Al-Risala · September 2000

مدرسہ کلچر

Al-Risala, September 2000, pp. 55–59

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندوستان میں یا دوسرے ملکوں میں جو سیکولر تعلیمی ادارے قائم ہیں، ان کی بنیاد مادی فلسفہ پر یعنی جو کچھ ہے یہی دکھائی دینے والی دنیا ہے۔ اس دنیا کے سوا کسی اور حقیقی چیز کا وجود نہیں۔ فلسفہ کی بنا پر سیکولر نظام تعلیم اپنے طلبہ کے اندر جو مزاج پیدا کرتا ہے وہ یہ کہ اپنی ساری طاقت مادی ترقی میں لگاؤ۔ دنیا کی خوشی (pleasure) جتنی زیادہ ممکن ہو حاصل کرو۔ تمہارے لئے سب سے زیادہ قابلِ لحاظ چیز مادی مفاد (material interest) ہے نہ کہ غیر مادی اقدار، وغیرہ۔ اس سیکولر نظامِ تعلیم اور سیکولر تہذیب نے ساری دنیا کو مادہ پرست بنا دیا ہے۔ مادی فکر، مادی اخلاق اور مادی سرگرمیاں لوگوں کے اوپر اتنا زیادہ چھا گئی ہیں کہ اب یہاں مادیات کا جنگل بنتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس وسیع صحرا میں دینی مدارس کی حیثیت گویا نخلستان کی ہے۔ دینی مدارس کی بنیاد، برعکس طور پر، غیر مادی تہذیب یا روحانی فلسفہ پر رکھی گئی ہے۔ مدارس کا پورا نصاب اور اس کا پورا نظام اس ڈھنگ پر بنا ہے کہ وہ لوگوں کو مادی سطح سے اوپر اٹھائے۔ وہ مادی کلچر کے مقابلہ میں روحانی کلچر کا متبادل (alternative) پیش کرے۔ مدارس کے نظام میں یہ مقصد کس طرح جاری و ساری ہے، اس کو میں اپنی مدرسی زندگی کے کچھ ذاتی تجربات کی روشنی میں بتانے کی کوشش کروں گا۔

"مدرسہ کلچر" کا پہلا تجربہ مجھ کو اپنے گاؤں کے مدرسہ میں ہوا جہاں میں نے اردو اور فارسی اور عربی کی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ یہاں اس زمانہ میں مولانا اسماعیل میرٹھی (وفات ۱۹۱۷) کی اردو ریڈریں پڑھائی جاتی تھیں۔ ان ریڈروں میں بہت سلیقہ کے ساتھ اخلاقی اور روحانی تعلیمات سمودی گئی تھیں۔ ان کو پڑھتے ہوئے میں شعوری یا غیر شعوری طور پر، انہیں اپنے ذہن کا جزو بناتا رہا۔ جن کا اثر آج تک میں اپنی زندگی میں پا تا ہوں۔

ایک اردو ریڈر میں مصنف نے ایک کہانی بیان کی ہے کہ ایک اونٹ بھٹک کر جنگل میں پہنچ گیا۔ اس کی تکمیل کی رسی زمین پر گھسٹ رہی تھی۔ ایک چوہے نے دیکھا تو اس کو شوق ہوا کہ میں اس اونٹ کو اپنے ہاں لے جاؤں اور اس کو اپنا مہمان بناؤں۔ اس نے اونٹ کی رسی اپنے منہ میں پکڑ لی اور اپنی بل کی

طرف چلنے لگا، اونٹ بھی اس کے پیچھے چلنے لگا۔ یہاں تک کہ دونوں وہاں پہنچ گئے جہاں چوہے کی بل اب چوہا بہت پشیمان ہوا کیوں کہ اس نے تقابل کر کے دیکھا تو اس کو معلوم ہوا کہ اس کی بیل بہت چھوٹی ہے اور اس کے مقابلہ میں اونٹ بہت زیادہ بڑا ہے۔ اس کے بعد مصنف نے لکھا تھا: کیا کیا خیال باندھے ناداں نے اپنے دل میں پر اونٹ کی سمائی کب ہو چو ہے کے بل میں یہ حقیقت پسندی کا پہلا سبق تھا جو مجھے اپنی زندگی میں ملا۔ اور بلاشبہ اس دنیا میں حقیقت پسندی کے بغیر کوئی بھی کام نہیں کیا جا سکتا۔ خواہ اس کا تعلق انفرادی معاملہ سے ہو یا اجتماعی معاملہ سے۔ ۲- مدرسۃ الاصلاح کی تعلیم کے زمانہ میں میرے ایک استاد مولانا نجم الدین اصلاحی (وفات ۱۹۹۵) مرتب مکتوبات شیخ الاسلام تھے۔ ان سے میں نے فارسی کی کئی کتابیں، مثلا گلستاں اور بوستاں وغیرہ پڑھیں۔ فارسی زبان کی ایک امتیازی صفت یہ ہے کہ اس میں بڑے پیمانہ پر اخلاقی ادب تیار اخلاقیات پر جتنی اچھی کتابیں فارسی زبان میں ہیں شاید کسی اور زبان میں نہیں۔ کتابوں سے مجھے حکمت اور اخلاق کی بہت سی اعلیٰ باتیں ملیں۔ استاد مرحوم نے ایک بار فارسی کا ایک شعر سنایا جو عظیم حکمت پر مشتمل ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ۔ میرے اور تمہارے درمیان صرف سننے کا فرق ہے۔ آواز کو تم دروازہ بند ہونے کی آواز سمجھ رہے ہو، اس کو میں دروازہ کھلنے کی آواز کے طور پر سن رہا ہوں: تفاوت است میان شنیدن من و تو تو غلق باب و منم فتح باب می شنوم استاد مرحوم نے اس شعر کی جو تشریح کی تھی وہ طالب علمی کے زمانہ میں زیادہ گہرائی کے ساتھ مجھ پر واضح نہیں ہوئی تھی۔ مگر یہ فارسی شعر میرے حافظہ کا جزء بن گیا۔ بعد کے مطالعہ اور تجربہ کے درمیان اس کی اہمیت اور معنویت واضح ہوتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ میری سمجھ میں آیا کہ جو بات اس شعر میں کہی گئی ہے وہ موجودہ تا موافق دنیا میں کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔ اس دنیا میں وہی شخص بڑی ترقی حاصل کر سکتا ہے جس کا شعور اتنا زیادہ بیدار ہو کہ وہ منفی واقعات میں مثبت پہلو تلاش کر سکے۔ بند ہونے کی آواز میں دروازہ کھلنے کی آواز سن لے۔

۳- جس مدرسہ میں میری تعلیم ہوئی وہاں عربوں کے کلام جاہلیت کا بہت تذکرہ تھا۔ کہ وہ لوگ قرآن فہمی کے لئے اس کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ مجھے زیادہ دلچسپی اس بات سے تھی کہ

اس جاہلی کلام میں حکمت کی باتیں کثرت سے موجود ہیں۔ بعد کے مطالعہ سے میں نے یہ جانا کہ اس کا سبب یہ تھا کہ جاہلی دور کے عربوں میں انسانی صفات (human qualities) نہایت اعلیٰ درجہ میں وہ نہایت زندہ لوگ تھے۔ اس کا اظہار ان کے کلام میں ہوتا تھا۔ مدرسہ کی زندگی میں عرب جاہلیت کے جو اشعار میں نے پڑھے اور ان میں سے ایک یہ تھا: جب آدمی کی آبرو قابلِ ملامت کردار سے گندی نہ ہوئی ہو تو وہ جو چادر بھی اوڑھے وہ اس کے لئے خوبصورت ہوگی: اذا المرء لم يدنس من اللؤم عرضه فكل رداء يرتديه جميل میرا مزاج بچپن سے یہ تھا کہ میں تکلفات کے مقابلہ میں سادگی اور ظاہر داری کے مقابلہ میں حقیقت بینی کو پسند کرتا تھا۔ اس شعر نے غالباً پہلی بار میرے غیر شعوری مزاج کو شعور کا درجہ دیا۔ کے بعد دھیرے دھیرے ایسا ہوا کہ ظواہر کی اہمیت میرے ذہن سے نکل گئی۔ میں ہمیشہ یہ دیکھنے لگا کہ کوئی چیز اصل حقیقت کے اعتبار سے کیا ہے۔ ظاہر دارانہ انداز مجھے یکسر بے معنی نظر آنے لگا۔ میری طالب علمی کے زمانہ میں مدرسۃ الاصلاح کے ایک استاد مولانا محمد احمد لہراوی انہوں نے مجھ کو جو کتابیں پڑھائیں ان میں سے ایک موطا امام مالک تھی۔ حدیث کی اس کتاب کو پڑھتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث اس طرح میرے ذہن کا جزء بن گئی کہ وہ پھر کبھی مجھ سے جدا نہ ہوئی۔ وہ یہ ہے: عن حميد بن عبد الرحمن بن عوف، أن رجلاً أتى الى رسول الله ﷺ فقال: يا رسول الله علمني كلمات أعيش بهن ولا تكثر علیّ فانسی، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا تغضب" (كتاب الجامع، باب ماجاء فى الغضب) ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول، مجھ کو ایسے کلمات بتائیے جن کے ساتھ میں جیوں۔ اور وہ کلمات زیادہ نہ ہوں کہ میں بھول جاؤں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم غصہ نہ کرو۔ استاد محترم کے اندر اگرچہ کسی قدر غضب کا مزاج تھا تا ہم انہوں نے اس حدیث کی جو تشریح کی وہ میرے حافظہ میں نقش ہو گئی۔ اس سے مجھے طالب علمی ہی کے زمانہ میں زندگی کا یہ بنیادی اصول مل گیا کہ آدمی کو غصہ کے حالات میں بھی غصہ کے بغیر جینا ہے۔ مزید مطالعہ کے بعد میری سمجھ میں آیا

کہ اس حدیث میں دراصل یہ بتایا گیا ہے کہ آدمی کو اشتعال انگیز حالات میں بھی معتدل جواب دینا چاہے۔ آدمی کو منفی رد عمل کی نفسیات سے مکمل طور پر پاک ہونا چاہئے، حتی کہ اشتعال انگیز حالات میں بھی۔ مدرسہ میں درسیات کے تحت جو کتابیں میں نے پڑھیں ان میں سے ایک نہج البلاغہ تھی جو خلیفہ چہارم علی بن ابی طالب کے کلام پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب مولانا اختر احسن اصلاحی نے پڑھائی تھی۔ وہ مولانا حمید الدین فراہی کے براہ راست شاگرد تھے۔ اس کتاب میں حکمت کی بڑی عجیب عجیب باتیں گویا کہ یہ کتاب ایک کتابِ حکمت (Book of wisdom) ہے۔ اس سے مجھے ابتدائی دور حیات میں تعلیم کے دوران ہی ایسی حکیمانہ باتیں معلوم ہو گئیں جو میرے لئے بعد کی زندگی میں بہت کار آمد ثابت ہوئیں۔ ان میں سے ایک، حضرت علی کا یہ قول ہے: العاقل هو الذی یضع الشی مواضعه (عقل مند وہ ہے جو چیزوں کو ان کے مقام پر رکھے۔

یہ ایک بے حد حکیمانہ کلام ہے۔ زندگی کے معاملات ہمیشہ بہت پیچیدہ ہوتے ہیں۔ میں انسان کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ افکار کے جنگل میں صحیح فکر کے سرے کو دریافت کرے۔ انتخاب (options) میں صحیح انتخاب کو معلوم کر سکے۔ وہ دو مشابہ چیزوں کے درمیان فرق کو جانے تا کہ وہ غلط انطباق کی نادانی نہ کرے۔ ایسی حالت میں وہی شخص صاحب عقل کہے جانے کے قابل ہے جو، حضرت علی کے الفاظ میں، چیزوں کو ان کے اصل مقام پر رکھ سکے۔ یہی آدمی غلط استدلال سے بچے وہ اس سے محفوظ رہے گا کہ غلط رائے اور غلط منصوبہ بندی میں مبتلا ہو جائے اور پھر خود بھی تباہ ہو اور دوسروں کی تباہی کا سبب بنے۔ اس حکیمانہ قول نے مجھے بہت فائدہ پہنچایا۔ اس نے ابتدا ہی سے مجھے یہ ذہن دیا کہ میں صحیح تجزیہ کرنے کی کوشش کروں تا کہ صحیح رائے پر پہنچ سکوں۔ مدرسۃ الاصلاح کے ایک ممتاز استاد مولانا محمد شبلی ندوی تھے۔ ان سے ہم نے فقہ اور کلام کی کتابیں پڑھیں۔ ان میں سے ایک ابن رشد کی کتاب بدایۃ المجتهد ونهایۃ المقتصد تھی۔ درس کے دوران اس کی یہ عبارت سامنے آئی: فأما شرط الحرب فهو بلوغ الدعوة باتفاق. أعنى أنه لا يجوز حرابتهم حتى يكونوا قد بلغَتهم الدعوة، وذلك شئ مجتمع عليه من المسلمين لقوله تعالى: وما كنا معذبين حتى نبعث رسولاً (کتاب الجهاد، الفصل الرابع في شرط الحرب) یعنی جہاں

تک جنگ کی شرط کا تعلق ہے تو وہ دعوت کا پہنچنا ہے۔ اور اس پر اتفاق ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان سے جنگ کرنا جائز نہیں یہاں تک کہ ان پر دعوت پہنچ گئی ہو۔ اور یہ ایک ایسی چیز ہے جس پر مسلمان متفق الرائے ہیں۔ اس کی بنیاد قرآن میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ ہم کسی کو عذاب نہیں دیتے جب تک کہ ہم اس کے پاس رسول نہ بھیج دیں۔

استاد مرحوم نے اس عبارت کی جو تشریح کی اس سے مجھے ایک اہم دینی نکتہ ملا۔ ابتدائی دور میں وہ کسی قدر مبہم صورت میں تقابل کے مطالعہ سے وہ زیادہ واضح ہوتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ میری سمجھ میں آیا کہ دین اسلام میں جنگ یا ٹکراؤ صرف ثانوی انتخاب (secondary option) ہے، وہ پہلا انتخاب (first option) نہیں۔ کسی فرد یا قوم سے نزاع کی صورت پیش آئے تو پہلی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ پرامن بات چیت کے انداز میں مسئلہ کو حل کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے ہر ممکن ذریعہ اختیار پرامن کوشش جب اتمام حجت کے درجہ کو پہنچ جائے اور اس کے باوجود فریق ثانی ٹکراؤ پر قائم رہے تو اس کے بعد ثانوی انتخاب کے طور پر جنگ قابل غور ہوگی۔

Printed page