تجربات کی روشنی میں
Al-Risala, September 2000, pp. 60–67
By Maulana Wahiduddin Khan
دینی مدرسہ میں تعلیم کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی دنیا کی باتوں سے بے خبر رہ جائے۔ ممکن ہے کہ آدمی باقاعدہ طور پر صرف دینی درس گاہ میں تعلیم پائے، اس کے باوجود وہ ان علوم و معارف سے باخبر ہو جن کو دنیا کے علوم و معارف کہا جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال میں خود ہوں۔ تعلیم دینی مدرسہ یا علماء کی صحبتوں میں ہوئی۔ مگر اس کے بعد میں نے اللہ کے فضل سے بیشتر سیکولر علوم کا مطالعہ کیا، پا مستری سے لے کر اسٹرا نومي تک شاید ہی کوئی علم ہو جس کو میں نے نہ پڑھا ہو۔ اس کا راز یہ تھا کہ میں نے مدرسہ سے فراغت کے بعد ذاتی محنت سے انگریزی زبان اچھی طرح انگریزی سیکھتے ہی میری دسترس تمام علوم تک ہو گئی۔ دوسری طرف میں اپنے دعوتی مزاج کی بنا پر ملک کے اندر اور ملک کے باہر بہت زیادہ اسفار کرنے لگا۔ اس طرح انگریزی زبان اور عمومی اختلاط (interaction) میرے لئے تمام علوم سے واقفیت کے لئے کافی ہو گیا۔ مدارس کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہر زمانہ میں کثیر تعداد میں ایسے لوگ رہے ہیں جن کی تعلیم اصلاً مدرسہ میں ہوئی لیکن اس کے بعد انھوں نے دنیوی علوم میں بھی مہارت حاصل کرلی اور یہ سب ان کی ذاتی محنت سے ممکن ہوا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مختلف علوم کو حاصل کرنے کے سلسلہ میں اصل اہمیت کھلے ذہن (open mind) کی ہے۔ اگر آدمی جمود ذہنی میں مبتلا نہ ہو، اگر وہ کھلے دل و دماغ کے ساتھ ہر چیز کو دیکھے اور ہر چیز کو پڑھے تو پوری دنیا اس کے لئے ایک عظیم درسگاہ بن جائے گی۔ وہ ہر لمحہ نئی نئی باتیں ہر روز وہ نئے علم سے واقفیت حاصل کرے گا۔ ڈگری کی حیثیت صرف پہچان کی ہے۔ علم کا تعلق ہے، اس کو آدمی ذاتی محنت سے حاصل کرتا ہے۔ اور ذاتی محنت کا دروازہ کبھی کسی کے لئے بند دوسرے لفظوں میں یہ کہ وسعت علم کے لئے اصل اہمیت اس مزاج کی ہے جو حضرت عمر فاروق کے اندر پایا جاتا تھا، جیسا کہ ان کے بارے میں کہا گیا ہے : کان يتعلم من كل احد۔ مدرسہ کے مقاصد میں شامل ہے کہ رسمی تعلیم کے علاوہ وہ طالب علم کے اندر اس قسم کا معلمانہ ذوق پیدا کرے۔ تعلیم (education) کیا ہے۔ فنی بحثوں سے قطع نظر تعلیم کا مقصد بنیادی طور پر ایک ہے، اور
وہ انسانی شخصیت کا ارتقاء (personality development) ہے۔ تعلیم کے ذریعہ پیشہ ورانہ یا پروفیشنل ڈگری حاصل کرنا ایک اضافی چیز ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد شعور انسانی کو بیدار کرنا ہے۔ کو ان حقیقتوں سے باخبر کرنا ہے جو وسیع تر زندگی میں کام آنے والی ہوں۔
میں اپنے ذاتی تجربہ کی بنیاد پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ مدارس دینیہ، دوسری تعلیم گاہوں کی طرح اس معیار پر پورے اترتے ہیں۔ میں مکمل طور پر مدرسہ کی پیداوار (product) ہوں۔ اگر کوئی شخص مجھ کو ایک کامیاب انسان سمجھتا ہو تو میں کہوں گا کہ میری یہ کامیابی تمام تر مدرسہ کی دین ہے۔ مدرسہ سے مجھے وہ شعور ملا اور وہ اقدار (values) حاصل ہوئیں جو میرے لئے جدوجہد حیات میں ہر قدم پر رہنما بن گئیں۔ مدرسہ ہو یا کالج اور یونیورسٹی، کوئی بھی ادارہ کسی انسان کو مکمل علم نہیں دیتا اور نہ دے سکتا۔ انسان اپنی پختگی کی عمر کو ۳۵ سال کے بعد پہنچتا ہے جب کہ مدرسہ یا یونیورسٹی کی تعلیم اس عمر سے پہلے ہی مکمل ہو جاتی ہے۔ ایسی حالت میں یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی تعلیمی ادارہ کسی انسان کو کامل علم دے سکے جس طرح ایک کلو کے برتن میں دس کلو دودھ رکھنا ممکن نہیں اسی طرح طالب علم کی عمر میں کسی کو کامل علم بھی نہیں دیا جا سکتا۔
یہاں میں کیمسٹری کے ایک نوبل انعام یافتہ ایچ اے_ کربی (H. A. Krebs) کی بات نقل انہوں نے لکھا ہے کہ نوبل انعام حاصل کرنے کے لئے اصل اہمیت یہ نہیں ہے کہ دوران تعلیم آدمی کو معلومات کا انبار مل جائے۔ بلکہ ساری اہمیت اس بات کی ہے کہ آدمی کو کوئی ایسا ادارہ یا ایسا استاد مل جائے جو اس کے اندر صحیح زاویہ نظر (attitude of mind) پیدا کر دے۔ اسی ابتدائی زاویۂ نظر کی رہنمائی میں آدمی آگے بڑھتا ہے اور ذاتی محنت سے ترقی کرتے کرتے وہ نوبل انعام تک پہنچ جاتا ہے۔ ٹھیک یہی معاملہ مدرسہ کی تعلیم کا ہے۔ کوئی مدرسہ بذات خود کسی کو بڑا عالم نہیں بناتا۔ کام یہ ہے کہ وہ آدمی کو صحیح طرزِ فکر دے، جس کی روشنی میں وہ آئندہ اپنا علمی سفر مفید سمت میں جاری یہاں تک کہ وہ علم کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ جائے۔
انسان کی استعداد ہمیشہ بڑھتی رہتی ہے۔ چنانچہ حصول علم کے لئے اس کا سفر بھی ہمیشہ جاری ایسی حالت میں سب سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ ابتدائی عمر بالفاظ دیگر دور تیاری
(formative period) ہی میں اس کو مطالعہ اور استنباط کا صحیح رخ مل جائے۔ یہ رخ استاد اور ادارہ دونوں سے ملتا ہے۔ ایک لائق استاد گویا ایک زندہ لائبریری ہوتا ہے جو طالب علم کو بہترین رہنمائی دیتا اسی طرح ادارہ کا ماحول اگر تعمیری اور صحت مند ہو تو وہ شعوری اور غیر شعوری طور پر طالب علم کی علمی شخصیت کی تکمیل میں موثر و مددگار ثابت ہوتا ہے۔
یہاں میں علامتی طور پر ان میں سے صرف چند ذاتی تجربات کا ذکر کروں گا۔ تاہم یہ کسی ایک فرد کی کہانی نہیں ہے بلکہ وہ میرے جیسے ان لاکھوں لوگوں کی کہانی ہے جن کو مدارس سے فیضیاب ہونے کا موقع ملا۔ اور پھر انھوں نے دنیا میں ایک کامیاب زندگی گزاری۔
مدرسۃ الاصلاح میں قرآن خصوصی طور پر داخل نصاب تھا۔ یہاں مجھے یہ موقع ملا کہ میں مشہور اور ممتاز عالم مولانا امین احسن اصلاحی (صاحب تدبر القرآن) سے براہ راست قرآن کی تعلیم مولانا محترم اس وقت مدرسہ میں استاد تفسیر بھی تھے اور صدر مدرس بھی۔ درسِ قرآن کے دوران قرآن کے تیسویں پارہ کی یہ آیت سامنے آئی: افلا ينظرون الى الابل كيف (الغاشیہ ۱۷) استاد محترم مولانا امین احسن اصلاحی (وفات ۱۹۹۸) نے اس موقع پر طلبہ سے سوال کیا کہ اونٹ کے سم پھٹے ہوتے ہیں یا جڑے ہوتے ہیں۔ یعنی بیل کی مانند ہوتے ہیں یا گھوڑے کی اس وقت ہماری جماعت میں تقریباً ۲۰ طالب علم تھے۔ مگر کوئی بھی شخص یقین کے ساتھ اس کا جواب نہ دے سکا۔ ہر ایک اٹکل سے کبھی ایک جواب دیتا اور کبھی دوسرا جواب۔
اس کے بعد استاد محترم نے ایک تقریر کی۔ انھوں نے کہا کہ تمہارے جوابات سے اندازہ ہوتا ہے کہ تم لوگ اونٹ کے سم کی نوعیت کے بارے میں نہیں جانتے۔ پھر انھوں نے عربی زبان کا یہ مقولہ سنایا ”لا ادری نصف العلم (میں نہیں جانتا، آدھا علم ہے) اس کی تشریح کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر تم لوگ یہ جانتے کہ تم اونٹ کے سم کے بارے میں بے خبر ہو تو گویا کہ اس معاملہ میں تمہارے پاس آدھا علم موجود ہوتا۔ کیوں کہ اپنی لا علمی کو جاننے کے بعد تمہارے اندر یہ شوق پیدا ہو تا کہ تم اپنے علم کو مکمل کرنے کے لئے یہ معلوم کرو کہ اونٹ کے سم کیسے ہوتے ہیں۔ اگر لا ادری کا شعور تمہارے اندر بیدار ہو تا تو اونٹ پر نظر پڑتے ہی تم اس کے سم کو غور سے دیکھتے اور پھر تم اپنے نہ جاننے کو جاننا جاتے۔
مدرسہ کا یہ واقعہ میرے لئے اتنا مؤثر ثابت ہوا کہ یہ میرا عمومی مزاج بن گیا کہ میں ہر معاملہ میں اپنی نادانیت کو جانوں، تا کہ میں اس کو واقفیت بنا سکوں۔ علمی تلاش کا یہ جذبہ مجھے ابتداء مدرسہ سے ملا بعد کو میں نے اس موضوع پر مغربی مصنفین کی کچھ کتابیں پڑھیں، مثلاً اسپرت آف انکوائری (spirit of inquiry)۔ ان سے معلوم ہوا کہ تجسس کا یہی جذبہ تمام علمی ترقیوں کی اصل بنیاد ہے۔ اس کی ایک مشہور مثال یہ ہے کہ ہزاروں لوگوں نے سیب کو درخت سے گرتے ہوئے دیکھا تھا۔ معاملہ میں وہ اپنے ”لاادری“ کو نہیں جانتے تھے، اس لئے وہ اس حقیقت سے بے خبر رہے۔ شخص ہے جس نے اس معاملہ میں اپنے لاادری کو جانا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اس معاملہ میں ”ادری“ کے درجہ تک پہنچ گیا۔
۲- مدرسہ کے نصاب کے تحت میں نے شعر و ادب پر جو کتابیں پڑھیں ان میں سے ایک دیوان یہ کتاب میں نے مولانا اختر احسن اصلاحی (وفات ۱۹۸۵ء) سے پڑھی۔ مولانا مرحوم کو کلام جاہلیت پر غیر معمولی عبور حاصل تھا۔ دیوان الحماسہ عرب جاہلیت کے شعراء کے کلام کا انتخاب ہے جس کو ابو تمام (وفات ۸۲۵ء) نے تیار کیا تھا۔ طالب علمی کے زمانہ میں مجھے اس دیوان کے بہت سے اشعار یاد ہو گئے تھے۔ ان میں سے بعض اشعار ایسے ہیں جن کا میری زندگی پر گہرا اثر پڑا۔ اس کا ایک شعر یہ ہے: اذا المرء اعيته المروزة ناشئاً فمطلبها كهلاً عليه شديد جب آدمی جوانی کی عمر میں مردانگی کی صفات حاصل کرنے میں عاجز رہ جائے تو ادھیڑ عمر میں اس کو پانا اس کے لئے بہت مشکل ہے۔
اس عربی شعر کی جو تشریح استاد محترم نے کی اس سے میں نے زندگی کی اس حقیقت کو سمجھا کہ کام کرنے کی بہترین عمر جوانی کی عمر ہوتی ہے۔ جو آدمی جوانی کی عمر کو استعمال نہ کر سکے وہ زیادہ عمر کو پہنچنے کے بعد کوئی بڑا کام نہیں کر سکتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ طالب علمی کے زمانہ ہی سے میرا یہ مزاج بن گیا کہ میں اپنے وقت کا کوئی حصہ ضائع نہیں کرتا تھا۔ رات دن کے ہر لمحہ کو میں مفید طور پر استعمال کرنے لگا۔ ابتدائی عمر سے عمل کا یہ مزاج بن جانا میرے لئے بے حد کار آمد ثابت ہوا۔ اگر میں جوانی کی عمر کو غیر ضروری چیزوں میں کھو دیتا تو بعد کو میرے ساتھ وہی المیہ پیش آتا جس کو مسٹر رشید کوثر فاروقی ایم اے
نے اپنے ایک شعر میں اس طرح نظم کیا ہے:
زیست کا راز کھلا گردش ایام کے بعد اس کہانی کا تو آغاز تھا انجام کے بعد مدرسہ کے ماحول میں عملی اعتبار سے جس چیز کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے وہ رات اور دن کے درمیان پانچ وقت کی نمازیں ہیں۔ باجماعت نماز کا نظام مدرسہ کی زندگی میں مرکزی حیثیت (central position) رکھتا ہے۔ نماز اگرچہ اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے اللہ کی قربت تلاش کرنے کا نام ہے لیکن اس کا عملی اور ظاہری ڈھانچہ اس طرح مقرر کیا گیا ہے کہ وہ مزید اس چیز کی مکمل تربیت بن جاتی ہے جس کو ڈسپلن کہا جاتا ہے۔ اس طرح ہر مدرسہ عملی طور پر نظم اور ڈسپلن کا ایک تربیتی سنٹر ہوتا ہے۔ مدرسہ کے نظام کے ساتھ ڈسپلن کا اضافہ اس کی اہمیت کو کئی گنا زیادہ بڑھادیتا ہے۔ پانچ وقتہ نماز میں ڈسپلن کا یہ پہلو فرد کی روزانہ زندگی کو منظم کرتا ہے۔ اس کے رات دن کے اوقات گھڑی کی سوئی کی طرح نظم و ضبط کے ساتھ گزرنے لگتے ہیں۔ اس قسم کے منظم افراد سے جو مجموعی سماج بنتا ہے وہ اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ کوئی بھی طوفان اس کو ہلا نہ سکے۔ الفضل ما شهدت به الاعداء کے اصول پر یہاں قدیم ایران کے مجوسی سپہ سالار رستم کا ریمارک قابل ذکر ہے جو اس نے نماز کے اجتماعی پہلو پر کیا تھا۔ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں جب مسلم فوجیں ایران میں داخل ہوئیں تو اس وقت وہاں مسقف مسجدیں نہ تھیں۔ چنانچہ یہ لوگ ہزاروں کی تعداد میں کھلے میدان میں باجماعت نماز ادا کرنے لگے۔ رستم نے باجماعت نماز کے منظر کو دیکھا تو اس نے چیخ کر کہا: اکل عمر کبدی، يعلم الكلاب الآداب (مقدمہ ابن خلدون، صفحه ۱۵۲) میں جس زمانہ میں مدرسہ میں پڑھتا تھا وہاں باجماعت نماز کی نگرانی مدرسہ کے ایک سینئر استاد مولانا اختر احسن اصلاحی مرحوم کرتے تھے۔ وہ صبح کو فجر کی اذان کے فوراً بعد ہاسٹل میں آکر طلبہ کو جگایا اس وقت میں نوجوانی کی عمر میں تھا۔ میری نیند مشکل سے کھلتی تھی۔ چنانچہ مولانا مرحوم میرے بارے میں کہتے: ”یہ بہت سخت سوتا ہے۔ مجھے یاد ہے، ایک مرتبہ مسجد کے وسیع اور کھلے صحن میں نماز کی صفیں کھڑی ہوئی تھیں۔ عشاء کی نماز ہو رہی تھی۔ اچانک ایک سانپ مسجد کے اندر داخل ہو گیا۔ وہ صفوں سے گزرتا ہوا پیچھے کی
طرف جا رہا تھا جہاں جوتے اتارے جاتے تھے۔ سانپ اگر چہ زیادہ بڑا نہ تھا تاہم سانپ تو سانپ ہے۔ میں نے دیکھا کہ پوری جماعت میں کوئی بھگدڑ نہیں ہوئی۔ لوگ بدستور اپنی جگہ کھڑے رہے۔ سانپ لوگوں کے درمیان سے گزرتا ہوا باہر چلا گیا۔ اس واقعہ کی صورت میں میں نے گویا مشاہداتی تجربہ کیا کہ نماز آدمی کے اندر کس قدر نظم و ضبط پیدا کرتی ہے۔
ایک مرتبہ مدرسہ کے صدر مدرس مولانا امین احسن اصلاحی مرحوم نماز کے بعد مسجد میں تقریر کے لئے کھڑے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ نماز میں آپ کو مل کر عمل کرنے کی تعلیم دی جاتی ہے۔ تعلق صرف مسجد تک نہیں ہے، مسجد سے باہر کی زندگی بھی آپ کو اسی طرح لقم واتحاد کے ساتھ وہ زبردست مقرر تھے۔ تقریر کرتے ہوئے انھوں نے باب تفاعل کے چند الفاظ استعمال کئے جو عربی میں مشارکت کا مفہوم رکھتا ہے۔ مثلاً توافق، تشارك، تعامل، وغیرہ۔ اس کے بعد انہوں نے خطیبانہ انداز میں کہا: ”باب تفاعل کے سارے صیغے گردان ڈالو۔ “ اس طرح ہر مدرسہ میں پنج وقتہ نماز با جماعت کی صورت میں اتحاد اور ڈسپلن کی تعلیم دی جاتی ہے۔ گویا ہر مدرسہ عملاً نظم اور ڈسپلن کا تربیتی سنٹر بنتا ہے۔
دینی مدارس کے اس پہلو کی مزید اہمیت یہ ہے کہ مدرسہ کے نظام میں نظم اور ڈسپلن صرف ایک انسانی سلوک یا سماجی کلچر کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ نماز سے وابستہ ہونے کی بنا پر اس کو مقدس فریضہ کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ اسلامی تعلیم کے مطابق ڈسپلن کو نماز کے ساتھ جوڑ کر اس کو ایک مقدس انسانی فریضہ بنا دیا گیا ہے۔
جو لوگ مجھ سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ میرے مزاج میں حد درجہ نظم اور ڈسپلن ہے۔ ڈسپلن میری طبیعت ثانیہ (second nature) بن گئی ہے۔ میرا یہ مزاج غالباً اس مسلسل تربیت کا نتیجہ ہے جو مدرسہ کے دور حیات میں مجھے حاصل ہوئی۔ مدرسہ کا عبادتی ڈسپلن میرے مزاج میں اس طرح داخل ہوا کہ وہ پھر کبھی مجھ سے جدا نہ ہو۔
اس اعتبار سے دیکھئے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ہر مدرسہ گویا نظم و ڈسپلن کا ایک ٹریننگ سنٹر ہے، وہ زندگی کو منظم انداز (disciplined way) میں گزارنے کی ایک مستقل تربیت گاہ ہے۔
۴- مدرسہ کے زمانہ قیام کا ایک واقعہ بے حد سبق آموز ہے۔ یہ واقعہ میں نے اپنے ایک مضمون (حالات بدل سکتے ہیں) میں لکھا تھا جو ماہنامہ الفرقان (لکھنؤ) کے شمارہ ذیقعدہ ذی الحجہ ۱۳۸۳ھ میں چھپ چکا ہے۔ یہ واقعہ الفرقان کے صفحات سے لے کر یہاں نقل کیا جاتا ہے : غالباً ۱۹۲۰ء کی بات ہے۔ ہمارے علاقہ میں سخت خشک سالی ہوئی۔ برسات کا موسم گزرتا جا رہا مگر بارش کا کہیں پتہ نہ تھا۔ کسان روز آنہ صبح اٹھتے ہی آسمان کی طرف دیکھتے تھے۔ مگر بادل کا ایک ٹکڑا بھی کہیں نظر نہ آتا تھا۔ بالآخر جب مایوسی حد کو پہنچ گئی تو یہ تحریک ہوئی کہ استسقاء کی نماز پڑھی مدرسۃ الاصلاح سے تقریباً دو کلو میٹر دور ایک میدان میں مدرسہ کے طلبہ اور اساتذہ اور اطراف کی بستیوں کے مسلمان جمع ہوئے۔ مرحوم مولانا محمد سعید صاحب جو اس وقت مدرسۃ الاصلاح میں استاذ تھے اور جن سے میں نے حدیث پڑھی تھی، انھوں نے استسقاء کی نماز پڑھائی اور آخر میں بارش کے لئے دعا کی۔ مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے۔ ہم لوگ سخت چلچلاتی ہوئی دھوپ میں سفر کر کے وہاں پہنچے تھے اور اس حال میں نماز ادا کی تھی کہ جسم پسینہ سے شرابور ہو رہا تھا۔ مگر نماز سے فارغ ہو کر جب ہم لوگ واپس ہوئے تو راستہ ہی میں بارش شروع ہو گئی۔ کچھ لوگوں نے درختوں کے نیچے پناہ لی اور کچھ بھیگتے ہوئے اپنے گھروں کو بھاگے۔
اس تجربہ میں مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں خدا کی مدد کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ میرے لئے اس عقیدہ کا ایک حتمی مظاہرہ بن گیا کہ ”مانگو تو پاؤ گے، دروازہ کھٹکھٹاؤ تو تمہارے واسطے کھولا “ اس وقت میری عمر ۲۰ سال کے قریب تھی جب کہ انسان چیزوں کو نہایت شدت کے ساتھ اخذ کرتا ہے۔ چنانچہ یہ تجربہ میرے شعور کا مستقل جزء بن گیا۔ وہ میری پوری شخصیت میں اس طرح شامل ہو گیا کہ پھر وہ کبھی مجھ سے جدا نہ ہو سکا۔
اس طرح کے تجربات صرف دینی مدرسہ کے ماحول میں پیش آئے ہیں۔ اس طرح مدرسہ علم کے حصول کے ساتھ روحانی تربیت کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے۔ مدرسہ کے ماحول میں آدمی کو بار بار باھمڈ علی اللہ اور معرفت آخرت کی خوراک ملتی رہتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مدرسہ کے ماحول میں تیار ہونے والا انسان علم اور روحانیت دونوں کا مجموعہ ہوتا ہے، نہ کہ یک طرفہ قسم کا انسان، جیسا کہ عام طور
پر سیکولر تعلیم گاہوں میں پایا جاتا ہے۔
مدرسہ کی یہ تربیت میرے لئے زندگی کے دور میں میرا سب سے بڑا سرمایہ بنی رہی۔
کسی بڑے کام کا حوصلہ اللہ پر اعتماد کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ اور یہی سرمایہ مدرسہ سے مجھ کو حاصل ہوا۔ مجھے اپنے مقصد حیات کے اعتبار سے مادی ذرائع سے زیادہ اللہ پر بھروسہ کرنا تھا۔ اس قسم کے مشکل فیصلہ پر قائم رہنا میرے لئے زیادہ تراسی مدرسی تربیت کی بنا پر ممکن ہو سکا۔ احیاء دعوت کا مشن جو میں نے اپنی زندگی میں اختیار کیا وہ حدیث کی زبان میں معروف دین کے مقابلہ میں اجنبی دین کے لئے کھڑا یہ بلاشبہ اس آسمان کے نیچے سب سے زیادہ مشکل مشن ہے۔ اس میں آدمی کو اکیلا ہی سفر کرنا پہاڑوں اور سمندروں کو عبور کرنا آسان ہے مگر اجنبی دین کو لے کر چلنا آسان نہیں۔ فضل سے میں اس دشوار ترین منصوبہ پر ہر قسم کی رکاوٹوں اور ناموافق حالات کے باوجود قائم رہا۔ تک کہ فضا تبدیل ہو گئی۔ اس انجام کو دیکھنے کے لئے مجھے ۴۰ سال کا صبر آزما انتظار کرنا پڑا۔ اور اس قسم کا انتظار اعتماد علی اللہ کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا۔