتہ انسان اپنے قرآنی پس منظر کی بنیاد پر پورے شعور کے ساتھ یہ جانتا ہے کہ اس کو اپنی زندگی کا سفر کہاں سے شروع کرنا ہے اور اس کی آخری منزل کیا ہے۔ ایسا انسان اس واضح یقین پر کھڑا ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کی حیثیت راستہ کی ہے، اور اس کے بعد آنے والی آخرت کی دنیا کی حیثیت منزل کی۔ غیر دینی درسگاہوں میں جو فلسفہ حیات رائج ہے، اس کے مطابق انسان ایک متلاشیٔ مسرت حیوان (pleasure-seeking animal) ہے۔ اس فلسفہ کا فطری نتیجہ یہ ہے کہ انسان لذت اور مسرت کے حصول کو اپنی زندگی کا واحد مقصد بنالے۔ چنانچہ آج غیر دینی درسگاہوں کے تعلیم پائے ہوئے تمام لوگ اسی واحد مقصد کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ غیر دینی درسگاہوں میں تربیت پائے ہوئے لوگوں کا حال ہر جگہ یہی ہے، خواہ وہ ہندوستان کے لوگ ہوں یا بیرون ہندوستان کے لوگ۔

اس نظریہ کا عملی تجربہ بتاتا ہے کہ وہ ہلاکت خیز حد تک غلط ہے۔ اس ذہن کے لوگ اپنی ساری عمران چیزوں کے حصول میں لگا دیتے ہیں جن کو وہ بظاہر خوشی و لذت کا ذریعہ سمجھتے ہیں مگر جب ہزار کوشش کے بعد وہ ان مطلوب چیزوں کا ڈھیر اکٹھا کر لیتے ہیں تو اچانک ان کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ چیزیں خواہ کتنی ہی زیادہ ہوں، وہ انھیں لذت ومسرت دینے والی نہیں۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ انسان اپنی فطری صلاحیت کے اعتبار سے لامحدود استعداد (unlimited capacity) کا مالک ہے۔ جب کہ دنیا کی ہر چیز محدود خوشی اور محدود لذت ہی دے سکتی ہے۔ گویا انسان اپنی طلب کے اعتبار سے کامل تسکین چاہتا ہے جب کہ مادی چیزیں اپنی محدودیت کی بنا پر اس کو جزئی تسکین ہی دے سکتی ہیں۔ کا نتیجہ وہ چیز ہے جس کو اکتاہٹ (boredom) کہا جاتا ہے۔ طالب اور مطلوب کے درمیان یہ فرق اتنا زیادہ حتمی ہے کہ کسی بادشاہ کے لئے بھی اس کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم یہ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں مادی ساز و سامان کی بے پناہ کثرت ہے مگر ان سامانور نے انسان کو جو چیز دی ہے وہ صرف مایوسی (frustration) ہے نہ کہ تسکین، جس کو حاصل کرنے کے لئے یہ مادی سازو سامان فراہم کیا گیا تھا۔ دینی مدرسہ میں تعلیم و تربیت پائے ہوئے انسان کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ جس فلسفہ حیات کا سبق لے کر اپنی مادر علمی سے نکلتے ہیں وہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کے لئے ہے نہ کہ حصول مسرت کے لئے۔ یہ نقطہ نظر ان کے رویہ کو یکسر بدل دیتا ہے۔ وہ دنیا کی کامیابی کے بجائے آخرت کی کامیابی کو اپنی منزل بناتے ہیں۔ دنیا میں عیش ڈھونڈنے کے بجائے آخرت میں جنت کا حصول ان کا نشانہ بن جاتا ہے۔

سوچ کے اس فرق کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دینی مدارس میں تعلیم پائے ہوئے لوگ عیش (luxury) کے بجائے ضرورت کو اپنی توجہ کا مرکز بناتے ہیں۔ وہ فراوانی (abundance) کے بجائے قناعت کے اصول پر راضی رہتے ہیں۔ کل کی خوشی کا احساس ان کے لئے آج کے غم کو ہلکا کر دیتا ہے۔ مایوسی سے دوچار نہیں ہوتے، کیوں کہ جو کچھ انھیں موجودہ دنیا میں ملتا ہے اسی کو وہ اپنے لئے کافی ان کا سینہ حرص اور حسد جیسے منفی احساسات سے پاک ہوتا ہے۔ کیوں کہ حرص اور حسد جیسے احساسات مادی کمی کی زمین پر ابھرتے ہیں، اور دینی تعلیم کے تربیت یافتہ لوگ اپنے غیر مادی ذہن

کی بنا پر اس کمزوری سے پیشگی طور پر محفوظ ہوتے ہیں۔

یہ چند مثالیں بتاتی ہیں کہ دینی مدارس اور غیر دینی مدارس میں کتنا زیادہ فرق پایا جاتا ہے۔ مدارس حقیقی علم پر قائم ہیں، اس کے مقابلہ میں سیکولر مدارس غیر حقیقی علم پر۔ یہ فرق بے حد بنیادی اس فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ جس پہلو سے بھی دونوں کے درمیان تقابل کیا جائے دینی مدارس ہر اعتبار سے سیکولر مدارس پر فائق نظر آئیں گے۔

دینی مدارس اور غیر دینی مدارس کے فرق کے بارے میں جو کچھ لکھا گیا، وہ اصولی اعتبار سے لکھا گیا ہے۔ جہاں تک عملی حیثیت کا تعلق ہے، دینی مدارس میں بہت سی خامیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کی جاسکتی ہے۔ مگر بنیادی بات یہ ہے کہ جو غیر دینی تعلیم گاہوں میں جو کمیاں ہیں وہ عین ان کے اصول اور فلسفہ کی بنا پر ہیں۔ اور اس اعتبار سے وہ ان کے نظام کا لازمی حصہ ہیں۔ جب کہ دینی تعلیم گاہوں میں جو کمیاں پائی جاتی ہیں وہ ان کی عملی کوتاہی کا نتیجہ ہیں نہ کہ نظریہ تعلیم میں نقص کا نتیجہ۔ ایک معلوم حقیقت ہے کہ عملی کوتاہی کو اصلاحی کوشش سے دور کیا جاسکتا ہے، جب کہ نظریاتی نقص کو اس وقت تک دور نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ خود نظریہ ہی کو غلط قرار دے کر اس کو رد نہ کر دیا جائے۔ اقوال دلاویز ہیں ۔ یہ کتاب اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے،

Printed page